نابالغ بچیوں کا لباس

0
42

💕 نابالغ بچیوں کا لباس کیسا ہونا چاہے ؟

💕 (والدین کے لئے ایک انتہائی اہم پیغام)
السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

💕 اگر بچیوں کو بنایا سنوارا جائے زینت والے کپڑے پہنائے جائیں، بالوں کو پرکشش طریقے سے بنایا جائے، لپ اسٹک، سرمہ، کریم، رنگین اور خوشبودار پوڈر، ڈیزائنوں والی مہندی وغیرہ لگائی جائے تو انہیں پردہ بھی مکمل (عورتوں جیسا) کروایا جائے گا۔

💕 دور حاضر میں بچیوں کو بڑی عورتوں والے فیشن کرانا ایک عام رواج بن چکا ہے۔ عورتوں نے فتنوں کو خود اتنا بڑھا دیا ہے کہ الامان الحفیظ.

💫 جب مائیں بیوٹی پارلر سے تیار ہوکر آتی ہیں تو وہ اپنی سات سات آٹھ آٹھ سالہ بچیوں کو بھی وہیں سے تیار کرواتی ہیں یا بچیاں تیار ہونے کی ضد کرتی ہیں نتیجہ یہ کہ پانچ پانچ چھ چھ سال کی بچیوں کے ساتھ درندگی کے واقعات رونما ہورہے ہیں. لہذا فتنوں سے بچنے کیلئے بچیوں کو سادہ اور ساتر(جسم کو مکمل چھپانے والا) لباس پہنانا چاہیے.

💕 وہ بچیاں جن کی عمر سات سال سے کم ہوتی ہے ان کیلئے نہ پردہ ہے نہ ستر لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں ننگا رکھا جائے یا دوسرے لوگوں کے سامنے انھیں کپڑے بدلوائے جائیں یا غیر اسلامی لباس کی عادت ڈالی جائے.
💕 بچی میں بچپن ہی سے حیا پیدا کرنے کیلئے اسے نہ تو دوسروں کے سامنے کپڑے بدلوائیں نہ نہلائیں، نہ ناف سے گھٹنوں تک کے حصے میں دوسروں کے سامنے دوا وغیرہ لگائیں تاکہ اسے یہ پتہ ہو کہ اس جگہ کو دوسروں کے سامنے ننگا کرنا بری بات ہے.

💕 بچیوں کے کپڑوں میں بھی یہ خیال رکھا جائے کہ جاندار، کی تصویر نہ ہو، غیر مسلموں کے کسی شعار(مذہب کی کھلی نشانی) کی تصویر نہ ہو، لڑکوں جیسا لڑکی کا لباس نہ ہو. یاد رہے کہ بچی خود مکلف وذمہ دار نہیں ہے لیکن والدین مکلف وذمہ دار ہیں لھذا اگر وہ غیر اسلامی غیر شرعی نامکل چست لباس بچی کو پہناتے ہیں تو ان سے رب کریم اس کا مواخذہ پکڑ بھی کرے گا۔

💕 آج کل بچیوں کو فلموں، ڈراموں والے نامکمل چست فیشن والے لباس پہنائے جاتے ہیں جوکہ معاشرے سماج میں بچیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی زیادتی کے اسباب میں سے شمار ہوتا ہے. جب بچیوں میں بچپنے سے ہی اس طرح کے لباس کی عادت دلوائیں گے تو بڑے ہوکر ہرگز مہذب شریفانہ اسلامی لباس پہننے کو تیار نہیں ہونگے. اگر آپکو اپنی بچیوں سے محبت ہے تو انکی بچپنے سے ہی انکو مغربی ویسٹرن لباس سے دور رکھیں، قمیض شلوار پہننے کی عادت اور کم از کم سر مکمل ڈھانپنے کی عادت ڈالیں، تاکہ بھیڑیوں سے محفوظ رہنے کا سبب بن سکے. محبت کا یہ ثبوت ہرگز نہیں کہ آپ بیٹی کی پرورش نامکمل چست مہنگےلباس پہنا کر کرتے رہیں اور اسکی یہ عادت بعد میں آپ کو قبر میں ڈستی رہے.

💕 ہوسکے تو مکمل شرعی حجاب کی عادت ڈالیئے، اگر اتنا ممکن نہیں ہوسکتا تو بچپن سے ہی ڈھیلےشلوار قمیض اور چادر پہننے کی عادت ڈلوائیں، اور بےپردگی ننگے سر پھرنے،باہر نکلنے کے خطرات سے آگاہ بھی کرتے رہیں.
💕اگر ایک گھرانہ آج ان باتوں پر عمل کرے گا تو یہ نسل در نسل چلتا رہے گا اور ایک مہذب شریف مومنہ بیٹی، بیوی، ماں پیدا ہوتی جائیگی جوکہ صدقہ جاریہ شمار ہوگا. اور تاقیامت اہتمام کرنے والے کی قبر پر یہ عمل رحمت بن کے برستا رہیگا…

اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here