84

لگن کی ایجادات

الیس ہووے(Elias Howe) امریکا کا ایک چھوٹاسا کاریگر تھا۔ وہ1819ءمیں پیدا ہوا اور صرف48سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوگیا۔ مگر اس نے دنیا کو ایک ایسی چیز دی جس نے کپڑے کی تیاری میں ایک انقلاب بھرپا کردیا، یہ ایجاد سلائی مشین تھی۔ الیس ہووے نے جو مشین بنائی تھی اس کی سوئی میں دھاگا ڈالنے کے لئے سوراخ سوئی کی جڑ کی طرف ہوتا تھا جیسا کہ عام طور پر ہاتھ کی سوئی میں ہوتا ہے۔ ہزاروں برس سے انسان سوئی کی جڑ میں سوراخ کرتا آرہا تھا۔ اسی لئے الیس ہووے نے بھی جب مشین تیار کی تو اس کی سوئی میں ”عام رواج“ کے مطابق جڑ کی طرف ہی سوراخ کیا۔ لیکن اس کی مشین ٹھیک طرح سے کام نہیں کر پارہی تھی،شروع شروع میں صرف جوتے ہی سیتا تھا کپڑوں میں وہ مشین کام نہیں کرتی تھی۔وہ کافی عرصہ تک اسی فکر میں مگن رہا لیکن اس کی سمجھ میں اس کا کوئی حل نہ آیا۔ آخر کار ایک مرتبہ اس نے ایک خواب دیکھا کہ کسی وحشی قبیلہ کے آدمیوں نے اس کو پکڑ لیا ہے اور اس کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک دن کے اندر سلائی کی مشین بنا کر تیار کرے ورنہ اس کو قتل کردیا جائے گا۔ اس نے کوشش کی مگر مقررہ مدت میں وہ مشین تیار نہ کرسکا، جب وقت پورا ہوگیا تو قبیلہ کے لوگ اس کو مارنے کے لئے دوڑے، اُن کے ہاتھ میں برچھا تھا ہووے نے غور سے دیکھا تو ہر برچھے کی نوک پر ایک سوراخ تھا،بس یہی دیکھتے ہوئے اس کی آنکھ کھل گئی، اور اس کا مسئلہ بھی حل ہوگیا۔ چنانچہ اس نے برچھے کی طرح سوئی کی جڑ کے بجائے نوک کی طرف سوراخ کیا تو مشین ٹھیک طرح سے کام کرنے لگی۔

دراصل الیس ہووے کی مشکل یہ تھی کہ وہ ”رواجی ذہن“ سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتا تھا، وہ سمجھ رہا تھا کہ جو چیز ہزاروں سال سے چلی آرہی ہے وہی صحیح ہے، لیکن جب اس کے لاشعور نے اس کو تصویر کا دوسرا رُخ دکھایا اس وقت وہ معاملہ کو سمجھا اور اس کو فورا حل کرلیا۔یہ صرف ایک واقعہ ہے ورنہ تاریخ میں کتنے ایسے واقعات ہیں ،جب آدمی کسی کام کی لگن میں مگن رہتا ہے تو اس کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آتا ہے،اگرچہ وہ خواب ہی کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ ہم اکثر وبیشتر دیکھتے رہتے ہیں کہ جو لوگ سارا دن جس کام میں لگے رہتے ہیں رات کو خواب میں بھی وہی کام کرتے رہتے ہیں، گاڑیوں کے کنڈیکٹر اور لنڈے بازار میں آوازیں لگا لگا کر اشیاءفروخت کرنے والے رات کو نیند میں بھی یہی آوازیں لگا رہے ہوتے ہیں۔ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایسا کوئی نہ کوئی واقعہ بھی ضرور ہوا ہوگا۔ میں جب چھوٹا تھا اس وقت مجھے کسی بات پر میرے ایک عزیز نے سب کے سامنے ڈانٹا جس سے مجھے سخت دُکھ ہوا،میں بھی سخت غصے میں آگیا اور یہ دُکھ اور غصہ اتنا سوار ہوا کہ رات کو نیند میں بھی میں چلا چلا کر لڑرہا تھا جس کی خبر مجھے صبح گھر والوں نے دی۔انڈیا کے ایک بزنس میں کو اپنی ائرکنڈیشنز بنانے والی کمپنی کے لئے ”سلوگن“ کی ضرورت تھی، اس نے اخبار میں اشتہار دیا کہ جو اچھا سلوگن دے گا اسے انعام دیا جائے گا۔چنانچہ بہت سارے لوگوں نے سلوگن دیے لیکن اسے کوئی بھی پسند نہ آیا۔ وہ ہر وقت اسی فکر میں مگن رہتا تھا اس دوران سوچتے سوچتے چھ سال کا عرصہ بیت گیا، باالاخر ایک دن اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک باغ میں ہے جہاں کا موسم نہایت ہی سہانا ہے، طرح طرح کی چڑیاں درختوں پر بیٹھی ہوئی ہیں، یہ منظر دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا اور بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا:

