پاکستان کے جزیرے انڈیا کے قبضے میں

0
3

بحر ہند کے جزیرے جن پر پاکستان نے اپنا حق استعمال نہیں کیا

اگر آپ نے انڈمان، نیکو بار اور لکشدیپ سرزمین کا نام سن رکھا ہے تو یہ ضرور سنا ہوگا کہ بے آف بنگال کا یہ ہمسفر ساحل قدرتی خوبصورتی اور دلفریب مناظر سے مالا مال ہے۔
سٹریٹجک اہمیت کے حامل یہ جزائر بحر انڈو پیسیفک علاقے کو بحر ہند میں انڈونیشیا، تھائی لینڈ، میانمار اور ملاکا سے ملاتے ہیں، جب کہ دنیا کی کچھ مشہور شپنگ لینز بھی یہی سے گزرتی ہیں۔ 
مگر گذشتہ کچھ سالوں میں ان جزیروں کی جغرافیائی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کی جانب سے عسکری، صنعتی اور سیاحتی شعبوں کو فروغ دینے کے لیے کافی مثبت کاوشیں دیکھنے میں آئی ہیں، جس کا مقصد اپنی معشیت کو سہارا دینا ہے۔
2018 میں انڈین ہوم منسٹری نے سیاحوں کے لیے بغیر کسی پابندی کے 29 آباد اور 11 غیر آباد جزائر کے راستے ہموار کر دیے، جو مل کر انڈمان اور نیکوبار جزیرے بناتے ہیں۔ ویسے تو انڈمان اور نیکوبار کل 572 چھوٹے بڑے جزائر پر مشتمل ہے مگر ان میں سے صرف 37 جزائر ایسے ہیں جہاں تک رسائی آسان ہے اور جو کولکتہ اور چنائی سے 1200 سے 1400 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔ 
جبکہ بحیرہ عرب پر واقع لکشدیپ کا جزیرہ جغرافیائی طور پر پاکستان کے قریب واقع ہے اور ہمیشہ سے مسلم اکثریت والا علاقہ ہونے کی وجہ سے تقسیم ہند کے موقع پر اسے پاکستان کا حصہ بننا تھا۔ لکشدیپ کا جزیرہ جنوب مغربی علاقہ سے 200 سے 440 کلو میٹر دور ہے۔ یہ جزیرے یونین ٹیریٹری یعنی مرکزی علاقے ہیں، جو ہندوستاں کے ضلع کے طور پر زیرانتظام ہیں۔
انڈمان، نیکوبار کو دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت سے قبائل نے آکر آباد کیا خاص طور پر 1950 سے 1971 تک مشرقی پاکستان سے بہت سے مسلمان مہاجرین نے اس جگہ کو مزید رونق بخشی۔ اس سے قبل 1942 سے 1945 تک جاپانی فوج نے ان جزیروں پر قبضہ کیا تھا مگر برطانیہ نے قبضہ واپس لے کر 1947 میں یہ جزائر ہندوستان کے حوالے کر دیئے۔
اس کی ایک وجہ چاروں طرف سے سمندر سے گھرے انڈمان میں موجود کالا پانی کے نام سے ماضی کی مشہور 1906 میں قائم کی گئی سیلولر جیل بھی ہے، جہاں 1857 سے لے کر بعد تک آزادی کی جنگ لڑنے والے ہندوستانی قیدیوں کو رکھا اور سزا دی جاتی تھی۔ 
آج انڈمان، نیکوبار جزائر پر آبادی کی اکثریت بنگالی، تامل ہندو، مسلمانوں اور مسیحی لوگوں کی ہیں، مگر ان 37 جزائر میں سے بھی بہت ہی کم جزیرے ایسے ہیں جہاں باہر سے آنے والوں کو درست معنوں میں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ ان میں سرفہرست انڈمان کے کچھ جزیرے ہیں، جن میں دارالحکومت پورٹ بلیئر سب سے نمایاں ہے۔ ماحولیاتی لحاظ سے حساس ان جزائر میں جانوروں اور پرندوں کی کچھ ایسی نایاب نسل اور اقسام پائی جاتی ہیں، جو شاید ہی دنیا میں کہیں اور پائی جاتی ہوں۔ 
جہاں ایک طرف بھارت ان جزائر پر صرف اپنی حکمرانی کا بے بنیاد دعویٰ کرتے ہوئے یہاں سے زرمبادلہ کمانے کے خواب دیکھ رہا ہے، وہیں دوسری جانب بحرہند میں ان جزائر کی سٹریٹیجک اہمیت کی وجہ سے بڑھتی ہوئی چینی مداخلت کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی دہلی پہلے سے موجود اپنی فوج کو مزید بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔
بھارت نے اس خطے میں چین کے خلاف امریکہ کی مدد سے اپنی بحری طاقت کافی حد تک بڑھائی ہے۔ بھارت 1985 سے ان جزیروں پر اپنی دفاعی طاقت بڑھا رہا ہے۔ بحر جنوبی چین اور بحر ہند کی بدلتی ہوئی صورتحال میں انڈمان جزائر کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، جب کہ بحرہند ملاکا سے بھی جڑا ہوا ہے۔
ویسے تو 2001 میں بھارت نے اس خطے میں پہلی مرتبہ اپنی تینوں بحری، زمینی اور فضائی افواج کو ایک ساتھ تعینات کر کے دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کروائی مگر 2004 کے سونامی سے آنے والی تباہ کاریوں سے جہاں دنیا کے بہت سے ممالک بالخصوص انڈونیشیا میں بہت زیادہ نقصان ہوا، وہیں انڈمان، نکوبار اور لکشدیپ کے جزائر بھی ان تباہیوں سے بچ نہیں سکے اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے، جس کے بعد دنیا ایک مرتبہ پھر اس طرف متوجہ ہوئی۔ 
بعد ازاں 2012 میں بھارت نے اس جگہ نہ صرف اپنی فضائی اور سمندری حدود کا دائرہ کار مزید وسیع کیا بلکہ مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے دیگر مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت، انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم کے شعبوں کو مزید فروغ دینے کے لیے کوششیں بھی کیں۔ 
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت اتنی بوکھلاہٹ میں تیزی سے ان جزائر پر اپنی حکومت کا دعویٰ کرنے کے لیے کیوں کوشاں ہے؟ 
اس کی ایک کڑی تین جزائر کے نام کی تبدیلی بھی ہے۔ نصف صدی گزرنے کے بعد بھی بھارت کے عدم تحفظ کا یہ عالم ہے کہ 2018 میں بھارت کی مرکزی حکومت نے تین جزائر کے پرانے نام بدل دیے، جس کا اعلان نریندر مودی نے پورٹ بلیئر کے دورے کے دوران کیا۔ اس فیصلے کے تحت روز آئی لینڈ، نیل آئی لینڈ اور ہیولوک آئی لینڈ کے نام تبدیل کرکے نیتا جی سباش چندر بوس جزیرہ، شہید دویپ اور سوراج دویپ رکھ دیے گئے۔ 


1947 کی تقسیم ہند کی پیش رفت میں برطانوی راج کے خاتمے اور ایک آزاد جنوبی ایشیا کا طلوع ہونے والا سورج بہت سے اہم جیو سٹریٹجک نتائج اور علاقوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا، جن میں انڈمان، نیکوبار اور لکشدیپ بہت اہمیت کے حامل تھے، جن کو حاصل کرنے کے لیے بھارت، پاکستان، حتیٰ کہ آسٹریلیا تک نے کوشش کی۔
انڈونیشیا نے بھی سماترا سے قریب ہونے کی وجہ سے انڈمان اور نیکوبار پر اپنی خودمختاری کے دعوے کیے ہیں جب کہ انڈونیشیا نے 1965 میں انڈمان، نیکوبار اور لکشدیپ جزائر پر پاکستان کے دعوے کی حمایت کا بھی اعلان کیا تھا۔ 
ان جزائر کا بھارت کو دیا جانا تقسیم ہند کے بنیادی اصول (یعنی مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کو دیے جائیں گے) کے خلاف تھا۔ بعد ازاں جزیروں کی غیر منصفانہ تقسیم کے بعد کسی بھی ابھرتے ہوئے سیاسی خطرے کے پیش نظر بھارت نے 1956 میں ان جزیروں کو یونین ٹیریٹری یعنی مرکزی علاقہ قرار دے دیا، جیسے کہ حال ہی میں مودی سرکار نے 2019 میں کشمیر اور لداخ کو قرار دیا ہے۔ 
تقسیم ہند کے وقت بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ان جزائر کو مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے درمیان ایک اہم ربط کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ دونوں سمندری اور فضائی جہازوں کے لیے درمیان میں رکنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنا نقطہ نظر بہترین طور پر سیکریٹری آف سٹیٹ آف انڈیا کو لکھے گئے خط میں بھی بیان کیا تھا۔ 
اس خط کے مطابق: ’انڈمان، نیکوبار اور لکشدیپ کے جزائر تاریخی لحاظ سے کبھی بھی ہندوستان کا حصہ نہیں تھے بلکہ یہ جزائر حکومت ہند کے زیر انتظام برطانوی ملکیت تھے جو 1935 کے آئین کے ایکٹ کے تحت گورنر جنرل کے لیے مخصوص تھے۔‘

مزید لکھا گیا: ’ان جزائر کے پرانے باسیوں کی بات کی جائے تو آبادی کی اکثریت بھی ان قبائل پر مشتمل ہے جو نسلی لحاظ سے کبھی بھی ہندوستان سے جڑے ہوئے نہیں تھے بلکہ ہمیشہ سے مسلم اکثریت کے حامل رہے ہیں۔ ان علاقوں پر ایک دور میں مسلمانوں کے عظیم سپہ سالار ٹیپوسلطان کی حکومت تھی، مگر 1799 میں ٹیپوسلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں نے یہ مسلم اکثریتی علاقے ہندوستان کے حوالے کر دیے، چنانچہ مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے ان جزائر پر پاکستان کا دعویٰ بہت مضبوط ہے اور سمندری راستے کی اہم سٹریٹجک پوزیشن پر قائم یہ جزائر مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان بھی رابطے کا واحد اہم ذریعہ تھے۔ دوسری جانب تقسیم ہند کے وقت ڈومین آف انڈیا کا ایسا کوئی دعویٰ نہیں تھا، جس کے تحت وہ پاکستان کا حصہ نہ بنتے۔‘ 
مگر جواہر لال نہرو نے وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ جزائر ہندوستان کا حصہ بنیں۔  
بعدازاں ایسا ہی ہوا جب کہ آغاز میں برطانوی راج ان جزائر کو کراؤن ٹیریٹری کے طور پر رکھنا چاہتے تھے۔
ہندوستانی سیاستدان سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ڈر تھا کہ تقسیم ہند کے وقت پاکستان اپنے حق کے لیے ان جزائر پر باآسانی حملہ کر سکتا ہے، لہٰذا بھارتی بحریہ کے دستوں نے ان جزائر پر بھارت کا پرچم لہرا کر اپنے جھوٹے دعوے کو روح بخشنے کی ناکام کوشش کی اور اس طرح مسلم اکثریت پر مشتمل ٹیپوسلطان کی سرزمین ہندوستان کے حوالے کر دی گئی۔ 
لکشدیپ کو لاکاڈیو جزیرے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 2020 کی مردم شماری کے مطابق لکشدیپ جزئرے کی آبادی تقریباً 65998 نفوس پر مشتمل ہے، جن میں سے مسلمان 96.58 فیصد جبکہ ہندو آبادی 2.77 فیصد ہے۔ 
تاہم اب انڈین انڈپینڈنس ایکٹ 1947 کی دفعات کو مد نظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ پر لازم ہے کہ وہ ان تینوں انڈمان، نیکوبار اور لکشدیپ میں سے مسلم اکثریت علاقوں بالخصوص لکشدیپ کو ہندوستان سے لے کر پاکستان کے حوالے کر دے۔ 
دوسری جانب انڈین انڈپینڈنس ایکٹ 1947 کو برطانیہ نے منسوخ نہیں کیا تھا اور وہ اب بھی نافذ العمل ہے، لہذا آج بھی برطانیہ کی حکومت منصفانہ تقسیم مکمل کرسکتی ہے۔ ان جزیروں کی پاکستان کو منتقلی نہ صرف پاکستان کو اس کا کھویا ہوا حق دے گی بلکہ بے آف بنگال اور بحیرہ عرب میں پاکستان کے دوسرے ممالک کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات بھی بہتر ہوں گے۔ اس سے پاکستان کے رقبے میں سینکڑوں مربع کلومیٹر اضافہ ہوگا جبکہ اس نامکمل ایجنڈے کی تکمیل انڈو پیسیفک ریجن میں کشمیر، سر کریک اور جوناگڑھ جیسے ایٹمی فلیش پوائنٹس کو حل کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here