مسجد نبوی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین

0
10

مسجد نبوی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین۔

ایک عورت جو پہلے طوائفہ یعنی سیٹھوں کے کوٹھوں پر ناچتی تھی، گانے گاتی تھی اس بھی بڑھ کر یہ کہ نعوذ بااللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ شاعری کرکے سرداران قریش کی مجلسوں کو گرماتی تھی۔

جب جنگ بدر، احد اور دیگر جنگوں میں یہ سرداران قریش اور بڑے بڑے سیٹھ قتل کردیے گئے اور اس طوائف عورت کا کاروبار ٹھپ ہو گیا تو اس کے گھر فاقے اور غربت نے ڈیرے ڈال دیے، اتنے حالات خراب ہوگئے کہ یہ بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی۔ اور پھر یہ بھیک مانگتی مانگتی مدینہ میں مسجد نبوی میں آگئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگی آپ نے جنگوں میں سارے سیٹھ قتل کردیے ہیں میرا کاروبار ختم ہو گیا ہے میرے پاس کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں آپ میرے ساتھ مالی تعاون کریں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی لیکن اس نے منہ پر ہی جواب دے دیا میں اسلام قبول نہیں کرتی بس آپ اگر کوئی تعاون کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان والوں سے کہا اس عورت کے ساتھ جتنا ہو سکتا ہے مالی تعاون کرکے اسے رخصت کردیں۔

میں اس واقعے کو جب بھی پڑھتا ہوں میرے رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا اخلاق اور مسجد نبوی کے کیا آداب تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہ پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ تم کیسی عورت ہو اور کیا کیا کرتی رہی ہو۔ اگرچہ بعض روایات کے مطابق فتح مکہ کے دن اس عورت کو اشتہاری مجرموں کی لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا کہ جہاں بھی نظر آئے وہیں قتل کردیا جائے، لیکن مسجد نبوی میں اسے کچھ نہیں کہا گیا بلکہ مالی تعاون بھی کیا۔

ایک اور شخص جو کوئی دیہاتی اور جاہل آدمی تھا مسجد نبوی کے ایک کونے میں پیشاب کرنے بیٹھ گیا صحابہ کرام اسے روکنے کے لیے دوڑے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کردیا کہ ابھی نہ روکو، جب وہ پیشاب سے فارغ ہوا تو اسے پیار سے سمجھایا یہ مسجد ہے یہاں پیشاب نہیں کرتے۔

جبکہ اس کے برعکس قرآن و حدیث میں ہمیں منافقین اور مشرکین عرب کے ایسے واقعات ملتے ہیں کہ وہ مسجد میں سیٹیاں بجاتے، شور مچاتے، آوازیں کستے تھے جن کے لیے سخت وعیدیں اور جہنم کے عذاب کی نویدیں سنائی گئی ہیں۔

پی ٹی آئی نے بحیثیت جماعت پوری پلاننگ سے پاکستان میں بیٹھ کر جو ہدایات جاری کیں اور ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے چند دین بیزاروں نے مسجد نبوی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آداب کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جو شور شرابہ کیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پی ٹی آئی دجالی فتنہ ہے، اور اب منافقین والی حرکات سے مزید اسلام دشمنی کا اظہار کرکے اپنے آپ کو اس جماعت اور اس کے کارندوں نے اپنے آپ کو واضح کردیا ہے۔

ہماری اللہ سے دعا ہے جن کے مقدر میں ہدایت ہے اللہ انہیں ہدایت عطا فرمائے اور جن کے مقدر میں ہدایت نہیں اللہ پوری امت مسلمہ کو اس دجالی فتنے اور اسلام کے غدار منافق گروہ سے حفاظت فرمائے۔ آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here