ویدر(Weather) ہو تو ایسا

یہ کہتے ہی اس کی آنکھ کھل گئی اور اس کا چھ سال سے لٹکا مسئلہ بھی حل ہوگیا، چنانچہ اس نے اسی جملے کو اپنی کمپنی کا سلوگن بنا لیا۔خواب دراصل کسی بھی کام میں گہری وابستگی کا نتیجہ ہوتا ہے ایسے آدمی کے کام کرنے کی صلاحیت بارہ گھنٹے کے بجائے چوبیس گھنٹے ہوجاتی ہے۔

ہم اکثر وبیشتر ناکام ہوجاتے ہیں اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ لگن اور گہری وابستگی سے کام نہیں کرتے، جلدباز ہوتے ہیں ہر کام کا نتیجہ جلدی اور اپنی مرضی کا چاہتے ہیں۔لیکن اس کے برعکس اگر ہم اپنے آپ کو کسی کامیابی کے حصول کے لئے تھکا دیں، ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کریں اور گہری وابستگی اختیار کریں تو ہمارا لاشعور اور خواب بھی ہماری رہنمائی کرسکتے ہیں۔کسی بھی تخلیقی حل کی کوشش میں ہمیں ناآسودگی، بے آرامی اور بے چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تھامس ایڈیسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بال بیرنگ ہاتھوں میں لے کر اپنی کرسی پر بیٹھ جاتا تھا اور تھوڑی دیر کے لئے سونے کی کوشش کرتا۔ جلد وہ ایسی حالت میں ہوتا کہ آدھا جاگ رہا ہوتا اور آدھا سویا ہوا ہوتا۔ جب وہ کافی پرسکون ہو جاتا تو بال بیرنگ نیچے گرنے سے جاگ جاتا اور تب وہ جلد از جلد اِن خیالات کو لکھ لیتا جو خواب کی حالت میں اس کے ذہن میں داخل ہوئے تھے۔ انسان کے خیالات میں بھی اللہ تعالیٰ نے قوت رکھی ہے اور یہ قوت بڑے بڑے کام سرانجام دیتی ہے، چنانچہ اھل سنت والجماعت کے عقائد میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ”نظر لگنا حق ہے“ یعنی کسی آدمی کی نظر لگ سکتی ہے۔ یہ نظر لگنا دراصل انسان کی قوت خیالیہ ہوتی ہے۔اَن پڑھ آدمی جس کے دماغ میں زیادہ خیالات نہ گھوم رہیں ہوں وہ جب کسی چیز کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے تو مکمل دیہان سے اس چیز کی طرف چند لمحوں کے لئے حیرت سے دیکھتا ہے جس سے اس چیز کو نظر لگ جاتی ہے۔ یہ قوت خیالیہ مشق سے پیدا کرکے کچھ لوگ عجیب وغریب کام بھی کرتے ہیں، جسے آج کل کی اصطلاح میں ٹیلی پیتھی، ہِپناٹزم یا مسمریزم کہا جاتا ہے۔باالکل اسی طرح اگر ہم کسی کام کی لگن میں اتنے مگن ہوجائیں کہ ہر وقت اسی کا سوچیں، اسی کا بولیں،اسی کا سنیں تو لازماً ایک وقت آئے گا کہ ہمارا لاشعور اس چیز کے بارے میں نئے نئے انکشافات کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں