30

صیہونیوں کا خدا “دجال” لاہور میں

یاسر رسول
۔۔۔۔
لاہور میوزیم میں 12 فٹ لمبا ایک “شیطانی مجسمہ” لگایا گیا ہے۔ اس مجسمے کی خاصیت یہ ہے کہ اسے عالمی صیہونی، فری میسن اور الیومیناٹی لوگ اپنا خدا مانتے ہیں۔

تصویر غور سے دیکھیے، اسے بفومیٹ ( Baphomat ) کے نام سے جانا جاتا ہے اور صیہونیوں کے نزدیک ان کا آنے والا مسیحا یعنی ” دجال” بلکل ایسا ہی ہوگا۔۔۔صیہونی اس مجسمے کی باقائدہ پوجا بھی کرتے ہیں بلکہ اب تو یورپ میں باقائدہ عیسائیوں کی طرح بفومیٹ کو پوجنےکے لیے بھی چرچ بنائے جاچکے ہیں۔

بفومیٹ کی تاریخ یہ ہے کہ صیہونیت کے مطابق بفومیٹ خدائی شکتی کا حامل ایک جانور نما انسان تھا۔ اس کا جسم انسان جیسا لیکن سر بکرے کی طرح تھا، لوگوں نے اسے خدا سمجھ کر اس کی پوجا کرنا شروع کی اور یوں زمانے بیتے اور صیہونیت کی بانی تنطیم فری میسن نے اسے واقعی اپنا خدابناکر پیش کیا۔ کچھ دن پہلے میں نے آپ سب کے ساتھ صیہونیت کے رازوں سے پردہ اٹھانے والا ایک ناول”دی ڈاونچی کوڈ” پڑھنے کا کہا تھا۔ اس ناول میں اس “بفومیٹ ” اور اس کے عالمی صیہونیت سے تعلق کی تمام تفصیل بھی موجود ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ بفومیٹ عالم اسلام کے مرکز پاکستان کے شہر لاہور میں کیا کر رہا ہے ؟

عام دماغ رکھنے والے اس گیم کو نہیں سمجھ سکتے، عام آدمی یہی کہے گا کہ بھئی یہ ایک میوزیم ہے جہان سب کے مجسمے لگائے جاسکتے ہیں اور آئیں بائیں شائیں یعنی کچھ نہیں ہوتا فضول مت سوچو وغیرہ وغیرہ۔ مگر عالمی صیہونیت کے پھینکے گئے پتوں کو سمجھنے والے اہل علم اسےآسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ بفومیٹ لاہور کیوں آیا ہے۔۔

دیکھیں” بفومیٹ “کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ہم جس “دجال ” کے بارے میں پڑھتے ہیں وہ ایسا بلکل بھی نہیں ہوگا بلکہ وہ انسانوں کی طرح ایک مکمل “کسرا” ہوگا جس کے جسم پر عورت کی طرح تھن بھی ہوں گے۔ لیکن یہ تصویر صیہونیت نے یہودیت میں ترمیم کرکے خود پھیلائی اور اسے اپنا خدا متعارف کرواکے پوری دنیا میں پروموٹ کروایا۔ یاد رہے اصل یہود قوم بھی صیہونیوں پر لعنت بھیجتی ہے۔ صیہونیت دراصل یہودیت کا خارجی فرقہ ہے۔

لاہور میں اسے اتنی بڑی سائز کے ساتھ نسب کرنے کا مقصد یہی ہے کہ مسلمانوں کو صیہونیت سے آشنا کروایا جائے۔ آپ اسے ایک میٹھا زہر سمجھیں، پہلے گیمز، فلموں اور کارٹونز کے زریعے مسلمانوں کی نئی نسل کو صیہونیت سے آشنا کیا گیا اور اب حقیقی زندگی میں عین سب کے سامنے اسے میوزیم میں رکھ دیا گیا۔مجھے پورا یقین ہے اسے بنانے اور نسب کروانے میں ضرور صیہونیوں کے لیے کام کرنے والی کوئی این جی او یا کوئی سفارت خانہ ملوث ہوگا۔ اب اسے دیکھ کر مسلمانوں کے بچے سیلفیاں لیں گے، اسے ایک کارٹون سمجھیں گے یا اس کے مطلق جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ کیا چیز ہے اور پھر گوگل یوٹیوب پر پہلے سے موجود صیہونی مواد اور جعلی اسلامی قادیانی مواد کے شکنجے میں آکرصیہونیت کے قریب ہوتے جائیں گے۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو دجال سے خبردار ضرور کرنا ہے، دجال سے ڈرانا بھی ہے، لیکن یوں مجسمے لگاکر دجال کا آئیڈیل نہیں بنانے دینا۔ بچوں کو اس کا شیدائی نہیں بنانا، کل کو اس مجسمے کے کھلونے بھی مارکیٹ میں آجائیں گے اور مسلمان بچے اسے اپنا دوست سمجھنے لگیں گے، پھر جب یہ بچے بڑے ہوں گے تو انہیں دجال سے بلکل بھی ڈر نہیں لگے بلکہ یہ تو دجال کو مکمل بھول جائیں گے ۔ یعنی پھر جب اس دنیا پر دجال کا حقیقی ظہور ہوگا تو ہماری نئی نسل جو اس وقت جوان ہوکر ملک سنبھال چکی ہوگی، دجال کو دیکھ کر اسے اپنا دوست سمجھ کر اس کے مزید قریب بھاگے گی کیونکہ یہ تو ان کا بچپن کا پسندیدہ کھلونا بن چکا ہوگا۔ جبکہ دوسری طرف اسلام ہمیں کہتا ہے کہ دجال کی آمد کی اطلاع ملتے ہی جتنا ہوسکے اس سے دور بھاگنا اور پہاروں پر چلے جانا ورنہ اپنا ایمان کھوکر اسے خدا ماننے پر مجبور ہوجاؤگے۔

میرے پیارے پاکستانیوں بھائیو اور بہنوں!

اس سے پہلے کہ حرام کے یہ نطفے(صیہونی) بفومیٹ کو ہمارے پاک ملک پاکستان میں مزید پھیلاتے جائیں، ہمیں ان کا راستہ روکنا ہے، ہمیں اپنی اولاد کو اس مجسمے کے بارے میں یہ بتانا ہے کہ یہ اسلام کے سب سے بڑے دشمن صیہونی فری میسن الیومیناٹی شیطانوں کا خدا ہے ۔اسے دیکھ کر اس کے ساتھ سیلفیاں مت لو بلکہ اس پر لعنت بھیج کر آگے نکل جاؤ اور دوسروں کو بھی اس شیطان کے بارے میں آگاہ کرکے نیکیاں کماؤ۔ اور ہمیں حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ جتنا جلد ہوسکے اس شیطان کو لاہور میں ٹکڑے ٹکرے کرکے کچرے کے ڈھیر پر پھینکا جائے ورنہ اسلام کے محافظوں کا دماغ گھوم گیا تو پھر مجسمے کے پنجاب حکومت کے بھی ٹکڑے ٹکرے کردیے جائیں گے۔

حکومت کو پیار سے وارنگ دیتا ہوں مجسمہ ہٹادیں ورنہ پھر توپوں کو رخ سیدھا عمران حکومت کے خلاف کروں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں