قسط43 وظیفہ کیا ہے؟

0
106

وظیفہ کیا ہے؟

یہ ایک بہت ہی اہم سوال ہے کہ وظیفہ کیا ہے؟ عام طور پر لوگوں کے نزدیک وظیفہ سے مراد ایسے الفاظ ہیں جن کو پڑھنے سے وہ مقصد حاصل ہوتا ہے جس کے لیے ان الفاظ کو بنایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کا سوال کرنے کا انداز کچھ یوں ہوتا ہے۔ میرا کاروبار نہیں چل رہا مجھے کوئی وظیفہ بتائیں جس سے کاروبار چلنا شروع ہو جائے۔ میں بہت مقروض ہوں مجھے کوئی وظیفہ بتائیں جس کے کرنے سے میرا قرض ختم ہو جائے۔ میری شادی نہیں ہو رہی مجھے کوئی وظیفہ بتائیں جس کے کرنے سے جلد از جلد میری من پسند جگہ پر میری شادی ہو جائے۔ مجھے فلاں بیماری ہے مجھے اس بیماری کے علاج کے لیے کوئی وظیفہ بتائیں تاکہ وہ وظیفہ کرنے سے میری بیماری ختم ہو جائے وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح وظیفہ سے مراد لوگوں کے نزدیک کچھ کلمات ہوتے ہیں جنہیں خاص طریقے، خاص وقت اور خاص مقدار میں پڑھنا ہوتا ہے۔اور جب اس خاص طریقے،وقت اور مقدار میں اسے دہرایا جائے تو وہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔

نکتہ سید عبدالوہاب شیرازی

میرے خیال میں یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔وظیفہ خاص کلمات کا نام نہیں بلکہ وظیفہ اس کام کو کہا جاتا ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے یا وہ ذمہ داری بھی وظیفہ کہلاتی ہے جو کسی نے سونپی ہو یا خود ہی اٹھا لی ہو۔جیسے ایک آدمی روزانہ صبح اٹھتا ہے نو بجے دفتر جاتا ہے اور چار بجے واپس آجاتا ہے تو گویا یہ اس کا وظیفہ ہے جسے اس نے پچیس سال تک کرنا ہے اور پھر وہ ریٹائر ہو جائے گا۔اسے ہر مہینے جو تنخواہ ملتی ہے وہ بھی وظیفہ ہی کہلاتی ہے کیونکہ وہ ہر مہینے ملنی ہوتی ہے۔بلکہ آج سے تیس چالیس سال پہلے تک اردو زبان میں تنخواہ کو وظیفہ ہی کہا جاتا تھا اور مدارس میں تو ابھی تک تنخواہ کو وظیفہ ہی کہتے ہیں۔اس ساری تفصیل سے آپ کو وظیفہ کا معنی سمجھ آگیا ہوگا۔ اب ذرا یہ سمجھ لیں کہ جب کسی دعا ، آیت یا عمل کو وظیفہ کہا جاتا ہے تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ یہ کام آپ ساری زندگی کرتے رہیں، یہ آپ کا وظیفہ یعنی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قسط42 روحانی آپریشن

جبکہ عام لوگوں کے ہاں وظیفہ کا تصور یہ ہے کہ ایسے کلمات جن کو خاص وقت اور خاص مقدار میں پڑھنے سے لازما وہ کام ہو جاتا ہے جس مقصد کے لیے ان کلمات کو پڑھا گیا ہے، یا شاید نعوذ بااللہ وظیفہ کرنے سے اللہ ضرور وہ کام کرتا ہے جس کے لیے وہ وظیفہ کیا گیا۔ بندہ راتوں رات کروڑ پتی بن جاتا ہے۔اس کا سارا قرض غیبی طریقے سے ختم ہو جاتا ہے، اور اسے ایسی قوتیں حاصل ہو جاتی ہیں جن سے وہ جو چاہے کام لے۔چٹ منگنی اور پٹ بیاہ ہو جاتا ہے، خاوند قدموں میں گرجاتا ہے اور بیوی تابع فرمانبردار بن جاتی ہے۔ ساس کی زبان بنداور نند کی پھرتیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔خلاصہ یہ کہ وظیفہ ایک ایسا بٹن ہے جیسے بلب کا بٹن ہوتا ہے ،ہم بٹن نیچے کرتے ہیں تو بلب آن اور اوپر کرتے ہیں تو بلب آف ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ یہ کہتے ہوئے بھی پائے گئے ہیں کہ ہم نے آپ کے بتائے ہوئے طریقے سے وظیفہ کیا لیکن (بلب آن نہیں ہوا) ہمارا کام نہیں ہوا۔

اس حوالے سے ہمیں اپنا تصور وظیفہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن و حدیث میں جتنی بھی دعائیں ہیںان کو ہمیں اپنا وظیفہ بنانا چاہیے یعنی اپنی عادت اور ذمہ داری بنانی چاہیے کہ ہم ساری زندگی ان دعاوں کا اہتمام کریں۔ہمارا کام اپنے رب سے دعا مانگنا اور مانگتے ہی رہنا ہے، جیسے انبیائے کرام اپنے رب سے یہ دعائیں مانگا کرتے تھے، ہمارا وظیفہ دین پر عمل کرنا ہے، ہمارا وظیفہ قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنا ہے، ہمارا وظیفہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا ہے اور ہمارا وظیفہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچنا ہے۔ہمارا وظیفہ بندگی رب ہے۔

قرآن حکیم میں سورہ حدید اور اس سے آگے آنے والی چند سورتیں ایسی ہیں جن کا آغاز تسبیح کے کلمے سے ہوتا ہے مثلا:

سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِیالسَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ

یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِیالسَّمٰوٰتِ وَمَافِی الاَرضِ

یعنی آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ان پانچ چھ سورتوں کا آغاز ان الفاظ سے کیوں کیا گیا۔ان الفاظ کا تعلق ان سورتوں میں بیان کردہ مضمون کے ساتھ کیا ہے؟ اگر اس بات پر غور کیا جائے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ان تمام سورتوں میں جہاد فی سبیل اللہ، قتال فی سبیل اللہ اور غلبہ دین کے لیے جان و مال کی قربانی لگانے کو بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ ان سورتوں کا آغاز اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ سے کیا کہ: آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، اے انسان تجھ سے ہمیں صرف تسبیح مطلوب نہیں تسبیح تو کائنات کی ہر چیز کرتی ہے، تو کائنات سے کچھ الگ کام کرکے دکھا، یعنی اپنی جان اور مال کو دین کے غلبے کے لیے قربان کرکے دکھا۔ تسبیح تو سورج ، چاند، ستارے، درخت، پہاڑ، چرند، پرند، درند سب کرتے ہیں لیکن وہ دین کے غلبے کے لیے جان مال کی قربانی نہیں لگا سکتے یہ کام تجھے دیا گیا ہے تو تسبیح سے دو قدم آگے نکل کر یہ کرکے دکھا۔

وظیفہ کرنا مشکل ہے۔؟

لوگوں کی طرف سے ایک بہت بڑا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ جی ہمارے لیے وظیفہ کرنا بہت مشکل ہے، ہم جب بھی کوئی وظیفہ کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، ذکر کرتے ہیں، یا کوئی بھی نیکی کا کام کرتے ہیں تو بہت بوجھ بن جاتا ہے، ہم نہیں کرسکتے لہٰذا آپ ہمیں کوئی تعویذ لکھ کر دیں تاکہ ہم گلے میں لٹکا لیں۔

یہ وہ مسئلہ ہے جو سینکڑوں لوگوں نے مجھے بتایا۔ اس مسئلے کے حل سے پہلے اس مسئلے کی تشخیص کرلیتے ہیں اور یہ جان لیتے ہیں کہ ایسا کیوں کیسے اور کب ہوتا ہے۔؟ اس حوالے سے سب سے پہلے سورہ الزخرف کی آیت 36 کو دیکھیں، اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے۔

وَمَن یَّعشُ عَن ذِکرِ الرَّحمٰنِ نُقَیِّضلَہ شَیطَاناً فَھُوَ لَہ قَرِین

ترجمانی: اور جو کوئی بھی اللہ کے ذکر سے اعرض کرتا یا غافل ہوتا ہے تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ اللہ کا سب سے بڑا ذکر قرآن ہے اور پھر نماز ہے اور پھر باقی اذکار ہیں۔ اب جو بھی قرآن یا نماز یا اللہ کی یاد سے مسلسل غفلت برتے گا یا مکمل اعراض ہی کرلے گاتو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ شخص اللہ کی پناہ اور مدد سے دور ہو جائے گا اور اس پر ایک شیطان مسلط کردیا جائے وہ شیطان اس کا ساتھی بن کر اسے اپنی مرضی سے چلائے گا ، تب اس شخص کے لیے قرآن نماز اور دین پر چلنا مشکل ہو جائے گاوہ جب بھی کوئی آیت پڑھے گا، یا نماز پڑھنا چاہے گایا ذکر کرنا چاہے گا تو اسے نہایت ہی مشکل لگے گااور وہ نہیں کرسکے گا۔آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی روشنی میں آپ نے اندازہ لگالیا ہوگا کہ اصل وجہ اپنی ہی غفلت ہے ہم خود اللہ کی پناہ سے نکل کر شیطان کے شکنجے میں چلے گئے ہیں،اور اب ہم پر شیطان مسلط ہو چکا ہے جو کوئی بھی نیکی کا کام نہیں کرنے دیتا بلکہ ہمارا نفس ایک غلط راستے پر چل چل کر عادی بن چکا ہے اب دین پر چلنا اس کے لیے مشکل ہو چکا ہے۔

علاج اور حل

اب اس مسئلے کا حل اور علاج کیا ہے۔؟ چونکہ آپ نے خود جس راستے کا انتخاب کیا تھا اس راستے میں چور بیٹھا تھا اور اس نے آپ کو اغواءکرلیا ہے، اب اس اغواءکار کے شکنجے سے نکلنے کے لیے آپ کو زور تو لگانا ہوگا، محنت تو کرنا ہوگی، یہ جنگ آپ کو لڑنا ہوگی، اس میں آپ کو تکلیف بھی ہوگی اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ لہٰذا یہ جنگ لڑیں اور سخت محنت کے بعد فتح حاصل کریں۔ یاد رکھیں! ماحول انسان کو کسی بھی طرز زندگی میں ڈھلنے میں بہت مدد فراہم کرتا ہے، اب آپ نے چونکہ شیطانی شکنجے سے نکلنا ہے اور اکیلے آپ کے لیے نکلنا بہت مشکل ہے تو دوسروں کی مدد تعاون سے یہاں سے نکلنے کی کوشش کریں، یعنی ایسے ماحول میں مسلسل کئی مہینوں تک وقت گزاریں جو رحمانی ماحول ہو۔ مثلا زیادہ وقت مسجد میں گزاریں، دینی محافل میں زیادہ سے زیادہ شرکت کریں،تبلیغی جماعت کے ساتھ چلے چار مہینے کے لیے نکل جائیں، بلاناغہ قرآن حکیم ترجمے کے ساتھ تلاوت کریں،سیرت رسول اور سیرت صحابہ کی کتابیں مطالعہ کرنا شروع کردیں۔

فہرست پر جانے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Leave a Reply