مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ

0
28

امام اہل سنت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ

مختصر تعارف و خدمات

از قلم : عرباض خان سواتی (لندن)

آپ کی پیدائش ۱۹۱۴ء ”چیڑاں ڈھکی“ المعروف کڑمنگ بالا نامی گاؤں ضلع مانسہرہ ہزارہ (پاکستان) میں ہوئی، آپ یوسف زئی سواتی پٹھان قوم کیساتھ تعلق رکھتے ہیں۔

۱۹۲۷ء تک ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ میں ہی حاصل کی اور پھر ۱۹۲۸ء تا ۱۹۳۸ء پاکستان کے مختلف علاقوں میں دینی تعلیم حاصل کرتے رہے۔

۱۹۴۰ء میں آپ نے اپنے چھوٹے بھائی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کے ہمراہ دارالعلوم دیوبند (ہندوستان) میں دورۂ حدیث (فاضل علوم اسلامیہ) کیلئے داخلہ لیا اور ۱۹۴۱ء میں دونوں نے ایک ساتھ سند فراغت حاصل کی۔

آپ کے استاذ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے آپ کی علمی صلاحیتوں پر اعتماد فرماتے ہوئے اپنی ذاتی خصوصی سند اور لقب ”صفدر“ کے اعزاز سے نوازا۔

۱۹۴۳ء میں آپ کا جامع مسجد ”اہل السنۃ والجماعۃ“ (بوہڑوالی) گکھڑ ضلع گوجرانوالہ پاکستان کیلئے انتخاب ہوا اور ساٹھ سال آپ نے امامت و خطابت، درس قرآن و حدیث اور دینی فرائض سرانجام دئیے اور اسکے ساتھ ساتھ گورنمنٹ ٹیچرز کالج گکھڑ میں ۴۰ سال تک ٹیچرز کو درس قرآن بھی دیا۔

۱۹۵۵ء تا دم آخر آپ نے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں مدرس، صدر مدرس، شیخ التفسیر، شیخ الحدیث، ناظم تعلیمات، صدر مفتی، مصنف اور سرپرست وغیرہ پوسٹوں پر شاندار و بے مثال خدمات انجام دیں۔

روحانی سلسلہ نقشبندیہ میں آپ نے اپنے استاذ حضرت مولانا حسین علیؒ (واں بچھراں والے) کے دست حق پر بیعت کی، آ پکے شیخ نے آپ کی علمی و روحانی ترقی کو دیکھتے ہوئے آپ کو اپنی خلافت سے نوازا۔

آپ نے پچاس سے زائد علمی وتحقیقی کتابیں تصنیف فرمائیں ہیں، تمام باطل فرقوں کے خلاف آپ کے قلم نے خدائی تلوار کا کام کیا، آپ کی تصانیف پر عالم اسلام کے جید اکابرین نے اعتماد فرمایا۔

۱۹۹۲ء کراچی میں منعقدہ علماء کرام اور عوام الناس کے ایک فقید المثال اجتماع نے آپ کی ہمہ جہت دینی خدمات وتحقیقات اور اکابرین علماء دیوبند کے دامن سے وابستہ رہنے کی بناء پر متفقہ طور پر ”امام اہل سنت“ کے لقب کا حق دار قرار دیا۔

عرب وعجم علماء دیوبند کی تمام دینی جماعتوں کے آپ سرپرست اعلیٰ رہے، برصغیر سمیت عرب، یورپ، افریقی ممالک کے متعدد دینی اسفار فرمائے، بیسیوں ادارے آپ کے نام سے موسوم ہیں، آپکے شاگردوں اور پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے، علمی دنیا میں آپ کا پورا خاندان مقبول ہے۔

۵ مئی ۲۰۰۹ء بروز منگل آپ اس عالم فانی سے عالم بقاء کی طرف رحلت فرماگئے، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون، لاکھوں افراد نے آپ کی نماز جنازہ میں شرکت فرمائی۔

Leave a Reply