مسجد کمیٹی دور حاضر کا نیا فتنہ

0
48

مسجد کمیٹی دور حاضر کا نیا فتنہ

تحریر!! محمدعادل عباسی

ڈاکٹر اسرار صاحب نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا ۔۔۔ کہ
عیسائی بادشاہ ھوں یا شہزادے ھوں ۔۔۔ آج بھی اپنی شادی کے لیے انکو۔ کلیسا۔ جانا پڑتا ہے جبکہ ہمارے خود ساختہ رواجوں نے ھمیں مجبور کر کے نکاح  کومسجدوں سے نکال کر شادی ہال تک لے آئے ۔ 
اس کا ذمہ دار کون ؟

ظہورِ فتن

ظہورِ فتن کے حوالےسے پیشن گوئیاں وقتاً فوقتاً ارباب علم و دانش کے قلم کی نوک سے لکھے مضامین میں پڑھنے کو ملتی ہیں، مگر کچھ ایسے فتنے بھی سر اٹھارہے ہیں جنہیں ہم دن میں پانچ بار دیکھ سکتے ہیں۔ اور وہ ہے مسجد کمیٹی فتنہ،اب آپ کہیں گے فتنہ کیوں کہا توآپ آج ہی محلے کی مسجدوں کا چکر لگائیں اور سارے معاملات بارے تھوڑی سی سرچ کریں’ آپ کو یکساں نتیجہ ملے گا، مسجدوں کی ٹائیلیں،پنکھے قالین اے سی دروازے کھڑکیاں،سیور،ٹونٹیاں سال بھر تبدیل ہوتی ہیں،مگر پانچ بار روزانہ باجماعت نماز پڑھانے والے امام ونائب امام،مؤذن اور ٹائلوں پر دسیوں بار جھاڑو پونچا لگانے والا خادم چند ٹکوں پر ساری خدمات خاموشی سے سرانجام بھی دے رہا ہوتاہے

اور جنکی گھر میں نہیں چلتی ان جھکی کمر کے نامرد بابوں اور رات کو پارکوں میں واک کرنے والے مسجد میں کرسیوں پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والے امیر زادوں کی دادا گیری الگ سے برداشت کرتے ہیں اور رہی سہی کسر سال بھر میں من چاہی تعمیرات وتزئین وآرائش میں سود سے دخان زدہ موٹی رقم دے کر جنت کے محل خریدنے کے خواب دیکھنے والے اور وصول کرنے والے محلے کی دسیوں مسجد سے جھگڑالو کا ٹائٹل جیتنے والےکمیٹی میمبران پوری کردیتے ہیں،انہیں اکرام مسلم کے لیے بھی کسی بڑے علاقے کی پارٹی پسند ہوتی ہے انہیں پیشہ ور خطیبوں نوٹ خوانوں داڑھی منڈے قواریوں سے مسجدوں میں تلاوت خطابت نقابت کروانے کے لیے لاکھوں روپے تو کہیں سے مل جاتے ہیں مگر نہیں ملتے تو امام مؤذن خادم کی تنخواہیں بڑھانے کےلئے پیسے نہیں ملتے۔

ٹونٹیاں چوری ہو جائیں تو دوبارہ نئی لگ جاتی ہیں ماہانہ آمدن اور اخراجات تو نوٹس بورڈ پر لکھنے کے لیے انکے پاس کاغذ پینسل ہیں مگر امام کا بچہ بیمار ہو یامؤذن وخادم کی ماں بیمار ہو تو انہیں ناخود دینے کی توفیق ملتی ہے ناہی بورڈ پر لکھ کر لگانے کی فرصت بلکہ نمازوں کے علاوہ اوقات میں اگر کسی نے ان تین مظلوموں سے مصافحہ کرلیا تو کیمرہ آن کرلیتے ہیں کہیں لفافہ تو نہیں تھمایا اور زیادہ ہی بے چینی پیٹ میں مروڈ اٹھتا ہے تو آکر پوچھ بھی لیتے ہیں ارے امام صاحب وہ کوئی آدمی آج مسجد کے لیے کچھ دیکر تو نہیں گیا لاحول، پھر انتخاب امام و مؤذن کے وقت انہیں مکہ مدینہ کی تلاوت اور اذان والا امام ومؤذن چاہئے مگر تنخواہ فیصل موورز کے کنڈیکٹر سے بھی کم دینگے۔

صبح فجر کے بعد درس قرآن بھی دینا ہے اتوار کے دن کا بیان وجمعہ بیان ایسا ہو جس میں مسجد کمیٹی کے اہم کلائنٹ کسٹمر کی توہین ناہو مثلاً سودخور کی سزا،وراثت میں بیٹیوں بہنوں کو حصہّ نادینے والے پر وعید،مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے والے کا عالی مقام، ملاوٹ کرنے والے کو قرآن کی تنبیہہ، مسجد کے پنکھے اےسی چلاکر اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کا شرعی حکم، نماز سے ایک گھنٹہ پہلے آکر کرسیوں پر بیٹھ کر تسبیح گھماکر ٹاک شو کرنے والے حجاج کرام کی فضیلت، محلے کی لائٹ ناہوتو ظہر تاعصر مسجد ہی میں۔پنکھے تلے پسرنے اور ہاضمولہ کھاکر طرفین سے ڈزڈز مارنے والے احباب کی ناقابلِ فراموش تباہ کاریوں پر کاری ضرب لگانا وغیرہ ودیگر شامل ہیں، یہ سب سعودی علماء کا بورڈ نہیں جو لکھ کر احکام دیں بلکہ آپ کے علاقے کے حمقاء ہوتے ہیں۔ جنہیں آپ جیسے شریفوں نے اپنے اوپر مسلط کیاہوتا ہے جنہیں شرم نہیں آتی ہاتھ میں بورجان اور کلارا کے چھ ہزار کے جوتے اٹھائے جو امام صاحب کو کہہ رہے ہوتے ہیںض کہ لیٹرین کا گٹر بند ہے بھنگی آئے تو دروازہ کھول دینا اور جب وہ جائے تو چیک بھی کرلینا،یہ سب حقیقت ہے کوئی افسانہ نہیں لیکن انہیں راہ راست پر لانے کے لیے کوئی آسمانی مخلوق جنم نہیں لےگی بلکہ آپ جیسے باشعور وغیور افراد کی ضرورت ہے جو انکی تشخیص کے ساتھ دوائی دارو کریں’ اور جدی پشتی وراثت سمجھنے والے نام نہاد خدمت کمیٹی بروزن زحمت کمیٹی کو بجائے کئی سال مسلط رکھنے کے ہر ماہ بدل دیا جائے اور للہ فی اللہ چند نمازی مل کر امور اپنی وسعت کے مطابق اپنے ذمہ لےلیں یا پھر معقول اجرت پر مینٹیننس برابر رکھنے چیک ان بیلنس کےلیے الگ سے بندہ رکھ لیں اور امام مسجد مؤذن خادم سے راہنمائی لیتے رہیں ناکہ انہیں لاٹھی سے ہانکیں۔

کیونکہ یہ علماء قراء مؤذن تو اللہ کے اقربین ہیں وارثین انبیاء ہیں انہیں وظائف اتنے تو دوکہ انکی تمام ضروریات تو پوری ہوں انکے بچوں کی خواہشات اگرچہ پوری نا ہوں، انہیں راشن صرف رمضان میں نہیں کھانا ہوتا پورا سال کھاتے ہیں،جب اپنے گھر کے لیے راشن خریدیں کل مالیت کا دوفیصد نکال کر اس رقم کا راشن انہیں دے دیں، کیونکہ امامت خطابت اور مؤذنی ایک ایسی ذمہ داری جس کے لیے خود کو وقف کرنا پڑتا ہے تب جا کر اس کا حق ادا ہوتا ہے حکومتیں بدلتی ہیں ملازمین وافسران کی تنخواہیں بڑھتی ہیں مراعات میں اضافہ ہوتا ہے مگر ائمہ مساجد کی تنخواہیں جوں کی توں رہتی ہیں یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے آپ نے فنڈنگ کی رقم سے ہی تنخواہیں دینی ہے کونسا اپنی جیب سے دینی ہیں، اگر آپ کسی مسجد کمیٹی کے رکن ہیں اور آپ یہ ساری خامیاں دیکھ رہے ہیں تو فوری طور پر اپنے اراکین کو متوجہ کریں’ بصورت دیگر آپ بھی اس فتنے میں مبتلاء ہوکر ائمہ ومؤذنین پر ظلم کرنے والے ظالموں میں شامل ہوجائیں گے۔

یاد رہے لفظ (فتنہ) کے معنی آزمائش وامتحان کے آتے ہیں اور یہاں بھی یہی معنیٰ مراد لیا جائے ناکہ وہ مراد لیا جائے جو عمومی طور پر معاشرے میں فتنہ وفساد کےلیا جاتاہے،اللہ تعالیٰ ہم سب کو ماظہر الارض ومابطن تمام فتن سے مامون فرمائے،
کرو مہربانی تم ائمہ زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر

Leave a Reply