87

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ :23فروری یومِ وفات

ازقلم:مفکر اسلام
مولانا زاہد الراشدی صاحب
شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے جب 1917ء میں لاہور میں رہائش اختیار کی تو ان کی حیثیت ایک نظر بند کی تھی کیونکہ تحریک آزادی کے نامور راہ نما شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا شاگرد اور مفکرِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تربیت یافتہ عالم دین اور رفیق کار ہونے کی وجہ سے انہیں اس ضمانت پر لاہور کی حدود میں پابند کر دیا گیا تھا کہ وہ انگریز سرکار کے خلاف سرگرمیوں میں شریک نہیں ہوں گے۔ ویسے بھی تحریک ریشمی رومال کی خفیہ تگ و دو کا راز کھل جانے کے باعث وقتی طور پر ایسی سرگرمیوں کا کوئی امکان باقی نہیں رہا تھا۔ چنانچہ حضرت لاہوریؒ نے اپنا رُخ تعلیمی جدوجہد کی طرف موڑ لیا اور شیرانوالہ گیٹ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد میں قرآن کریم کا درس دینا شروع کیا جو ان کی نئی علمی و فکری محنت کا نقطۂ آغاز تھا اور پھر وہ 1962ء تک اسی راستے پر چلتے ہوئے اپنے مالک حقیقی کے حضور پیش ہوگئے۔

حضرت لاہوریؒ کا یہ درس قرآن کریم عوام کے لیے ہوتا تھا لیکن وہ علماء کرام اور جدید تعلیم یافتہ حضرات کے لیے ان کی سطح پر بھی درس قرآن کریم کا اہتمام کرتے تھے اور اس کے ساتھ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و فکر، خاص طور پر ان کی معرکۃ الآراء کتاب ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کی تعلیم و تدریس بھی ان کے اس مشن کا حصہ تھا۔

ان سے اس دوران قدیم و جدید طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ارباب علم نے استفادہ کیا جن میں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ ، علامہ علاء الدین صدیقیؒ اور ڈاکٹر سید محمد عبد اللہؒ جیسی عظیم شخصیات شامل ہیں۔

قرآن فہمی میں ان کا طرز حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی طرح حالات زمانہ پر قرآن کریم کی آیات و احکام کی تطبیق کا تھا اور وہ دورِ حاضر کی اصطلاحات و ماحول کو سامنے رکھ کر قرآن کریم کی تفسیر و تشریح کے ساتھ ساتھ عقلی و منطقی تعبیرات و تاویلات بھی پیش کرتے تھے جس پر ابتداء میں بعض اہل علم کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا لیکن دھیرے دھیرے دینی حلقے اس طرز سے مانوس ہوتے چلے گئے اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حضرت لاہوریؒ کا یہ حلقۂ درس جنوبی ایشیا کی سطح پر فہم قرآن کریم کے بڑے مراکز میں شمار ہونے لگا۔

حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی وفات کے بعد اس سلسلۂ درس کو تادیر قائم رکھنے میں ان کے جانشین حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے ساتھ جن علماء کرام نے مسلسل محنت کی ان میں حضرت مولانا محمد اسحاق قادریؒ اور حضرت مولانا حمید الرحمن عباسیؒ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ مولانا محمد اسحاق قادریؒ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فضلاء میں سے تھے، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد تھے، جبکہ میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے ساتھ دورۂ حدیث میں ہم سبق تھے۔ انہوں نے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی خدمت میں سالہا سال رہ کر ان سے قرآن فہمی کا یہ ذوق سیکھا اور پھر ان کے جانشین حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کی معاونت میں اپنے شیخ کی مسند پر بیٹھ کر سالہا سال تک اس سلسلۂ درس کو جاری رکھا۔ ان کا زندگی بھر کا معمول رہا کہ وہ بائیسکل پر لاہور کے مختلف علاقوں میں جاتے اور کئی مقامات پر ہفتہ وار درس دیتے۔ وہ ایک دور میں جمعیۃ علماء اسلام ضلع لاہور کے امیر رہے ہیں اور دینی تحریکات میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ وہ اللہ اللہ کرنے والے بزرگ تھے اور ذکر الٰہی کے حلقے سجا کر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی یاد میں مگن رکھتے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں