نئے وفاق اثرات و خدشات

نئے وفاق اثرات و خدشات

دینی مدارس کے نومولود،نووارد اور نوخیز بورڈز( مجمع العلوم الاسلامیہ ) کے حوالے سے دوست استفسار کرتےرہے لیکن رمضان المبارک کے معمولات،دورہ قرآن اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس پر کچھ لکھا نہ جا سکا-مکمل بات کرنے کا موقع نہ تھا اور ادھوری بات مناسب نہ تھی اس لیے کچھ تاخیر ہو گئ،اب عید کے موقع پر پنج پیر والے مولانا طیب صاحب نے ایک اور بورڈ کا اعلان کیاتو سوالات کا یہ سلسلہ مزید بڑھ گیا بلکہ بہت سے لوگوں کو ان کے سوالات کا جواب مل گیا،لیکن تشویش و اصطراب کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اس لیےکوشش ہوگی کہ نئے بورڈز کے قضیے پر کچھ لکھا جائے لیکن اس سے پہلے چند باتیں پیش نظر رہیں
abdul quddus muhammadi ujala

دیوبندیت کی تاریخ حریت اور آزادی پر خودکش حملہ

یہ جو اج کل مدارس کے بورڈز کی ریوڑیاں بٹ رہی ہیں اس کا ہدف وفاق المدارس یا اتحاد تنظیمات مدارس نہیں بلکہ یہ دین اسلام کی تعلیم و تربیت کے ایک منفرد نظام کو کھوکھلا اور کمزور کرنے اور ناکام بنانے کی کوشش ہے لیکن خاص طور پر دیوبندی مکتب فکر کے اندر جہاں کسی کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ شکست وریخت کا سلسلہ شروع ہوجائے گا وہاں بھی تین بورڈز کا بن جانا حیرت انگیز اور افسوسناک ہے- ایک بورڈ اتحاد المدارس کے نام سے،دوسرا مجمع العلوم الاسلامیہ کے نام سے جامعہ الرشید اور بنوریہ کا اور تیسرا وحدت المدارس الاسلامیہ کے نام سے مولانا طیب طاہری صاحب آف پنج پیر کا معرض وجود میں آچکے اگے اگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟
سادہ سے سادہ لفظوں میں اسے اکابر علماء دیوبند کی پوری تاریخ حریت پرخود کش حملہ قرار دیا جاسکتا ہے اور وطن عزیز پاکستان میں دیوبندی مکتب فکر کی اجتماعیت کو سبوتاژکرنے کی سازش کے علاوہ اسے اور کوئ نام نہیں دیا جا سکتا۔خود کش حملہ اس لیے کہ وفاق المدارس سے زیادہ یہ اس راستے پر چل نکلنے والوں کے لیے نقصان کا باعث بنے گا-
وہ کام جو پرویز مشرف نہ کرسکا۔۔۔۔۔۔وہ کام جو بڑے بڑے سورماؤں سے نہ ہوسکا۔۔۔۔۔ وہ کام ہمارے کچھ اپنے مہربان کر گزرے ……مسئلہ نئے بورڈز کے قیام کا نہیں مسئلہ اس پس منظر کا ہے۔۔۔۔ان اسباب ومحرکات کا ہے۔۔۔۔۔ان وجوہات اور نائن الیون سے لیکر تاحال جاری اس اعصابی کشمکش کا ہے جس میں مدارس مخالفین کے سارے مہرے پٹ گئے تھے۔۔۔۔۔۔جس میں مدارس کی وحدت کو نقصان پہنچانے کا ہر حربہ ناکام ٹھہراتھا۔۔۔۔۔جس میں دشمن کی ہرچال الٹی پڑی تھی۔۔۔۔۔مدرسہ ریفارمز کے نام سے مدارس کو اپنی غلامی کے شکنجے میں کسنے کی ہر کوشش رائیگاں چلی گئی تھی۔۔۔۔۔ماڈل مدارس بنائے گئے لیکن بات نہ بنی۔۔۔۔۔مساجد کے ائمہ وخطباء کو مشاہروں کا لالچ دیا گیا لیکن مقصد حاصل نہ ہوا۔۔۔۔۔این جی اوز کے ذریعے مدارس کے نظام پر نقب زنی کرنے کی کوشش کی گئی لیکن فائدہ نہ ہوا۔۔۔۔۔۔کبھی مدارس پر چھاپے مارے گئے۔۔۔۔۔کبھی مدارس کو کوائف طلبی کے نام پر ہراساں کیا گیا۔۔۔۔۔کبھی مدارس کے خلاف ایف اے ٹی ایف کے قوانین لائے گئے۔۔۔۔۔۔کبھی مدارس کو رجسٹریشن کے شکنجے میں کسنے کی کوشش کی گئی۔۔۔۔۔کبھی مدارس کو دی جانے والی مالی امداد کا راستہ روکنے کی سعی لاحاصل ہوئی۔۔۔۔۔کبھی قربانی کی کھالوں کی شکل میں مدارس کی آمدنی کاایک مستقل دروازہ بند کیا گیا اور اب مدارس کے گرد پہرے کی وہ فصیل جو اتحاد تنظیمات مدارس اور وفاق المدارس کی شکل میں تحفظ کا ذریعہ بنی رہی اس پر نقب زنی کی کوشش کی گئی ہے۔۔۔۔۔پوری قوم کو ایک قومی نصاب پر جمع کرنے کا بیڑہ اٹھانے والی حکومت کی طرف سے وقفے وقفے سے نت نئے بورڈز کا ” تحفہ” دیاجارہاہے۔۔۔۔کہیں غیر ملکی طلبہ کے بہانے سے۔۔۔۔کہیں عصری تعلیم کی آڑ میں۔۔۔۔کہیں وحدت کے نام پر تشتت وافتراق۔۔۔۔اتحاد کے نام پر انتشار اور جمع کے نام پر دوریوں اورغلط فمہیوں کی خلیج حائل کی جا رہی ہے۔۔۔۔اس لیے ہمیں سوچنا ہوگا کہ اچانک یہ سب نوازشات صرف اہل مدارس پرہی کیوں؟ کہیں ساقی نے کچھ ملا تو نہیں دیاشراب میں۔۔۔۔پہلے مدرسہ کو میڈیا ٹرائل کا سامنا تھا اور اب مدرسہ کی نازبرداری ہورہی ہے۔۔۔یاللعجب۔۔۔نہ جانے یہ قضیہ ہے کیا؟

پرانی شراب نئی بوتل

یوں لگتا ہے جیسے پرکشش عنوانات،کیمروں کی چکا چوند اور میڈیا کے بل بوتے پر کچے دماغوں کواجتماعیت کے خاتمے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ……یہ نئےبورڈز کوئی انقلابی قدم نہیں بلکہ ماڈل مدارس کی پرانی شراب کو نئی بوتل میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔۔۔۔ لیکن یادرہے “ومکرواومکرالله والله خیرالماکرین”
حضرت مولانا فضل الرحمان کیا ہی خوب فرماتے ہیں کہ “مدرسہ کی شکل میں اکابر علماء دیوبند کا چلایا ہوا تیر ٹھیک نشانے پر لگا ہے اسی لیے تو۔۔۔” لیکن یاد رہے کہ
“پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا” ان شاءالله

نئے بورڈ اور عصری تعلیم خلط مبحث سے اجتناب کیجیئے

نئے بورڈز کے قیام کے جواز کے لیے دلائل تراشنے والے بورڈز سے زیادہ عصری تعلیم کی وکالت فرماتے ہیں- عصری تعلیم کی ضرورت واہمیت سے انکار کیا کس نے ہے؟ لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ تعلیم عصری دینی ہے اور بورڈ مدارس کا بنالیا-
ارے بھیا! جب جامعةالرشید کو جامعہ اشرفیہ اور دارالعلوم کراچی کی طرح خصوصی حیثیت مل گئ تھی،کلیة الشریعہ کی ڈگری منظور ہو گئ تھی تو عصری تعلیم کے لیے کافی تھا پھر مجمع کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
جب جامعہ کو خصوصی حیثیت دی گئی اس وقت دیگر وفاقوں کے قیام پر بہت زیادہ اعتراض کیا گیا لیکن جامعہ الرشید کے معاملے میں کوئ نہیں بولا اگرچہ سب کو خبر تھی کہ یہ کیوں اور کیسے ہوا؟…..جامعہ الرشید کو خصوصی حیثیت ملنے پر سب نے خوشی یا خاموشی اختیار کی تو بس کافی تھا۔۔۔۔۔اگر صرف عصری تعلیم کا معاملہ ہوتا تو اس خصوصی حیثیت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا مزید عصری تعلیم دینی ہے تو ضرور دیجیے……دس ادارے بنائیے……یونیورسٹیز بنائیے….اسکولنگ نیٹ ورک تشکیل دیجیے۔۔۔۔۔فرنچائزسسٹم لانچ کیجیے۔۔۔۔۔۔کوچنگ سنٹرز بنائیے۔۔۔۔سی ایس ایس اکیڈمیاں بنائیے۔۔۔۔کیڈٹ کالج بنائیے۔۔۔۔۔ترکی کے اسٹائل میں عصری تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے ہاسٹلز بنائیے۔۔۔۔۔ہمارے حضرت جی پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب کی طرح تعلیم یافتہ اور زندگی کے مختلف شعبوں کے وابستگان کو علماء بنائیے۔۔۔۔۔سید عدنان کاکاخیل کے البرہان کی طرح پروفیشنلز کو تعلیم دیجیے۔۔۔۔۔کبھی وفاق المدارس نے عصری تعلیم سے منع کیا؟۔۔۔۔۔ کبھی اکابر نے آپ کے نت نئے تجربات پر اعتراض کیا؟۔۔۔۔ بلکہ حوصلہ افزائ کی….قدردانی کی…..ساتھ دیا ۔۔۔ ۔۔تعاون کیا۔۔۔۔جامعہ الرشید کو اپنا ادارہ سمجھا۔۔۔۔ تمام مدارس نے اپنے فضلاء دیئے۔۔۔جامعہ نے جو اچھا اور منفرد کام کیاکوئ معترض نہ ہوا۔۔۔۔ان فضلاء کی عمران خان کے حق میں ذہن سازی کی گئ تب بھی سب چپ رہے۔۔۔۔اور بہت سے معاملات ہوئے لیکن سب نے سب کچھ گوارا کیا۔۔۔۔لیکن اج سب کا ایک ہی سوال یے کہ کیا یہ سارا سفر اس لیے تھا کہ آج جامعہ الرشیداتحاد تنظیمات مدارس اور وفاق المدارس کی اجتماعیت اور مرکزی حیثیت میں چھید کرنے والوں کا ہمنوا ہو جائے؟

پاکستانی مدارس میں عصری تعلیم کا پہلا تجربہ

پاکستانی دینی مدارس میں عصری تعلیم کا سب سے پہلا،کامیاب اور منفرد تجربہ مولانا فیض الرحمن عثمانی نے کیا اور اس وقت کیا جب یہ سب سوچنا بھی جرم تھا لیکن انہوں نے تو کبھی تنہا پرواز کا نہ سوچا حالیہ دنوں میں ان کا وائس میسج گردش کررہا ہے جس میں وہ وفاق المدارس کی چھتری تلے سے نکلنے کی مخالفت کررہے ہیں بلکہ مولانا فیض الرحمن عثمانی ایک اور دلچسپ بات کہا کرتے ہیں جو بڑی قابلِ غور ہے آپ فرماتے ہیں عصری تعلیم عصری اداروں سے دلوانی چاہیے تاکہ کل مقابلے کے میدان میں آپ کے بچوں کے پاس بھی فیڈرل بورڈ یا کسی بھی سرکاری بورڈ کی ڈگری ہو اگر کسی وفاق،مجمع یا کلیہ وجامعہ کی ڈگری لے کرکوئ بچہ مقابلے کے میدان میں جائے گا خواہ وہ عصری تعلیم کی ہی ڈگری کیوں نہ ہو تو اسے امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑے گااور آگے اگے تو یہ امتیازی رویے مزید بڑھیں گے اس لیے عصری تعلیم کے بہانے سے اپنے بورڈز بنانے کے بجائے اگر عصری تعلیم دینی ہی ہے تو پھر اپنے بچوں کو اس میدان میں اتارئیے اور وہی سکہ دے کر اتارئیے جو رائج الوقت ہو۔۔۔جامعہ بیت السلام اور مولانا عبدالستار صاحب کی مثال لے لیجیے ان کی طرح،ان جیسے معیار اور اسٹائل کی عصری تعلیم تو اسکولز والے خود بھی نہیں دے پاتے،بھاری بھرکم فیسیں لینے والے بھی جامعہ بیت السلام کی گرد راہ کو نہیں پہنچ سکتے لیکن بیت السلام والوں نے تو کسی نئے بورڈ کے قیام کی ضرورت محسوس نہیں کی۔۔۔ہمارے اسلام آباد میں وفاق المدارس کے مسؤول حضرت مولانا ظہور احمد علوی صاحب کے ادارے میں سی ایس ایس کی تیاری کے لیے اکیڈمی قائم ہے لیکن وہاں سے تو کبھی نئے بورڈ کی آواز نہیں گونجی۔۔۔

دلچسپ بات

دلچسپ امر یہ کہ نئے بورڈز بمشکل ماسٹر ڈگری دے پائیں گے جبکہ تخصصات اور خصوصی کورسز کی ڈگریوں کو ان کے قیام کا عذر قرار دیا جا رہا ہے یہ کام تو یونیورسٹی کر سکتی ہے اس لیے یونیورسٹی بنائیے۔۔۔اس وقت آپ جہاں چلے جائیں کہیں انڈین لابی،کہیں اسلام بیزار طبقہ،کہیں قادیانی اور کہیں ایرانی لابی موجود ہوگی لیکن اسلامی اور پاکستانی لابی کہیں نہیں اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔اس پر محنت کی ضرورت ہے اور یہ محنت آپ ہی کر سکتے ہیں۔۔۔یہ کام اپ ہی کے کرنے کا ہے۔۔۔آپ ہماری امیدوں کا مرکز ہیں۔۔۔آپ اہل حق کاسرمایہ ہیں۔۔۔۔اپ اہل حق کے لیے ایک بہت اچھا آپشن ہیں۔۔۔اپ وفاق المدارس اور دیگر دینی کام کرنے والوں کے معاون بنیے ان کے مقابلے میں دانستہ یا نادانستہ غیروں کے مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ نہ بنیے۔۔۔۔۔آپ کے ذمے جو کام ہیں یا جن کی آپ سے توقعات وابستہ کی گئ ہیں اس کام کے لیے ماحول چاہیے۔۔۔۔اعتماد چاہیے سو اپنا اعتماد بحال کیجیے۔۔۔اپ غلط لائن میں جا لگے ہیں۔۔۔۔آپ کسی اور ٹریک پر چڑھ گئے ہیں واپس لوٹ آئیے۔۔۔آپ جو کچھ کر رہے تھے ۔۔۔اپ جو کچھ کرناچاہتے ہیں۔۔۔۔یا جو کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں یا جو کر سکتے ہیں اس کے لیے کم از کم مدارس کا الگ بورڈ بنانے کی قطعا ضرورت نہیں۔۔۔۔قوم کو مخمصوں میں مت ڈالیے۔۔۔میرے جیسے ہزاروں لوگ اپ سے بہت سی توقعات لگائے بیٹھے ہیں ہمیں مایوس مت کیجیے
شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *