262

غزوہ ہند کیا ہے

پاک بھارت حالیہ کشیدگی اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ اس بار انڈین میڈیاپر بھی ٹاک شو میں غزوہ ہند کا چرچا بہت زیادہ رہا ۔ پاکستان اور سوشل میڈیا پر تو غزوہ ہندکا تذکرہ ہوتا ہی رہتا ہے۔ لیکن پھر بھی بہت سارے لوگ اس بارے جاننا چاہتے ہیں کہ غزوہ ہند کیا ہے۔
غزوہ ہند کے بارے میں مروی احادیث میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَعَدَنَا رَسُولُ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم فِي غَزْوَةِ الْهِنْدِ فَإِنْ اسْتُشْهِدْتُ کُنْتُ مِنْ خَيْرِ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُوهُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ.
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے غزوہ ہند کے بارے میں وعدہ فرمایا تھا، سو اگر میں شہید ہو گیا تو بہترین شہیدوں میں سے ہوں گا۔ اگر واپس آ گیا تو میں آزاد ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں گا‘‘۔
1. احمد بن حنبل، المسند، 2: 228، رقم: 7128، مؤسسة قرطبة، مصر
2. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 3: 588، رقم: 6177، دار الکتب العلمية، بيروت
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ وَعَدْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم غَزْوَةُ الْهِنْدِ فَاِنْ اَدْرَکْتُهَا أَنْفِقُ فِيْهَا نَفْسِي وَمَالِي فَاِنْ اُقْتَلُ کُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَآءِ وَاِنْ أَرْجِعُ فَأَنَا اَبُوْهُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ.
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا کہ مسلمان ہندوستان میں جہاد کریں گے، اگر وہ جہاد میری موجودگی میں ہوا تو میں اپنی جان اور مال اﷲ تعالیٰ کی راہ میں قربان کروں گا۔ اگر میں شہید ہو جاؤں تو میں سب سے افضل ترین شہداء میں سے ہوں گا۔ اگر میں زندہ رہا تو میں وہ ابو ہرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہوں گا جو عذاب جہنم سے آزاد کر دیا گیا ہے‘‘۔
1. نسائي، السنن، 3: 28، رقم: 4382، دار الکتب العلمية بيروت
2. بيهقي، السنن الکبری، 9: 176، رقم: 18380، مکتبة دار الباز مکة المکرمة
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلیٰ الله عليه وآله وسلم قَالَ عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِي أَحْرَزَهُمَا اﷲُ مِنْ النَّارِ عِصَابَةٌ تَغْزُو الْهِنْدَ وَعِصَابَةٌ تَکُونُ مَعَ عِيسَی ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام.
’’حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو کہ رسول اﷲ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے، سے روایت ہے کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو گروہوں کو اﷲ تعالیٰ دوزخ کے عذاب سے بچائے گا ان میں سے ایک ہندوستان میں جہاد کرے گا اور دوسرا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگا‘‘۔
1. احمد بن حنبل، المسند، 5: 278، رقم: 22449
2. نسائي، السنن، 3: 28، رقم: 4384
3. بيهقي، السنن الکبری، 9: 176، رقم: 18381
4. طبراني، المعجم الاوسط، 7: 2423، رقم: 6741، دار الحرمين القاهرة

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کے لیے اپنی تمام تر کاوشوں کو بروئے کار لانے کا اعلان فرما رہے ہیں، اور اس کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار ہیں۔ اس دعوتِ اسلام کا ایک پڑاؤ ہندوستان ہے جس میں اسلام کے ابلاغ اور اس کے پھیلاؤ کی ترغیب دینے کا ایک مؤثر طریقہ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے استعمال فرماتے ہوئے اس کاوش کو غزوہ یعنی ’انتہائی کوشش‘ کا نام دیا۔ اس غزوہ سے مراد صرف ایک جنگ نہیں بلکہ اسلام کے پیغام کے فروغ کی ہر ممکن طریقے سے جدوجہد ہے۔
چونکہ اسلام میں جنگ برائے جنگ نہیں ہوتی بلکہ اللہ کے دین اور کلمے کی سربلندی کے لیے بامرمجبوری جنگ کرنا پڑتی ہے، اور جو جنگ جتنی زیادہ مشکل ہو اس پر اجر بھی اتنا ہی زیادہ ملتا ہے۔ چنانچہ بعض روایات میں ہندوستان کے خلاف اسلام کی سربلندی کے لیے لڑی جانے والی جنگ کو جنگ بدر کے مشابہ بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس جنگ کی اتنی بڑی فضیلت کی اصل وجہ موجودہ صورتحال میں کیا ہےاسے ہم مضمون کے آخر میں بیان کریں گے۔
.
ان احادیث کا مصداق کیا ہے اس میں علماء کی بہت سی آراء ہیں۔ چنانچہ ایک رائے یہ ہے کہ ان احادیث کا مصداق وہ تمام جنگیں ہیں جو مسلمانوں کی ہندوستان سے آج تک ہوئی ہیں یا آئندہ ہوں گیں۔ جس میں اسلام کی پندرہ سوسالہ تاریخ، پاکستان کی ستر سالہ تاریخ اور جنگیں، مسئلہ کشمیر وغیرہ سب شامل ہیں۔
احادیث شریفہ میں ہندوستان کی فتح کی بشارت کا ذکر بہت تاکید کے ساتھ ہوا ہے، اس لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور سے ہی غزوہ ہند کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ بلاذری کی تحقیق کے مطابق ہندوستان پر مہم جوئی کا آغاز امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہو چکا تھا۔
ایک رائے یہ ہے کہ ابھی ان روایات کا مصداق پیش نہیں آیا بلکہ حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اس معرکہ آرائی کا تحقق ہوگا اس رائے کے قائلین ان روایتوں کو پیش کرتے ہیں جو علامہ بن نعیم بن حماد نے اپنی کتاب ’’الفتن‘‘ میں پیش کی ہیں، جس میں یہ ذکر ہے کہ ’’ایک جماعت ہندوستان میں جہاد کرے گی اور اس کو فتح نصیب ہوگی اور جب وہ مال غنیمت لے کر واپس لوٹیں گے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ملک شام میں نزول ہوچکا ہوگا‘‘۔
غزوہ ہند سے متعلق اگر تمام روایات کا جائزہ لیا جائے تو مندرجہ ذیل چیزیں واضح ہوتی ہیں۔
1۔ وہ جنگ آخری دور میں لڑی جائیگی۔
2۔ اس وقت مسلمانوں کی طاقت کا مرکز حجاز میں نہیں بلکہ خراسان میں ہوگا جس میں پاکستان، انڈیا، افغانستان، روس اور ایران تک کے علاقے شامل ہیں۔
3۔ طاقت کے اس مرکز میں موجود عجمیوں کا لشکر بہتر ہتھیاروں سے لیس اور بہترین شاہسواروں ( جنگجووں )پر مشتمل ہوگا۔
4۔ اس وقت بیت المقدس میں یہودیوں کا اجتماع ہوچکا ہوگا۔
5۔ شام میں خرابی ہو چکی ہوگی۔
6۔ اس لشکر کو بیک وقت یہود و ہنود سے دشمنی اور جنگ درپیش ہوگی۔
ان تمام باتوں کو دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ موجودہ دور وہی دور ہے جب مسلمانوں کی طاقت کا مرکز خراساں میں پاکستان کی ایٹمی طاقت اور جدید تربیت یافتہ فوج کی شکل میں قائم ہو چکا ہے۔ اور یہی وہ ملک ہے جسے یہود اور ہنود سے بیک وقت خطرہ لگا رہتا ہے۔شام میں خرابی پیدا ہو چکی ہے۔اور اسرائیل کی شکل میں یہودیوں کا اجتماع بھی ہو چکا ہے۔
……………..
غزوہ ہند کی فضیلت کی وجہ
1۔ مشرکین کی اس وقت دنیا میں سب سے بڑی ریاست انڈیا کے لیے پاکستان بدترین دشمن اور رکاؤٹ ہے۔
2۔ اسرائیل کے لیے مدینہ کی طرف پیش قدمی کو پاکستان نامی اسلامی ایٹمی قوت سے مستقل خطرہ درپیش ہے جسکا مزہ وہ 67ء اور 73ء کی عرب اسرائیل جنگوں میں چکھ چکا ہے۔
3۔ امریکہ کی عالمی اجارہ داری کے راستے میں جو اکلوتا کانٹا حائل ہے وہ بھی پاکستان ہے۔ اس کو صرف اس تناظر میں نہ دیکھئے کہ بقول ٹرمپ ” پاکستان ہی افغانستان میں امریکہ کے خلاف جہاد کر رہا ہے” بلکہ سی پیک اور گوادر پر روس اور چین کے انحصار کے حوالے سے بھی دیکھئے۔
4۔ اسلامی دنیا کی دو اہم ترین طاقتوں ایران اور سعودی عرب میں جنگ کو روکے رکھنے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہے۔ صرف پاکستان کی سعودی عرب میں علامتی موجودگی نے ایران کو سعودی عرب پر چڑھائی سے روک رکھا ہے۔ اگر ان میں جنگ ہوتی ہے تو پورے عالم اسلام میں زلزلہ آئیگا۔
5۔ جنگ جتنی سخت اور مشکل ہو اجر اتنا بڑا ہوتا ہے۔ اگر پاکستان اور انڈیا کی جنگ ہوتی ہے تو پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں پر یہ جنگ لڑنی پڑے گی جس میں طاقت کا توازن بری طرح سے پاکستان کے خلاف ہوگا۔ یہ جنگ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر سخت ترین جنگ ہوگی۔

الف ۔۔۔ ایٹمی جنگ کے خطرات کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو بیک وقت انڈیا اور افغانستان میں موجود امریکی کٹھ پتلی فوج کے علاوہ ان لشکروں سے بھی لڑنا پڑے گا جن کو اسلام اور قومیت کے مختلف نعرے دے کر پاکستان کے خلاف جنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے یا کیا جا رہا ہے۔ جن میں ایران سرفہرست ہے۔

ب ۔۔۔ دشمن کے مقابلے میں افرادی قوت بہت کم ہوگی۔ 65ء کی طرح ایک اور پانچ کا تناسب ہوگا۔
ج ۔۔۔ انڈیا دنیا میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے جو ہتھیاروں کے انبار لگا چکا ہے۔ جبکہ افغانستان کو امریکہ اور اسرائیل ہر قسم کے وسائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان مقابلے میں پاک فوج کے پاس یقیناً بہت کم ہتھیار ہیں۔
د ۔۔۔ پاک فوج عوام کے ایک بڑے طبقے کی حمایت سے محروم ہوگی جس پر پورے ملک میں شد و مد سے کام جاری ہے۔ آپ نوٹ کیجیے بیک وقت اسلام پسندوں، لبرلز اور قوم پرستوں کو پاک فوج سے متنفر کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کبھی پاکستان سے براہ راست جنگ کا خطرہ مول نہیں لے گا بلکہ انڈیا کو ہی استعمال کرے گا اور اگر اس جنگ میں پاکستان کو شکست ہوتی ہے تو پورا عالم اسلام اتنی تیزی سے گرے گا جس کا تصور ہی خوفزدہ کردینے والا ہے۔
لیکن دوسری طرف اس جنگ کی فتح نہ صرف امریکہ و اسرائیل ( یہود و نصاری ) کو اس خطے میں اپنے سب سے بڑے حلیف سے محروم کر دے گی بلکہ پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش اور کشمیر میں موجود کم از کم پچاس کروڑ مسلمانوں کو مستقل طور پر ایک جابر ریاست سے نجات مل جائیگی۔
جس کے بعد یہاں موجود لشکر انڈیا کی مدد و حمایت سے محروم اسرائیل کی طرف مارچ کر سکیں گے۔
ان حالات کے پیش نظر پاکستان اور انڈیا میں ممکنہ جنگ کی وہی فضلیت ہونی چاہئے جن کا تذکرہ احادیث میں ملتا ہے۔ غزوہ بدر کی طرح۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں