34

مساجد میں‌فلموں کی شوٹنگ. تقدس کا خیال رکھیں

محمد عاصم حفیظ
ہمارے معاشرے میں جب مساجد میں نکاح کا رجحان عام ہوا تو اسے سادگی قرار دیکر خوب سراہا گیا۔ کچھ عرصہ تو یہ انتہائی مثبت رجحان رہا لیکن پھر آہستہ آہستہ اسے سٹیٹس سمبل بنانے کی مہم شروع ہوئی۔ بادشاہی مسجد لاہور، بحریہ ٹاؤن گرینڈ مسجد اور فیصل مسجد اسلام آباد میں نکاح کو ایک رسم بنا دیا گیا۔ اس کے ساتھ شادی بیاہ کے کاروبار سے جڑے شعبے سرگرم ہوئے اور اب صورتحال یہ ہے کہ چند منٹوں کے نکاح کے بعد اسی مسجد میں مکمل پروفیشنل فوٹوگرافی اور ویڈیو شوٹنگ کا اہتمام کیا جانے لگا ہے۔ خاندانی ضرورت کے تحت چند تصاویر جو کہ ان لمحات کو یادگار بنا دیں ان سے بات کہیں دور نکل چکی ہے۔
اس شوٹنگ اور دوسرے الفاظ میں “ماڈلنگ” کی بھرپور تیاری کی جاتی ہے۔ مختلف پوز بنا کر ایک ماہر فوٹوگرافر یا پروڈیوسر کی زیرنگرانی یہ مراحل مکمل ہوتے ہیں۔ دولہا دلہن ان یادگار لمحات کے لیے مکمل طور پر میک اپ، ویل ڈریسنگ میں آتے ہیں جبکہ باراتی بھی اس فوٹو سیشن سے بھرپور مستفید ہوتے ہیں۔ چند گھنٹوں کے لیے مسجد کا کنٹرول فوٹوگرافر سنبھال لیتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ امیروں کا شوق ہے، اس لیے خرچہ بھی شاہانہ ہوتا ہے۔ معاشرے میں بلے بلے بھی ہو جاتی ہے کہ سیٹھ جی، حاجی صاحب وغیرہ تو انتہائی نیک و پارسا ہیں جنہوں نے بیٹے یا بیٹی کا نکاح بھی مسجد میں کیا ہے۔ نیکی کا بھرم بھی رہ جاتا ہے۔ چند لاکھ لگا کر ثواب بھی “کما” لیا جاتا ہے اور بچوں کی فوٹو سیشن اور ویڈیو شوٹنگ کی خواہش بھی پوری ہو جاتی ہے۔ ان خوشی کے لمحات میں سب ہی خوش ہوتے ہیں، سب ہی خوشی خوشی آتے ہیں اور روانہ ہو جاتے ہیں۔
سوال بڑا سادہ سا ہے کہ اس میں سادگی کہاں گئی؟ مسجد کے تقدس کا کیا بنا؟ مسجد میں داخل ہونے کے تو نوافل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے وضو کرنا پڑتا ہے؟ کیا دولہا دلہن اور سجے سنورے رشتہ دار خواتین و حضرات بیوٹی پارلر پر لٹائے ہزاروں روپے ایک وضو کی خاطر قربان کرنے کا حوصلہ کر پاتے ہیں؟ اس دوران اگر کسی فرض نماز کا وقت ہو جائے تو پھر کیا یہ قافلہ سادگی پسند اور ثواب دارین کے راہی نماز ادا کرتے ہیں یا فوٹوگرافی و ویڈیو شوٹنگ میں چند منٹ کا وقفہ کر لیتے ہیں۔ سنا ہے بڑے لوگوں کے بیوٹی پارلرز ایک میک اپ کا خرچہ بھی تیس چالیس ہزار یا اس سے بھی زائد لیتے ہیں اور وقت بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے۔ اس لیے خوشی کے اس موقع پر مسجد میں موجود ہوتے ہوئے بھی ان اہل ایمان کی نماز سے چھٹی ہی سمجھیں۔ خیر مسجد میں نماز کی قربانی دیکر اور کونے کونے میں اچھے اچھے پوز بنوا کر فوٹوگرافی اور ویڈیو شوٹنگ کا یہ مرحلہ بطریق احسن مکمل کر لیا جاتا ہے۔
مسجد سے واپسی پر اہل علاقہ کو ان نیک و سادگی پسند خاندانوں کا عقیدت مندانہ استقبال کرنا چاہیے جو کہ مادیت پسندی کے اس دور میں بھی مسجد میں “سادگی” سے سنت نکاح ادا کرکے ثواب دارین کما کے تشریف لاتے ہیں۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ اگر ہو سکے تو اس سادگی و نیت ثواب کے بغیر ہی گزارا کر لیا جائے تو عنایت ہو گی۔ آپ کسی بڑے ہال میں ہی سنت نکاح ادا کر لیں۔ یقین کریں جانے انجانے میں مسجد کے تقدس کی دھجیاں اڑانے کے گناہ سے بچ جائیں گے۔ البتہ جو لوگ ان سب خرافات سے بچتے ہوئے واقعی نیکی و سادگی کے جذبے سے مساجد میں سنت نبوی ادا کرتے ہیں، ان کے دلوں کے حال اللہ جانتا ہے اور یہ ایک مثبت رجحان بھی ہے۔
خدارا مساجد کے تقدس کا خیال رکھیں۔ آپ کے پاس دولت کے انبار ہوں گے اور بے پناہ اختیارات، کون آپ کو روک سکتا ہے، لیکن طاقت کے اس نشے میں اگر ان مقدس مقامات کو نہ ہی روندا جائے تو بہتر ہے۔ مساجد نماز و عبادت کے لیے ہیں، انہیں ماڈلنگ، فوٹوگرافی اور ویڈیو شوٹنگ کی جگہیں نہ بنایا جائے۔ خدارا مساجد کے تقدس کا خیال کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں