فارماکوپیا طب مفرداعضاء

فارماکوپیا طب مفرداعضاء
پیش لفظ

خداوندحکیم اورہادی برحق کا ہزارہزارشکرہے کہ جس نے انسان کی راہنمائی کیلئے فرمادیاہے کہ صراط مستقیم اختیارکروجس سے نعمتوں کے انعام حاصل ہوتے ہیں اوریہ صراط مستقیم کوئی علم وعقل اور تجربات و مشاہدات کاکمال نہیں ہے بلکہ صراط مستقیم حقیقت میں صراط اللہ ہے جس کواللہ تعالیٰ نے نوربنایاہے جس سے وہ اپنے بندوں کوہدایت کرتے ہیں جس کووہ چاہتے ہیں۔

ولکن جعلنہ نوراً ھدیٰ من نشاء من عبادنا
علم وعقل اورتجربات و مشاہدات میں ایک مقام رکھتے ہیں مگر جہاں پران کا کمال ختم ہوتاہے وہاں پرنور نبوت اورکتاب اللہ کا مقام شروع ہوتاہے جس کاکمال انسانی ادراک سے بہت دور ہے ۔علم وعقل اورتجربات و مشاہدات پرنورنبوت اورکتاب اللہ کاپرتوضرور پڑتاہے مگر ھُدی للمتقین(یعنی ہدایت صرف انہی لوگوں کوحاصل ہوتی ہے جو خداوند حکیم کاخوف رکھتے ہوئے پرہیز گاریاورصالح جبلت ہیں)اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے ان کے دلوں کوراہنمائی کرتے ہیں۔یہ راہنمائی زندگی وکائنات اورمابعد طبیعات کا علم وعمل اوران کاردعمل (جزاوسزا)کی صورت میں حاصل ہوتی ہے جس کے ایمان وعقائداورمعاملات یایقین ونظریات اورتعلقات جس مقام پرہوتے ہیں ان کواسی قدرکمال حاصل ہوتاہے۔

ایمان وعقائداورمعاملات ہی دراصل انسان کیلئے ہدایت ہیں جن کوانسان اپنی عقل وعلم کے مطابق حاصل کرتارہتاہے۔یہی زندگی و کائنات اورمابعدطبیعات میں اس کی راہنمائی کرتے ہیں لیکن عمل وردعمل اوران کے نتائج میں جب نشووارتقاء اور فلاح وسلامتی نہیں پاتا توان کوچھوڑ دیتا ہے یانفسیاتی طورپران کواس وقت تک نظر انداز کر دیتاہے جب تک اس کے ذہن میں کوئی نیا یقین ونظریہ اور تعلق پیدانہ ہوجائے۔اس حقیقت کے تحت انسان ہروقت ایسی راہنمائی اورراہ کی تلاش میں رہتاہے جواس کو اس کی زندگی وکائنات بلکہ مابعدطبیعات کیلئے ایک صحیح دستورالعمل کامیاب ہدایت،مسلمہ حقیقت،فلاحی اصول اورتجربہ شدہ قوانین ہوں تاکہ رواں دواں وہ اپنا مقام حاصل کر لے اور کہیں بھی ناکامی کامنہ نہ دیکھناپڑے۔بس اس قسم کی ہدایت کیلئے ہرانسان غیرشعوری طورپرکوشاں ہے۔لیکن جب اس کو اپنے ایمان وعقائد اورمعاملات میں حسب منشا کامیابی اورفلاح معلوم نہیں ہوتی توپھرہرکاوش چھوڑکربیٹھ رہتاہے ۔زیادہ سے زیادہ چند بار کوشش کرتاہے۔کیونکہ وہ روزانہ دیکھتاہے کہ اس کے سامنے ہرشعبہ زندگی میں ایسے انسان ہیں جو کامیاب وکامران اورعزت کی زندگی گزاررہے ہیں لیکن جب اس کی ہرکوشش ناکام ہوتی ہے تو پھر وہ اپنی قسمت کی شکایت کرکے اپنی ہرقسم کی جدوجہد اورسعی چھوڑ دیتا ہے۔ پھرنامرادی سے ذلت کی طرف گرپڑتاہے ۔دراصل بدقسمتی اسی وقت شروع ہوتی ہے جب وہ حقیقت کی تلاش چھوڑ دیتاہے۔یہی مقدر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان ہرخواہش کے پیچھے دوڑتاہے مگراپنی ضرورت کا احساس نہیں کرتا ۔ ضرورت کا احساس ہی اس کوحقیقت کی طرف لے جاتاہے جس کیلئے وہ کوئی اصول بناتاہے یا کس قانون کی پیروی کرتاہے ۔یہ اصول اورقانون کی پیروی ہی اس کی جدوجہداورسعی کا مرکز ہوتے ہیں یہیں سے زندگی کی کامیابی کی ابتداہوتی ہے۔زندگی کے ہرشعبہ میں کچھ ایسے اصول اور قوانین ہوتے ہیں جن کی پیروی کرنی پڑتی ہے وہ تجربہ شدہ مشاہدات اورمسلمہ حقائق ہوتے ہیں یہی وہ معیارہیں جن پرزندگی رواں دواں چلتی ہے۔انہی کو اختیارکرلینے سے کامیابی و کامرانی قدم چومتی ہے۔

مشاہدات وتجربات اورحقائق کے معیارکے مفیدہونے میں کوئی کلام نہیں ہے لیکن ان سے استفادہ اسی وقت حاصل کیاجا سکتا ہے جب یہ علم ہوکہ وہ مشاہدات و تجربات اورتحقیقات کس قاعدہ ونظام اوراصول وقانون کے تحت کام کرتے ہیں ورنہ ہزاروں مشاہدات ومجربات اور عقائدواقوال ہمارے گرداگردبکھرے پڑے ہیں یاہزاروں سالوں سے سینہ بہ سینہ رازواسرار اور رموزچلے آتے ہیں یایہ مسلمہ حقائق احسن اخلاق اورمذہبی تعلیم ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کتب میں ا نسان کے اردگرد پھیلی پڑی ہیں ہمارے لئے بے کارہیں۔

یہی صورت علم العلاج میں ان مشاہدات ومجربات کی ہے جن کے اصول ترتیب ادویہ اورقانون استعمال سے ایک معالج پورے طورپر واقف ہوتاہے۔یہ ہے اس کاعلم حقیقت مجربات اور اصول ترتیب ادویہ،جوعلم الادویہ اورعلم العلاج کے تحت تکمیل کوپہنچتاہے جومعالج علم وفن طب کے اصول وحقائق اورقوانین سے واقف نہیں ہیں مگران کے پاس بے شمارمجربات ہیں ۔ وہ یقینا مجربات کے فوائد بلکہ استعمال میں ناکام ہیں ان کی مثال بالکل اس سکہ کی ہے جوملک میں رائج نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ علم العلاج کے ابتدائی دَوْرسے اب تک ہرطریق علاج میں مجربات کی شدید طلب رہی ہے اورکثرت سے کتب لکھی گئی ہیں ۔ مگرتاحال طلب مجربات ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک مرض کی صورت اختیارکرگیاہے جس کوجوع المجربات کہتے ہیں۔

سوال پیداہوتاہے کہ ہزاروں سال سے مجربات پرجولاکھوں کتب لکھی گئی ہیں کیاوہ غلط ہیں یا زمانہ کے مطابق ان میں فوائد نہیں رہے؟ یا ا ن میںہرمرض کے مجربات نہیں پائے جاتے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان لاکھوں مجربات میں سے خصوصاً وہ مجربات جوعظیم حکماء اورباکمال اطباء نے ترتیب دئیے ہیں۔جیسے شیخ الرئیس اورحکیم رازی وغیرہ سوفیصدی صحیح اوریقینی بے خطاہیں۔ اور ان میں سرسے لے کرپائوں تک ہر چھوٹے بڑے مرض اورعلامت کیلئے ایک نہیں سینکڑوں مجربات پائے جاتے ہیں مگران کے اصول ترتیب اورقانون استعمال سے واقف ہوناضروری ہے ۔

مجربات دوقسم کے ہوتے ہیں ۔(1)مفردمجربات جن میں مفرداعضاء مفرداغذیہ ادویہ اوراشیاء کو استعمال کیا جاتا ہے۔ (2) مرکب مجربات جن میں دویادوسے زائداغذیہ وادویہ اوراشیاء کومرکب کرکے استعمال کیاجاتاہے۔آج بھی ان میں یہی افعال واثرات اورخواص وفوائد پائے جاتے ہیں ۔ان میں ذرابھی کمی نہیں آئی ۔البتہ بعدکے سالوں میں اضافے ضرورہوئے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ جولوگ طب قدیم کوفرسودہ ونامکمل اورموجودہ دور کیلئے ناکافی خیال کرتے ہیں کیا وہ ان مفردمجربات کوغیر مفیداور غیر موثرثابت کرسکتے ہیںیاکوئی ایسامرض ہے جس کے علاج میں ان مفردمجربات کواستعمال نہ کیاگیاہو۔البتہ اعتراض کرنے والے علم وفن طب سے واقف نہیں ہیں بلکہ اندھے اورمتعصب ہیں۔لطف کی بات یہ ہے کہ فرنگی طب میں مفردات کے افعال واثرات اورخواص وفوائداکثربدلتے رہتے ہیں۔

مفردمجربات میں مثلاًچونا وگندھک اورشورہ قلمی کے جواافعال واثرات اورخواص وفوائدہزاروں سال پہلے تھے آج بھی وہی ہیں ان میں اضافہ ضرورہواہے کمی نہیں ہوئی۔البتہ ان کے مرکبات کے اصول وقوانین اورفوائدونظم کاذہن نشین کرنا ضروری ہے۔یعنی اگرچونا میں گندھک ملادی جائے تواگرچونا میں شورہ ملادیاجائے توچونا کے افعلا واثرات اورخواص وفوائد کیاہوں گے وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح گندھک اورشورہ کوملادیاجائے اوراگران مرکبات میں کوئی دوامقدارمیں زیادہ ہویاکم ہوتوان کے افعال واثرات اورخواص و فوائد میں کیافرق پیداہوجاتاہے۔ وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح کے اہم اصول وقوانین اورقواعدسے مجربات کی حقیقت کوسمجھااورفوائدحاصل کئے جاسکتے ہیں۔تاکہ ہرمعالج مجربات کودیکھ کرخوداندازہ لگالے کہ وہ کہاں تک صحیح ہے اوروہ کس کس مرض اورعلامات کیلئے مفیدہیں ۔ اور ان مں کمی بیشی کرنے سے کیاکیاصورتیں پیداہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔اسی لئے ہی مجربات کے اس اہم علم وفن کوذہن نشین کرانے کیلئے یہ کتاب لکھی گئی ہے۔

کسی ملک کافارماکوپیادراصل ان ادویہ پرمشتمل ہوتاہے جواس ملک میں عام طورپرمستعمل ہوں اورجنہیں سرکاری طورپرمستند سمجھ لیا گیا ہو پھران دوائوں کی مختلف صورتیں اوران کے کارآمدمرکبات تک کی ترکیبیںوغیرہ بھی ایک خاص معیارکے مطابق ہوں۔فارماکوپیامیں ادویہ کی اصلیت،منیت،کیمیائی نوعیت اوراجزائے موثرہ وغیرہ خصوصیات سے درج ہوتے ہیں اوران کی جانچ پڑتال کے قوائداس لئے بنائے جاتے ہیں کہ اگرکوئی دوامقررہ معیارپرنہ ہوتواس کی مناسب تحقیق کرلی جائے اورمتعلقہ شخص سے بازپرُس ہوسکے۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ جودواکسی فارماکوپیامیں درج ہوجائے وہ ضروراعلیٰ پائے کی ہوگی لیکن یہ بھی ایک غلط فہمی ہے جس کاازالہ ہم کردیتے ہیں بعض ملکوں نے اپنے اپنے فارماکوپیے بنارکھے ہیں اوران میں بعض ایسی ایسی دوائیں بھی درج ہیں جن کی قدرقیمت معمولی یاکچھ بھی نہیں،ایسے فارماکوپیاکامقصد یہ نہیں ہوتاکہ کارآمدیاکمی ادویات ہیں تمیزکرے بلکہ یہ ہوتاہے کہ کوئی ضرورت مند شخص کوئی دوا بازارسے خریدناچاہے تواس کواصل چیزمل جائے اوراس کے مرکبات بھی مقررہ اصولوں کے مطابق بنے ہوں ۔سرکاری فارماکوپیا بنانے والے گویااس امرکوملحوظ رکھتے ہیں کہ بازارمیں عام مانگ کس چیزکی ہے اورملکی معالج اسے کس حد تک استعمال کرتے ہیں۔انہیں اس بات سے چنداں واسطہ نہیں ہوتا کہ آیاوہ دواکارآمدہے بھی یانہیں۔یہی وجہ ہے کہ فارماکوپیا خواص ادویہ یاان کے استعمالات پرکوئی بحث نہیں کرتا۔

کسی ملک یاقوم کافارماکوپیا اس لئے تجویزکیاجاتاہے کہ معالجین کے کسی خاص طبقہ اورکسی خاص مدت کیلئے کارآمدہوسکے۔مختلف ممالک نے اپنی ملکی ضروریات کے مطابق فارماکوپیابنارکھے ہیںاورایک ملک کافارماکوپیادوسرے ملک کے فارماکوپیاسے بہت مختلف ہوتاہے خیراس اختلاف کے توچارہ کارنہیں ایک ہی ملک کے فارماکوپیاکی مختلف ایڈیشنیں آپس میں مختلف ہوجاتی ہیں۔وجہ یہ ہے کہ ایک زمانہ میں ایک دواکابول بالاتھا دوسرے وقت میں وہ معالجین کی نظروں سے گرگئی ۔اس لئے فارماکوپیا کوبھی ترک کرنی پڑی۔

زمانہ قدیم اوردورحاضرہ کے فارماکوپیا میں توزمین آسمان کافرق ہے۔اگرہم برٹش فارماکوپیاکوہی سامنے رکھیں اورمثال کے طورپر میٹھا تیلیا(بیش)کولیں جوزمانہ قدیم سے برطانوی معالجین کے زیراستعمال ہے تو ہمیں پرانے برطانوی فارماکوپیامیں جہاں میٹھاتیلیاکے سفوف کااستعمال نظرآئے گاوہاں زمانہ حاضر کے برٹش فارماکوپیامیں اس کی جگہ بڑ انفیس ٹنکچراوروہ بھی اجزائے موثرہ کے اعتبارسے خاص درجے کاملے گا۔پرانے زمانہ میں ٹنکچر کاوجودہی نہ تھا۔اس لئے فارماکوپیانے اس کے سفوف کی اجازت دی۔لیکن دواسازی کے فن کی ترقی کے ساتھ فارماکوپیا کی نئی طبع نے ٹنکچر کااستعمال واوراس کی ترکیب وغیرہ بھی بتادی اورجن دائوں کے مرکبات اپنے اجزائے موثرہ کے اعتبارسے کسی خاص معیارپرلانے ضروری نہ سمجھے ۔ان کے اجزائے موثرہ یعنی الکلائیڈ نکال کردواء ً استعمال کرلئے گئے۔ایسی دوائوں میں کچلہ،دھتورہ اورسنکونا وغیرہ کانام خصوصیت سے لیا جاسکتاہے۔زمانہ حال کے ڈاکٹری فارماکوپئے دراصل کسوٹی یعنی محک کاکام دیتے ہیں۔ان میں دوائوں کے معیارقائم کردئیے جاتے ہیں اورانہی کی بناپرادویہ پرسرکاری جانچ پڑتال ہوتی رہتی ہے جودوامفردہویامرکب اس معیارپرپوری نہ اترے وہ خلاف ِقانون سمجھی جاتی ہے اورلائق مواخذہ بھی۔

تقریباًتمام مہذب ملکوں میں قومی فارماکوپیا کی تجویزوتشکیل یاتوحکومت کی طرف سے کی جاتی ہے یاحکومت اس غرض سے کوئی با اختیار مجلس قائم کردیتی ہے۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں یہ کام قومی سمجھاجاتاہے۔قوم جوفارماکوپیاتجویزکردیتی ہے حکومت اسے تسلیم کرلیتی ہے ۔ برطانیہ کلاں میں فارماکوپیاکاکام جنرل میڈیکل کونسل کے اختیارمیں ہے جس نے اسے فارماکوپیا کمیٹی کے سپردکر رکھا ہے۔دنیا کے بعض بڑے بڑے ملکوں میں فارماکوپیاکی تیاری کاکیاانتظام ہے۔اس کی مختصر سی کیفیت ملک دارحسب ذیل ہے۔

بلجیئم
فارماکوپیاحکومت خودشائع کرتی ہے۔فارماکوپیاکے کمیشن میں 9ممبرہیں جوتین سال تک کام کرتے ہیں۔یہ کمیشن میں چھ دواسازا ورتین ڈاکٹرآف میڈیشن یعنی ایم۔ڈی ہیں۔

چین
1929ء میں وزیر صحت عامہ نے چارممبروں کی ایک کمیٹی بنائی تھی چینی فارماکوپیاکااولین مسودہ تجویز کرے۔ملک میں بے حد شورش بپا رہی۔بایں ہمہ نانکن کے بورڈآف ہیلتھ نے اپنے جلسے منعقدہ فروری 1930ء میں اس مسودے کومنظورکرلیاگیا۔

زیکوسلاویکیہ
اس ملک کے فارماکوپیاکے چار حصے ہیں۔(1) کیمسٹری(2) خواص الادویہ(3)عمل دوا سازی (4)مصلات اور جراثیمی ادویہ۔ یہاں کی کمیٹی میں 42ممبر ہیں جن میں 21 دوا ساز ،4کیمسٹری کے پروفیسر4،باٹنی کے پروفیسر ، 10 میڈیسن کے پروفیسر،2صنعت وحرفت کے پروفیسر،1ویٹنریری ہائی سکول کاپروفیسر اور2بیرسٹر۔

فرانس
گورنمنٹ خود فارماکوپیاشائع کرتی ہے اور وہ ایک کمیٹی سے مرتب کرتی ہے۔1908ء میں جس کمیٹی نے فرانسیسی فارماکوپیا بنایاگیاتھااس میں سولہ ممبرجن میں دس دواساز تھے۔1926ء میں فارماکوپیاکی کمیٹی کیلئے ایک مستقل لیبارٹری قائم کی گئی ہے اس سے پہلے ممبروں کی اپنی نج کی لیبارٹریوں میں تحقیق وتدقیق کاکام ہوکرتاتھا۔فارماکوپیا کے نئے ایڈیشن بے قاعدگی سے اشاعت پذیرہوتے رہتے ہیں۔ 1908 ء سے اب تک چارضمیمے شائع ہوچکے ہیں۔

جرمنی
یہاں امپریل بورڈآف ہیلتھ اورامپریل ہیلتھ سنٹ کی کمیٹی مل کرفارماکوپیامرتب کرتے ہیں۔ہرقسم کی تحقیق وتدقیق امپریل بورڈ آف ہیلتھ کی لیبارٹری میں ہوتی رہتی ہے۔یہ کام مسلسل جاری رہتاہے اس لئے عموماً ہرپندرہ برس کے بعد نئی طبع چھپ جاتی ہے۔چھٹی یعنی آخری طبع 1926ء میں مکمل ہوئی تھی۔

اطالیہ
گورنمنٹ ایک کمیشن مقررکرتی ہے جوفارماکوپیاکی ترمیم کردیتاہے کمیشن میں 4معالج،4عملی دواساز،1ونٹرینری سرجن، 2عالم نباتات 3ماہرخواص الادویہ ،1افعال الاعضاء کاعالم اور7ایسے کیمسٹ شریک ہوتے ہیں جوشاہی یونیورسٹیوں کے شعبہائے فارسیوٹیکل کیمسٹری سے چنے جاتے ہیں تحقیق کاکام مسلسل نہیں ہوتالیکن تجویزہورہی ہے کہ کمیشن کومستقل حیثیت دے دی جائے قانون ہے کہ پانچ سال کے بعدفارماکوپیا کی نظرثانی ہوتی رہے آخری طبع1929ء میں مکمل ہوئی تھی۔

پرتگال
فارماکوپیا1876ء میں شائع ہواتھاجوشاہی حکم نامہ مورخہ 15نومبر1871ء کی رُو سے ایک کمیشن نے مرتب کیاتھا۔اس میں تین معالج،چھ دواسازاوردوکیمسٹ شریک تھے۔

سوئٹزرلینڈ
فارماکوپیا کے کمیشن میں ذیل کے ارکان شامل ہیں۔3پروفیسردواسازکی کیمسٹری جاننے والے،1پروفیسرخواص الادویہ کاماہر ،3معالج جن میں ایک فوجی دوساز بھی شامل ہے۔کمیشن مستقل نہیں اورنہ مقررہ وقت کے بعدفارماکوپیا کی طباعت کاکوئی قانون ہے۔حسب ضرورت ترمیم ہوتی رہتی ہے۔آخری یعنی چوتھی طبع 1907ء میں مکمل ہوئی تھی۔

ترکی
1926ء میں وزیر حفظ ِصحت کے ماتحت ایک خاص مجلس مقررہوئی تھی جس میں پندرہ ممبرتھے جنھوں نے ترکی فارماکوپیا مرتب کیاتھا سرکاری میزانیہ میں ہرممبرکیلئے ایک مالی معاوضہ مقرر کردیاجاتاہے۔کمیٹی کافرض ہے کہ پانچویں سال ضروری ترمیم کرتی رہے اورضمیمے بھی شائع کرے ۔یہ فارماکوپیااوائل1929ء میں نافذہواتھا۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ
فارماکوپیا کی ترمیم 51ممبروں کی ایک کمیٹی کے سپردہے طباعت اورنشرواشاعت کاکاروبار بورڈ آف ٹرسٹیز کے متعلق ہے گورنمنٹ اس فارماکوپیاکوتسلیم کرلیتی ہے۔نظرثانی کی کمیٹی میں 15 معالج،2علاج مصلی جاننے والے،4خواص الادویہ کے عالم،11عملی دواساز 15 فارما سیوٹیکل کیمسٹ اور4ماہرین علم نباتات شامل ہوتے ہیں۔تحقیق وتدقیق کاکام تقریباً مسلسل جاری رہتاہے اورہردس برس کے بعد عموماً فارماکوپیا کی ترمیم ہوجاتی ہے۔

برطانیہ کلاں
برٹش فارماکوپیاکی پرانی ایڈیشنیں میڈیکل پریکٹیشنروں کی ایک کمیٹی جوجنرل میڈیکل کونسل کی طرف سے مقررکی جاتی تھی مرتب کرتی رہی ہے۔قانون کی رو سے جنرل میڈیکل کونسل کی ترتیب ،اشاعت کااختیارحاصل ہے۔فارماکوپیاکی کمیٹی نے کئی چھوٹی چھوٹی اورکمیٹیاں قائم کر رکھی ہیں جودوااسازی اوردورے شعبوں کے متعلق ہیں ان کمیٹیوں میں اعلیٰ درجے کے ماہرمقرر کئے جاتے ہیں تحقیق وتدقیق کاکام مسلسل نہیں۔برٹش فاماکوپیا کی آخری طبع 1914ء میں شائع ہوئی تھی لیکن ان دنوں پھرترمیم کی تجویزہے اوراس بارے میں دوائی تحقیق 1921ء سے مسلسل جاری ہے۔

1925ء میں جنرل میڈیکل کونسل کی فارماکوپیا کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ برٹش فارماکوپیا کی ترمیم کاانتظام کرناچاہیے چنانچہ 23فروری 1926ء کوایک مشاورتی مجلس بلائی گئی جس میں برطانیہ کلاں کے بڑے بڑے معالج دواساز اوراہل فن شامل تھے کمیٹی نے ہرقسم کی شہادتوں کو مدنظر رکھ کرذیل کی شفارشیں قلمبند کی ہیں۔

1۔برٹش فارماکوپیا کی تیاری اوراشاعت کے متعلق جوقانون چلاآتاہے اس میں ترمیم کی ضرورت نہیں۔

2۔جنرل میڈیکل کونسل کوچاہیے کہ فارماکوپیاکاایک کمیشن فوراًمقررکردے۔اس سلسلے میں ایک انتخاب کنندہ مجلس بھی ہوجس میں چار ممبر جنرل میڈیکل کونسل کی طرف سے تین ممبر برطانیہ کلاں،آئرلینڈاورشمالی آئرلینڈ کی فارمیسیوٹیکل سوسائیٹیوں کی طرف سے اور دوممبر میڈیکل ریسرچ کونسل کی طرف سے نامزدکئے جائیں۔

3۔فارماکوپیاکے کمیشن میں منتخب ماہرین شامل ہوںان کی تعدادمعدودنہ ہووقتاً فوقتاًعارضی یامستقل ممبر بھی لے لئے جائیں جن میں ہندوستان اوربرطانوی آبادیوں کے نمائندے بھی شامل ہو۔

4۔کمیشن کومستقل حیثیت دے دی جائے اوراس کادفتر اورعملہ علیٰحدہ مقررکردیاجائے۔

5۔فارماکوپیاکامسودہ طباعت سے پہلے جنرل میڈیکل کونسل میں بغرض منظوری پیش کیاجائے۔

6۔آئندہ دس برس کے بعد فارماکوپیاکی ترمیم کردی جائے اورنئی طبع شائع ہو،ضمیمے اس سے پہلے بھی حسب ضرورت شائع ہوتے رہیں۔ فارماکوپیا میں عمدہ معیارکی دوائیں درج کی جائیں جوقلمروبرطانیہ میں عام طورپرمروج ومستعمل ہوں۔

7۔قلمروکے جس حصے میں کسی خاص مقامی دواکے استعمال کوجائزٹھہراناہویاکوئی ایسی متبادل دوا تجویزکرنی ہوجوبرٹش فارماکوپیامیں درج نہیں تووہاں کی مقامی حکومتیں مقامی ضمیمے شائع کر سکتی ہیں ۔

8۔نوآبادیوں اورہندوستان کی حکومتوں سے درخواست کی جائے کہ وہ اپنی اپنی کمیٹیاں الگ بنائیں جوفارماکوپیا کمیشن کے ساتھ مل کرکام کریں اورترتیب میں ممدہوں۔

9۔تاوقتیکہ برٹش فارماکوپیاکی آئندہ ایڈیشن سے مال ضائع نہ ہو فارماکوپیا کمیشن کاکام چلانے کیلئے جنرل میڈیکل کونسل سرمایہ بہم پہنچائے

مذکورہ بالا شفارشوںکی بناپرہندوستان میں ایک امدادی کمیٹی28فروری1929ء کوبنائی گئی تاکہ برٹش فارماکوپیاکی ترمیم یانظرثانی میں ممد ہواُس میں حسب ذیل اشخاص منتخب ہوں گے۔

.1ڈائریکٹرجنرل ایڈین میڈیکل سروسز……چیئرمین

.2 لیفٹیننٹ کرنل۔این چوپڑہ ایم ڈی انڈین میڈیکل سروس ، پروفیسر فارماکالوجی سکول آف ٹراپیکل میڈیسن اینڈ ہائی جین کلکتہ …ممبر

.3ریونڈ فادرجے ایف کے ایس ایف ایل ۔ایس ایم ۔ایس۔سی آئی (پیرس) ایس جے آفیسرانچارج فارماکالوجیکل لیبارٹری ہفسکان انسٹیٹیوٹ پارل ممبئی……ممبر

.4اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل انڈین میڈیکل سروس (سٹورز) بطورسیکریٹری

یورپ اورایشیا کے دوسرے موجودہ فارماکوپیا میں ذیل کے فارماکوپیا کابھی مختصر ذکر کیا جا سکتا ہے ۔

ڈنمارک طبع ہفتم1907 ہالینڈطبع پنجم1926 ہنگری طبع سوم1909 جاپان طبع چہار م1921
ناروے طبع چہارم1913 روس طبع ہفتم1929 ہسپانیہ طبع ہفتم1930 سویڈن طبع دہم1925
مجربات کی اہمیت
کسی شے کی اہمیت کااندازہ اس کی تخلیق اورفعل سے لگایاجاسکتاہے۔مجربات کی ضرورت تخلیق،اہمیت اورفعل کااندازہ اس امرسے لگایاجاسکتاہے کہ کسی مرض میں بھی کوئی ایسی غذا دوا اورشے دینے کی جرأت نہیں کی جاسکتی جوپہلے اس مرض میں تجربہ نہ کی گئی ہوبلکہ باربار کے مشاہدات میں اس کے تجربات یقینی طورپرصحیح اوربے خطاثابت ہوئے ہوں۔کیونکہ فطری طور پر انسانی ذہن اپنے جذبہ رحم وانس کے تحت یہ کبھی گوارانہیں کرتاکہ انسانی زندگی سے کھیلاجائے اور نقصان کاباعث بن جائے۔اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھاجائے توکوئی انسان کوئی بھی فعل یقینی و بے خطاانجام نہیں دے سکتا جوپہلے اس کاتجربہ اورمشاہدہ نہ ہو۔

ان حقائق سے ثابت ہواکہ مجربات کااستعمال ایک فطری اورانسانی جذبہ ہے چونکہ ایک شخص دنیا بھر کی اغذیہ،ادویہ اوراشیاء کوپورے طور اپنے تجربات ومشاہدات میں لاسکتااورپھرہرشخص اہل علم اورصاحب فن خصوصاً حکیم وفلاسفرنہیں ہوتااس لئے اپنی زندگی کی ضروریات اور راہنمائی کیلئے تجربات زندگی اورمجربات اشیاء ادویہ اوراغذیہ کاطلب گاررہتاہے۔اسی لئے وہ اپنے بزرگوں کی زندگی کوبتوں کی صورت میں اورکائنات کی ہرشے سے مستفیدہونے اوراس سے تعلق پیداکرنے کیلئے فطری طور پر ان کی پوجاکرتاہے اورجب اس کاذہن ترقی کرتا ہے اور شعو ر بلندہوتاہے تووہ خداوندکریم اورقادرمطلق کی پرستش کرتاہے اسی جذبہ کے تحت وہ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ رسولوں وپیغمبروں اور نبیوں کوقبول کرتاہے تاکہ زیادہ سے زیادہ یقینی اور بے خطازندگی گذارنے کے مجربات حاصل ہوجائیں پس جولوگ بھی مجربات پرصحیح دسترس حاصل کرلیتے ہیں وہی لوگ زندگی میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں۔

مجربات کیاہیں؟

ابتدائے آفرینش سے لے کراس وقت تک بے شمارتجربات زندگی اورمجربات اشیاء سینہ بہ سینہ اور کتب کی صورت میں چلے آتے ہیں بلکہ اگریہ کہاجائے کہ اس وقت تک جس قدرکتب لکھی گئی ہیں چاہے وہ کسی بھی شعبہ زندگی میں لکھی گئی ہوں وہ سب زندگی کے تجربات اور مجربات اشیاء ہی ہیں ۔گویاانسان کی فطرت ہے کہ وہ جب کوئی شے دیکھتا ہے یااس کے متعلق سنتاہے تووہ اس کی حقیقت وخواص جاننا چاہتاہے اوراسی طرح جب وہ کسی عمل کودیکھتاہے یاسنتاہے تواس کے اثرات وافعال کومعلوم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی میں آنے والی ہرشے کی حقیقت وخواص اور ہرعمل کے اثرات وافعال سے آگاہ ہوجائے بس یہی مجربات ہیں جن سے انسان زندگی بھر مستفید ہوتا رہتا ہے۔

کس قدرعجیب بات ہے کہ یہ تجربات زندگی اورمجربات اشیاء کے گرداگرداس کثرت سے بکھرے پڑے ہیں کہ ان کو زندگی بھر سمیٹناتو رہا ا یک طرف اگرچننا بھی چاہے تونہیں چن سکتا ہزاروں سال میں ہرشعبہ زندگی میں اس قدر کتب لکھی گئی ہیں کہ ان کا شماربھی مشکل معلوم ہوتا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ اول توعوام اس پرتوجہ ہی کم دیتے ہیں اوراگر مجبوراًضرورت کے تحت اس طرف رجوع کرتے ہیں توان کے پاس کوئی معیارنہیں ہے کہ کس تجربہ زندگی اورمجرب کو اختیارکریں اورکس کوچھوڑدیں۔ کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسامعیارنہیں ہے جس کوقبول کرکے وہ یہ بیش بہاخزانہ اکٹھاکرلیں یاقیمتی موتی ہی چن لیںاوران سے زندگی بھرخودبھی مستفیدہوں اور دوسروں کوبھی مستفیض کریں۔ سچ ہے کہ قدرزرزرگربداندوقدرجوہرجوہری۔

معیارمجربات
اس حقیقت کاجاننابھی بے حداہمیت رکھتاہے کہ ان تجربات زندگی اورمجربات اشیاء کامعیارکیا ہوتا ہے تاکہ صحیح اورمفیدتجربات زندگی اور مجربات اشیاء سے ہم صحیح طور پرمستفیدہوکراپنی زندگی کو کامیاب بناسکیں۔سوال پیداہوتاہے کہ کامیاب زندگی کیا ہے؟ کامیاب زندگی کے متعلق یہ حقیقت ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اس میں نشووارتقاء ہواورراستہ میں آنے والی مشکلات اور رکاوٹوں کودورکیاجاسکے۔ان حقائق سے ثابت ہواکہ اگرہم کومعیارکامیابی کاعلم ہوتوتجربات زندگی اورمجربات اشیاء سے مستفیدہوکرزندگی کوکامیاب بناسکتے ہیں۔

معیارکامیابی کیاہے؟
جاننا چاہیے کہ معیارکامیابی کی ضرورت کامیاب زندگی کیلئے ہے اورزندگی کاتعلق جسم انسان سے ہے ۔جسم انسان کامادی و عقلی ااورروحانی نشووارتقاء ہی اس کی کامیابی ہے۔ جسم انسان کے راستہ میں سے مشکلات ورکاوٹیں دورکرناہی اس کی نشووارتقاء کوکامیاب بناناہے۔ان حقائق سے ثابت ہوگیاکہ معیارکامیابی کوسمجھنے کیلئے اول انسان کوسمجھنا چاہیے انسانی زندگی کوجاننے کیلئے اس کی جسمانی ومادی زندگی سامنے ہویاعقلی وروحانی زندگی پیش نظرہو۔بہرحال ہماری نگاہ جسم انسان پرسب سے پہلے پڑتی ہے اوریہی اس کی ابتداہے۔

یہ بھی پڑھیں: قسط ۔2 تحقیقات المجربات

حقیقت انسان
جانناچاہیے کہ ظاہر میں انسان گوشت پوست اورہڈی وعروق کی ایک شخصیت ہے جس کے جسم میں سرخ رنگ کاخون دوڑتا ہے یہ خون اس میں حرکت وزندگی، شعور و جذبات،شوق ورفع اور خیروشرکی تمیزپیداکی ہے۔انسان کایہ جسم اورشخصیت یقیناکسی اصول کے تحت بناہے اور کسی نظام کے تحت جاری وساری ہے اوریہ اصول اورنظام بھی کسی قانون پررواں دواں ہے۔اس حقیقت سے کسی کوانکارنہیں ہے کہ انسان تمام کائنات کامرکزاوراشرف المخلوقات ہے۔سچ کہاگیاہے۔

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ۔
جانناچاہیے کہ انسان کوحتیٰ الامکان جسمانی وعقلی اورروحانی طورپرسمجھنے کیلئے اس کی بناوٹ وافعال اوراثرات کوذہن نشین کرنا ضروری ہے۔ جس قدرہم اس کوسمجھتے ہیں اسی قدراس کی ترقی وکامیابی اورنشووارتقاء کاعلم ہوتاجاتاہے۔اسی اصول ونظام پر ہم اس کی مشکلات اور رکاوٹوں کو بھی سمجھ سکتے ہیں جوزندگی کے راستہ میں حائل ہوجاتی ہیں انہی اصولی تجربات اور مشاہدات زندگی کانام سائنس ہے۔

انسان اورفطرت
ہزاروںسال کے تجربات ومشاہدات زندگی سے یہ ثابت ہوگیاہے کہ اس کائنات میں ہرشے کی تخلیق وباہمی تعلق اورزندگی و افعال کسی قانون کے ساتھ کافرما ہیں۔گویاانسانی زندگی کی ہرشکل و عمل بغیرنظام کے نہیں ہے۔بلکہ موالیدثلاثہ میں مٹی وپتھر اور دھاتیں،پھل وپھول اوردرخت و پودے اورچرندپرنداوروحشی جانورسب کے افعال واثرات کسی نہ کسی اصول و نطام کے تحت کام کر رہے ہیںاوریہ اصول ونطام اپنے اندرایک خاص قانون رکھتے ہیں اس یقین کے بعد کہ اس کائنات کی ہرشے وتخلیق یا ان کا باہمی تعلق اورزندگی کے افعال ایک خاص قانون کے تحت چل رہے ہیںتوپھرتسلیم کرن پڑتاہے کہ کائنات میں یہی اس کی فطرت ہے جوایک خاص قانون کے ساتھ اپنا عمل کررہی ہے۔اسی کوہم قانون فطرت کہتے ہیں۔اس کاسمجھ لیناہی خودی ہے۔

ان حقائق سے ثابت ہوگیا کہ اگر ہم انسان کوجسمانی وعقلی اورروحانی طورپرسمجھنا چاہیں تولازم ہے کہ ہم انسانی فطرت کوسمجھیں جس پروہ بنایاگیاہے۔قران حکیم نے چودہ سو سال پہلے کہہ دیا ہے کہ

فطرۃاللہ الٰھی فطرۃ الناس علیہ
اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی فطرت وہ جس پرانسان کوپیداکیاگیاہے۔

اب ہم پرآسان ہوجاتاہے کہ انسان کوجسمانی وعقلی اورروحانی کسی بھی حیثیت سے سمجھناچاہیں تو اول اس کے اس نظام زندگی کو جانیں جوباقاعدگی کے ساتھ قانون فطرت پرچل رہاہے پھرہم سہولت کے ساتھ انسانی ترقی وکامیابی اورنشووارتقاء کوسمجھ کر اس کی مشکلات و روکاوٹوں کو دور کر سکیں گے چاہے یہ مشکلات اوررکاوٹیں کسی بھی نظام زندگی میں ہوں۔ہم انشاء اللہ اس میں ضرور کامیاب ہوں گے۔

صحت کی مشکلات
انسانی زندگی میں جسم کی صحت کاقائم رکھنااہم مشکلات میں شامل ہے جس کوہم مرض کانام دیتے ہیں جس کے متعلق کہاگیاہے کہ

تنگ دستی اگرنہ ہو غالب تندرستی ہزارنعمت ہے
مرض ایک ایسی مشکل ہے جس کاتجربہ ہرمردعورت اوربچے بوڑھے کوہوتاہے کیونکہ اس کاسلسلہ پیدائش سے موت تک چلتا ہے اس کورفع کرنے کیلئے علم وفن طب قائم کیاگیاہے۔ہزاروں سال سے ا مراض کودورکرنے کیلئے علم العلاج اورعلم خواص الاشیاء اغذیہ وادویہ چلاآتا ہے تاکہ امراض و مشکلات صحت کودورکیاجائے۔یہ علم وفن طب نہ صرف سینہ بہ سینہ چلاآتاہے بلکہ اس پر لاکھوں کروڑوں کتب نہ صرف ہر زمانہ میں لکھی گئی ہیں بلکہ ہرملک اورہرطریق علاج میں لکھی گئی ہیں ۔ آج کل جس کوسائنسی دور کہتے ہیں اس میں نہ صرف بے شمارکتب لکھیں گئی ہیں بلکہ گذشتہ علم وفن طب پرجوکچھ لکھاگیاہے اس پر تحقیق وتدقیق اور ریسرچ کی گئی ہے تاکہ امراض اورمشکلات صحت کامقابلہ کیاجاسکے۔

مجربات زندگی
انسان اپنی زندگی میں جوکچھ بھی کرتارہاہے وہ اس کا روزانہ کاعمل ہویاباربارکامشاہدہ یا حوادثات زندگی وغیرہ یہ سب اس کے تجربات زندگی ہیں ۔انہی کومجربات زندگی کہتے ہیںجس طرح یہ مجربات زندگی انسان کے ہرشعبہ حیات میں پائے جاتے ہیں اسی طرح علم العلاج اور علم الادویہ میں بھی پائے جاتے ہیںجن کومجربات علاج یامجربات الادویہ کہتے ہیں جوامراض اور مشکلات صحت کیلئے خزانہ ہیں حقیقت میں علم العلاج کی بنیاداسی خزنہ پرہے۔

مجربات کے خزانے
ہزاروں سال سے انسان نے معالج یاغیرمعالج کی حیثیت سے جومجربات اکٹھے کئے ہیں وہ سینہ بہ سینہ یاکتب کی صورت میں لاکھوں کروڑوں کی صورت میں ہمارے گردا گرد پھیلے پڑے ہیں اور یہ علم العلاج کی جان ہیں۔طبی دنیا میں جوعلاجات ہورہے ہیں وہ انہی پر یقین اورفخر کے ساتھ کئے جاتے ہیں صرف یہی نہیںبلکہ گذشتہ زمانہ قدیم ہویا موجودہ دورسائنس ان میں جوعلاج کئے گئے ہیں یاہورہے ہیں یہ سب انہی مجربات کے مرہون منت ہیں اگرہم تھوڑی دیرکیلئے یہ فرض کر لیں کہ مجربات ختم ہوگئے ہیں تویقینا جاسکتاہے کہ انسان عملی اورسائنسی علاج سے نہ صرف محروم ہوجائے بلکہ زمانہ جہالت میں پہنچ جائے اورعلاج کی دنیا ہمارے سامنے اندھیرہوجائے ان حقائق سے ثابت ہوا کہ مجربات اپنے زبردست اہمیت رکھتے ہیں۔

حقیقت مجربات
مجربات کے عظیم خزانے جو ہزاروں سال سے اب تک ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی مجربات کی طلب باقی ہے بلکہ پہلے سے بہت زیادہ ہے ۔اس سلسلہ میں کسی معالج سے بات کی جائے توایسا معلوم ہوتاہے کہ اس کومرض جوع المجربات ہوگیاہے۔اس غرض سے ہر روز اکسیر وتریاق قسم کے مجربات کی تلاش ہے۔معلوم یہ ہوتاہے کہ یاتوان کاافعال واثرات ادویہ و اغذیہ اوراشیاء لینے کا طریق کارغلط ہے یاتشخیص الامراض وعلامات ہی صحیح نہیں جس سے وہ دونوں کوتطبیق دے سکیں اورمرض رفع ہوجائے اس لئے مجربات کی تلاش جاری ہے۔ہمیں دوا کے مجرب اوربے خطا ہونے سے انکار نہیں ہے بلکہ صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ مجربات کی تلاش و طلب سے کس قدر فائدہ اٹھایاجاتا ہے یہاں پرایمان وعقیدے سب دھرے رہ جاتے ہیں۔

یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ طب مفرداعضاء میں مجربات ومرکبات اورمفردات کے افعال واثرات ایک قانون کے تحت حاصل کئے جاتے ہیں اوراسی طرح امراض وعلامات کی تشخیص بھی بالکل اسی قانون کے تحت ہے۔جس قانون کے تحت مجربات ومرکبات اورمفردات کے افعال واثرات حاصل کئے جاتے ہیں۔یہ قانون کیفیات ومزاج اوراخلاط کا ہے۔اسی کے مطابق امراض و علامات انہی کیفیات ومزاج اوراخلاط کے افعال واثرات رکھنے والی مفردات ومرکبات اور مجربات سے تطبیق دے کر علاج کیاجاتاہے اوریقینی شفاحاصل کی جاتی ہے۔ اورجو ادویہ ، اغذیہ اور اشیاء اس قانون کے تحت نہیں ہوتے وہ بالکل مفیدنہیں چاہے وہ کتنے بھی دعوئوں کے مجربات کیوں نہ ہوں اس کتاب میں ہم انہی قوانین کو بیان کریں گے جن کے تحت مجربات کو یہ سمجھا جا سکے کہ کیاواقعی وہ مجربات میں شامل ہیںاورکن امراض کیلئے مفید ہیں جب تک مجربات کی صحیح شناخت نہ ہواس وقت تک مجربات کو استعمال نہیں کیاجاسکتا اوراگربغیر صحیح شناخت کے مجربات کا استعمال کیاگیاتواول نقصان ہونے کا خطرہ ہے اگرنقصان نہ ہوتو اس کامفیدہونایقینی نہیں ہے اسی ضرورت کے تحت ہم فارماکوپیا طب نظریہ مفرداعضاء پیش کررہے ہیں۔

مجربات اوربنیادی قوانین
عام طورپریہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ مجربات کیلئے بنیادی قوانین کی ضرورت نہیں ہے وہ بالخاصہ خاص خاص امراض کیلئے مفیدبلکہ اکسیرو تریاق اوریقینی شفاکاحکم رکھتے ہیں۔ ایساخیال نہ صرف غلط ہے بلکہ بے بنیادبھی ہے۔یادرکھیں کہ امراض کیلئے بالخاصہ مجربات چاہے وہ مرکبات ہوں یا مفردات انہی کوکہتے ہیں جن کے اصولی شفاکابنیادی قوانین کے مطابق علم نہیں ہوتا۔جن کو) Rational Medicines (ان کواصولی ادویات(Imperial)سے جدا سمجھا جاتا ہے

طب مفرداعضاء
کسی فن کواس وقت تک زندہ نہیں کیاجاسکتاجب تک اس میں تجدیدنہ کی جائے۔تجدیدکے معنی ہیں قدیم علم وفن کونیا مقام(Renew) دینا۔پھریادرکھیں تجدیدکے معنی کسی نئے علم وفن کا پیداکرنانہیں ہے بلکہ قدیم علم وفن کی سچائی وصداقت اورحقیقت کوروشن اورنیاکرناہے ۔سو ہم نے بھی فن کوزندہ کرنے کیلئے طب میں تجدیدکی ہے کوئی نئی طب نہیں پیش کی جس کوطب جدید کہا جائے۔تجدیدطب اورطب جدید دو مختلف صورتیں ہیں ہم ایائے فن اورتجدیدطب کے داعی ہیں

یادرکھیں کہ کسی فن کے احیاء اورتجدیدکیلئے اس وقت تک کوئی صورت پیدانہیں ہوسکتی جب تک فطرت کا کوئی ایسا قانون وکلیہ اوراصول و قائدہ پیش نہ کردیاجائے جس کی بنیادوں پراس میں احیاء اورتجدیدکی جاسکے اوراس قانون وکلیہ اوراصول وقائدہ کوفطرت کے مطابق ثابت کرنے کیلئے تجربہ ومشاہدہ پیش کیاجائے یاکسی علمی اورسائنسی قانون وکلیہ اوراصول وقائدہ کوسامنے رکھ کر فطرت کے مطابق کردیا جائے بس یہی اس کی نظری(عملی)صورت ہوگی۔ہم نے بھی اسی طرح کاایک نظریہ پیش کیاہے جس کانام طب مفرداعضاء رکھاہے۔

طب مفرداعضاء کی تشریح
یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ جسم انسان کی مشین چنداعضاء کے پرزوںسے مرکب ہے جومفرداعضاء سے مرکب ہیں۔یہ مفرداعضاء اخلاط سے مل کر بنتے ہیں اوراخلاط اس غذاسے پیداہوتے ہیں جو ہم روزانہ کھاتے ہیںیہ روزانہ کھائی جانے والی اغذیہ اپنے اندرچندمخصوص کیمیائی کیفیات اورمزاج رکھتی ہیں۔

ماڈرن سائنس اورمیڈیکل سائنس بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ جسم کی مشین جن اعضاء کے پرزوں سے مرکب ہے وہ تمام انسجہ(Tissues) سے مرکب ہیں اورہرنسیج ہزاروں خلیات(حیوانی ذروں)سے مرکب ہے جن کوسیلز(Cells)کہتے ہیں ہرسیل (حیوانی ذرہ)اپنے اندر ایک جدا زندگی رکھتاہے یعنی سانس وغذالیتاہے اوراپنے فضلات خارج کرتاہے پھراپنے جیسے خلیات(Cells)پیداکرتاہے انہی سے انسجہ(Tissues)مرکب ہیں یہ انسجہ (Tissues)چارقسم کے ہوتے ہیں ان میں سے تین اعضائے رئیسہ دل،دماغ اورجگربنتے ہیں۔جن کوعضلی نسیج(Muscular Tissue)،عصبی نسیج(Neural Tissue)اورغدی نسیجGlandular Tissue) (کہتے ہیں اورالحاقی نسیج (Connective Tissue)سے جسم کی بنیادیں تیارہوتی ہیں۔یہ تمام انسجہ خون سے بنتے ہیں جوایک کیمیائی مرکب ہے اوریہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ خون غذاسے بنتاہے۔

جاننا چاہیے کہ طب نظریہ مفرداعضاء ثابت کرتی ہے کہ جسم چاراخلاط سے مرکب ہے اورہرٹشواپنا ایک مختلف مزاج اورکیفیت رکھتاہے یعنی ہرایک کامزا ج دوسرے سے مختلف ہے۔جیسے طب یونانی کے اخلاط ایک دوسرے سے مختلف ہیںلیکن اگر ان چاروں خلطوں اورچارانسجہ (Tissues)کوتطبیق دیاجائے توایک ہی معلوم ہوتے ہیں ۔ (1)۔خلط بلغم سے نسیج اعصابی بنتا ہے اوریہی اس کی غذااورجزوبدن ہے۔ (2)۔خلط خون(سرخی)سے نسیج عضلاتی بنتاہے اور یہی اس کی غذااورجزو بدن ہے۔(3)خلط صفراسے نسیج غدی بنتاہے اوریہی اس کی غذااورجزو بدن ہے۔(4)۔خلط سوداسے نسیج الحاقی بنتاہے اوریہی اس کی غذااورجزو بدن ہے۔گویااخلط اورانسجہ لازم وملزوم ہیں۔یہ وہ حقائق ہیں جن سے کوئی سائنس انکارنہیں کرسکتی جب ان حقائق پر مسلسل سالہاسال غوروفکرکیاگیاتوان میں سے بے شمارحقائق کے چشمے ابلنے لگتے ہیں جن سے بحر ذخار اور بے پایاں کنارپیداہوگیا۔

طب نظریہ مفرداعضاء کی عملی صورت
طب نظریہ مفرداعضاء میں صحت کا قیام اعتدال اخلاط ومزاج اورکیفیات پرہے یہ اعتدال قائم نہیں رہتا تومرض پیداہوجاتاہے۔پھرمرض کاعلاج یہ ہے کہ ان میں اعتدال قائم کردیا جائے ۔ مرض کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جب اخلاط ومزاج اورکیفیات کااعتدال بگڑتاہے تو اس کا اولین اثراعضاء پرپڑتاہے کیونکہ انہی سے پہلے اعضاء بنتے ہیں جیساکہ شیخ الرئیس بوعلی سینانے لکھا ہے

وھی اجسامٌ متولدہ من اول مزاج الاخلاط کماان الاخلاط اجسام متولدۃمن اول مزاج الارکان۔
اوریہی اعضاء اجسام ہیں جواخلاط کی ابتدائی ترکیب سے پیداہوتے ہیں جیسا کہ اخلاط جیسے اجسام ارکان کی ابتدائی ترکیب سے پیدا ہوتے ہیں۔

شیخ الرئیس نے نہ صرف اعضاء کی پیدائش کی ابتدائی صورت بیان کردی ہے بلکہ مثال دے دی ہے کہ جیسے ارکان سے اخلاط پیداہوتے ہیں جس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیاہے کہ اخلاط ہمیشہ ارکان سے پیداہوتے ہیں۔اس میں خوبی اورکمال یہ ہے کہ ارکان واخلاطاوراعضاء کا ایک مسلسل تعلق پیداکردیاہے۔ان تینوں کوایسا جوڑدیاہے کہ وہ تینوں نہ صرف ایک دوسرے کے بعد ہیں بلکہ ایک ہی سے معلوم ہوتے ہیں۔البتہ ان میں ارتقائی صورت قائم ہے۔یعنی اول ارکان،پھراخلاط اورآخر میںاعضاء ہیں انہی اعضاء کے افعال بگڑنے کوامراض قرار دیاگیاہے چاہے ان کابگڑناسادہ(کیفیاتی)ہویامادہ(اخلاطی)ہو۔

طب مفرداعضاء کانقطہ عروج
جب یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ اخلاط سے اعضاء بنتے ہیں۔دوسرے اعضاء یقینااخلاط کی ارتقائی صورت ہیں تیسرے اعضاء ہی کے بگاڑکو مرض قراردیاجاتاہے یعنی جب تک اعضاء کے افعال میں افراط و تفریط اورخرابی واقع نہ ہواس وقت تک اس کومریض نہیں کہ سکتے۔پھر اگراخلاط کی بجائے اعضاء کوقیام صحت اورسبب مرض قراردیاجائے توہم اخلاط کے چکر سے نکل کراعضاء پر پہنچ جاتے ہیں جس سے تشخیص میں آسانیاں اورعلاج میں سہولتیں پیداہوجاتی ہیں۔

جاننا چاہیے کہ اخلاط پہلے ہوں یااعضاء کواول تسلیم کیاجائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یعنی چالیس کلو کا من تسلیم کرلیاجائے یاایک من کے چالیس کلومان لئے جائیں بات توایک ہی ہے لیکن حساب میں سہولت من کوتسلیم کرنے سے ہی ہوسکتی ہے کیونکہ من میں چالیس کلوایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں اور ان کوقابومیں رکھناآسان ہے۔

ایک اوربات قابل غورہے کہ جن اخلاط سے جواعضاء بنتے ہیں۔اگرانہی اعضاء کے افعال میں تیزی پیداکردی جائے توجسم میں وہی اخلاط کثرت سے بننے لگتے ہیں۔مثلاً اگرجگرکے فعل میں تیزی پیداکردی جائے توجسم میں صفراکی مقداربڑھ جاتی ہے۔یہی صورت دیگر اعضاء کے افعال میں تیزی پیداکرنے سے پیداہوجاتی ہے۔گویااعضاء کاتسلیم کرناایک ایسا نقطہ کمال ہے ایک طرف ہم اپنی مرضی کے اخلاط ومزاج اورکیفیات پیداکرسکتے ہیں اوردوسری طرف ان کے افعال کے اعتدال سے صحت کوقائم رکھ سکتے ہیں اورامراض دورکرسکتے ہیں اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ مفرد اعضا(Tissues)کوبنیادصحت ومرض تسلیم کرکے سائنسی دنیاسے اپنی برتری تسلیم کراسکتے ہیں کیونکہ وہ اخلاط سے توانکارکرسکتے ہیں مگرمفرداعضاء (Tissues)کی ہستی سے ہرگزانکارنہیں کرسکتے۔جب کہ ہم نے مفرداعضاء کے ساتھ اخلاط ومزاج اورکیفیات کو تطبیق دے دیاہے ۔بس یہی طب نظریہ مفرداعضاء کی حقیقت ہے ۔

فارماکوپیا
فارماکوپیا(Pharmacopeia)کے معنی عام طورپرقرابادین یامجرب مفردات و مرکبات برائے دستورالعلاج کے کیے جاتے ہیں لیکن اس کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ مجرب مفردات و مرکبات کاایسا دستورالعلم جوحکومتِ وقت یامسلمہ طبی جماعت یاطبی ادارہ کی طرف سے برائے عمومی علاج معالجہ شائع کیاجائے اس میں اس امرکاافہام وتفہیم لازمی ہوتاہے کہ اس دورکے بہترین اورہرطرح قابل اعتمادمجرب مفردات ومرکبات تسلیم کئے گئے ہوں اورہرمعلاج ان کو بے خطرویقینی بے خطا فائدے کے زیراثر استعمال کرسکتاہو۔

فارماکوپیا کے معنی ہرگزنہیں ہیں کہ جوشخص بھی چاہے اپنی رائے کے مطابق جس قسم کے نسخے اس کو پسندہوں یامیسرآئیںان کواکٹھاکرکے شائع کردے اوران کانام فارماکوپیارکھ دے۔اس قسم کافعل فن وقوم اورملک کے ساتھ ایک طرناک مذاق ہے۔کسی ملک میںبھی ایسا مذاق نہیں کھیلاجاسکتاہے کیونکہ اس میں دوسرے کی زندگی سے کھیلنے کے ساتھ ساتھ انسانی کریکٹرکی ذمہ داری کاسوال پیداہوتاہے لیکن ہمارے ملک میں جہاں طبی شعورتقریباًمردہ ہوچکاہو وہاں ایسے انسانیت سوز ڈرامے کھیلے جاتے ہیں اورغیرذمہ دارانہ حرکات عمل میں آتی ہیں۔ صرف لالچ زر اور طمع شہرت کی خاطر بلکہ دوسروں کو بیوقوف سمجھ کرلوٹنے کیلئے ایسے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔جس نسخے کے پیچھے کوئی تاریخ نہ ہواس کواستعمال کرناجہالت ہے۔

تعریف
میڈیکل ڈکشنری میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے۔

“Pharmacopeia is a book containing a description of products used in medicine, with detail of how these should be prepared. Identified and compound prescription, and of the dose in which they may be administered to patients the authoritative work on this subject used in these island is the British Pharmacopeia. which is periodically revised and brought up to date by a committee of the general medical council.

جنرل ڈکشنری میں اس کی تعریف یوں کی گئی ہے۔

The authorized book of formula for the preparation of medicines published by the general council of medical education and registration of United Kingdom. Each country publishes a similar book.

ان تعریفوں کی تشریح یہ ہے کہ فارماکوپیا ایسی کتاب ہے جس میں

1۔دستورالعلاج کیلئے مجرب مفردات ومرکبات ہوں۔

2۔ان مفردمرکب ادویہ کی پہچان ۔

3۔ان کے ملانے کے طریق کار۔

4۔ان کی مقدارخوراک ۔

5۔ اس کی ترکیب وترتیب اور تجربات ومشاہدات کیلئے ایک مستند طبی کمیٹی کاہونا۔

6۔حکومت یامستندادارہ کی سرپرستی ۔ 7۔زمانہ کے مطابق اس پر نظرثانی کاقائم ہونا۔

فارماکوپیا کیلئے اہم شرائط
مندرجہ بالا سات شرائط میں سے تین شرائط نہایت اہم ہیں۔

1۔فارماکوپیا کیلئے مفردات ومرکبات کاہونا۔

2۔فارماکوپیا کے مجربات کی تصدیق ویادداشت اورتجربہ مشاہدات کیلئے ایک مستندماہرین اوراہل علم کی جماعت ہونی چاہیے یامجرب مفردات اورمرکبات کی ایک مستند تاریخ ہونی چاہیے جس میںاس کے تجربات ومشاہدات اورتصدیقات ویادداشت کی تفصیل درج ہو۔

3۔فارماکوپیاکی سرپرستی اورتصدیق حکومت یاطبی جماعت یاادارہ کی طرف سے ہونی چاہیے جوزمانہ کی ضرورت کے مطابق اس کی نظرثانی کرکے اس کوشائع کرتے رہیں۔

ان تین شرائط میں اولین شرط نہایت اہم ہے کیونکہ اگراولین شرط ہی پوری نہ ہوتوباقی شرائط بے معنی ہوکررہ جاتی ہیں۔گویافارماکوپیابغیرمجربات کے ختم ہوکررہ جاتاہے۔ سوال پیداہوتاہے کہ مجربات اگرمفردات ہوں یامرکبات جوبھی دستورالعلاج کیلئے تصدیق کئے جائیں وہ کس قانون وقائدے اوراصول ونظریہ کے مطابق ہونے چاہیں۔ دیگرالفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ ان کوتجربہ و مشاہدہ کرنے کے لئے کن قوانین وقواعداورنظریات واصولوں کومدنظر رکھناچاہیے۔

مجرباتِ معیار
مجربات کوحاصل کرنے کیلئے مفردات پرتجربات ومشاہدات کئے جائیںیامرکبات کی جانچ پڑتال کی جائے لازم ہے کہ ان مقاصد کیلئے کوئی نہ کوئی معیارضرورسامنے رکھنا پڑے گا۔یہ معیارکسی قانون و نظریے کی صورت رکھتاہوگا یاکسی قاعدے یااصول کو مقررکرناپڑے گا۔ تاکہ ادویات کے نتائج باقاعدہ یاداشت کی صورت میں محفوظ رکھے جائیں تاکہ علمی ویقینی حیثیت سے ان نتائج کے متعلق کچھ کہا جاسکے اگر کوئی معیار نہیں ہے تو پھر ان کی حیثیت علمی اوریقینی نہیں ہوگی

مجربات کا غلط معیار
عام طورپرعوام میں مجربات کا ایک غلط معیارقائم ہے۔یعنی کوئی دواغذااورشے اگرکسی مرض میں استعمال کرادینے کے بعد وہ مرض یاعلامت رفع ہوجائے تواس دوا، غذا اورشے کومجرب خیال کرلیاجاتاہے لیکن حقیقت میں یہ ایک غلط معیارہے۔کیونکہ اس میں کوئی علمی ویقینی (Scientific)صورت قائم نہیں ہے اوریہ کہا نہیں جاسکتاکہ وہ مرض اورعلامت کیوں اور کیسے رفع ہوئی۔البتہ ایسے مشاہدات سامنے آئیںتوان ادویہ واغذیہ اوراشیاء کوپھرمزید انہی امراض وعلامت تندرست انسانوں پرتجربات کرنے چاہیں اوران کی مختلف صورتوں میں نتائج کویادداشت کے طورپرمحفوظ کرلیناچاہیے ممکن ہے کہ ان سے فوائد اورنتائج حاصل ہوسکیں۔

مجربات کاعلمی معیار
ہزاروںسالوں کی طبی تاریخ پرجن کی نظرہے وہ جانتے ہیں حکماء اوراطباء نے مجربات ہمیشہ انہی ادویہ واغذیہ اوراشیاء کوکہاہے جواصولی اور قانونی طورپربھی صحیح ہوتے ہیں یعنی کیفیات ومزاج اوراخلاط کے مطابق درست ہوتے ہیں۔امراض کی حالت میں انہی علامات کے مطابق ادویات استعمال کرادی جاتیں ہیں۔

مجربات کی امراض سے مطابقت
مجربات کاکمال یہ ہے کہ وہ امراض کے ساتھ بالکل مطابقت رکھتے ہوں جس قدر صحیح مطابقت ہوگی اسی قدر جلدازجلد مرض رفع ہوگا اور مریض کی تکلیف رفع ہوگی۔لیکن اس قدر بیان کردیناکافی نہیں ہے کہ فلاں دواوغذااورشے فلاں مرض کیلئے مجرب اوریقینی مفیدہے ۔ کیونکہ اہل علم وصاحب فن اطباء وحکماء خوب جانتے ہیںکہ کسی شے کے متعلق کہ دیناکافی نہیں ہے بلکہ جب تک مجربات اپنے معیارپر پورے نہ اتریں ان کومجربات نہیں کہاجاسکتا اس لئے مجربات کا صحیح معیاراورمطابقت کاجاننا ازحد ضروری ہے۔

مجربات کاصحیح معیاراورمطابقت
مجربات کاصحیح معیاراورمطابقت دراصل مرض کاصحیح طورپرسمجھنا ہے اس لئے ہرطریق علاج نے امراض کو سمجھنے کیلئے چندقوانین اورقواعد مقررکئے ہیں جن کے ذریعے امراض کوسمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔وہ قوانین وقواعد درج ذیل ہیں۔

1۔ماہیت مرض
یہ جسم انسانی کی ایک خاص صورت ہے جوتمام جسم میں بیک وقت ظاہرہوتی ہے۔

2۔علامات مرض
علامات دوقسم کی ہوتی ہیں۔اول مشینی یعنی اعضاء کے افعال میں کمی بیشی اورضعف جواعضاء کی قوت مدافعت کی خرابی کے بعد عمل میں آتے ہیں،دوسرے کیمیائی علامات ایسی علامات جن کا تعلق خون کے کیمیائی اجزاء سے ہوتاہے اس کاتجزیہ کیفیات ومزاج اوراخلاط سے کریں یا جسم کے عناصراورزہروں سے کیاجائے جن میں جراثیم بھی شریک ہیں۔

3۔اسباب امراض
امراض کی علامات کے ساتھ ساتھ ان اسباب کوبھی مدنظر رکھنا ضروری ہے یہ بھی دوقسم کے ہیں۔اول اسباب صحت جن کواسباب ستہ ضروریہ بھی کہتے ہیں۔دوئم اسباب ممرضہ۔جن کی تفصیل مبادیات طب میں ملاحظہ فرمائیں۔ ان کے علاوہ

4۔عمر 5۔موسم 6۔ملک 7۔عادات

ان سب کوبھی مدنظررکھناپڑتاہے۔جودواوغذااورشے ان تمام صورتوں اورحالات کو پیش نظررکھتے ہوئے مفیدثابت ہوں بس وہی مجربات میں شامل ہوں گی ورنہ ان کااستعمال کرنامریض پرظلم کرناہے۔

مجربات اورامراض میں مطابقت کی اہمیت
مطابقت کی اہمیت کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ مرض کا نقشہ ذہن میں پیداہونے کے ساتھ ہی اس کے رفع کرنے والی دواو غذا اور شے کاتصور فوراًذہن میں پیداہو جائے۔مثلاً جب کوئی انسان کسی رسی یادھاگے کی گرہ باندھتاہے تواس گرہ کوکھولنے کا بھی اس کوعلم ہوتا ہے۔گرہ کاکھولنا ہی اس گرہ باندھنے کی مطابقت ہے ۔دوسری طرف کیمیائی اعمال سے پیش کی جاسکتی ہے جیسے آگ کاجلانااگرایک عمل ہے تواس آگ کابجھانااس کاردعمل ہے۔اس کابجھاناپانی سے بھی ہوسکتاہے اورمٹی سے بھی ہوسکتاہے۔ آگ بعض دفعہ پانی اورمٹی سے نہیں بجھتی تواس کوکسی اور شے سے بجھاناپڑتا ہے جوشے بھی آگ کوفوراًبجھادے وہی اس کاردعمل ہے۔اسی طرح سردی ہر شے کویخ کرکے سکیڑ دیتی ہے اورپھرگرمی سے اس کاردعمل ہوتاہے یعنی وہ سکیڑ ختم ہوجاتاہے یا سردی سے کوئی جاندار ٹھٹھرجاتاہے تواس کوگرمی پہنچا کرگرم کیا جاتاہے یہ گرمی اندرونی طورپربھی پہنچائی جاتی ہے اوربیرونی طورپربھی دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ہررطب ویابس کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بعض بعض کے ردعمل ہیں۔

ان اعمال سے آگے بڑھیںتوہم روزانہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں۔ہماری اغذیہ میں بعض کوہم گرم کہتے ہیںاوربعض کوہم سردسمجھتے ہیں۔ کیونکہ گرم اشیاء کھانے سے جہاں ہماراجسم گرم ہوجاتاہے وہاں سرد اشیاء کھانے سے جسم میں سردی کی کیفیت پیداہوجاتی ہے اسی طرح ہررطب و یابس اپنااثر رکھتاہے۔

اورذراآگے بڑھیں توہم جانتے ہیں بعض اغذیہ اوراشیاء کے کھانے سے کبھی اسہال کی صورت ہوجاتی ہے توکبھی قبض ہوجاتی ہے۔بعض اغذیہ اوراشیاء سے پیشاب زیادہ آتاہے کبھی کم اورکبھی بند ہوجاتاہے اورکبھی پیشاب میں جلن پیداہوجاتی ہے ۔اسی طرح بعض اغذیہ اور اشیاء سے پسینہ آجاتاہے اورکبھی قے ہوجاتی ہے۔غرض یہ روزانہ زندگی کے تجربات میں جواکثرہرشخص کو ہوتے ہیں۔

ان سے اگرآگے بڑھیں تواطباء اورحکماء کے تجربات ہیں۔یہ تجربات اغذیہ اورادویہ اوردیگر ہرقسم کی اشیاء میں کئے جاسکتے ہیں۔مثلاًاس کے استعمال سے جسم انسانی پرجو کیفیات وحالات اورصورتیں پیداہوتی ہیں یعنی جسم واعضاء کے افعال واعمال میں کمی بیشی اورمنہ کے ذائقے میں تبدیلی وغیرہ ۔اسی طرح نفسیاتی اثرات کومزید مدنظررکھا جاتاہے۔انہی کیفیات وحالات اور صورتوں میں جسم واعضاء کے افعال واعمال میں جوغیرطبعی صورتیں اختیارکرلیتے ہیں ان کو امراض کانام دے دیاجاتاہے۔اسی طرح کسی مرض کی حالت میں کسی غذاودوا اورشے کے استعمال سے اگررفع ہوجائے تواس کودواکہہ دیتے ہیں ۔اگرچہ وہ صحت دینے والی شے غذا ہی کیوں نہ ہو۔ان ہی اقسام کے تجربات نے علم الامراض اورعلم الادویہ پیداکردیاجونہ اب دنیا کیلئے مفیدہے بلکہ انتہائی ضروری ہے۔

اطباء اورحکماء کے ان تجربات ومشاہدات میں سے زیادہ اہمیت ان کوملی جوزیادہ سے زیادہ امراض وادویات میں مطابقت رکھتے ہیں۔عوام واشخاص اوراطباء وحکماء کے مشاہدات وتجربات میں یہی فرق ہے کہ اول الذکرکے تجربات ومشاہدات اورتصدیقات ویادداشت ثانی الذکر کے مقابلے میں نہ علمی واصولی ہیں اورنہ قانون وقاعدے کے مطابق اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ اطباء وحکماء کے تجربات ومشاہدات اورتصدیقات ویادداشت میں ایک بڑی وسعت وتواتر اورتاریخی شہادتیں پائی جاتی ہے اس لئے ان کاعلم وفن تحقیقاتی اورافاداتی ہے یہی صورت قابل اعتمادہے۔

دواکی تعریف
دواایک ایسالفظ ہے جوموجوداتِ عالم میں ہرجاندار اورغیرجاندارپرعائدہوتاہے ان اشیاء کودنیایامخلوقات عالم کوطبی اصطلاح میں موالید ثلاثہ کہتے ہیں۔اشیاء کی اس جماعت بندی سے جن سے اُن کوسمجھنے کیلئے کئی صورتوں سے آسانی ہوتی ہے۔اول۔اُن کے خواص واثرات اور اجزاء کے تعین کی صورتیں سامنے آجاتی ہیں۔دوئم ۔نظریہ ارتقاء کے تحت ان کی درجہ بندی ہو جاتی ہے۔سوئم۔اعتدال حقیقی یامزاج انسانی کے قریب کے افعال وفوائد کاعلم ہوتاہے۔یہ موالید ثلاثہ تین صورتوں میں اس طرح تقسیم ہیں ۔

1 ۔معدنیات 2۔نباتات 3۔حیوانات

البتہ فوائد کے لحاظ سے ہم سب کوادویات کہتے ہیں۔دراصل علم ادویہ سے مرادوہی علم ہے جس کے ذریعہ اطباء وحکماء نے ادویات کے افعال وکیفیات اوراخلاط ِموثرہ کی تصدیق کی ہے یعنی جس میں انسان کے اعضاء کے مشینی اعمال اورخون کے کیمیائی اثرات کی تشریح اور توضیح ہے۔حکماء یونان اوراسلام کویہ فخرحاصل ہے کہ انہوں نے علم الادویہ میں تحقیقات اورتدقیقات کرنے میں اپنی عمریں گزاردیں ہیں ۔ انہوں نے ہزاروں کتب لکھیں جوآج بھی موجود اور شاہدہیں۔

موالید ثلاثہ کی تقسیم بالعلاج
حکماء اوراطباء نے موالید ِثلاثہ کوافعال اثرات اورخواص کے تحت تین صورتوں میں تقسیم کیاکردیاہے۔

1۔غذا 2۔دوا 3۔زہر

چونکہ مطلق غذاومطلق دوااورمطلق زہر کے علاوہ ایسی صورتیں بھی پائی جاتی ہیں جوایک دوسرے سے مرکب ہوتی ہیں۔اس لئے ان کی کل چھ صورتیں بن جاتی ہیں۔

1۔مطلق غذا 2۔غذائے دوائی 3۔دوائے غذائی 4۔مطلق دوا 5۔دوازہر 6۔مطلق زہر

جن کی مختصر تشریح درج ذیل ہے۔

1۔مطلق غذا
غذائے مطلق وہ شے ہے کہ جب بدن میں واردہوتی ہے توبدن سے متاثرہوکرمتغیرہوجاتی ہے ۔لیکن بدن میں کوئی تغیرپیدانہیں کرتی بلکہ خودجزوبدن ہوکربدن کے مشابہ ہوجاتی ہے۔مثلاً روٹی،گوشت اوردودھ۔

2۔غذائے دوائی
غذائے دواسے مراد وہ شے ہے جوبدن سے متاثرہوکرمتغیرہوجائے اوراس کے بعدخودبدن کو متاثرومتغیرکردے اوراس کازیادہ حصہ جزوبدن بنے یاکم حصہ جزوبدن بنے بغیر جسم سے خارج ہوجائے۔مثلاً پھل وغیرہ۔

3۔دوائے غذائی
دوائے غذائی سے مراد وہ شے ہے جوبدن سے متاثرہوکر متغیرہوجائے اوراس کے بعد بدن کو متاثرومتغیرکردے اوراس کاکچھ حصہ جزوبدن ہواورزیادہ حصہ جزوبدن بنے بغیرجسم سے خارج ہوجائے۔مثلاً میوہ جات،گھی وغیرہ۔

4۔مطلق دوا
مطلق دواسے مراد وہ شے ہے جوبدن سے متاثرہوکربدن میں تغیرکرپیداکرنے اور آخر کار جزو بدن ہوئے بغیربدن سے خارج ہوجائے۔

5۔دوائے زہر
دوائے زہر سے مراد وہ شے ہے جوبدن سے کم متاثرہواوربدن کوزیادہ متغیرکرے اورنقصان پہنچائے۔

6۔مطلق زہر
مطلق زہر سے مراد وہ شے ہے جوخودتوبدن سے متاثرومتغیرنہ ہو۔لیکن بدن میں اپنا اثر و تغیر پیدا کرکے فساد کاباعث ہو۔مثلاًسنکھیا،سانپ وغیرہ۔

ماکول ومشروب کے اثرکرنے کی صورتیں
کھانے پینے کی اشیاء کے اثر کرنے کی صورتیں یہ ہیں۔

اگر کوئی شے فقط مادے سے اثرانداز ہوتواسے غذا کہتے ہیں۔اگر وہ صرف کیفیت سے اثرکرے تو دواہے ۔اگر اس کااثرمادے اورکیفیت دونوں کے لحاظ سے ہوتواگرمادہ زیادہ ہوتوغذائی دوا اور اگر کیفیت زیادہ ہے تو دوائے غذا کہتے ہیں۔اوراگر کوئی شے صرف اپنی صورت نوعیت سے اثر کرے تو اسے ذوالخاصہ کہتے ہیں جس کی دوصورتیں ہیں۔اول ذوالخاصہ موافق (تریاق) اور دوسرے ذوالخاصہ مخالفہ (زہر) ہو جیسے زہر۔اگرمادہ اورصورت نوعیہ سے اثرکرے توغذائے ذوالخاصہ اوراگر کیفیت اورصورت نوعیہ سے اثرکرے تواس کودواذوالخاصہ کہتے ہیں۔

غذاودوااورذوالخاصہ کے اثرکی حقیقت
دنیا کی اشیاء کوغذاودوااورذوالخاصہ کی صورت میں تقسیم کرکے ان کے افعال واثرات اس طرح سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ امراض اور علامات کے وقت ان کے مطابق اورموافق مزاج اور ضرورت استعمال کرسکے اسی کانام فارماکوپیا ہے۔اس لئے ہم اس حقیقت کوتحقیق کے ساتھ پیش کررہے ہیں۔بس یاد رکھیں کہ مطابق ضرورت اورموافق مزاج اشیاء کااستعمال کرناہی اس فن کا کمال ہے۔

غذاکی حقیقت
غذاکی جمع اغذیہ ہے ۔ہرشخص روزانہ کھاتاہے اوراس کو خوب سمجھتاہے اورطبی اصطلاح میں اس کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے۔کہ غذاوہ شے ہے جوبدن میں اپنے مادہ کی وجہ سے اثرکرتی ہے یعنی دواکی طرح اس کااثراس طرح نہیں ہوتاکہ وہ بدن کوگرم یاسردکرے بلکہ اس کا مادہ اورجسم انسانی بدن میں خون بن کرصرف ہوجاتاہے اوراعضاء بن جاتاہے۔برخلاف ازیں دوامیں اس کاجسم انسانی بدن میں صرف نہیں ہوتا۔بدن میں صرف اس کی کیفیت یعنی گرمی اورسردی پیداہوتی ہے اس کے بعداس دوا کاجسم سے برائے پیشاب وپاخا نہ اورسانس وپسینہ کااخراج ہوجاتاہے۔اغذیہ کی تقسیم درج ذیل ہے تاکہ اس کے افعال واثرات آسانی سے ذہن نشین ہوسکیں۔اغذیہ کی مندرجہ ذیل دواقسام ہیں۔

1۔لطیف ادویہ 2۔کثیف اغذیہ

لطیف اغذیہ
ایسی ہلکی اغذیہ جن سے رقیق خون پیداہوجیسے آب ِ آنار۔

کثیف اغذیہ
ایسی بوجھل اغذیہ جن سے غلیظ اورگاڑھاخون پیداہوجیسے گائے کاگوشت اوربینگن وغیرہ۔

پھرہرایک کی دوصورتیں۔اول صالح الکیموس،دوم فاسد الکیموس اورپھر ہرایک کی دوصورتیں ہیں ایک کثیرالغذا دوم قلیل الغذا۔کیموس کے یونانی معنی خلط کے ہیں۔

صالح الکیموس
ایسی اغذیہ جس سے جسم کیلئے بہترین خلط پیاہو جیسے بھیڑ کا گوشت،ابلاہواانڈہ وغیرہ۔

فاسدالکیموس
ایسی اغذیہ جن سے ایسی خلط پیداہوجوبدن کیلئے زیادہ مفید نہ ہو جیسے نمکین سوکھی مچھلی،مولی وغیرہ۔

کثیرالغذا
ایسی اغذیہ جن کااکثرحصہ خون بن جائے جیسے نیم برشٹ انڈے کی زردی،ماء اللحم وغیرہ۔

قلیل الغذیہ
ایسی اغذیہ جن کاقلیل حصہ خون بن سکے جیسے پالک کا ساگ وغیرہ۔

ادویہ کی حقیقت
ادویہ کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ان کے استعمال سے کیفیات یعنی گرمی وسردی،تری وخشکی پیدا ہو ۔ جیسے فلفل سیاہ وغیرہ۔اگرچہ غذاکے ساتھ کھائی جاتی ہیں لیکن دراصل وہ ایک دواہے۔افعال و اثرات کے زیراثراادویات کی تقسیم درج ذیل ہے۔

ادویہ کی دواقسام ہیں۔لطیف اور کثیف ادویہ

لطیف ادویہ
ایسی ادویہ جن کے اجزاء جسم میں داخل ہونے کے بعدبہت جلد الگ ہوجائیں اورفوراً جسم میں جذب ہوجائیں۔

کثیف ادویہ
ایسی ادویہ جن کے اجزاء جسم میں داخل ہونے کے بعدجلد الگ نہ ہوںاورفوراً جسم میں جذب نہ ہوں۔پھرساتھ ہی ادویات کے درجے مقررکئے گئے ہیں تاکہ ضرورت اورمزاج کے ساتھ پوری پوری مطابقت اورموافقت پیداہوسکے۔

درجات ادویہ
جوادویہ بھی استعمال کی جاتی ہیں وہ جسم انسان میں ایک ہی جیسی کیفیات پیدانہیں کرتیں۔ان میں سے بعض زیادہ گرم وسرداورترخشک ہوتی ہیں اوربعض کم ہوتی ہیں۔جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

دوائے معتدل
ایسی دواجوجسم میں پہنچ کرکوئی زائد کیفیت پیدانہ کریں یعنی اس کی کیفیت جسم انسانی کے مزاج سے نہ بڑھے۔

دوائے درجہ اول
ایسی دواجس کی گرمی یاسردی کا اثر بدن میں اس قدرتھوڑاہوکہ وہ محسوس نہ ہوسکے۔

دوائے درجہ دوم
ایسی دواجس کی گرمی یاسردی کا اثر بدن میں محسوس ہومگرمضرت نہ پہنچا سکے۔

دوائے درجہ سوم
ایسی دواجس کی گرمی یاسردی کا اثر بدن میں یہاں تک ہوکہ وہ مضرہومگرمہلک نہ ہو۔

دوائے درجہ چہارم
ایسی دواجس کی گرمی یاسردی کا اثر بدن میں اس حدتک ہوکہ وہ مہلک ثابت ہو۔

ذوالخاصہ
اشیاء کی اس صورت کاسمجھنا نہایت اہم ہے کیونکہ مختلف مزاج اورہم مزاج ادویہ کوصرف اسی ایک صورت ہی سے سمجھاجاسکتاہے۔جاننا چاہیے کہ ذوالخاصہ کااثرنہ مادہ وجسم اورنہ کیفیات کی وجہ سے ہوتاہے بلکہ یہ اثر اس کی حقیقت کے ساتھ مخصوص ہے اس کودواکی صورت نوعیہ کہتے ہیںہردوااپنی الگ الگ صورت نوعیہ رکھتی ہے جیسے سانپ اوربچھوکے کاٹنے سے بدن میں جواثر ہوتاہے اورانسان ہلاک ہوجاتاہے یہ اثرنہ کیفیت(گرمی،سردی ،تری،خشکی)کی وجہ سے ہوسکتاہے۔اورنہ مادہ اورجسم سے ہوسکتاہے کیونکہ ان دونوں زہریلے جانوروں کااثر اگر گرمی یاسردی کی وجہ سے مان لیاجائے توچاہیے کہ آگ اورپانی کی وجہ سے بھی یہی اثرپیداہوجائے کیونکہ آگ سے زیادہ کوئی چیزگرم نہیں ہے اورپانی سے زیادہ کوئی شے سردنہیں ہے بلکہ ان زہریلے جانوروں کی نسبت آگ اورپانی سے زیادہ اثرہوناچاہیے کیونکہ ان میں گرمی اورسردی ان دونوں سے زیادہ ہوتی ہے۔اس لئے جانوروں کے اثرکونہ دواکااثرکہہ سکتے ہیں اورنہ غذا کے افعال۔کیونکہ غذاتوکسی صورت سے زہرہوہی نہیں سکتی اسی وجہ سے ماننا پڑتاہے کہ کیفیت اورمادہ کے علاوہ کوئی تیسری چیزبھی ہے جواثر کرتی ہے یہ وہی صورت نوعیہ ہے جس سے ہرچیزکی ماہیت بنتی ہے جس کی وجہ سے ہم سانپ کوسانپ اوربچھوکوبچھوکہتے اورسمجھتے ہیں اوراس قسم کی چیزوںکوجس کااثر کیفیت اورمادے سے نہیں ہوتاہے بلکہ اس کی خاص ماہیت اورصورت نوعیہ کی وجہ سے ہوتاہے ذوالخاصہ کہتے ہیں۔

یہ تعریفیں غذائے مطلق،دوائے مطلق اورذوالخاصہ مطلق کی ہیں مگربعض چیزوں میں دوائیت و غذاہیت دونوں ہوتی ہیں۔یعنی اُن کااثر کیفیت اورمادہ دونوں سے ہوتاہے۔ مثلاً بدن میں گرمی وسردی بھی پیداکرتی ہے اوربدن کی غذابن کر پرورش بدنی میں صرف ہوتی ہیں جیسے مغزبادام کہ اس سے گرمی بھی پیداہوتی ہے اورخون بھی بنتاہے۔ بعض چیزوں میں دوائیت، غذاہیت اور خاصیت تینوں ہوتی ہیں۔یعنی ان سے تینوں قسم کیاثرات ظاہرہوتے ہیںجیسے شراب کہ اس سے گرمی بھی پیداہوتی ہے،خون بھی بنتاہے اوراس کی خاصیت سے تفریح اورخوشی بھی پیداہوتی ہے اس طرح بعض چیزوں میں دوائیت اورخاصیت اوربعض چیزوں میں غذاہیت اورخاصیت ہوتی ہے اس وقت ان کے نام دوائے ذوالخاصہ اورغذائے ذوالخاصہ ہوں گے۔اسی طرح اگرتینوں چیزیں اکٹھی پائی جائیںتوغذائے دوائی ذوالخاصہ نام ہوگا البتہ ان میں جوشے اپنی مقدارمیں زیادہ ہوگی اس کانام مقدم لکھاجائے گا۔

غذادوااورذوالخاصہ کے اعمال کافرق
غذاکافعل واثردراصل فاعلی اورموثرہ نہیں ہے بلکہ مفعولی اورمتاثرہ ہے یعنی مشینی اثرنہیں ہوا بلکہ کیمیائی اثرہوتاہے چونکہ اس سے بدن میں تغذیہ وتنقیہ اورافزائش وبدل مایتحلل ہوتاہے۔اس کوغذاکااثرہی کہنا چاہیے ۔غذااوردواکے اثرات کے فرق پراعتراض کیاجاتاہے کہ غذاکیفیت سے خالی ہوتی ہے اوریہ اپنے مادہ ہی سے اثرکرتی ہے حالانکہ گوشت اورروٹی وغیرہ سے خون پیداہوتاہے اوریہ حقیقت ہے کہ اس کامزاج گرم ترہے اسی طرح دیگراقسام کی اغذیہ بھی اپنا مزاج رکھتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ غذاجوخون میں تبدیل ہوجاتی ہے تواس کی صورت نوعیہ قائم نہیں رہتی اور دواسے جوکیفیت پیداہوتی ہے اس میں دواکی صورت نوعیہ قائم رہتی ہے۔جس سے اس کی کیفیت پیداہوجاتی ہے دواکے کیفیاتی اثرات اورغذاکے مادی اثرات کے فرق کوسمجھنے کیلئے دوائے معتدل کے اثرات کوذہن نشین کرلینے سے پوری طرح کیفیت اورمادہ کے اثرات کو سمجھاجاسکتاہے کہ دوائے معتدل جب جزوبدن ہوکربدن کی حرارتِ غریزی سے متاثر ہوتی ہے اوراجزاء کی قوت ہاضمہ سے اس کے اجزاء جزوبدن ہو جاتے ہیں توبدن انسان میں ایک ایسی کیفیت پیداہوجاتی ہے جومزاج انسانی سے کسی طرح خارج نہیں ہوتی اس لئے اس سے بدن میں کوئی ایسا اثر پیدانہیں ہوتاجو اعتدال سے خارج معلوم ہو اس لئے اس کودوا معتدل کہتے ہیں۔

دوائے معتدل کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس کی کیفیات اپنے مزاج میں برابر برابرہوں گی ۔ایسا تصورعلم طب وحکمت کیا دنیا کی کسی سائنس میں نہیں پایاجاتا۔ہردوائے معتدل اپنے اندرجو کیفیات رکھتی ہے ۔ان میں کمی بیشی ضرورہوتی ہے۔مگرمزاج انسانی کے قریب ہوتی ہے اور اس سے بڑھتی بھی نہیں ہے یہی اثرغذااورمادے کے اثرات میں پایاجاتاہے۔یعنی اس میں بھی کیفیات موجودہیں لیکن ان کے اثرات دوا کی طرح مزاج انسانی سے خارج نہیں ہیں۔ثابت ہواکہ ہرغذااورمادہ میں کیفیات موجودہیں اسل لئے ان کے مزاج لکھے جاتے ہیں اورانسانوں کوبھی ضرورت کے وقت ان کے مزاج کے مطابق ادویات استعمال کرائی جاتی ہیں ۔ایسا ہرگزنہیں ہے کہ ہرمرض میں ہرقسم کی ادویات استعمال کردی جائیں اوروہ نقصان رساں نہ ہوں۔

ہم انسان کوجس قدربھی غذاکھلادیں اس کی کیفیات انسانی مزاج سے بہت ہی کم وبیش تغیرپذیر ہوتی ہیں بس یہی غذاودواکافرق ہے۔لیکن ہم کسی غذاکومسلسل استعمال کرائیں تواس کانمایاں مزاج انسانی میں تغیرپیداہوجاتاہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ کہ اول خالص اورمطلق غذامثلاً گوشت روٹی اوردودھ وغیرہ بہت کم پائی جاتی ہے۔اکثراغذیہ اپنے اندردوائیہ اثرات رکھتی ہیں اورجوخالص اورمطلق اغذیہ ہیں جب ان کاتجربہ کیاجاتاہے تواس کے دوائیہ اثرات نمایاں پائے جاتے ہیں۔مثلاً دودھ ایک لطیف غذاہے لیکن اس میں روغن و پنیر اور مٹھاس وپانی شامل ہیں جن کے ذاتی اثرات ہیں لیکن وہ سب مرکب قویٰ ہونے کی وجہ سے اپنے اثرات میں نمایاں نہیں ہوتے بہر حال اثر ضرور رکھتے ہیں اس لئے ہرغذاہردواکی طرح اپنی ایک صورت نوعیہ رکھتی ہے اوراس کااپنا ایک جدااثرہے جواس کاذوالخاصہ ہے ۔اس لئے علاج میں ادویہ کے ساتھ اغذیہ کے مزاج کوبھی مدنظررکھناپڑتاہے اگرچہ ان کااثرادویہ سے فوقیت حاصل نہیں کرسکتا ہے۔

اغذیہ وادویہ اورذواالخاصہ کے اثرات
جس طرح ادویہ واغذیہ معتدل کو جس قدر بھی زیادہ استعمال کرایاجائے وہ اپنے اثرات اور حدود و افعال سے آگے بڑھتی نہیں ا سی طرح چاروں درجہ کی ادویات اپنے اپنے درجات سے بڑھ کر سمی ادویات میں تبدیل نہیں ہوسکتیں۔مثلاًچوتھے درجے کی ادویات بیشک دوائے سمی کہلاتی ہیں لیکن سم مطلق نہیں کہلاتیں ان کا فرق ان کے افعال واثرات سے ظاہرہیں۔یعنی دوائے سمی کا عمل و اثرہمیشہ کیفیات سے صادر ہوتاہے ۔اور سم مطلق کاعمل واثراس کی صورت نوعیہ یعنی بالخاصہ ہوتا ہے ۔اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ سم مطلق میں کیفیات نہیں پائی جاتیں۔لیکن ان کی صورت نوعیہ کا اثر اس قدرشدیدہے کہ کیفیات کے اثرات کے اظہار کے بغیر ہی وہ اپنے سمی اعمال واثرات کے افعال انجام دیتی ہیں ۔مثلاً جمال گوٹہ چوتھے درجے کی دواہے وہ اس کودوائے سمی کہتے ہیں لیکن وہ سم مطلق نہیں ہے کیونکہ جمالگوٹہ کااثراس وقت تک جسم پر نہیں ہوتاجب تک وہ جسم میں اپنی کیفیت سے شدت نہ پیداکرے۔لیکن اس کے مقابلے میں سنکھیاسم مطلق ہے جب یہ اپنی زہریلی مقدار میں استعمال کیاجائے توفوراًموت واقع ہوجاتی ہے لیکن جہاں تک اس کی کیفیت کا تعلق ہے ۔اس کی صورت جمال گوٹہ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوتی ۔بلکہ تجربہ نے یہ بتایا ہے کہ سنکھیاکے زہر سے جسم میں شدید سوزش توضرورپیداہوجاتی ہے ۔لیکن جہاں تک حرارت کا تعلق ہے پہلے سے بھی جسم میں کم ہوجاتی ہے یہ حقیقت ہے کہ سنکھیا کواپنی مقدار خوراک میں استعمال کرایاجائے توجسم سردہو جاتا ہے اوربخاراترجاتاہے ہرشخص تجربہ کرسکتاہے یہی صورتیں کافوراورافیون میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

نتیجہ اثراتِ اشیاء
اس تحقیقات سے ہم اس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ یہ اپنے مادہ کی وجہ سے جسم سے متغیرومتاثرہوکرجب خون میں کیمیائی طورپرمل جاتی ہیں توخون سے ان کے اثرات وافعال کااظہارہوتاہے اورادویہ اپنی مخصوص کیفیات کی وجہ سے جسم سے متاثر توضرورہوتی ہیں لیکن متغیر ہوئے بغیر مشینی طورپراعضائے انسانی پراثراندازہوکران میں افعال واعمال میں تیزی پیداکردیتی ہیں جن سے جسم میں مشینی طورپراورخون میں کیمیائی طورپرغیرمعمولی اثرات رونماہوتے ہیںاورادویہ جب تک جسم سے اخراج نہیں پالیتیں اس وقت تک ان کااثر جاری رہتاہے سمیات(زہر)اپنی صورت نوعیہ سے بالخاصہ طورپرجسم سے بالکل متاثر نہیں ہوتیں بلکہ ان اعضاء میں ایسا غیرمعمولی طور پرتغیرپیدا کر دیتی ہیں کہ موت واقعہ ہوجاتی ہے یہی وجہ ہے بعض زہرآناًفاناً موت کاباعث ہوجاتے ہیں۔

اثرات ِ اشیاء کی اقسام
اس طرح ہم کو اشیاء کے تین قسم کے اثرات تسلیم کرناپڑیں گے اول وہ اشیاء جن کااثرخون میں شامل ہونے کے بعدہوگا جیسے اغذیہ وغیرہ ۔ دوم ایسی اشیاء جن کااثر پہلے اعضائے جسم پرہوتاہے اس کے بعد اُن کااثر خون میں شامل ہوجاتاہے جیسے ادویہ وغیرہ۔ سوم ایسی اشیاء جن کااثر صرف اعضاء تک ہی محدودرہتاہے اورپھر فوراً موت واقع ہوجاتی ہے جیسے زہروغیرہ۔یہ الگ بات ہے کہ ہم زہروں کوتجربات کے بعدان کی غیرسمی خوراکوں میں استعمال کرکے فائدہ اٹھالیں۔البتہ ان کی شرکت سمیات ہی ہوگی۔

اثرات بالفعل اوربالقویٰ
یہ تینوں صورتیں دراصل دوحالتوں میں تقسیم ہوسکتی ہیں۔عضوی اثرات۔جن کوہم مشینی اثرات کہتے ہیں کو حکماء نے اثرات بالفعل لکھاہے یعنی اعضاء کے ساتھ مس ہونے پرہی دواکے اثرات شروع ہوجاتے ہیں ۔

خلطی اثرات۔جن کوہم کیمیائی اثرات بھی کہتے ہیں ان کوحکماء نے اثرات بالقویٰ لکھاہے ۔یعنی خون میں اشیاء کے شریک ہونے پراپنے اثرات ظاہرکرتی ہیں ان کو تاثیر اولیٰ (بالفعل) اور تاثیرثانی(بالقویٰ)بھی کہ سکتے ہیں۔انہی صورتوں کوعمل کاردعمل بھی کہاجاسکتاہے۔ قران حکیم نے اس کیلئے ’’دین لما‘‘ ایک لفظ استعمال کردیاہے۔جس کے معنی جزاء وسزا یعنی عمل وردعمل کے ہیں ۔

ادویات کے اثرات بالعضاء
ان حقائق سے ثابت ہواکہ ہر شے جوجسم انسانی میں داخل ہوتی ہے یا اس پراثرانداز ہوتی ہے وہ کم وبیش اجزائے جسم پرضروراثراندازہوتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ اغذیہ کے اثرات یا برداشت کی وجہ سے اکثر غیرمحسوس ہوتے ہیں،کیونکہ غیر عادی غیربرادشت اغذیہ کاضرور عضوی اثرمحسوس ہوتاہے اسی طرح ادویہ مقدارہضم ہونے تک تقریباًاوراکثرغیرمحسوس رہتے ہیں ۔ متغیر و استحالااورہضم وجزوبدن ہونے پر ان کے اثرات کااظہارہوتاہے لیکن تیز اور شدید اشیاء ادویہ اورزہراپنااثراستعمال ہی کے ساتھ ہی اعضائے جسم پرظاہرکرناشروع کردیتی ہے۔ جہاں پربھی اثرہوتاہے اس کااظہارطبیعت جسم انسانی اس کے غیرمعمولی اثرات کے مقابلے سے ظاہر کرتی ہے یعنی ان کے استعمال سے وہاں پرافراط وتفریط یاضعف وتحلیل واقع ہوجاتاہے۔یہ تیزی و سوزش،تسکین وتخذیراوربخار،ورم وضعف تحلیل یادیگرقسم کے اثرات وغیرہ وغیرہ ۔ طبیعت جسم کا احساس افعال واثرات ادویہ ہے یاادویہ کے اعمال واثرات کامقابلہ ہے۔ادویہ کے استعمال کا کمال یہ ہے کہ جسم کے جس عضوکیلئے دوااستعمال کی جائے وہ دوااسی عضو پر اثرااندازہوکراپنے افعال واعمال کااظہارکرے۔یہی معالج کاافعال وخواص اوراثراتِ ادویہ کا کمال جاننا ہے ۔ اسی میں ادویہ کی مقدارخوارک کابھی رازہے۔اوراسی میں شفاء کے اسرار و رموزبھی پنہاں ہیں۔

تجویزادویہ اوراغذیہ
چونکہ اعضاء جسم کے افعال کیفیات ومزاج اوراخلاط کے تحت قائم ہیں اس لئے جب جسم کے اعضاء کی کیفیات ومزاج اوراخلاط اپنے اعتدال پرقائم نہیں رہتے ان کا اثر اندرونی طور پر ہو یا بیرونی طورپرتواس وقت ان کے افعال بگڑجاتے ہیں۔بس اسی حالت کانام مرض ہے جوادویہ او ر اغذیہ جسم کے غیرمعتدل اجزاء کی کیفیات ومزاج اوراخلاط کودرست کرکے ان کے افعال کو اعتدال پرقائم کردیں گی۔بس مرض رفع ہوجائے گا۔بس اسی عمل کانام فن علاج ہے۔

مجربات کی حقیقت
مرض اورعلاج کی تعریف کے بعد مجربات کاسمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے یعنی جومفردیامرکب دو اانسانی جسم کی غیرطبعی حالت کودورکردے اور باربارتجربات ومشاہدات کے بعد اس کانتیجہ سو فیصدی درست نکلے بس وہی مجرب دواہے۔البتہ معالج کیلئے یہ امرلازم آتا ہے۔کہ وہ مجرب دو اجسم انسان کے مرض و علامات اورمزاج کے ساتھ مطابقت وموافقت قائم کرسکے جوشخص ایسا کرنے کی قابلیت رکھتاہے بس وہی معالج ہے اس امرکوذہن نشین کرلیں کہ سوائے معالج کے ہر شخص امراض کیلئے مجربات تجویزنہیں کر سکتا ہے۔کیونکہ معالج کیلئے لازم ہوتا ہے کہ انسانی جسم کی حقیقت وتشریح ،افعال ورموز،امراض ومزاج اور علامات واسباب سے پورے آگاہ رہے ۔ ایک ناواقف علم وفن شخص کیلئے مشکل ہے کہ وہ معالج کے فرائض اداکرتے ہوئے امراض کیلئے کوئی مجرب نسخہ استعمال کرسکے یہی وجہ ہے کہ وہ معمولی قسم کی شد بدھ رکھنے والے دوافروش یا دوا ساز یاغلط فہمی سے اپنے آپ کومعالج سمجھنے والے استاذانِ فن اورامام طب کے مجربات سے بھی مستفید نہیں ہو سکتے ۔ہمیشہ یہی شکایت کرتے ہوئے سناہے کہ فلاں نسخہ بھی استعمال کیا تھا مگر مفیدنہیں اورفلاں اکسیراورفلاں تریاق یونہی بے معنی ہیں۔ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ان کو نہ تریاق کے معنی آتے ہیں اورنہ ہی اکسیرکاعلم ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ جوع المجربات کامرض بڑھاہوا ہے ۔ ایسے ہی لوگ ہیں جواپنے طریق علاج چھوڑکرکبھی ایلوپیتھی کے مجربات استعمال کرتے ہیں اور کبھی ہومیوپیتھی کاسہارالیتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ایسے غیرمعالج(کیونکہ ان کومعالج کہناغلط)ہمیشہ ناکام ر ہے ہیں۔

مجربات کے صحیح استعمال کاراز
یہ توحقیقت ہے کہ مجربات اسی صورت میں یقینی بے خطامفیدہوسکتے ہیں جب ان کوصحیح مقام پر استعمال کیاجائے یہ ہم لکھ چکے ہیں کہ مجربات کومعالج ہی صحیح طریق پراستعمال کرسکتاہے وہ علم طب اورفن علاج سے واقف ہوتاہے کیونکہ مرض ومزاج اورعلامات واسباب کے ساتھ مجربات کے ا فعال واثرات اورخواص اس کے تحت شعور حاضرہوتے ہیں اس لئے حالات کے مطابق معالج کاحدث اورذہن سرعت فوراً موافق مجرب دوا،غذااورتدبیرتجویزکردیتے ہیں جس کانتیجہ یقینی بے خطاشفاہوتی ہے۔مجربات میں سے کوئی نسخہ تجویزکرنے سے قبل ذیل کی صورتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے یعنی ان کی مجربات کے ساتھ مطابقت ہوناضروری ہے۔

1۔مرض کی ماہیت 2۔مرض کامزاج 3۔علامات 4۔اسباب 5۔کیفیت(اخلاط یعنی خون کی کیمیائی صورت 6۔مریض کی عمر(عادات) 7۔علاقہ اورموسم 8۔مریض کی غذائی زندگی 9۔نفسیاتی اثرات 10۔کسی دوایانشے کی عادی ہونا

زہروں کے استعمال سے دور رہیں
ان دس احکام کومدنظر رکھتے ہوئے ایسی مجرب دواتجویزکریں جوان سب پرحاوی ہو۔اول کوشش کریں کہ کسی غذاکے استعمال یاترک سے یہ تمام صورتیں اس میں پوری ہوجائیں یابعض اغذیہ میں تبدیلی سے یہ مقصد حاصل ہوجائے اگرایسا نہ ہوتوکسی مفردمجرب دواسے فائدہ حاصل کریں اگرایسا بھی ممکن نہ ہوتو مجرب مرکب دواسے علاج کریں اس میں یہ بھی کوشش ہوکہ دوائیں دو تین حدپانچ چھ سے زائدنہ ہوں اورسب سے زیادہ اس امرکومدنظررکھیں کہ ادویہ میں سمیات ، مخدرات اورکشتہ جات سے دوررہیں۔ان کااستعمال انتہائی اشدضرورت کے وقت کریں، جب کوئی دوسری دوااورغذاان صورتوں پرحاوی نہ ہو کیونکہ ان کے استعمال میں بعض سخت قسم کی پابندیاں بھی ہیں۔مثلاً سمیات کودواکی صورت میں صرف ماہرفن ہی تیار کر سکتا ہے ۔ مخدرات کے ساتھ دودھ کی ایک بڑی مقدارلازم ہے۔اورکشتہ جات کے ساتھ گھی اورمکھن کا استعمال بے حد ضروری ہے بلکہ ان کوان ہی اشیاء کے ساتھ استعمال کرانالازمی قراردیاگیاہے اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ان شدیداورزہریلی ادویات کی خوراک زیادہ لمبے عرصے کے بعددینی چاہیے اورہرخوراک کااثردیکھنے کے بعددوسری خوراک استعمال کرنے کی اجازت ہے۔کیونکہ مضر علامات کے بعدان کااستعمال کرنانقصان کاباعث ہوتا ہے۔مثلاً بیش ایک زہرہلاہل سے عام طورپربخاراتارنے کیلئے استعمال کیاجاتاہے۔اس کی تین چاربلکہ بعض اوقات ایک ہی خوراک سے بخاراترجاتاہے۔اس لئے اول اس کااستعمال ناجائزہے۔کیونکہ سینکڑوں دیگر ادویات سے اس کے قائم مقام استعمال کی جاسکتی ہیں۔یہ امربھی یادرکھیں کہ کوئی بھی دوا ایسی نہیں ہوتی جوکسی واحدعلامت کیلئے استعمال کی جاسکے جب تک کوئی مفردیامرکب دوامندرجہ بالا دس احکام کوپورانہ کرے اس کا استعمال بالکل ناجائزہے۔

آیورویدک میں مجربات کااستعمال
آیورویدک میں امراض کی بنیاد دوش،پرکرتی اورافعالِ جسم پررکھی گئی ہے۔وات،پت اورکف یہ تین دوش(اخلاط صالح)ہیں وہ جب تک پرکرتی(مزاج)کے مطابق بنے رہتے ہیں۔جسم کے افعال کوصحیح قائم رکھتے ہیں اورجب خراب ہوجاتے ہیںجسم میں امراض پیدا ہو جاتے ہیں جس کی تین صورتیں ہیں۔

1۔ان دوشوں کی پرکرتی خراب ہوجاتی ہے۔ 2۔دوشوں میں مقدارکے لحاظ سے کمی بیشی واقع ہوجاتی ہے۔ 3۔دوش اپنے مقام بدل جاتے ہیں۔

مثلاً پت کامقام جگرہے لیکن وہاں پرکف یاوات کی زیادتی ہوجائے۔اسی طرح کف کا مقام دماغ ہے وہاں پروات یاپت کی زیادتی ہوجائے اسی طرح وات کامقام قلب ہے وہاں کف یاپت کی زیادتی ہوجائے ان کانتیجہ مرض ہوتاہے۔

پت صفراجس کوگرم کہتے ہیں،وات ریاح جس کامزاج خشک ہے اورکف جس کو تر کہا جاتا ہے ۔ یہ کسی حالت میں مفردنہیں پائے جاتے ہمیشہ مرکب صورت میں رہتے ہیں اگر ان میں سے کوئی ایک کم ہوجاتاہے تودوسرابڑھ جاتاہے کبھی دوزیادہ ہوجاتے ہیں اورتیسراکم ہو جاتا ہے۔اسی طرح یہ اپنے مزاج قائم کرتے ہیں۔مثلاً پت وات،گرم خشک اورپت کف گرم تر وغیرہ وغیرہ۔

علاج کی صورت میں وات پت اورکف کی پرکرتی درست کی جاتی ہے یاان کمی بیشی پوری کی جاتی ہے یاان کواپنے مقام پرقائم کیاجاتاہے جس کے ساتھ ہی جسم کے افعال درست ہوجاتے ہیں ۔مگرآج کل کے ویددوشوں کے اعمال سے پورے طورپرواقف نہیں ہیں۔وہ صرف امراض کے نام کوسنتے ہیں جسم کے افعال کی خرابی کے مطابق نام رکھ لئے گئے ہیں اوران کے متعلق تیار شدہ ادویات دے دیتے ہیں اورفن کو بدنام کرتے ہیں۔

جاننا چاہیے کہ آیورویدک ایک باقاعدہ اوراصولی طریق علاج ہے جومنظم طورپرقوانین کے ماتحت کام کرتے ہیں اس میں تمام امراض او ر علامات اوراسباب دوشوں کے ماتحت قائم کردئیے گئے ہیں اورانہی کے ساتھ اُن کوسمجھااورعلاج کیاجاسکتاہے مثلاً دردسرکوئی مرض نہیں ہے جب تک درد سرکفج وغیرہ نہ کہاجائے ۔گویاافعال جسم کے بگاڑکو دوشوں کے ساتھ ہی سمجھاجاسکتاہے اوریہی اس کاکمال ہے۔

ہومیوپیتھی میں مجربات کااستعمال
ہومیوپیتھک میں علامات کے تحت علاج کیاجاتاہے جہاں تک اس کی علامات کاتعلق ہے وہ با قاعدہ (Systematic)و علمی (Scientific)اورقوانین(Laws)کے تحت حاصل کی جاتی ہیں۔یعنی تندرست انسان میں ادویات کوزیادہ سے زیادہ مقدارمیں دے کرجوعلامات پیدا ہوتی ہیں مریض میں جب ایسی علامات پائی جاتی ہیں توانہیں ادویات کوقلیل مقدارمیں دیا جاتا ہے ۔

ان علامات میں کیفیاتی ونفسیاتی صورتیں،بادی یاسابقہ حالات،حرکت وسکون کے اعمال،مقام واوقات،عمروعادات،شدت وضعف وغیرہ تمام باتوں کو مدنظررکھاجاتاہے۔ اس طرح مریض کے تمام حالات سامنے آجاتے ہیںاورعلاج میں یقینی بے خطاصورتیں پیداہوجاتی ہیں۔ ہومیو پیتھک کی ہرمفرد دواعلامات کے تحت ایک مجرب دواہے اوریہی اس کا کمال ہے۔

جولوگ صحیح معنوں میںہومیوپیتھک نہیں ہیں انہوں نے علامات کونظرانداز کرکے امراض کے تحت علاج کرناشروع کردیاہے بلکہ آج کل کے ہومیوپیتھی کتب میں بھی یہ صورتیں نظرآتی ہیں ۔ مثلاً بخاروں کے نام مقررکردئیے ہیں جیسے ٹی بی،ٹائیفائیڈاورملیریا وغیرہ اوران کے تحت ادویات ادویہ لکھ دی ہیں یہ صورتیں ہومیوپیتھی قانون کے خلاف ہیں۔بخار کی حرارت ایک علامت ہے اس کے ساتھ باقی علامات لے کر علاج کیاجاسکتاہے۔اسی طرح نزلہ ،کھانسی ، دمہ،نمونیا،پلورسی،قبض،بواسیر، استسقاء ،ذیابیطس، جریان،احتلام ،ضعف باہ،فالج اور ضعف دل ،دماغ وغیرہ دیگراعضاء جسم کے ضعف وغیرہ امراض وعلامات کوقائم کرکے ان کے نیچے ادویات لکھ دی ہیں یہ سب کچھ اصول ہومیوپیتھی کے بالکل منافی ہیں۔اسی طرح ہومیوپیتھی میں جسم انسان کی تمام علامات کوسفلس وسورااور سائیکوسس میں تقسیم کردیاگیاہے مگرہومیوپیتھ علامات لیتی دفعہ ان کوبالکل مدنظر نہیں رکھتے۔بلکہ ملی جلی علامات لے کرعلاج کرتے ہیں جس میں ہمیشہ غلطیاں واقعہ ہوتی ہیں علامات لینے میں ایکشن کی علامات کوری ایکشن میں ملادیا جاتا ہے جوسخت غلطی ہے۔

طب مفرداعضاء میں کمال مجربات
طب مفرداعضاء میں مجربات کی ترتیب وترکیب اورتجزیہ وامتزاج اورامراض ومزاج کے ساتھ ان کی ایسی مطابقت وموافقت میں وہ کمال اورفطری قوانین اورقاعدے استعمال کئے گئے ہیں کہ کسی اورطب میں اس کا عشرعشیر بھی نہیں ہے۔یہ مبالغہ نہیں ہے بلکہ یہ منطق (Logic) ،مشاہدہ اور فلسفہ کی معراج ہے کیونکہ چھوٹے سے چھوٹا تجربہ اورمشاہدہ،منطق اورفلسفہ کے بغیر ذہن نشین نہیں کیاجاسکتا۔منطق (دلائل) اورفلسفہ(حقیقت کی تلاش)کیلئے ایک ذہن ہوتاہے جوعقل کے تحت غوروفکر کرتاہے ۔یہ ضرورئی نہیں ہے کہ غوروفکر اورعقل اسی کی کام کرتی ہے جومنطق و فلسفہ کے ماہرہوتے ہیں۔بلکہ ہرذہین انسان غوروفکرکرتاہے اورعقل سے کام لیتاہے۔لیکن اگر ذہین انسان منطق اورفلسفہ کے اصولوں سے واقف ہوں تووہ اپنے ذہن سے صحیح کام لے سکتے ہیں ۔بلکہ اسی طرح جیسے ہرشخص مادی زبان بے تکلف بول سکتاہے لیکن وہ اگرصرف ونحو اورشعر و ادب سے واقف ہوگاتوزبان کے صحیح استعمال کو بھی خودسمجھ سکے گااورایسے ہی شخص کوصحیح معنوں میں زبان دان کہا جا سکتاہے۔

یہی کمال طب نظریہ مفرداعضاء کے تجربات ومشاہدات بدرجہ اتم پایاجاتاہے۔جوکسی اورطب میں بالکل نہیںپایاجاتا۔انہی تجربات و مشاہدات اوردلائل وحقیقت شناسی کے تحت اس کے قوانین وقاعدے اورنظریات واصول تیارکئے ہیں جوبالکل قانون فطرت اورطریق قدرت کے عین مطابق ہیں۔ مجربات کالفظ بھی تجربات سے تعلق رکھتاہے اس لئے طب نظریہ مفرداعضاء کے مجربات بھی غوروفکر اورعقل کے تحت فطرت وقدرت کے مطابق وموافق ہیں اس لئے اپنے اندر وہ کمال رکھتے ہیں جوکسی اور طب میں نہیں پائے جاتے۔

طب مفرداعضاء میں مجربات کی تقسیم
طب مفرداعضاء میں مجربات کو تین حصوں میں تقسیم کردیاگیاہے۔

1۔غذائی مجربات 2۔مفرداتی مجربات 3۔مرکباتی مجربات

1۔غذائی مجربات
طب مفرداعضاء میں غذائی مجربات ایک ایسا کمال ہے جو کسی اورطب میں قطعاً پایانہیں جاتا۔یہ ایک ایسا طریق علاج ہے جس پرنہ کوئی پابندی لگائی جاسکتی ہے اورنہ حکومت اسے روک سکتی ہے جاننا چاہیے کہ غذائی مجربات کی تین صورتیں ہیں۔

1۔غذاکے استعمال کوروک دینا۔

2۔غذاکی نوعیت کوبدل دینا۔

3۔غذاکے خاص اجزاء کا استعمال کرانا۔

1۔اگرکوئی معالج یاغیرمعالج بھی ان حقائق کوذہن نشین کرے تواس کے علاجات معجزات بن جاتے ہیں۔غذا کے متعلق یہ حقیقت ہے کہ وہ قوت کی دوست بھی ہے اوراس کی دشمن بھی ہے۔ یعنی صحت کی حالت میں درست طریق پرصحیح غذاہے توقوت پیداکرتی ہے اس لئے درست ہے۔ اور اگرمرض کی حالت میں بے طریقے غلط اصولوں پر کھائی جائے تووہ ایک بہت بڑادشمن ہے۔ غذاجسم اورزندگی کیلئے لازمی ہے۔کیونکہ وہ جسم کیلئے بدل مایتحلل ہے ۔لیکن جب جسم میں مادہ متعفن اورخمیرہے توغذااس کی مددگار بن جاتی ہے۔جس سے مادہ متعفن اورخمیرمیں اضافہ ہو جاتاہے۔جس سے روزبروزاس کے زہرمیں زیادتی ہوتی رہتی ہے اورجسم پراس کا دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔یہ متعفن مادہ اورخمیرجسم کیلئے نہ صرف غیرمفید اورغیرضروری ہے بلکہ نقصان رساں ہے اس لئے نہ صرف اس کااخراج ضروری ہے بلکہ اس میں اضافہ کرنابے حدغلطی ہے۔اس لئے اس صورت میں غذاکابندکرنابے حدضروری ہے۔بلکہ غذااس وقت تک بندرکھنی چاہیے جب تک کم ازکم پیٹ کاتعفن اورخمیرختم ہوجائے۔اس صورت میں ایک بہت بڑی بے چینی رہتی ہے کہ بعض لوگ کھانے کے بے حدعادی ہوتے ہیں اور بعض لوگ بھوک برداشت نہیں کر سکتے ۔ اس مقصد کیلئے مریض کوشہدیاشہدکانیم گرم شربت یا سبزیوں یاگوشت کاشوربہ یاقہوہ(بغیر دودھ کے چائے ،یادودھ کاپانی دیتے رہناچاہیے)۔اس طرھ کھانے کی عادت اوربھوک کی بے چینی کم ہو جاتی ہے۔جب غذاکااضافہ رک جاتا ہے تواعضاء پرسے بوجھ کم ہوجاتاہے وہ اپنافعل صحیح طور کرنا شروع کردیتے ہیں۔اس کے بعد طبیعت مدبرہ بدن اعضاء کے افراط وتفریط سے خون کا دباؤدرست ہو جاتاہے۔اور بہت جلدمرض میں افاقہ ہوجاتاہے اس کے بعددواکی ضرورت بھی ہوتوتھوڑی سی دواسے فوراً آرام ہوجاتاہے۔

2۔اس صورت میں غذاکی نوعیت بدل دی جاتی ہے یعنی غذاکی کیفیت وغذاہیت اور مقدار و طریق استعمال بدل دیناچاہیے ۔اس صورت میں غذاکوامراض وعلامات کے مطابق اس طرح ترتیب دیناچاہیے کہ وہ کیفیت اورضرورت کے مطابق بالکل بالضد ہونی چاہیے اورغذاہیت و مقداراورطریق استعمال بھی ان کیفیات اورضروریات کیلئے مفیداور معاون ہوناچاہیے جس سے ایک طرف سست اعضاء بیدارہوجاتے ہیں اورخون میں مناسب کیفیات اورضروری اخلاط میں اصلاح شروع ہوجاتی ہے۔اعضاء میں افراط وتفریط ہوکر دورانِ خون درست ہوکرامراض کا زورکم ہوجاتاہے پھررفتہ رفتہ صحت ہوجاتی ہے۔

3۔غذامیں خاص اجزاء کے استعمال کی صورت میں غذاکے ان مخصوص اجزاء کوہی استعمال کیا جائے جن کی جسم میں کمی پائی جاتی ہو۔مثلاً ماء الجبین،دودھ،پانی یامکھن اورگھی یاصرف پنیر اور دہی وغیرہ مسلسل استعمال کرائی جائیں اسی طرح گوشت کاشوربہ یایخنی یابُھناہواگوشت یا کباب اورایسے ہی سبزیوں کوشوربا،بھنی ہوئی سبزیاں۔اسی اصول پردالیں بھی استعمال کرائی جا سکتی ہیں۔خاص طورپرحلوے اورفرنی بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔مگرایک ہی قسم کی غذادینی چاہیے یاکم ازکم ا ن کے ہمراہ روٹی چاول اورڈبل روٹی دلیاوغیرہ بالکل نہیں ہونے چاہئیں ۔ ایسی غذاسے ایک طرف خاص قسم کی کیفیات اورغذاہیت پیداہوناشروع ہوجاتی ہے دوسری طرف سست اعضاء بیدارہوکراپنے افعال کے افراط وتفریط میںاعتدال پیداکرلیتے ہیں اور صحت حاصل ہوجاتی ہے

اس قسم کے علاج پروہ غذااستعمال کی جاسکتی ہے جوہم روزانہ زندگی میں کھاتے ہیں۔اگرچہ اس میں اکثر غذائے دوایادواکے غذائی بلکہ بعض خاص ادویات ہیں۔جیسے گرم مصالحہ جات جوہانڈی میں استعمال کئے جاتے ہیںیاادرک وٹماٹراورسبزوخشک دھنیااورپودینہ وغیرہ بھی شامل ہیں ۔ ہماری روزانہ اغذیہ ہیں

1۔ہرقسم کے دودھ یعنی بکری سے لے کربھینس تک۔

2۔ہرقسم کے گوشت جس میں پرندے مچھلی اور انڈے بھی شریک ہیں۔

ہرقسم کے پھل ومیوہ جات اورہرقسم کی سبزیاں ودالیں اوراناج۔اسی طرح ہرقسم کی مٹھائیاں و مربے اورحریرہ جات شامل ہیں۔مشروبات میں شربت،شیرے،لیمن سوڈااورچائے وغیرہ سے کام لیاجاسکتاہے۔

ہمارے تجربات میں اس طرح ہرقسم کے مریض اچھے کئے جاسکتے ہیں۔معمولی امراض نزلہ زکام اورکھانسی بخارتوچنددنوں سے زیادہ عرصہ نہیں رہتے۔ہم نے مشکل ترین امراض مثلاً دق سل ، فالج ولقوہ ،ذیابیطساورضعف باہ وغیرہ جیسے عسرالعلاج امراض کاعلاج بڑی کامیابی سے کیا ہے ۔ غورتدبراورعقل سے کام لے کرہرشخص جوخواص اغذیہ سے واقف ہوبڑی آسانی سے ان تجربات سے فوائد حاصل کرسکتاہے۔ ایلوپیتھی کے مقابلے میں غذائی مجربات کواستعمال کرکے بے حدکامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

طب مفرداعضاء میں مسئلہ غذامیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ علاج کے دوران میں سب سے پہلے غذاکے بوجھ کوجسم اوراعضاء سے دور کرناپڑتاہے۔اس کی تین صورتیں ہیں۔اول غیرمنہضم غذاکے اجزاء کوجوخمیرکی صورت اختیارکرگیاہے اس کوجسم سے ختم کرناہے کیونکہ جب بھی مریض کو کوئی غذادی جائے گی تووہ یقیناخمیرسے مل کرتمام کی تمام خمیری ہوجائے گی۔بلکہ بعض اوقات دوا بھی اس خمیرمیںشریک ہوکرباطل ہوجاتی ہے۔اس لئے اول جسم میں سے خمیرکے بوجھ کوختم کرناضروری ہے۔دوسرے غیرضروری غذاکادینا یعنی ایسی غذاجس کا اس مرض کورفع کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس سے مرض کابڑھ جانا یقینی ہے۔ایسی غذاکوروکنانہایت ضروری ہے۔ورنہ مفیدسے مفیددوابھی غیرمفیدہوجاتی ہے۔تیسرے مفیددواکااستعمال غذاکے مطابق ہوناچاہیے جومعالج ان حقائق کومدنظررکھیں گے ان کے مریضوں کیلئے یقینا بے خطاشفا ہے۔یہ طب مفرداعضاء کاکمال ہے۔ایلوپیتھی اس سے خالی ہے۔

علاج بالمفردات
علاج بالغذاسے جب طبیعت قابومیں نہ آئے اوراعضاء کے افعال درست نہ ہوںخاص طور پر مزاج جسم اوراخلاط کاتوازن قائم نہ ہوسکے توغذاکی بجائے ادویات سے علاج کرنالازمی ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جسم اورخون میں جس قدرزیادہ مقدارمیں تیزکیفیات پیداہوتی ہیں اور اعضاء کے افعال میں شدت پیداہوتی ہے اس قدر صرف غذاسے پیداہونامشکل ہے لیکن علاج بالدوا کے ساتھ علاج بالغذاکے اصول بھی مدنظررکھیں جائیں توبہت جلد کامیابی ہوجاتی ہے۔

علاج بالدوامیں یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ علاج بالمفردادویات زیادہ افضل اوراحسن ہے ۔ مفرد دوا کے علاج سے مقصدیہ ہے کہ کسی مرض اور اس کی تمام علامات صرف ایک ہی دواسے دور کرنے کی کوشش کی جائے یعنی صورت مرض اوراس کی تمام علامات وہ کیمیائی ہوں یامشینی اور خاص طور پرجسم کے زہریلاموادصرف ایک ہی دواکے استعمال سے دورہوجائیں۔

بے شمارایسی ادویات ہیں جوتنہااپنے اندرشفائی بلکہ اکسیری اورتریاقی اثرات رکھتی ہیں۔ایک مرض کیلئے متعددشفائی اثررکھنے والی اکسیر تریاقی ادویات پائی جاتی ہیں۔لیکن ان سے وہی معالج پورے طورپرمستفیدہوسکتے ہیں جن کوعلم المفردات پرغیرمعمولی عبور ہوتا ہے ۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ مفردادویات سے جہاں پرفوائد یقینی ہوتے ہیں وہاں پر اس کے غلط استعمال سے کوئی خاص نقصان عمل میں نہیں آتا ۔ اس لئے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ علاج بالمفردات کومقدم رکھا جانا افضل واحسن ہے۔

طب مفرداعضاء اورمفردات کاتجزیہ
طب مفرداعضاء کے قانون کے مطابق ہرمفرددواچارارکان اورکیفیات سے مرکب ہوتی ہے ان کے علاوہ ہردوامیں ارکان (طیف)یعنی ایسا مادہ جوکسی رکن کے اجتماع یادیگراراکین سے مل کرمادہ اورجسم کی صورت اختیارکرے اس کوعناصرہی کہنابہترہے۔جس کو (Element) کہتے ہیں اس سے ہم ماڈرن سائنس کے بہت قریب ہوجاتے ہیں۔ارکان اورعناصر کایہی فرق ہم نے اپنی کتاب مبادیات طب میں لکھاہے۔یہاں اس کے بیان کرنے کامقصد یہ ہے کہ ارکان کوعناصر سے الگ خیال کیاجائے۔یہی عناصر یعنی ارکان کاطیف یااس کامجتمع مادہ وغیرہ ارکان وکیفیات سے الگ اجزاء ہیں۔بس حکماء واطباء نے ان عناصرکوادویات سے جداکیاہے۔

طب نظریہ مفرداعضاء کے کمال فن کی صورت یہ ہے کہ ان عناصری اجزاء کوجوادویات میں پائے جاتے ہیں جدا کرکے علاج میں استعمال کیاہے گویامفرددرمفردصورت پیداکرلی ہے اوراس طرح ضرورت کے مطابق اجزاء موثرہ اورجوہر خاص استعمال کرکے فن طب میں کمالات کی صورتیں پیداکی ہیں جوایلوپیتھی میں بالکل نہیں پائی جاتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ کمال فن پیداہی نہیں کرسکتا کیونکہ کیفیاتی اور مزاجی افعال واثرات اورعناصر سے وہ بالکل واقف نہیں ہیں۔

مفردات کے تجزیہ کااستعمال
مفردادویات کے عناصر موثر افعال کے رازکاانکشاف جوہم نے کیاہے۔یہ دلائل سے ثابت کیا ہے ۔ان جوہرموثرہ کوطب مفرداعضاء میں کئی طریق سے حاصل کرکے استعمال کیا جاتا ہے مثلاً بعض ادویات کوپانی میں بھگوکرحاصل کیاجاتاہے۔جس کو خیشاندہ کہتے ہیں بعض کو پانی میں جوش دے کر جداکیاجاتاہے۔جس کو جوشاندہ کہتے ہیں۔ اسی طرح ادویات کے لعابات ،گوند اور دیگر اجزاء موثرہ سے فائدہ اٹھایا جاتاہے،اسی طرح بعض اوقات ادویات اجزء موثرہ اور جواہر کو عرقیات کی صورت میں الگ کیاجاتا ہے،اسی طرح ادویات کے نمک،روح اورعطریات جُدا کئے جاتے ہیں اوربعض ادویات کی کانجی،سرکہ اورتیزاب بنانااورپھران میں دیگرادویات کے طور پراستعمال کرنا، بعض اشیاء سے ان کی مٹھاس الگ کرکے کھانڈبناکراورپھرکھانڈمیں شربت بنانا ،بعض ادویات کوپانی میں گھونٹ کے اس کے شیرہ جات بنانا ، بعض ادویات میں شراب کشید کرنا،بعض اشیاء میں سے موم ولاکھ اورکاہی تیارکی جاتی ہے۔

مفرددوااوراس کے جواہرکافرق
عام طورپریہ ایک غلطی پائی جاتی ہے کہ دواکاجوخلاصہ وست یاجوہرنکالاجاتاہے وہ اس دوا کا موثرہ مادہ ہوتاہے ایساہرگزنہیں ہے بلکہ دواکی یہ مختلف صورتیں اس کے مختلف عناصرکااظہار کرتی ہیں ان کوکل دواکاموثرہ مادہ خیال نہیں کرناچاہیے کیونکہ ان کے اکثر اثرات وافعال میں نمایاں فرق پایاجاتاہے کسی دواکے خلاصہ کے اثرات اس کے ست اورجوہرسے بہت حدتک جداہوتے ہیں ۔یہ صحیح ہے کہ ان کے بنیادی اثرات بہت حدتک ملتے جلتے ہیں لیکن فعلی اورکیمیائی افعال و اثرات میں بہت کچھ اختلاف پیدا ہوجاتا ہے ۔مثلاًدواکے کسی جزمیں حموضت نمایاں ہوجاتی ہے کسی جزمیں کھارکااثرغالب رہتاہے اسی طرح کسی چیزمیں چونایافولادکااثرزیادہ ہوتاہے۔اسی طرح ان اجزاء میں گرمی وسردی اورخشکی ورطوبت کی زیادتی ہوجاتی ہے اوربعض میں دخانی اثر بڑھ جاتاہے۔جیسے دودھ کی مثال ہماری روزانہ زندگی میں سامنے پائی جاتی ہے۔ یعنی معالج کبھی دہی کا استعمال کرتااورکبھی دہی کاپانی مفیدسمجھتاہے،اسی طرح کبھی مکھن ،کبھی گھی اورکبھی وہ دودھ کا پانی استعمال کراناپڑتاہے۔یہی صورت پنیر کی بھی ہے۔اسی طرح دودھ کا سفوف بھی ایک علیحدہ جزوہے۔اس کوخالص دودھ نہیں کہناچاہیے کیونکہ اس کے خشک کرنے سے پانی کے ساتھ اس کے بہت سے نمک بخارات کے ساتھ اُڑجاتے ہیں اوربہت حدتک انتہائی قسم کا خشک موادبن کررہ جاتاہے۔یورپ اورامریکہ سے جوخشک دودھ آتاہے اس کوخالص دودھ نہ سمجھ لینا چاہیے۔اس میں روغنی اجزاء اورہاضم نمکیات کی کمی ہوجاتی ہے اوراس میں چونااپنی مناسبت سے بڑھ جاتاہے۔اس لئے اس کے استعمال سے جسم میں بدہضمی اورخشکی پیدا ہوجاتی ہے۔ چھوٹے بچوں کوتو بہت نقصان دیتاہے اس لئے اس کوبچوں سے دور رکھنا چاہیے ۔البتہ جن مریضوں میں کیلشیم(چونا)کی کمی ہوتواس کواستعمال کرسکتے ہیں۔

ادویہ اوران کے اجزاء کااستعمال
مفردادویات توجس شکل میں چاہیں استعمال کرسکتے ہیں،یعنی سفوف،محلول اورحبوب جس شکل میں چاہیں استعمال کرسکتے ہیں لیکن مفرددواکے اجزاء کوجن صورتوں میں جداکیاگیاہے ان کوانہی صورتوں میں استعمال کرائیں ان کواگر کسی اورصورت میں استعمال کیاگیا تو ان کے افعال و اثرات بدل جائیں گے۔ان کے استعمال میں اس فرق کو بھی مدنظررکھیں۔مفرددوامیں اس کے کئی موثرجوہراس کے دیگر عناصر اورمواد کے اس طرح جذب اورشامل ہوتے ہیںکہ ان کے افعال واثرات میں تیزی پیدانہیں ہوتی اورنقصان کاخطرہ نہیں رہتا کیونکہ ان کے مصلح اثرات بھی ساتھ ہی ہوتے ہیںلیکن موثرجزاورجوہرہرایک اپنی جگہ تیزہوتاہے ان کے غلط استعمال سے نقصان ہو جانے کا خدشہ ہے۔علاج بالمفردات کا یہ شعبہ اپنے اندر کمالات فن رکھتاہے جس کا عشرعشیر بھی ایلوپیتھی میں نہیں پایاجاتا۔

علاج بالمرکبات
علاج بالمرکبات کی تعریف کچھ یوں ہے۔

تعریف
موالیدثلاثہ یعنی جمادات ونباتات اورحیوانات جوقدرتی وطبعی اورفطری طورپرپائے جاتے ہیں ان میں دواسازی سے کوئی تغیرپیدانہیں ہوتا ان کواصطلاحاًمفردادویہ کہاجاتاہے۔اس قدرتی شکل،طبعی صورت اورفطرتی حالت میں جومفردات پائے جاتے ہیںان کوجب آپس میں ملایا جاتا ہے اس کومرکب کہاجاتاہے یہ مرکب دو مفردادویات اوردوسے زیادہ ادویات کے بھی ہو سکتے ہیں۔

یہ ہم علاج بالمفردات میں واضح کرچکے ہیں کہ ہرقدرتی وطبعی اورفطری ادویات کوہم اصطلاحاً مفردکہتے ہیں دراصل وہ بھی کیفیات وارکان اورعناصرسے مرکب ہیں لیکن ہم ان کومفردات کے کیمیائی اجزاء اورموثرہ جواہرکہتے ہیں اوردونوں اقسام کے یعنی مفردات اوران کے اجزاء کو ہم علاج الامراض میں استعمال کرتے ہیں۔

مرکبات کی تقسیم
مرکبات کی دوقسم کے ہوتے ہیں۔

اول سادہ مرکبات جس کوآمیزہ بھی کہتے ہیں۔دویازیادہ ادویہ کوبغیرکسی اسحالہ کے ملالیاجائے اسے (Mixture)بھی کہتے ہیں۔آمیزہ کیلئے ضروری ہے کہ اس کے اجزاء کسی نہ کسی طریق سے جداکئے جاسکیں۔

دوئم۔مرکبات کیمیائیہ۔اس کوامتزاج (Compound)بھی کہاجاتاہے۔دویازیادہ ادویات کی ایسی ملاوٹ جس میں استحالہ سے اس طرح یک جان کردیاجائے کہ پھران کے اجزاء کو الگ نہ کیاجاسکے یعنی ایسے مرکبات جس کوملانے کیلئے آگ یاحرارت یامتضادادویات کے اثرومتاثر ہونے سے آپس میںاستحالہ کھاکرمرکب بن جائیں اورپھرجدانہ ہوسکیں۔

طب مفرداعضاء کے مرکبات
دوقسم کے مرکبات تیارکئے جاتے ہیں۔یعنی سادہ مرکبات جیسے سفوف حبوب اورچٹنیاں ولعوق وغیرہ اورکیمیائی مرکبات جیسے عرق وشربت اورمعجون وخمیرہ وغیرہ

طب مفرداعضاء کے مجربات
اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیں۔مجربات انہی مجربات کوکہاجاتاہے جوباربارتجربات ومشاہدات اور دلیل وعقل کے مطابق ہوں۔بعض ایلوپیتھی کے دلدادہ جن کو طب مفرداعضاء کے کمالات کا علم نہیں وہ طب مفرداعضاء کے مجربات کو بے معنی اورلایعنی سمجھتے ہیں اورکہتے ہیں کہ طب مفرداعضاء غیرعلمی اور(Unscientific)ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ طب مفرداعضاء میں ایسے ایسے مجربات پائے جاتے ہیں کہ جن کاجواب آج بھی کسی اورطب میں نہیں ملتا۔

طب مفرداعضاء کے مجربات کے فنی کمالات
طب مفرداعضاء نے ایک طرف امراض وعلامات اورافعال اعضاء وخون کی کیفیات ومزاج اور اخلاط کے تحت تقسیم کردیاہے دوسری طرف مفردات ومرکبات کے اثرات وافعال اورخواص و فوائدکوانہی کے مطابق تقسیم کردیاہے تاکہ ان کی مطابقت وموافقت میں آسانی پیداہو جائے اور ایک تھوڑے سے علم والا بھی ان سے فائدہ حاصل کر سکے اس کے علاوہ طب مفرداعضاء میں طویل تجربات کے ایسے مجربات بھی تیارکرلئے گئے ہیں یاایسی مجرباتی اصطلاحات بنائی گئی ہیں جن کاتعلق اعضاء کے ساتھ مخصوص کرلیاگیاہے۔ان مجرباتی اصطلاحات کا جب نام لیاجاتاہے تو ان سے مرادمخصوص اعضاء کے امراض فوراً خیال کرلئے جاتے ہیں۔یہ مجرباتی اصطلاحات بھی طب مفرداعضاء کے فنی کمالات میں داخل ہیں جومعالج ان پر عبوررکھتے ہیں ان کونہ صرف اپنے فن میں کمال حاصل ہوجاتاہے بلکہ ان کے مطب انتہائی کامیاب ہیں۔یہ سب طب مفرد اعضاء کاقیمتی خزانہ اورکمال فن ہے۔

اصطلاحات
طب نظریہ مفرداعضاء کے تحت طبی اصطلاحات مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔محرک
محرک ایسی دواکوکہتے ہیں جوکسی مفردعضوکوسکون سے فعل میں لے آئے یہ تیزیاس عضو کے جسم میں انقباض سے پیداہوتی ہے۔

2۔شدید
محرک دواسے ذراتیزاثر رکھنے والی دواکوشدیدکہتے ہیں۔

3۔ملین

ملین وہ دواہوتی ہے جس میں محرک وشدیداثرات کے ساتھ ساتھ فضلات کے خارج کرنے کی قوت بھی ہو۔

4۔مسہل

مسہل دوامیں محرک،شدید،ملین اثرات کے علاوہ ادرارکی قوت بھی ہوتی ہے۔ہم مسہل دواکو قلیل مقدارمیں دے کرمحرک،شدیدبلکہ مقوی اثرات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

فارماکوپیا کے مجربات   میں اس امرکوخاص طورپرمدنظر رکھاگیاہے کہ ان کی تیاری میں ان کی ترتیب اورقوت میں مناسبت قائم رہے تاکہ ایک طرف ان کے اثرات کی الگ الگ حیثیت قائم رہے اوردوسری طرف ان کی تیاری میں کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہ آئے۔علاج کی صورت میں اول ہلکی ادویات استعمال کریں بعد میں ضرورت کے مطابق شدید،ملین اورمسہل استعمال میں لائیں ۔

5۔مقوی

مقوی ایسی اشیاء کوکہتے ہیں جوکسی عضو کی طرف خون کوآہستہ آہستہ جذب کراناشروع کردیں ان میں اغذیہ،ادویہ اورزہرتک شامل ہیں۔ مثلاً اغذیہ میں گوشت،ادویہ میں فولاداورزہروں میں سنکھیااورکچلہ مقویات میں شامل ہیں۔چونکہ ہرعضورئیس کاعلیحدہ علیحدہ مزاج ہوتاہے اس لئے ان کی طبیعت رکھنے والی اشیاء ہی مقوی ہوسکتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ طب مفرداعضاء میں ہرتحریک کے مطابق مقویات پائے جاتے ہیں۔

6۔اکسیر

اکسیراس دواکوکہتے ہیں جونہ صرف فوراً خون میں جذب ہوکراپنااثرشروع کردے بلکہ مدت مدیرتک اپناشفائی اثرجسم میں قائم رکھے۔ایسی ادویہ کی اس وقت ضرورت ہوتی ہے جب کوئی مرج مستقل یا دائمی صورت اختیارکرجائے۔مثلاًشوگر،دائمی،قبض،چھپاکی،سوزاک،خارش اور چنبل وغیرہ ۔ایسی علامات اس وقت ظاہرہوتی ہیں جب کوئی خلط خون میں جمع ہوجائے اور پھر تکلیف کاسبب بن جائے۔

7۔تریاق

تریاق اس دواکوکہتے ہیںجو کسی زہرکوباطل کردے یاکسی پہلی حالت کویک دم نئی حالت میں تبدیل کردے۔مثلاً کھار(Alkali)کے مقابلہ میں ترشی(Acidity)ہے ۔اسی طرح افیون کے زہرکوکچلہ زائل کردیتاہے۔تریاق قسم کی ادویہ کی اس وقت ضرورت ہوتی ہے۔ جب کسی زہر سے یاکسی عضوکی مشینی تحریک سے موت واقع ہونے کاخطرہ ہو۔مثلاً ہیضہ،نمونیا،سرسام اورخونی قے وغیرہ۔

8۔لبُوب

لبُوب لُب کی جمع ہے ۔لُب کے معنی مغز،گری یاگوداکے ہیں۔لبُوب میں نہ صرف ادویہ کے مغز (مغز بادام،مغزپستہ،مغزفندق)پائے جاتے ہیں۔بلکہ پرندوں کے مغزجن میں مغز سر کنجشک سرفہرست ہے، شامل کیاجاتاہے۔لبُوب کی بناوٹ بھی معجون کی طرح ہی ہوتی ہے۔ فرق صرف ادویہ کی کیفیت کا ہے۔ جوارشوں میں اگر غدی ادویہ شامل ہوتی ہیں تو لبُوب میں غدی اعصابی گرم تر ادویہ،اغذیہ اوراشیاء شامل ہوتی ہیں۔ہرقسم کالبُوب غدی اعصابی اثرات کاحامل ہوتا ہے ۔

9۔حلوہ

حلوے کے لغوی معنی شیرینی یامٹھائی کے ہیں لیکن دواسازی کی اصطلاح میں اس خاص دوائے غذاکوکہتے ہیں جس کاجزواعظم میدہ گھی اور شکرہوتے ہیں۔ان میں مغزیات وغیرہ بھی شامل کر دئیے جاتے ہیں۔ان حلوئوں کوزیادہ ترموسم سرمامیں بطورٹانک استعمال کیا جاتا ہے۔ ہرقسم کے حلوے اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔

10۔خمیرہ

خمیرہ جیساکہ اس کے نام سے واضح ہے ایک ایسا مرکب ہے جس میں کچھ عرصہ بعد کسی قدرخمیر پڑ جاتا ہے۔خمیر اسی شے میں پڑتا ہے جس میں تری کا غلبہ ہوتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ خمیرہ جات کے کل اجزاء اعصابی عضلاتی اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔جوبالفعل مولدبلغم رطوبات ہوتے ہیں ان کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب جسم میں رطوبات کی کمی ہوتی ہے۔جن میں جوشِ خون ،خفقان قلب، بلڈ پریشر، چھپاکی،تقطیر بول،عسرت طمث اورسوزش گردہ ومثانہ وغیرہ شامل ہیں ۔

11۔اطریفل

اطریفل دراصل ایورویدک کامرکب ہے۔جس کانام ترپھلہ ہے۔جس میں تینوں ادویہ ہلیلہ ، بلیلہ اورآملہ ہموزن پڑتی ہیں۔اس مرکب کے نام کومعرب کرکے اطریفل بنا لیا گیا ہے ۔ یاد رکھیں کہ اطریفل قلب وعضلات کوتحریک دیتاہے اورعضلاتی اعصابی اثرات کاحامل ہوتاہے ۔ اس نسخہ میں ہلیلہ ملین،بلیلہ محرک اورآملہ مقوی عضلات ہے۔تینوں عضلات میں اس قدرتحریک و انقباض پیداکرتے ہیں جس سے نچوڑ کی صورت پیداہوجاتی ہے اورتمام بلغم خارج ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دماغی اوربلغمی امراض کیلئے تریاق سمجھاجاتاہے۔

12۔معجون

معجون وہ نیم منجمد اور غلیظ القوام مرکب ہے جو صرف عضلاتی غدی ادویہ کوکوٹ چھان کر سہ چند ادویہ کے شہد یاقندسفید کے قوام میں ملا کر تیارکیا جاتاہے۔اس کو اس قدرنرم رکھتے ہیں کہ انگلی یا چمچے سے کھایاجاسکے۔

13۔جوارش

جوارش ایک فارسی لفظ گواریدن (بمعنی ہضم ہونا)کاحاصل مصدرہے ۔جوارش کی ترکیب معجون کی طرح ہوتی ہے لیکن اکثر جوارشیں غدی عضلاتی ادویہ سے تیارکی جاتی ہیں۔جوارش کے اجزاء عموماًموٹے اور کسی قدردُردُرے رکھے جاتے ہیں تاکہ زیادہ دیر تک معدہ وامعاء میں ٹھہر کر اپنا اثر کرسکیں۔

14۔جوشاندہ

جوشاندہ سے مراد چندادویہ کے آمیزہ کوپانی میں بھگوکرجوش(ابالنا)دیناہے۔جوشاندوںمیں ایسی ادویہ شامل کی جاتی ہیں جن کے اجزائے موثرپانی میں جوش کھانے سے فوراًعلیحدہ ہوجاتے ہیں۔ان کی اس وقوت ضرورت پڑتی ہے جب مریض کسی خشک دوا،گولی یا کیپسول نہ کھا سکتا ہو یا نفرت کرتاہویاجب مریض کے گلے میں خراش یاسوزش ہوجونزلہ زکام وغیرہ سے ہوجاتی ہے۔

15۔فرزجہ

فرزجہ وہ مخصوص شافہ یادواکی بتی ہے۔جسے عورت اپنی اندام نہانی میں رکھے۔اس کی اس وقت ضرورت پڑتی ہے جب عورت کے اندرونی اعضاء میں سوزش وغیرہ ہو۔

16۔طلا

طلا وہ روغن دارملائم دواہوتی ہے جوکسی عضوپرپتلی پتلی لگائی جاتی ہے۔ایسی ادویہ کی اس وقت ضرورت پڑتی ہے جب کسی عضوپرچوٹ لگ جائے یااس میں استرخایاڈھیلاپن پیداہوکراس کے مفروضہ افعال صحیح طورپرصادر نہ ہوتے ہوں۔

فارماکوپیاطب مفرداعضاء
1۔اعصابی عضلاتی محرک
ھوالشافی:قلمی شورہ30گرام،تخم کاسنی50گرام۔

ترکیب تیاری:دونوں ادویہ کاباریک سفوف بنالیں۔

مقدارخوراک:1گرام تا2.50گرام دن میں تین بارہمراہ پانی۔

افعال واثرات:اعصاب ودماغ کومشینی طورپرتحریک دیتاہے۔حرارت کوجسم سے فوراًخارج کر دیتاہے۔عضلات میں انتہائی سکون پیدا کرتا ہے۔پیشاب کی جلن چندمنٹ میں دورہوجاتی ہے جب جوش خون سے چھپاکی ہوجائے تواس کے استعمال سے فوراً ٹھیک ہوجاتی ہے۔ صفراوی پتھریوں کیلئے بھی بے حد مفیدہے۔

2۔اعصابی عضلاتی محرک شدید
ھوالشافی:قلمی شورہ30گرام،تخم کاسنی50گرام،جوکھار40گرام۔

ترکیب تیاری:سب کوباریک پیس کر سفوف بنالیں۔

مقدارخوراک:1تا2.50گرام دن میں تین بارہمراہ دودھ یاپانی۔

افعال واثرات:جسم کی حرارت کویک دم خارج کردیتاہے۔سوزاک،پیشاب کی جلن،پیشاب کا بند ہوجانا،چھپاکی،ہائی بلڈپریشر اور جوش خون کی تمام علامات وغیرہ میں نافع ہے۔

3۔اعصابی عضلاتی ملین
ھوالشافی:قلمی شورہ30گرام،تخم کاسنی50گرام،جوکھار50گرام،گل سرخ80گرام۔

ترکیب تیاری:سب کوباریک سفوف بنالیں۔

مقدارخوراک:500ملی گرام تا1گرام دن میں تین بارہمراہ پانی۔

افعال واثرات:جسم سے صفرا کویک دم خارج کردیتاہے۔حرارت جسم کابڑھ جانا،پیشاب کا بند ہونا ،پیشاب کی جلن،سوزاک،خون بہنا کیلئے مفیدہے۔غدی تحریک کی ہرعلامت کوفوری ختم کر دیتا ہے۔

4۔اعصابی عضلاتی مسہل
ھوالشافی:قلمی شورہ30گرام،تخم کاسنی50گرام،جوکھار50گرام،گل سرخ30 گرام ، کالا دانہ200گرام۔

ترکیب تیاری:سب کوباریک سفوف بنالیں۔

مقدارخوراک:500ملی گرام تا1گرام دن میں تین بارہمراہ پانی۔

افعال واثرات:یہ دواچندمنٹوں میں پیشاب کی جلن کاخاتمہ کرکے سکون بخشتاہے۔صفراوی پتھریوں کیلئے بھی مفیدہے۔خون میں جوش کے سبب چھپاکی نکل آئے اورساتھ ہی پیشاب بند ہو جائے تواس کا استعمال ضامن شفاہواکرتاہے۔

5۔عضلاتی اعصابی محرک
ھوالشافی:کرنجوا50گرام،آملہ50گرام۔

ترکیب تیاری:دونوں کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:1گرام2.50گرام تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

افعال واثرات:عضلات وقلب کوکیمیائی طورپرتحریک دیتاہے جس سے جسم میں خشکی بڑھنی شروع ہو جاتی ہے۔اس لئے بلغمی امراض جیسے بلغمی دمہ ،کھانسی ،زکام، دردسر، جریان ،چیچک، ملیریابخار، خسرہ، کالی کھانسی اورسلسل بول کیلئے مفیدہے۔معین حمل ہے۔

6۔عضلاتی اعصابی محرک شدید
ھوالشافی:کرنجوا50گرام،آملہ50گرام،پھٹکری سوختہ100گرام۔

ترکیب تیاری:سب کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:1گرام2.50گرام تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

افعال واثرات:جسم کی رطوبات کوفوراًخشک کردیتاہے۔اس لئے نزلہ زکام، لیکوریا ،موٹاپا ، کھانسی رقیق بلغم والی،سلسل بول،ذیابیطس،ملیریا بخار،محرقہ بخار تک کیلئے مفیدہے۔تمام رطوبتی علامات کیلئے اعلیٰ درجہ کی دواہے۔اعصابی تحریک والی عورتوں کیلئے معین حمل ہے۔

7۔عضلاتی اعصابی ملین
ھوالشافی:کرنجوا50گرام،آملہ50گرام،پھٹکری سوختہ100گرام،ہلیلہ سیاہ سوختہ200 گرام ۔

ترکیب تیاری:سب کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:1گرام2.50گرام تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

عضلات وقلب کوکیمیائی طورپرتحریک دیتاہے ۔ جسم میں بلغم کی زیادتی ،موٹاپا، اسہال، زکام ، درد سر ،منہ کاذائقہ کھاری رہنا،نزلہ زکام وبائی کیلئے بے حدمفیدہے۔معین حمل ہے۔

8۔عضلاتی اعصابی مسہل
ھوالشافی:کرنجوا50گرام،آملہ50گرام،پھٹکری سوختہ100گرام،ہلیلہ سیاہ سوختہ 200 گرام، ہرڑجلاپہ200گرام۔

ترکیب تیاری:سب کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:1گرام2.50گرام تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

افعال واثرات:بلغم کودستوںکے ذریعے خارج ازبدن کرتاہے۔اس کے مسلسل استعمال سے بلغم کی پیدائش رک جاتی ہے۔موٹاپا،نزلہ،زکام،کھانسی جب کہ بلغم رقیق ہو،سلسل بول، ذیابیطس بسترپرپیشاب کرنااوربخاروغیرہ علامات کیلئے بے حد مفیدہے۔اعصابی تحریک کی ہرعلامت کیلئے قابل اعتماددواہے۔

9۔عضلاتی غدی محرک
ھوالشافی:لونگ10گرام،دارچینی 30گرام۔

ترکیب تیاری:دونوں کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک: 500ملی گرام تا1گرام دن میں تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

افعال واثرات:عضلات وقلب کو مشینی طورپرتحریک دیتاہے۔مولدحرارت غریزی ہے۔نمونیا اور سردی کی کھانسی کیلئے اعلیٰ درجہ کی دوا ہے۔ دستو ںکوفوراًروک دیتی ہے۔سنگرہنی تک کیلئے مفید ہے۔کالی کھانسی نزلہ زکام اورسلسل بو ل کیلئے مفیدہے۔

10۔عضلاتی غدی شدید
ھوالشافی:لونگ10گرام،دارچینی 30گرام،جلوتری20گرام۔

ترکیب تیاری:تینوں کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک: 500ملی گرام تا1گرام دن میں تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

افعال واثرات:حرارت غریزی کوپیداکرتی ہے،اس کے استعمال سے جگرگرم ہوناشروع ہو جاتا ہے ۔نمونیااورمحرکہ بخارکیلئے مفیدہے۔انتہائی مقوی معدہ وامعاء ہے۔ تمام رطوبتی امراض میں فوری اثرہے۔کثرت بزاق،پرانے دست،کثرت بول،کابوس، کھاری ڈکار،عصابہ،پیٹ اور سینہ کاورمی درد،بائوگولہ، نزلہ،زکام،بلغمی دمہ،کھانسی،کالی کھانسی اوربخارکی اکثراقسام میں مفید ہے ۔اسہال نئے ہوں یاپرانے حتیٰ کہ سنگرہنی کیلئے بے مفیدہے۔لیکوریا،جریان، ضعف قلب بوجہ تسکین میں بھروسے کی دواہے۔ حرارت کی کمی سے جب جسم سردپڑنے لگے یاسردپسینے آنے شروع ہوجائیں تواس کے استعمال سے مریض کوآب حیات کے قطرے حلق سے اتارنے کا احساس ہوتا ہے ۔بے حدمقوی باہ اورممسک ہے۔آتشک،دل کاپھول جانا،عظم طحال،فالج اور لقوہ وغیرہ کیلئے مفیدہے۔

11۔عضلاتی غدی ملین
ھوالشافی:لونگ10گرام،دارچینی 30گرام،جلوتری20گرام،مصبر60گرام۔

ترکیب تیاری:سب کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک: 500ملی گرام تا1گرام دن میں تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

افعال واثرات:عضلات وقلب کوتحریک دینے کیلئے بہترین دواہے۔نزلہ،زکام،کھانسی رقیق بلغم والی، دمہ،شوگر،موٹاپا،ضعف قلب بوجہ تسکین،تمام رطوبتی امراض،فالج،لقوہ وغیرہ کیلئے بے مفیدہے۔

12۔عضلاتی غدی مسہل
ھوالشافی:لونگ10گرام،دارچینی 30گرام، جلوتری20 گرام،مصبر 60گرام، حنظل 40 گرام ۔

ترکیب تیاری:سب کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک: 500ملی گرام تا1گرام دن میں تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

افعال واثرات:بلغم کیلئے بے ضررہے ۔ قبض ،موٹاپا،آتشک،دل کاپھول جانا،عظم طحال وغیرہ کیلئے مفیدہے۔ مدرحیض ہے۔تمام رطوبتی امراض کیلئے بے حدمفیدہے۔

13۔غدی عضلاتی محرک
ھوالشافی:اجوائن دیسی40گرام،تیزپات40گرام۔

ترکیب تیاری:دونوں کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:1تا6گرام دن میں تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

افعال واثرات:غددوجگرکوکیمیائی طورپرتحریک دیتاہے۔محافظ حرارت غریزی ہے۔معدہ وامعاء کے درد،بے چینی،ریاح،یورک ایسڈ کی زیادتی،خونی پیچش،گردہ ومثانہ کی پتھریاں، بواسیر، ہیضہ اوراسہال کیلئے اعلیٰ درجہ کی دواہے۔

14۔غدی عضلاتی شدید
ھوالشافی:اجوائن دیسی40گرام،تیزپات40گرام،رائی40گرام۔

ترکیب تیاری:تینوں کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:1تا3گرام دن میں تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

افعال واثرات:غددوجگرکوکیمیائی طورپرتحریک دیتاہے۔پرانی پیچش،دست،خرابی خون، بدہضمی درد معدہ وامعائ،پتہ کادرد،پتھری گردہ ومثانہ،بواسیرخونی وبادی،جسم کاٹھنڈاہونا،دردپیٹ اور مزمن ریاح شکم کیلئے اعلیٰ درجہ کی دواہے۔

15۔غدی عضلاتی ملین
ھوالشافی:اجوائن دیسی40گرام،تیزپات40گرام،رائی40گرام،گندھک آملہ سار 120 گرام۔

ترکیب تیاری:تینوں کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:0.50گرام تا2گرام دن میں تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

افعال واثرات:یہ مرکب کیمیائی طورپرصفراپیداکرتاہے اورحرارت غریزی کی حفاظت کرتا ہے ۔ معدہ وامعاء کے درد،ریاح شکم،یورک ایسڈکی زیادتی،بے چینی،قولنج،گردے اورمثانے کی پتھریاں ، قبض ، پھوڑے پھنسیاں،داد،چنبل،خارش،سوزشی نزلہ اورادرارحیض کیلئے مفید ہے۔ یرقان،چہرہ پرسیاہ دھبے، بواسیر،سرطان،رسولی،خشک دمہ،خشک کھانسی،دانت درد،جوڑوں کا پتھر اجانا اوررعشہ وغیرہ کاخاتمہ کرتاہے۔

16۔غدی عضلاتی مسہل
ھوالشافی:اجوائن دیسی40گرام،تیزپات40گرام،رائی40گرام،گندھک آملہ سار 120 گرام،جما گوٹہ10گگرام۔

ترکیب تیاری:تینوں کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:125تا500ملی گرام دن میں تین بارہمراہ پانی یاقہوہ۔

افعال واثرات:جگروغددکوکیمیائی طورپرتحریک دیتاہے۔محافظ حرارت غریزی ہے۔ صفرا پیدا کر کے جسم میں روکتاہے۔ترشی وتیزابیت کو فوراً ختم کردیتاہے۔ریحی دردوں، خارش، داد،چنبل ، پھوڑے پھنسی ، سوزشی نزلہ زکام،خشک دمہ،بواسیراورسرطان(کینسر)کیلئے اعلیٰ درجہ کی دواہے ۔ محرک جگراوربے ضرر مسہل ہے۔گھی یاویزلین میں ملاکردادچنبل اورگندے زخموں پر لگایا جا سکتا ہے ۔دانت درد پرلگانے سے دردفوراًموقوف ہوجاتاہے۔

17۔غدی اعصابی محرک
ھوالشافی:زنجبیل50گرام،نوشادرٹھیکری20گرام۔

ترکیب تیاری:دونوں کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:250ملی گرام تا2گرام دن میں تین بارہمراہ آب تازہ۔

افعال واثرات:غددوجگرکومشینی طورپرتحریک دیتاہے۔اس لئے یرقان کیلئے بہترین دوا ہے ۔ ہر قسم کی بواسیر،سوزاک،صفرا کی زیادتی، پیشاب کی جلن،عظم طحال وعظم جگر،ملیریا،بخار،ورم ہر قسم ، استسقائ، مالیخولیا مراقی،جنون،احتلام اورریحی دردوں کیلئے بھروسہ کی دوا ہے ۔

18۔غدی اعصابی شدید
ھوالشافی:زنجبیل50گرام،نوشادرٹھیکری20گرام،مرچ سیاہ10گرام۔

ترکیب تیاری:تینوں کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:250ملی گرام تا2گرام دن میں تین بارہمراہ آب تازہ۔

افعال واثرات:غدی عضلاتی تحریک کی تمام علامات میں فوری اثر ہے۔کثرت حیض اوریرقان کو چند دنوں میں ٹھیک کر دیتی ہے۔دردپیٹ ،دردگردہ ومثانہ اوربندش بول میں بے حد مفید ہے ۔ سوزاک کیلئے مفیدہے ۔ عظم جگروطحال میں اعلیٰ درجہ کی دواہے۔جسم پرہرقسم کے ورم کیلئے لا جواب ہے۔صفراوی بخاروں کیلئے بے انتہامفیدہے۔وجع المفاصل ،ریاحی دردوں،سرعت انزال ،احتلام،بواسیرخونی و بادی ، کثرت صفرا،پیشاب کی سوزش اور جلن ،خارش ، پرانی پیچش، پھوڑے پھنسی کیلئے اکسیری دواہے۔مرض استسقاء کو نہ صرف چنددنوں میں ختم کردیتی ہے بلکہ آئندہ پانی کی پیدائش کومانع آتی ہے۔اگرہاتھ پاؤں پرورم یاآماس آجائے تواس کے استعمال سے دوتین روزمیں اس کاخاتمہ ہوجاتا ہے۔ مالیخولیا مراقی اورجنون کیلئے اپناجواب آپ ہے ۔

19۔غدی اعصابی ملین
ھوالشافی:زنجبیل50گرام،نوشادرٹھیکری20گرام،مرچ سیاہ10گرام،سنامکی80گرام۔

ترکیب تیاری:سب کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:250ملی گرام تا2گرام دن میں تین بارہمراہ آب تازہ۔

افعال واثرات:غددوجگرکومشینی طورپرتحریک دیتاہے۔یرقان ہرقسم،بواسیر،صفراکی زیادتی، پیشاب کی جلن وسوزش،عظم الطحال وجگر ،استسقاء میں بے حدکامیاب دواہے۔ جنون، مالیخولیا ، تبخیرمعدہ،نیندنہ آنا، عضلاتی دردیں اور کثرت طمث میں بھروسہ کی دواہے۔

20۔غدی اعصابی مسہل
ھوالشافی:زنجبیل50گرام،نوشادرٹھیکری20گرام،مرچ سیاہ10گرام، سنامکی80 گرام، ریوند عصارہ10گرام۔

ترکیب تیاری:سب کوباریک پیس کرملالیں۔

مقدارخوراک:125ملی گرام تا2گرام دن میں تین بارہمراہ آب تازہ۔

افعال واثرات:غددوجگرکومشینی طورپرتحریک دیتاہے۔اس لئے ہرقسم کے اندرونی وبیرونی ورموں کوچند دنوں میں اتاردیتا ہے۔یرقان ، استسقاء ہرقسم،بواسیر،کثرت طمث،پتھریاں،ورم رحم اورصفراکابے ضرر مسہل ہے۔عضلاتی ریاحی دردوں کیلئے بہترین دواہے۔

21۔ محرک
ھوالشافی:سہاگہ ،ملٹھی ہرایک 70گرام

ترکیب تیاری:دونوں کوملاکر سفوف بنالیں۔

مقدارخوراک:1گرام تا2گرام دن میں تین بارہمراہ پانی۔

افعال واثرات:اعصاب ودماغ کوکیمیائی طورپرتحریک دیتاہے۔اس سے جسم میں رطوبات بڑھ جاتی ہیں۔دافع سوزش گردہ ومثانہ،امعاء اوردافع حرارت ہے۔بندش بول اور سوزاک میں بے حدمفیدہے،کثرت طمث،تپدق،غدی نزلہ،خشک کھانسی،غدی دمہ،سرعت انزال اورچھپاکی کیلئے فوری اثرہے۔ہرقسم کے جریان خون کیلئے اعلیٰ درجے کی دواہے۔

22۔ شدیدمحرک
ھوالشافی:سہاگہ ،ملٹھی0 7گرام،شیرمدار60گرام۔

ترکیب تیاری:پہلے سہاگہ اورملٹھی کوباریک پیس لیں بعدمیں شیرمدارملاکر کم ازکم ایک گھنٹہ تک کھرل کریں اورحب نخودتیارکرلیں۔

مقدارخوراک: 1تا2گولی دن میں تین بارہمراہ پانی یادودھ۔

افعال واثرات:اعصاب ودماغ کوکیمیائی طورپرتحریک دیتاہے ۔اس کے استعمال سے رطوبات کاترشح شروع ہوجاتاہے۔اس سے قبض،پیشاب کی جلن،تقطیرالبول،دردگردہ ومثانہ اور پیشاب میں خون آنارک جاتاہے۔علاوہ ازیں سوزک اورتپدق وسل جیسے موذی امراض کیلئے بے حدمفیداورانتہائی موثرہے۔اس کے استعمال سے فوری افاقہ ہوتاہے۔

23۔ملین
ھوالشافی:سہاگہ بریاں70گرام،ملٹھی 70گرام،شیرمدار10گرام،ریوندخطائی 10 گرام ۔

ترکیب تیاری:سہاگہ کو آ ہنی توے پربریاں کرلیں،ملٹھی اوردوسرے اجزاء کوباریک کرکے شیر مدار شامل کرکے کوب کھرل کرلیں۔

مقدارخوراک:500ملی گرام تا1گرام دن میں تین بارہمراہ پانی۔

افعال واثرات:سوزاک،تقطیرالبول،تپدق،کثرت حیض،غدی نزلہ کھانسی،غدی دمہ،سرعت انزال غدی لیکوریا(جس کے ساتھ جلن ہو ) اورچھپاکی کیلئے بے مفیدہے۔گردہ،مثانہ،معدہ اورآنتوں کی سوزش کوکم کرتی ہے۔ہرقسم کے اخراج خون کوبندکرتی ہے ۔اس لئے سل کیلئے بہت مفیدہے۔

24۔مسہل

ھوالشافی:سہاگہ بریاں70گرام،ملٹھی 70گرام،شیرمدار10گرام،ریوندخطائی 10 گرام ، سقمونیا 20گرام۔

ترکیب تیاری:تمام اجزاء کوخوب باریک کرکے حب نخودبنالیں۔

مقدارخوراک:1تا2گولی دن میں تین بارہمراہ آب تازہ۔

افعال واثرات:اعصاب ودماغ کی کیمیائی طورپرتحریک دیتاہے۔صفراکوبذریعہ اسہال خارج کرنے کیلئے بہترین مسہل ہے۔بلغمی کھانسی ، نزلہ ،استسقائ،پیچش،تپدق وسل،خون تھوکنا ، کثرت طمث،سوزش رحم،دردگردہ ومثانہ اورپتھریوں کوخارج کرنے کیلئے بھروسہ کی دواہے۔

Qanoon Mufrad Aza, Tibb e Sabir, Hakeem Sabir Multani, Health, قانون مفرد اعضاء, حکیم صابر ملتانی, طب و صحت, طب صابر,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *