شیر علی اور لارڈ میؤ

شیر علی اور لارڈ میؤ

تحقیق و ترتیب: سید عبدالوہاب شیرازی

کالا پانی کی جیل میں قیدی نمبر 15557 شیر علی خاں آفریدی نورانی ککے زئی جس نے برٹش انڈیا کے چوتھے وائسرائے لارڈ میؤ کا سبزی کاٹنے والی چھری سے شکار کرکے برطانوی ایوانوں میں ہلچل مچا دی تھی لیکن اس کے اس عظیم کارنامے پر تاریخ ہند کے صفحات خاموش ہیں۔

قیدی نمبر 15557 شیرعلی

شیر علی خاں کی شخصیت کے بارے میں حد درجہ ورق گردانی کے بعد زیادہ معلومات فراہم نہیں ہوسکیں، کیونکہ انگریزی حکام نے اس بات کا عزم کر رکھا تھا کہ اس سرفروشِ وطن کی قربانی کو جدوجہد آزادی ہند میں کسی بھی قیمت پر درج نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایک مشہور تاریخ داں سر ولیم ولسن ہنٹر نے شیرعلی کے بارے میں ان جذبات کا اظہار کیا ہے۔ اس (شیر علی) کا اس کے گاؤں اور نہ ہی اس کی برادری کا نام میری کتاب میں جگہ پائے گا۔“

غازی شیر علی خان مجاہد ککے زئی کو پھانسی کی سزا سناتے ہوئے جج نے کہا تھا کہ ہم ایسا کام کریں گے دنیا تجھے بھول جائے گی لیکن لارڈ میو کو نہیں بھولے گی اس لیے اس کے نام کا ہسپتال لاہور میں بنا دیا گیا جس کا نام میو ہسپتال ہے. آئیں ہم آپ کو اپنے اس غیرت مند پختون غازی شیر علی خان رحمتہ اللہ علیہ کی تصویر دیکھاتے ہیں اور اس مرد مجاہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں .

اس عظیم مجاہد آزادی کی بے لوث قربانی کا تذکرہ ماونٹ ہوپ ٹاون کے ایک پتھر پر اس طرح کندہ ہے :”یہ وہی جگہ ہے جہاں 8 فروری 1872 کو وائسرائے لارڈ میؤ Lord Mayo ایک سزا یافتہ قیدی شیرعلی خاں کے حملہ کا شکار ہوئے اور اس حملہ میں ان کا انتقال ہوگیا۔ شیر علی خاں کو 11 مارچ 1972 کو آئر لینڈ میں پھانسی د ی گئی۔“
شیر علی کالا پانی کے جزیرے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ اس دوران وائسرائے نے کالا پانی کا دورہ کرنا تھا۔

وائسرائے لارڈ میؤ

ادھر وائسرائے کا پرتپاک اور والہانہ استقبال 21 توپوں کی سلامی سے کیا جا رہا تھا۔ ادھر شیرعلی خاں کی رگوں میں آزادی کا طوفان موجیں مار ہا تھا۔ وہ تو اسی دن کا بے صبری سے منتظر تھا، اس نے سبزی کاٹنے والی چھری کو پتھر پر مزید تیز کیا اور اپنے شکار کا ایک بھوکے شیر کی مانند انتظار کرنے لگا۔

وائسرائے کا دورہ تقریباً گیارہ بجے شروع ہوا۔ پورے حفاظتی لاؤ لشکر کے ساتھ وائسرائے نے جزیروں کے اہم مقامات کا جائزہ لیا۔ آخر میں ہوپ ٹاؤن کے ماؤنٹ ہریٹ دیکھنے پہنچا۔ وہاں پہنچنے سے قبل ان کی حفاظت کے لئے اور مزید حفاظتی دستہ روانہ کر دیا گیا۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں لارڈ میو پر حملہ ہوا

انہوں نے اس حسین وادی میں تقریباً پندرہ منٹ گزارے، غروب آفتاب کی رنگیں شفق اور ساحل سے ٹکراتی ہوئی موجوں کی دلکش آمیزش نے ان کو فریفتہ کر دیا لیکن وہ اس بات سے بے بہرہ تھے کہ یہ دلفریب شام ان کی زندگی کی آخری شب میں تبدیل ہوجائے گی۔ لگ بھگ شام 7بجے وائسرائے واپسی کے لئے پہاڑی سے اترے، آفتاب اپنا سفر تمام کرچکا تھا اور فضا تاریکی کی بسیط چادر اوڑھ چکی تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیر علی خاں نے نگاہ بچتے ہی اپنے شکار کو دبوچ لیا۔

شیر علی کے حملے کی منظر کشی

اچانک لوگوں نے لارڈ میؤ کو ایک شخص کی گرفت میں دیکھا جب تک ان کا محافظ عملہ حرکت میں آتا تب تک شیر علی خاں اپنا کام انجام دے چکے تھے۔ لیکن اس مرد آہن نے جان بچانے کی خاطر بھاگنے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ پتھر کی چٹان کی طرح وہیں کھڑا رہا، ان کو انگریزی فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ وائسرائے کو چھری کے دو زخم لگے جن کی وہ تاب نہ لا سکے مگر انہوں نے اپنے پورے ہوش و حواس کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کہا: کہ ”کچھ لوگوں نے مجھ پر وار کیا ہے لیکن میں ٹھیک ہوں زیادہ چوٹ نہیں لگی“

لارڈ میؤ نے دم توڑ دیا

اس واقعے کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے میؤ کے سیکریٹری میجر برن نے کیمبرج یونیورسٹی کی لائبریری میں رکھے ہوئے اپنے کاغذوں میں لکھا: ‘وائسرائے نے دھیمی آواز میں کہا مجھے جہاز تک لے چلو۔ ہم نے انھیں فوری طور پر ملاحوں کی مدد سے اٹھایا اور کشتی پر لے آئے۔ ان کے آخری الفاظ میرے سر کو اوپر اٹھاؤ۔ میؤ کو فوری طور پر منتظر جہاز میں لے جایا گیا۔‘

لارڈ میؤ کا جنازہ

ہنٹر لکھتے ہیں: ‘جہاز پر سوار لوگ رات کا کھانا تیار کر رہے تھے۔ جیسے ہی میؤ کی کشتی جہاز پر پہنچی، جہاز کی ساری لائٹس بجھا دی گئیں تاکہ لوگ یہ نہ دیکھ سکیں کہ میؤ کو کیا ہوا۔ میؤ کو اٹھا کر ان کے کیبن میں لے جایا گیا۔ جب انھیں ان کے بستر پر لیٹایا گیا تو سب نے دیکھا کہ میؤ کی موت ہو چکی تھی۔ صبح ہوتے ہی جہاز پر لہراتا برطانوی پرچم نصف جھکا دیا گیا تھا۔’

شیر علی کے اس عظیم کارنامے کو کالے پانی کی سزا کاٹ رہے ”امبالہ سازش کیس“ کے محرک ’مولانا جعفر احمد تھانیسری‘‘ نے اس طرح قلم بند کیا ہے: ’’جب اندھیرا ہوگیا تو (وائسرا ئے) مشعلوں کی روشنی میں نیچے اترنے لگے، اس وقت ایک مسلح جماعت پولیس لارڈ صاحب کے چاروں طرف تھی اور چیف کمشنر صاحب اور پرائیویٹ سکریٹری لارڈ صاحب کے دا ئیں بائیں بدن سے بدن ملائے ہوئے چلتے تھے اور دوسرے بیسیوں افسران کے پیچھے پیچھے تھے۔ اترائی میں بھی لارڈ صاحب بخیریت تمام ہوپ ٹاون کے گھاٹ تک پہنچ گئے۔ جب گھاٹ پر ایک گاڑی کے نزدیک جو وہاں اس دن کھڑی تھی پہنچے۔ چیف کمشنر صاحب لارڈ صاحب کی اجازت لے کر کسی ضرورت کے واسطے پیچھے کو ہٹ گئے اور لارڈ صاحب مع پرائیویٹ سکریٹری آہستہ آہستہ چلے جاتے تھے اس وقت اس گاڑی کی آڑ میں ایک آدمی نے مثل شیر کے کود کر لارڈ کو دو زخم کاری ایک چھری سے ایسے لگائے کہ لڑکھڑا کر لارڈ صاحب سمندر میں جاپڑے اس گڑ بڑ میں مشعلیں بھی سب گل ہو گئیں مگرایک دوسرے قیدی (ارجن) نے جرأت کرکے قاتل کو پکڑ لیا ورنہ وہ اور دوچار کو مارتا۔ لارڈ کو سمندر سے نکالا اور اسی گاڑی پر لٹایا وہ توایک دو بات کرکے راہی ملک بقا ہوئے۔

شیر علی کی للکار

خارجہ سیکریڑی کپتان ایچسن (Captain Atichson) نے شیر علی سے دریافت کیا کہ اس نے اتنا بڑا کام کس کے اشارے پر کیا اور اس سازش میں کون کون افراد اس کے معاون تھے۔ جذبہ آزادی کے نشہ سے سرشار اس جری مجاہد نے شیر کی طرح گرجتے ہوئے کہا : ”میں نے خدا کے حکم سے کیا ہے، خدا میرا شریک ہے۔“

شیرعلی نے تختہِ دارپر کھڑے ہوکر انگریزی حکومت کو جس انداز میں للکارا ان کی شجاعت و دلیری اور فداکاری کا جذبہ اپنی تمام حدود پار کرتا نظر آتا ہے۔”مجھے جلد از جلد پھانسی دے دو کیوں کہ میری موت سے ایک ایسا آتش فشاں پھوٹے گا جو برطانوی سامراج کو جلا کر راکھ کر دے گا اور میرے خون کا ایک ایک قطرہ مجھ جیسے کئی شیر علیؔ خاں کو جنم دے گا۔“

وائسرائے کی لاش کو ان کے جنگی جہاز گلاسکو پر ہی سر کاری اعزاز دیا گیا اورمقدمہ کی سماعت میجر جنرل اسٹورٹ کی سریع الفیصل عدالت عالیہ (فاسٹ ٹریک کورٹ) نے اگلے روز اسی جنگی جہاز پر شروع کی اور اسی دن سزائے موت کی سزا سنا دی گئی۔ مشہور مورخ ایم۔ایف داس جنہوں نے انڈمان نیکوبار کی تاریخ لکھی ہے ان کے مطابق شیر علی نے قبول کیا تھا کہ وہ لمبے عرصے سے کسی بڑے انگریز حاکم کے قتل کے فراق میں تھے۔

لیکن ضِغیم ہند شیر علی خاں تختہ دار پر لٹکتے وقت بالکل ہراساں نہ تھا بلکہ بہ آواز بلند کہا۔ مسلمان بھائیو میں نے تمہارے دشمن کو مار ڈالا اب تم شاہد رہو کہ میں مسلمان ہوں اور کلمہ پڑھا، دو دفعہ کلمہ ہوشیاری سے پڑھا تیسری بار پھانسی کی رسی سے گلا گھٹ کر پورا کلمہ ادا نہ ہوا۔ شیرعلی خاں کے جسد خاکی کو ڈنڈاس پوائنٹ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ جنگ آزادی کے گم نام مجاہد کی طرح اس کی آخری آرام گاہ بھی بے نام ونشاں رہی۔

اس واقعہ نے برطانوی سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے پر زیادہ دنوں تک دانستہ طور پر بات نہیں کی گئی۔

پروفیسر ہیلن جیمز اپنے تحقیقی مقالے میں لکھتی ہیں؛ ‘یہ سراسر غیر متوقع تھا لیکن 1857 کے بغاوت میں وہابیوں کے کردار اور 20 ستمبر 1871 کو قائم مقام چیف جسٹس جان نارمن کے کلکتے میں ایک وہابی نواز عبد اللہ کے ہاتھوں قتل کے بعد برطانوی حکومت کو ایسے واقعے کے دوبارہ رونما ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے تھا۔ اس سے قبل بھی 10 ستمبر سنہ 1853 کو پشاور میں وہاں کے کمشنر کرنل فریڈریک میکسن کو ایک پٹھان نے ان کے بنگلے کے برآمدے میں چاقو مار کر قتل کر دیا تھا۔‘

انڈمان میں سزا کاٹتے ہوئے انھوں نے تین سال تک اپنے شکار کا انتظار کیا تھا۔ آٹھ فروری سنہ 1872 کو جب انھوں نے لارڈ میؤ کی آمد کی خبر سنی تو انھوں نے صبح سے ہی اپنا چھرا تیز کرنا شروع کر دیا۔ شیر علی پہاڑوں میں رہنے والا ایک مضبوط آدمی تھا۔ اس کا قد 5 فٹ 10 انچ تھا۔ اپنے سیل میں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں بندھے ہونے کے باوجود انھوں نے اپنی جسمانی طاقت کے زور پر ایک انگریزی سنتری سے سنگيں چھین لی تھی۔

ابتدائی طور پر انگریزوں کو شبہ تھا کہ مولوی تھانسیری اور دیگر مجاہدین جن کو انڈمان میں سزا دی جا رہی تھی انھوں نے شیر علی کی میؤ کو مارنے کے لیے ‘ذہن سازی‘ کی تھی۔ لیکن گہری چھان بین کے بعد بھی یہ تصور باطل ٹھہرا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *