قارورہ یعنی پیشاب سے تشخیص

 قارورہ (پیشاب) سے تشخیص

حالت صحت میں پیشاب عنبری یا ہلکے زرد رنگ کا شفاف سیال ہوتا ہے جس کا وزن مخصوص آب خون کے برابر لیکن پانی سے کسی قدر ذیادہ ہوتا ہے . پیشاب کی روزانہ مقدار میں قوت و موسم . غذاء کی کمی بیشی اور غذاء کی نوعیت سے بہت فرق پڑتا ہے .
بعض اطباء کا خیال ہے کہ قارورہ سے صرف اعضاء بولیہ ( گردے . حالبین . مثانہ . پیشاب کی نالی ) اور جگر کے امراض ہی کا پتا چلتا ہے .قارورہ باقی امراض اور اعضاء کی خرابی پر روشنی نہیں ڈال سکتا . حقیقت یہہے کہ قارورہ سر سے لے کر پاؤں تک کے تمام اعضاء کی حالت اور ہر قسم کے جسمانی و کیمیاوی اثرات کا پتا چلتا ہے .

 قارورہ دیکھنے کا طریقہ قانون اربعہ طب مفرد اعضاء

قارورہ دیکھنے کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ سو کر اٹھنے کے بعد صبح کا پہلا ہو اور پوری مقدار میں سفید شیشے کی بڑی بوتل میں ہو اور جتنی جلد ہوسکے اتنی ہی جلدی اس کا معائینہ کیا جائے قاورہ میں یہ چیزیں دیکھنی اہم ہیں . 1- رنگت 2- بو اور قوام 3- رسوب ( مواد مقار مادہ )
(1) رنگت

سرخ

سرخ رنگ ریاح کی ذیادتی اور جوش خون پر دلالت کرتا ہے جس قدر سرخی بڑھتی جائے گی اسی قدر ریاح میں شدت بڑھتی جائے گی . اور اس کا اثر خاص طور پر معدہ و پھیپھڑوں اور دل و مثانہ پر پڑے گا .
اگر قارورہ کی رنگت سیاہی مائل سرخ ہو تو ایسا قارورہ عضلاتی مخاطی ( خشکی سردی ) علامات کا اظہار کرے گا
اگر قارورہ زردی مائل سرخ ہو تو ایسا قارورہ عضلاتی قشری ( خشکی گرمی ) علامات کا اظہار کرے گا .

( زرد )

زدد رنگ صفراء کی ذیادتی کی دلیل ہے . اس سے ایک طرف گرمی بڑھتی ہے اور دوسری طرف ریاح کم ہونا شروع ہوجاتے ہیں جوں جوں زردی بڑھتی جاتی ہے جسم میں حرارت بڑھتی جاتی ہے .
اگر قارورہ کی رنگت سرخی مائل زرد ہو تو تو ایسا قارورہ قشری عضلاتی ( گرمی خشکی ) کی علامات کا اظہار کرے گا
اگر قارورہ سفیدی مائل زرد ہو تو ایسا قارورہ قشری اعصابی ( گرمی تری ) علامات کا اظہار کرے گا .

( سفید رنگ کا قارورہ )

سفید رنگ حرارت کی کمی اور بلغم کی ذیادتی کی دلیل ہے . جوں جوں سفید رنگ قارورہ میں بڑھتا جاتا ہے .حرارت کی کمی کا اظہار ہوتا ہے .
اگر قارورہ زردی مائل سفید ہو تو ایسا قارورہ اعصابی قشری ( تری گرمی ) علامات کا اظہار کرے گا .
اگر قارورہ کی رنگت نیلاہٹ مائل سفید ہو تو ایسا قارورہ اعصابی مخاطی ( تری سردی )

( سیاہ رنگت کا قارورہ )

سیاہ رنگ کا قارورہ انتہائی سردی خشکی کی دلیل ہے .اور سودا کا ضرورت سے بڑھ جانا ثابت کرتا ہے . ایسے مریض میں حرارت کی انتہائی کمی ہوجاتی ہے . ایسا قارورہ ہر قسم کے ضعف عضلات کی نشاندھی کر تا ہے خون کا قوام گاڑھا ہوجاتا ہے نبض ٹھرنے لگتی ہے . ایسا قارورہ زندگی سے ما یوسی کا اظہار کرتا ہے .
اگر قارورہ کی رنگت سفیدی مائل سیاہ ہو تو ایسا قارورہ مخاطی اعصابی ( سردی تر ی) علامات کا اظہار کرتا ہے .
اگر قارورہ سرخی مائل سیاہ ہو تو ایسا قارورہ مخاطی عضلاتی ( سرد ی خشکی ) علامات کا اظہا کرے گا۔

تشخیص فی البول

Urine analysis
زمانہ قدیم سے ہی امراض کی تشخیص میں پیشاب سے مدد لی جاتی رہی ہے۔ لیکن دور جدید میں لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے پیشاب سے تشخیص کا دائرہ کافی وسعت اختیار کر چکا ہے پیٹ درد، کمر درد ، بار بار اور تکلیف سے پیشاب کا آنا ،شوگر ، پریگننسی کی جانکاری ، امراض گردہ ،ہسپتال میں داخلے اور سرجری سے پہلے پیشاب کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا جاتا ہے
ٹیسٹ کے لیے ایک سے دو اونس پیشاب کا نمونہ لیا جاتا ہے پیشاب کو فیزیکل ، کیمیکل اور خوردبین سے ٹیسٹ کیا جاتا ہے ٹیسٹ سے پیشاب میں بہت سے مادوں کی جانچ کی جاتی ہے جن میں عمومی فضلات اور غیر فطری میٹا بولزم، خون کے خلیات ، خلیات کے اجزاء اور بیکٹیریا وغیرہ شامل ہیں
پیشاب گردوں میں بنتا ہے جو نچلی کمر میں ریڑھ کی ہڈی کے دائیں بائیں واقع ہیں گردے خون سے فضلات فلٹر کرتے ہیں اور جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھتے ہیں پروٹین، نمکیات اور دیگر مرکبات کو ضائع ہونے سے روکتے ہیں ہر وہ چیز جس کی جسم کو ضرورت نہ ہو پیشاب کے زریعے خارج ہوجاتی ہے پیشاب حالب نالیوں سے ہوتا ہوا مثانے میں جمع ہوتا ہے اور پھر یوریتھرا کے زریعے جسم سے خارج ہوجاتا ہے۔
پیشاب عموما زردی مائل نسبتاً صاف ہوتا ہے لیکن ہر بار کا پیشاب جو ایک انسان خارج کرتا ہے اس کے رنگ ، مقدار، قوام اور اجزائے بولیہ میں ہلکا پھلکا فرق ہوتا ہے۔
بہت سے پیچیدہ امراض کی تشخیص شروع درجات میں پیشاب کے زریعے خارج ہونے والے مادوں سے شناخت ہوجاتی ہے مثلاً۔۔گلوکوز، پروٹین، بلیروبن،RBC, WBC, کرسٹلز اور بیکٹیریا وغیرہ
مرض کی صورت میں طبعیت مدبرہ بدن جسم سے ان فالتو مادوں کا اخراج پیشاب کے زریعے کرتی ہے پیشاب کا مکمل امتحان تین درجات میں کیا جاتا ہے

اول۔۔۔۔نظری معائنہ۔

جس میں پیشاب کا رنگ اور شفافیت دیکھی جاتی ہے

دوم۔۔۔کمیاوی امتحان۔

جس میں تقریباً 9 مادوں کی جانچ کی جاتی ہے جن سے صحت و مرض کے متعلق اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں اور پیشاب کی غلظت یعنی گاڑھا پن معلوم کیا جاتا ہے

سوئم۔۔خوردبینی امتحان۔

جس سے پیشاب میں خارج ہونے والے خلیات ، کرسٹلز ، ٹھوس زرات اور دیگر اجزاء مثلاً بیکٹیریا اور میوکس وغیرہ کی پیشاب میں موجودگی معلوم کی جاتی ہے۔
ٹیسٹ کے لیے پیشاب کسی وقت بھی لیا جاسکتا ہے لیکن بعض حالتوں میں صبح کا پہلا پیشاب لیا جاتا ہے کیونکہ یہ گاڑھا ہوتا ہے اور اس کے زریعے غیر عمومی صورتحال کی بہتر جانچ ہوسکتی ہے۔
پیشاب کا امتحان ایک گھنٹہ کے اندر کرلینا چاہیئے دیر کی صورت میں پشاب ریفریجریٹر میں محفوظ کرلینا چاہیئے
اب ہم یورین رپورٹس کے اجزائے ترکیبی پر فردا فردا تفصیلی گفتگو کریں گے

یورین رپورٹس

1..خون کے سرخ جسیمے۔۔RBC

عموما پیشاب میں 0-5 تک RBC فی ہائی پاور فیلڈ HPF پائے جاتے ہیں۔ ہیمو گلوبین کا مثبت کیمیکل ٹیسٹ اور خوردبین کے نیچیے ذائد مقدار RBC کا نظر انا پیشاب میں خون کی موجودگی ظاہر کرتا ہے تاہم یہ ٹیسٹ نہیں بتاتا کہ خون کہاں سے آرہا ہے پیشاب میں خون کا نظر انا معمولی بات نہیں ہے اسے Hematuria کہتے ہیں جو کہ کسی مرض کی موجودگی ظاہر کرتا ہے اور مزید تشخیصی ذرائع بروئے کار لاکر خون آنے کا سبب اور مقام معلوم کرنا ضروری ہوتا ہے خون آنے کی کئی وجوھات معمولی اور عارضی ہوتی ہیں جن کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا اور عموما بغیر علاج کے مسلہ حل ہو جاتا ہے
اگر پیشاب میں خون کے ساتھ WBC اور بیکٹریا بھی موجود ہوں تو یہ عموما یورین ٹریکٹ انفیکشن ہوتا ہے جو دافع تعفن ادویہ سے باآسانی ٹھیک ہوجاتا ہے
بول فی الدم Hematuria کے کچھ اسباب کریٹیکل کنڈیشن اور مزمن امراض کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں اس صورتحال میں مریض کی مسلسل نگہداشت ضروری ہے۔

2۔ خون کے سفید جسیمے۔WBC

پیشاب میں WBC کی عمومی مقدار 0-5 HPF تک ہوتی ہے عموما خواتین کے پیشاب میں WBC کی کچھ مقدار فرج کی رطوبتوں سے شامل ہوجاتی ہے
پشاب میں WBC کی بڑھی ہوئی مقدار اور لیکو سائیٹس ایسٹیریز کا مثبت ٹیسٹ نظام بولیہ میں انفیکشن یا انفلیمیشن کو ظاہر کرتا ہے اگر WBC کے ساتھ کچھ بیکٹریا بھی موجود ہوں تو یہ یورینری ٹریکٹ میں انفیکشن کی علامت ہوتی ہے

3۔ بیکٹریا، Yeast اور پیرا سائیٹس۔

صحت مند افراد میں نظام بولیہ جراثیم سے پاک یعنی Sterile ہوتا ہے اور اس میں کسی قسم کے بیرونی جراثیم نہیں پائے جاتے عموما جلد اور وجائنا میں پائے جانے والے جراثیم پیشاب میں شامل ہوجاتے ہیں اس لیے پیشاب کا مکمل ٹیسٹ لینے کے لیے کلین کیچ سیمپل کا طریقہ اپنایا جاتا ہے جس میں ٹسیٹ سے قبل اعضائے مخصوصہ کی صفائی کی جاتی ہے اگر پیشاب میں مائکروبز نظر ائیں تو Few, moderete اور Many تین درجات میں رپورٹ لکھی جاتی ہے
آس پاس کی جلد سے بیکٹریا پشاب کی نالی سے ہوتے ہوئے مثانے میں پہنچ کر انفیکشن پیدا کرتے ہیں اگر اس UTI انفیکشن کا علاج نہ کیا جائے تو یہ جراثیم حرکت کرتے ہوئے گردوں تک پہنچ جاتے ہیں اور گردوں کے انفیکشن Pyelonephritis کا باعث بنتے ہیں اگر کسی مریض کو صرف پیشاب کی نالی میں انفیکشن ہو تب یورین کلچر کرائے بغیر مریض کا علاج کر دیا جاتا ہے تاہم اگر مریض کے مثانے تک انفکشن یعنی UTI ہو تو یہ مکمنہ طور پر پچیدہ انفیکشن ہے اس لیئے یورین کلچر ٹیسٹ کرانا چاہیے تاکہ مرض کا سبب بننے والے جراثیم کی جانکاری لے کر مناسب علاج کیا جاسکے
عموما خواتین کے پیشاب میں Yeast پائے جاتے ہیں جو کہ اکثر وجائنا میں سے پیشاب میں شامل ہوتے ہیں اگر پیشاب میں Yeast نظر ائیں تب مریضہ کا Yeast انفیکشن کے مطابق علاج کیا جاتا ہے
اس کے علاوہ Trichomonas Vaginalis, ایک طفیلیا جراثیم ہے جو عموما خواتین کے پیشاب میں دیکھا گیا ہے یہ بھی وجائنا سے پیشاب میں مل جاتا یے۔
اگر یہ پیشاب میں نظر ائیں تو مریضہ کے وجائنل انفیکشن کا علاج کیا جاتا ہے

4۔ ٹھوس زرات۔Casts

عموما یہ ٹھوس زرات گردوں کے خلیات سے خارج ہونے والی Coagulated Protein کے جمنے سے گردوں کی لمبی پتلی گول شکل کی ٹیوبز میں بنتے ہیں خوردبین کے نیچے عموما انکی ساخت Hot dog جیسی نظر اتی ہے اور صحت مند افراد کے پیشاب میں یہ تقریبا شفاف نظر اتے ہیں اس قسم کی کاسٹ کو Hyaline کہتے ہیں
صحت مند افراد میں انکی عمومی مقدار 0-5 LPF لو پاور فلیڈ ہوتی ہے جبکہ شدید مشقت و ورزش کے بعد بھی پیشاب میں ان کی مقدار بڑھ جاتی ہے
کاسٹس کی دیگر اقسام گردوں کے مختلف امراض سے مربوط ہوتی ہیں پیشاب میں پائی جانے والی کاسٹ گردوں کے مختلف امراض کی نشاندہی کرتی ہے
دیگر خلوی کاسٹس مثلا RBC اور WBC گردوں کا بگاڑ ظاہر کرتی ہیں نیز
Granular Casts,
fatty casts
اور Vaxy Casts زرات کی دیگر اقسام ہیں
جب گردے مرض میں مبتلاء ہوجائیں تو دموی خلیئے اور دیگر مادے پروٹین میں منجمند ہوکر مختلف طرح کے کاسٹس کی تشکیل ہوتی ہے ہر کاسٹ کی شناخت پروٹین میں لپٹے ہوئے مادے سے ہوتی ہے مثلا ۔RBC کاسٹ اور WBC کاسٹ وغیرہ۔

5۔ کیٹونز Ketones

عموما پشاب میں کیٹونز نہیں پائے جاتے یہ مادے چکنائی کا استحالہ (فیٹ میٹا بولزم) کے عمل میں بنتے ہیں ان کی پیدائش خلیات میں گلوکوز کی غیر موجودگی کے سبب ہوتی ہے جب کوئی مریض ضرروی مقدار میں کاربوہائیڈریٹس نہیں کھاتا یا زیادہ پروٹین والی غذا کھاتا ہے یا کسی فرد کا جسم کاربوہائیڈریٹ کو مناسب استمعال نہیں کر سکتا تب ان کی پیدائش ہوتی ہے کاربوہائیڈریٹس کی غیر موجودگی میں جسم توانائی کے لیے چکنائی کا استحالہ کرتا ہے، زیادہ جسمانی مشقت، بہت سردی لگنے، مسلسل الٹی ہونے یا نظام ہضم کے بگاڑ کے سبب چکنائیوں کا استحالہ ہونے لگتا ہے جس کے نتیجہ میں پیشاب میں کیٹونز Ketones کا اخراج ہوتا ہے اس کیفیت کو Ketonuria کہتے ہیں
ذیابطیس میں مبتلاء افراد کے پیشاب میں کیٹونز کا پایا جانا انسولین کی کمی کی ابتدائی علامت ہے۔
انسولین کی ناکافی مقدار گلوکوز کے استحالہ کے بجائے چکنائیوں کے استحالہ کا باعث بنتی ہے اس وجہ سے خون میں کیٹونز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجہ میں اول Ketosis اور بعدازاں Ketoacidosis کی صورتحال پیدا ہوتی ہے یہ نظام استحالہ کی تیزابی سمیت ہے ۔
اس صورتحال میں خون کی صفائی کے لیے ذائد کیٹونز Ketones اور گلوکوز کو گردے پیشاب میں خارج کرنے لگتے ہیں یہ صورتحال Diabetic Ketoacidosis (DKA) کہلاتی ہے یہ کیفیت ان کنٹرول ٹائپ ون شوگر میں دیکھی جاتی ہے جو کہ ایک میڈیکل ایمرجنسی کی صورتحال ہے ۔

6۔ شکری مادے Glucose

عموما پیشاب میں شکری مادے نہیں پائے جاتے اگر یہ پائے جائیں تو اس صورتحال کو بول شکری یا Glucosuria کہا جاتا ہے اس کے اسباب درج زیل ہیں
اول۔۔خون میں گلوکوز کی ذائد مقدار جو کہ عموما ذیابطیس کے مریضوں میں ہوتی ہے
دوئم۔۔ گردوں سے شکر کی زائد نکاسی۔ عام طور پہ خون میں شکر کی مقدار ایک خاص درجہ سے بڑھ جائے تو گردے پیشاب میں شکر کا اخراج کرنے لگتے ہیں لیکن بعض اوقات خون میں شکر کے کم ارتکاز کے باوجود گردے شکر کو پیشاب میں خارج کر رہے ہوتے ہیں
درج بالا دو اسباب کے علاوہ ہارمونل ڈس آرڈر، جگر کی خرابی، انگریزی ادویات کا استمعال، اور حمل کے دوران بھی پیشاب میں شکر خارج ہونے لگتی ہے اس لیئے پیشاب میں شکر کا اخراج دیکھ کر ذیابطیس کا حکم نہیں لگا دینا چاہیے بلکہ اصل سبب جاننے کے لیے دیگر ٹیسٹ کروائے ضروری ہیں۔
کثافت اضافی ۔Specific gravity
پیشاب کی کثافت اضافی پیشاب کے گاڑھے پن کا پیمانہ ہے یہ ٹیسٹ صرف یہ بتاتا ہے کہ پیشاب کتنا گاڑھا ہے سپسفس گراویٹی پیشاب میں حل شدہ مادوں اور خالص پانی کا ایک تقابلی جائزہ ہے اگر پیشاب میں کوئی مادے موجود نہ ہوں تو Specific gravity 1.000 ہوگی چونکہ پیشاب کے ہر نمونے میں کچھ نہ کچھ مادے موجود ہوتے ہیں لہذا SG ایک ہونا محال ہے
اگر کوئی شخص تھوڑے وقت میں زیادہ پانی پی لے یا انٹرا وینس انفیوزن کی کثیر مقدار دی گئ ہو تو پیشاب کی SG پانی کے بہت قریب قریب ہوگی
پیشاب کی کثافت کی اوپری حد 1.035 گاڑھے پیشاب کو ظاہر کرتی ہے عموما صبح کا پہلا پیشاب خوب گاڑھا ہوتا ہے نیز گاڑھے پیشاب میں موجود مادوں کی جانچ آسانی سے ہوتی ہے
طبی نقطہ نظر سے پیشاب کا گاڑھا پن گرمی اور خشکی کو ظاہر کرتا ہے

پی ایچ۔۔ PH

عموما پیشاب کی PH چھے کے قریب یعنی ہلکی تزابیت ہوتی ہے لیکن مختلف حالتوں میں اسکی رینج 4.5 سے 8 تک ہوسکتی ہے
گردے جسم میں تیزاب اساس کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے ایسی حالتیں جن میں تزابیت یا اساسیت بہت بڑھ گئ ہو وہ جسم میں بالترتیب Acidosis یا Alkalosis کی کفیت کا باعث بنتی ہیں نیز تیزابی اور اساسی غذائیں کھانا پیشاب کی PH پر آثر انداز ہوتا ہے
پیشاب میں حل پزیر بعض مادے تیزابی ماحول میں قلمی شکل اخیتار کر لیتے ہیں جبکہ کچھ مادے اساسی صورت میں قلمیں بناتے ہیں اگر گردوں میں پیشاب بننے کے دوران کرسٹل بننے کا عمل شروع ہوجائے تو پتھریاں بننے کا رجحان پیدا ہوجاتا ہے پیشاب کی PH کو درست کر کے کرسٹلز بننے کے عمل کو کم یا ختم کیا جاسکتا ہے

قلمیں ۔۔Crystals

پیشاب بہت سے حل پزیر مادے رکھتا ہے جو کہ جسم سے خارج ہونے والے کمیائی فضلات ہوتے ہیں یہ حل شدہ مادے پیشاب کی PH کم زیادہ ہونے کے سبب کرسٹلز کی شکل اخیتار کر جاتے ہیں
کرسٹل بننے میں پیشاب کا ٹمپریچر اہم رول ادا کرتا ہے
کرسٹلز کی شناخت انکی شکل، رنگ، اور پیشاب کیPH سے کی جاتی ہے کرسٹلز ریت کے زروں جیسی چھوٹی بے شکل سوئیوں جیسی لمبی بھی ہوسکتی ہیں صحت مند افراد کا پیشاب ٹھنڈا ہونے کے بعد اس کی تہہ میں درجہ زیل رسوب نما Amorphous Uprated Crystalline Uric Asid Calcium Oxalate
Amorphous phosphate کرسٹلز کے زرات بن جائیں تو یہ
نارمل بات ہے
اگر قلمیں عام طور پر پیشاب میں پائے جانے والے مادوں کی نہ ہوں تو انہیں ابنارمل کرسٹلز کہا جاتا ہے جو کہ درج زیل ہیں
Calcium Carbonate
Cystine
Tyrosine
Leucine
فطری اور غیر فطری قلمیں بننے کا عمل اگر گردوں میں شروع ہوجائے تو وہ باہم مل کر پتھریاں Calculi بناتی ہیں یہ پتھریاں کبھی گردوں میں اور کبھی پیشاب کی نالی میں پھنس کر رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں

پروثین۔۔۔Protern

پروٹین ٹیسٹ پیڈ پیشاب میں البیومن کی مقدار کا سرسری اندازہ بتاتا ہے
البیومن خون میں موجود 6% پروٹین بناتے ہیں عموما پیشاب میں بہت کم یا بالکل بھی پروٹین نہیں ہوتی جب پیشاب میں پروٹین کی مقدار بڑھ جائے تو اس حالت کو Proteinuria کہتے ہیں
پروٹینیوریا صحت مند افراد میں سٹریس زیادہ مشقت، بخار،ایسپرین کا استمعال،اور سردی لگنے جیسے اسباب سے پیش اتا ہے پیشاب میں پروٹین کی موجودگی پر بار بار ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں اگر پیشاب ٹسٹ میں پروٹین کی کثیر مقدار ظاہر ہورہی ہو تو 24 Hour Urine protein test کروایا جاتا ہے
پیشاب میں پروٹین انا امراض گردہ کی علامت ہوسکتی ہے
گردوں کا ڈس فنکشن شروع ہونے پر پیشاب میں البیومن کی تھوڑی مقدار نظر اتی ہے اس کے لیے Urine Albumin test کیا جاتا ہے

بیلروبن Bilirubin

یہ جگر میں ہیمو گلوبین کی ٹوٹ پھوٹ سے پیدا ہونے والا مادہ ہے اور عموما پیشاب میں خارج نہیں ہوتا بلکہ پتہ میں جمع ہونے والے بائل کی بناوٹ میں استمعال ہوجاتا ہے
جگر کے کچھ امراض
مثلا یرقان سودی کے سبب پیشاب اور خون میں بیلروبن Bilirubin کی مقدار بڑھ جاتی ہے لہذا پیشاب میں بیلروبن Bilirubin کا انا یرقان کی علامت ہوتی ہے
ایپی تھیلیل سیلیز (قشری خلیات)
پیشاب کی رپورٹ میں عموما قشری خلیات کی موجودگی Few, Moderate, اور Many فی لو پاور فلیڈ LPF تین درجات میں بیان کی جاتی ہے
عام طور پر مرد و خواتین کے پیشاب میں Few ایپی تھیلیل سیلیز پائے جاتے ہیں لیکن نظام بولیہ کے انفکشن ، ورم اور شدید بگاڑ کی صورتوں میں قشری خلیات کی تعداد پیشاب میں بڑھ جاتی ہے پیشاب میں موجود خلیات کی اقسام کو شناخت کرنے سے بعض خاص امراض کی نشاندہی ہوتی ہے مثلا قشری خلیات کے ساتھ ٹوٹے ہوئے ہیمو گلوبین Hemosiderin کی کثیر مقدار ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پیشاب میں RBC یا ہیمو گلوبین موجود تھا
درحقیقت نظام بولیہ کی تمام ساختوں کی اندرونی پرت قشری خلیات سے بنتی ہے اور نظام بولیہ کی سوزش و ورم کے سبب ایپی تھیلیل سیلیز ٹوٹ ٹوٹ کر پیشاب میں خارج ہوتے ہیں لہذا پیشاب میں ایپی تھیلیل سیلیز کی مقدار نظام بولیہ کی ساختوں میں سوزش کی کمی بیشی کا درجہ متعین کرتی ہے
تحریر و تحقیق ڈاکٹر سید رضوان شاہ۔

سم اللہ الر حمن الر حیم

پیشاب کے تشخیصی پواہنٹ

👈۔۔رپورٹ میں Milky لکھا ہے ۔
۔۔اس سے مر اد مجا ری بول میں افیکشن ہے
👈۔۔orange لکھا ہے ۔مر یض پا نی کم پی رہا ہے ۔یا بخار ہے
👈۔۔Redish لکھا ہے ۔تو خون آرہا ہے
👈۔۔Pale yellow لکھا ہے گر می کا مر یض ہے ۔اور یر قان بھی ہو سکتا ہے ۔۔
👈۔۔Brown Blackish لکھا ہے مراد مجا ری بول سے خون نکل کر پیشاب میں شامل ہو رہا ہے
👈۔۔Colour less لکھا ہو گا ۔یا تو شو گر ہے
۔۔یا پیشاب آور ادویات مر یض استعما ل کر رہا ہے
۔۔عام طور پر پیشاب ڈیڑ ھ سے دو لیٹر اتا ہے
👈۔۔اگر پیشاب بڑ ھ جاے اسے Polyuria کہتے ہیں
۔۔یا تو شوگر یا اور کو ہی مرض ہے
👈۔۔اگر پیشاب 24 گھنٹوں میں 500 ملی لیٹر سے کم ہو
۔۔اسے Oliguria کہتے ہیں
۔۔یہ یا تو پانی کی کمی یا گر دے فیل ہو نے کی علامت
۔👈۔عام طور پر اعصابی تحر یک میں پیشاب کی مقد ار زیادہ
👈۔۔عضلا تی میں کم
👈۔۔غدی میں قطر ہ قطرہ
👈۔۔Turbidity یہ عام طور پر نارمل ہوتی ہے ۔اگر پا زیٹو ہو ۔کہ مر یض گو شت اور پر وٹین والی غذ ا استعمال کر رہا ہے
👈۔۔Deposit عام طور پر Nil ہو تی ہے اگر خا رج ہو تو مجا ری بو ل میں مسلہ ہے
👈۔۔پر وٹین
۔۔اگر یہ خا رج ہو ۔تو گر دوں کی سوزش یا ورم ہے
۔۔یہ غدی عضلا تی سے عضلا تی غدی میں ہو تا ہے
👈۔Ketone ۔۔یہ خا رج ہو رہے ہو تو یہ شو گر کی علا مت ہے
👈۔۔یو رو با ہیلی نوجن urobillinogen
۔۔یہ زیادہ تو ملر یا بخار ۔ہیپا ٹا ہٹس کی علامت
👈۔۔با ئل پگ منٹس Bile pigment
۔۔یہ بڑ ھ جاے تو یہ یر قان اصفر کی علامت
👈۔۔خون ۔۔Blood
۔۔یہ پا زیٹو ہو تو مجا ری بول میں زخم
۔۔اور بہت زیا دہ تشخیصی پو اہنٹ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *