ٹڈی 🦗 Locust

0
123
Migratory locusts, Locusta migratoria, at the Auckland Zoo.

ٹڈیوں کی تعریف، انکی قسمیں، طبی فوائد، وظائف و عملیات، اور انکا شرعی حکم، پڑھیں ایک دل چسپ اور معلومات افزا تحریر؛

✍🏻 از قلم عزیراحمد بنارسی
____________

واضح رہے کہ ہماری یہ تحریر علامہ کمال الدین الدمیریؒ متوفی ۸۰۸؁ھ کی شہرہ آفاق تصنیف حیاۃالحیوان سے مستفاد ہے؛
_____________

ٹڈی کی تعریف

علامہ دمیریؒ فرماتے ہیں:

ٹڈی، جسے عربی میں الجَرَادُ کہتےہیں، واحد کے لیے جَرَادَةٌ استعمال ہوتا ہے جَرَادَةٌ کا اطلاق نر یا مادہ دونوں پر ہوتا ہے، اسلئے کہ اس میں تا،تانیث کی نہیں بلکہ وحدت کی ہے، جیسے نملۃ (چونٹی) اور حمامۃ (کبوتر) نر اور مادہ دونوں پر بولا جاتا ہے، ٹڈیوں کی دو قسمیں ہیں بری اور بحری، ہماری تحریر کا موضوع بری یعنی خشکی کی ٹڈیاں ہیں، علامہ دمیریؒ نے، بری ٹڈیوں کی 9 قسمیں بیان فرمائی ہیں؛

انکے اسماء اس طرح ہیں

1 البرقانۃ/ 2 الجحذب یا الجخدب/3 الجراد/4 الجندب/5 الجندع/6 الحرشاف) 7 المسیان/ 8 الحننطب/ 9 الدباء/

1 البرقانۃ، رنگ برنگی ٹڈی کو کہتےہیں؛

2 الجحذب، سبز رنگ کی ٹڈی، بعض ماہرین کے مطابق یہ چھپکلی کے مشابہ ہوتی ہے؛

3 الجراد، جو ہمارےتحریر کا موضوع ہے؛

4الجندب، ٹڈیوں کی ایک قسم، جو اپنے بازو سے زمین خودتی ہے؛

5 الجندع، کالی ٹڈی، امام اعظم ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں، یہ چھوٹی ٹڈی ہوتی ہے؛

6 الحرشاف، دبلی پتلی ڈیاں؛

7 المسیان، سرخ رنگ کی ٹڈی؛

8 الحننطب، ٹڈی کی ایک قسم ہے، علامہ دمیری فرماتے ہیں کہ خلیل نحوی نے فرمایا ہے کہ الحننطب بچھو کو کہتے ہیں اور امام اصفہانی سے منقول ہے کہ جنگلی کبوتر کو کہتے ہیں؛

9 الدباء، ٹڈی کے بچے کو کہتے ہیں؛

ٹڈی کی شکل و شباہت

حلیہ کے اعتبار سے ٹڈیاں مختلف قسم کی ہوتی ہیں بعض بڑی ہوتی ہیں اور بعض چھوٹی اور بعض سرخ رنگ کی ہوتی ہیں اور بعض زرد رنگ کی بعض سبز رنگ کی اور بعض سفید رنگ کی بھی ہوتی ہیں، ٹڈی کی چھ ٹانگیں ہوتی ہیں دو سینے میں دو بیچ میں اور دو آخر میں، علامہ دمیریؒ فرماتے ہیں:ٹڈیوں میں مختلف جانوروں کی چیزیں پائی جاتی ہیں، گھوڑے کا چہرا، ہاتھی کی آنکھ، بیل کی گردن، بارہ سنگا کا سنگ، شیر کا سینہ، بچھو کا پیٹ، گِدھ کا پَر، اونٹ کی ران، شتر مرغ کی ٹانگ، اور سانپ کی دم؛

ٹڈی کا ہتھیار

ٹڈی کے لعاب SALIVA میں، اللہ عزوجل نے ایک خاص قسم کی جراثیم Germ رکھی ہے، علامہ دمیری فرماتے ہیں کہ اگر انکا لشکر کسی کھیت وغیرہ کو لگ جاۓ تو اسے برباد کرکے چھوڑے، انکا لعاب پیڑ پودوں کے لئے زہر قاتل ہے؛ یہی وجہ ہےکہ بنی اسرائیل کے کھیتوں اور باغوں کو برباد کرنے کے لئے اللہ عزوجل نے ٹڈیوں کی فوج بھیجی تھی؛

ٹڈیوں کا سردار

علامہ دمیری فرماتے ہیں: ٹڈیوں کا ایک سردار ہوتاہے، وہ اپنے سردار کے تابع ہوکر اڑتی ہیں، وہ اڑتا ہے تو اڑتی ہیں اگر کہیں اترتا ہے تو لشکر کی تمام ٹڈیاں بھی وہیں اتر جاتی ہیں؛

ٹڈیوں کو مارنے کا حکم؛

امام طبرانی اور بیہقی نے ابو زہیر سے شعبہ کے واسطے سے آپؐ کا قول نقل کیا ہے جسمیں آپؐ نے فرمایا کہ:ٹڈیوں کو ہلاک مت کرو! کیونکہ یہ اللہ کا لشکر ہے”

علامہ دمیریؒ فرماتے ہیں : مارنے کا عدم جواز اس صورت میں ہےکہ جب وہ کھیتی وغیرہ پر حملہ نہ کریں، اگر حملہ کر کے نقصان پہنچائیں تو مارنا جائز ہے؛

ٹڈی کھانے کا حکم

علامہ دمیریؒ فرمارتےہیں: تمام علماء اس مسئلے پر متفق ہیں کہ ٹڈی کا گوشت مباح ہے، نیز علامہ سعید احمد صاحب پالنپوریؒ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند، تحفۃ القاری ج۱۰/ ص۴۰۷ پر لکھتے ہیں کہ اسکی حلت پر اجماع ہے،مزید یہ بھی لکھتے ہیں چونکہ اس میں خون نہیں ہوتا لہذا ذبح کرنا بھی ضروری نہیں ہے؛
بخاری،ترمذی، ابوداؤد، ابونعیم،وغیرھم نے نقل کیا ہےحضرت عبداللہ ابن ابو اوفیؓ فرماتے ہیں: ہم نبیؐ کےساتھ غزوات میں شریک ہوتے تھے اور ٹڈی کا گوشت استعمال کرتےتھے؛ چنانچہ بخاری کی روایت ہے:

حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن ابي يعفور، قال: سمعت ابن ابي اوفى رضي الله عنهما، قال:” غزونا مع النبي صلى الله عليه وسلم سبع غزوات او ستا كنا ناكل معه الجراد”

(بخاری جلد ثانی/ كِتَاب الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ)

ایک اور صحیح روایت ہے “احلت لنا میتتان و دمان،فاماالمیتتان فالحوت والجراد، واماالدمان فلکبد والطحال”

آپؐ نے فرمایا:ہمارے لئے دو مردار اور دو خون حلال کردئےگئےہیں، دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہیں، اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں”

(ترمذی، ابن ماجہ وغیرہ)

اب چونکہ ٹڈیوں کی بہت سی قسم ہوتی ہیں اسلئے علماء کے درمیان اسکی تعین میں اختلاف ہےکہ کونسی جائز اور کونسی ناجائز ہے، محققین کی راۓہے کہ جس ٹڈی کا اطلاق الجراد پر ہوتاہے جسے انگریزی میں LOCUST کہتے ہیں، صرف اسی کا کھانا جائز ہے، جو بڑی ہوکر زرد رنگ کی ہوتی ہے؛
اور جنکا رنگ سرخ، سبز، سیاہ، اور رنگ برنگ ہوتاہے انکا کھانا جائز نہیں ہے؛ واللہ اعلم

ٹڈی پکانے کا طریقہ

قدیم علماء سے اس ضمن میں کوئی صراحت منقول نہیں ہے، تاہم جدید محققین نے کچھ طریقے مرتب فرماۓہیں، سعودی عرب میں زندہ ٹڈیاں خریدی جاتی ہیں اور انہیں پکانے کے 2طریقے ہیں، ایک طریقہ یہ ہے کہ ٹڈیوں کو پانی میں ابالنے کے بعد تیل میں فرائی کیا جاتا ہےاور پھر اپنی پسند کے مصالحے ڈال کر کھایا جاتا ہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انہیں چاولوں کی ساتھ پکا کر کھایا جاتا ہے،افریقی ممالک میں ٹڈیوں کو خشک کرکے پکایا جاتا ہے اوربعض ممالک میں تو ٹڈیوں کو سینڈوچ ڈال کر کھایا جاتا ہے؛

ٹڈی کےطبی فوائد

علامہ دمیریؒ فرماتے ہیں:
رک رک پیشاب آنےوالے مریض کو ٹڈی کی دھونی دینا مفید ہے؛
نیز یہ بھی لکھتے ہیں کہ اگر کسی کے چہرے پر چھائیاں ہوں تو وہ ٹڈیوں کا انڈا اپنے چہرے پر ملے، بہت جلد چھائیاں ختم ہوجائیں گی؛
یہ تو علامہ دمیری کی تحقیق ہے اور جدید میڈیکل سائنس کے مطابق ٹڈیاں پروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں، ان میں 62 فیصد پروٹین، 17 فیصد تیل اور 21 فیصد میگنیگشیم ، کیلشیئم ، آئرن، سوڈیم، پوٹاشیم اور فاسفورس ہوتا ہے، ڈاکٹروں کا یہ بھی کہناہے کہ ٹڈیاں کھانے سے مختلف موسمی بیماریاں ختم ہوتی ہیں، ٹڈیاں کیونکہ مختلف پتوں سے غذا حاصل کرتی ہیں اس لئے ان کے کھانے سے جسم کو غذائیت ملتی ہے جس سے انسان توانائی اور فرحت محسوس کرتا ہے، جڑی بوٹیوں سے علاج معالجہ کرنے والے سعودیوں کا کہناہے کہ ٹڈیاں کھانے سے جوڑوں کا درد ختم ہوتا ہے، یہ کمر کے درد کا فعال علاج ہے، جن بچوں میں افزائش سست ہوتی ہے انہیں ٹڈیاں کھلانی چاہیں؛

(وکیپیڈیا سے مستفاد)

ٹڈی کی خواب میں تعبیر

علامہ دمیریؒ فرماتے ہیں، ٹڈی کی تعبیر اللہ کے لشکر سے ہوتی ہے، کیونکہ ٹڈیاں حضرت موسی کے معجزات میں سے ہیں، اگر کسی نےخواب میں دیکھا کہ فلاں شہر یا گاؤں میں فوجی یا لشکری پھر رہے ہیں تو اسکا مطلب ہے وہاں ٹڈیوں کا لشکر آۓ گا،
اگر کسی شخص نے یہ دیکھا کہ وہ ٹڈیوں کو کسی برتن میں بھر لیا ہے تو اسکا مطلب ہےکہ اسے درہم و دینار ملیں گے؛ اور چھوٹی ٹڈیوں کو خواب میں دیکھنا، بد اخلاق اور بدکردار لوگوں سے سابقہ پڑنے کی طرف اشارہ ہے؛

عملیات و ظائف

علامہ دمیری لکھتے ہیں کہ
صم بکم عمی فھم لایرجعون
کسی کاغذ پر لکھ کر، بانس کی نلکی میں بند کرکے، کھیت میں دفن کرنے سے ٹڈیوں کا لشکر کھیت میں نہیں آتا؛

اگر کسی شہر یا گاؤں میں ٹڈیوں کی کثرت ہو، تو چاہئے کہ چار ٹڈیاں پکڑی جائیں اور پہلی کی پر پہ یہ آیت لکھی جاۓ

“فسیکفیکھم اللہ وھوالسمیع العلیم “

دوسری پر یہ آیایت
“وحیل بینھم وبین مایشتھون”

تیسری پر یہ آیت
” ثم اصدفوا صرف اللہ قلوبھم “

چوتھی پر یہ آیت
” فلماقضی ولوا الی قومھم منذرین “

پھر جس سمت اور جس شہر کا نام لیکر انکو اڑا دیا جاۓ، انکا لشکر اسی طرف چلاجاۓگا؛

ان اللہ علی کل شئ قدیر

عزیراحمد بنارسی/۷شوال۱۴۴۱؁ھ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here