4

ایلون مسک

پہلے آپکا تعارف کرواتے ہیں “ایلون مَسک” سے۔ یہ اسوقت دولت کے اعتبار سے دنیا میں اڑسٹھویں نمبر پر ہیں۔ انکی پہچان وہ عظیم الشان، وژنری قسم کی کمپنیاں ہیں جو آپکو بظاہر سائینس فکشن سے متعلق لگتی ہیں۔

ان میں سے ایک “سپیس ایکس” ہے جسکا مقصد مریخ پر انسانی کالونی بنانا ہے۔

“پے پال” سے کون واقف نہیں۔ یہ اسکے بانیوں میں سے ایک ہیں۔

“سولر سٹی بھی انکی ملکیت ہے جسکا مقصد شمسی توانائی کے استعمال کو عام کر کے فضائی آلودگی سے نجات ہے۔

یہ “ٹیسلا موٹرز” کے بھی مالک ہیں۔ یہ کمپنی بغیر انسان کے خودکا طریقے سے چلنے والی گاڑیاں بنانے کے درپے پے۔ اسوقت اسکی گاڑیوں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حال ہی میں ایک ٹیسلا کار کی مضبوطی کا اندازہ اس واقعے سے ہوا جس میں یہ گاڑی خاتون ڈرائیور کی بے احتیاطی سے بے قابو ہو کر پچیس میٹر کی بلندی سے گری پر اندر بیٹھے چاروں مسافروں کو خراش تک نہ آئی۔ اسکا انجن پیچھے اور ڈگی آگے ہے اور ایلون مسک کے مطابق یہ ڈیزائن حادثے کی صورت میں سواریوں کو محفوظ رکھنے میں بہت کارآمد ہے۔

پھر یہ “اوپن اے آئی” نامی کمپنی کے بھی مالک ہیں جو دوستانہ “آرٹیفیشل انٹیلیجنس” کی جدت پر کام کر رہی ہے۔

اب آپکو بتاتے ہیں انکے تازہ ترین بیان کے بارے میں:
یہ فرماتے ہیں کہ اس بات کا امکان، کہ ہم (یعنی بنی نوع انسان) کسی مصنوعی کمپیوٹر سسٹم یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے کنٹرول “نہیں” کیئے جا رہے، ایک ارب میں سے ایک ہے۔!!!
یعنی آسان الفاظ میں ۹۹. ۹۹ فیصد امکان یہ ہے کہ انسان محض ایک کمپیوٹر پروگرام کا حصہ ہے۔!!!

ماضی میں جب میں نے “میٹرکس” نامی مووی دیکھی تھی، تو میں سوچتا تھا کہ عنقریب کوئی بہت بڑا نام انسانی زندگی کے بارے میں ہو بہو یہی تھیوری پیش کر دیگا، اور آج یہ ہو گیا ہے۔!!!

ایلون مسک کے مطابق گیمنگ ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار پہ غور کریں تو چالیس سال میں ہم ایک مستطیل میں ایک نقطے سے “پنگ پانگ” کھیلتے ہوئے آج تھری ڈی گیمز کی اس دنیا میں آ پہنچے ہیں جہاں بیک وقت لاکھوں کھلاڑی ایک گیم کو حقیقت سے قریب تر ماحول میں گھیل سکتے ہیں۔ اگلی منزل “ورچوؤل رئیلٹی” اور پھر “آگمنٹڈ رئیلٹی” ہے جہاں اے آئی، ہولو گرامز اور ربوٹس کے آ جانے کے بعد حقیقت اور گیم میں فرق کرنا تقریباً ناممکن ہو جائیگا۔!!!

اور یہی انکے تازہ ترین “شگوفے” کی بنیاد ہے۔!!!

جی ہاں، شگوفہ اسلیئے کہا کہ ان “بیچاروں” کیلیئے موجودہ “مادی” ترقی کے “شواہد” کی بنیاد پر ایک نہایت ہی پیچیدہ کمپیوٹر سسٹم یا میٹرکس پر ایمان لانا تو آسان ہے، جو بنی نوع انسان کو کنٹرول کر رہا ہو، لیکن کائینات میں پھیلی جا بجا “آیات” سے خالق حقیقی پر ایمان لانا مشکل پے۔!!!

“فعتبروا یا اولی الابصار”

http://www.independent.co.uk/life-style/gadgets-and-tech/news/elon-musk-ai-artificial-intelligence-computer-simulation-gaming-virtual-reality-a7060941.html

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں