81

حج اور “نام نہاد” سبسڈی

زاہد مغل
موجودہ حکومت نے حج پر دی جانے والی “نام نہاد” سبسڈی ختم کرنے کا اعلان کرکے حج اخراجات میں یکمشت 55 فیصد سے زیادہ (1 لاکھ 56 ہزار روپے) اضافہ کردیا ہے۔ اس زیادتی پر مختلف احباب مختلف طرز پر رائے کا اظہار کررہے ہیں لیکن اس اقدام کو جائز بتانے والوں کی بھی کچھ کمی نہیں۔ ان حضرات کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے اور کسی شخص کو سبسڈی دے کر صاحب استطاعت بنائے جانے کا مطالبہ کرنا درست نہیں (حکومت کے حامی وزیر علماء کے یہ بیانات میڈیا پر نشر کروائے جارہے ہیں)۔ سبسڈی ختم کئے جانے کی یہ دلیل حج اخراجات کے معاملے کے کلی پہلو سے سہو نظر کرکے صرف اس کے جزو پر بات کرتی ہے۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ حج صاحب استطاعت پر ہی فرض ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا شرع نے کسی شص (چاہے وہ ریاست نامی شخص یا حکمران ہی کیوں نہ ہو) کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے فائدے کے لئے لوگوں کے حج اخراجات میں اضافہ کردے؟

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حکومت ہر شخص کو مجبور کرتی ہے کہ وہ حج کے لئے 40 دن کا خرچ برداشت کرے۔ کیا حج واقعی 40 دن کا ہوتا ہے؟ اس کا جواب ہے نہیں۔ تو پھر ذرا سوچیں کہ یہ 40 دن کہاں سے آگئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اتنے لوگوں کو حج پر لے جانے اور لانے میں وقت درکار ہے اور پی آئی اے کے پاس اتنی پروازیں نہیں کہ وہ چند دنوں میں یہ کام کرسکے۔ اچھا تو بھائی آخر یہ کیوں فرض کیا جائے کہ اکثریت حاجیوں کو لے جانے اور واپس لانے کا کام پی آئی اے نے ہی کرنا ہے نیز دوسری آئیر لائنز کو ان روٹس سے نکال کر ان پر پی آئی اے کی اجارہ داری کیوں قائم کی جائے؟ اگر مارکیٹ اکانومی ہی کا شوق ہے تو پھر ایسا کیوں نہ ہو کہ دنیا بھر کی تمام ائیر کمپنیوں کو کھلی اجازت دی جائے کہ وہ ہر ملک سے اپنا حج فلائٹ آپریشن شروع کریں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ پی آئی اے کی تو اصل کمائی ہی حج فلائٹس سے ہونے والی آمدن ہے، تو سرکار بھلا یہ کیسے کرسکتی ہے کہ اس ادارے کے مقابلے پر دوسری بڑی ائیر لائنز کو لے آئے۔

تو اب ذرا پوری تصویر ملاحظہ فرمائیں۔ سرکار چاھتی ہے کہ پی آئی آے کو آمدن ہو، اس کے لئے لازم ہے کہ ہر شخص 40 دن کے حج اخراجات برداشت کرے جن میں سے زیادہ تر اخراجات سعودی عرب قیام و رہائش پر ہوتے ہیں۔ یعنی سرکاری ادارے (وہ بھی نقصان زدہ اور جسے سرکار ہر سال اربوں روپے کی سبسڈی دے رہی ہے) کی اجارہ داری کو تو چیلنج نہ کیا جائے، اس کی آمدن بھی پکی رکھی جائے، ہاں اس سب کا بوجھ عام آدمی اٹھائے اور اسے مطمئن کرنے کے لئے ایک مذہبی شخص کو آگے کردیا جائے جو لوگوں کہ یہ بتائے کہ “حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے”۔ چنانچہ حکومت حج اخراجات پر اگر کوئی سبسڈی دے بھی رہی ہے تو کوئی احسان نہیں کررہی بلکہ لوگوں پر مسلط کئے جانے والے اضافی اخراجات میں سے کچھ کا ازالہ کررہی ہے، اسے سبسڈی کہنا بیوقوف بنانا ہے۔ حیرت ان مذھبی لوگوں پر ہے جو درج بالا سوال اتھانے کے بجائے یہ بتا رہے ہیں کہ حج صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ کیا شرع نے 40 دن کا حج فرض کیا ہے؟ اگر ایسی کوئی شرط سعودی عرب لگاتا ہے تو بھی سوال یہ ہے کہ اس کا بوجھ عام آدمی کیوں اٹھائے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں