سعودی فیصلہ اور تبلیغی جماعت کی حقیقت 

سعودی فیصلہ اور تبلیغی جماعت کی حقیقت 

تحریر :محمد نفیس دانش 
وزیر برائے اسلامی امور الشیخ ڈاکٹر عبداللطیف نے سوشل میڈیا پر اعلان کرتے ہوئے تبلیغی جماعت کو ’دہشت گردی کا ایک دروازہ‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ معاشرے کے لیے خطرناک ہے لہذا ان سے دور رہیں۔ تبصرہ نگار کہتے ہیں کہ در اصل اس بیان کی غلط تشریح کی گئی ہے کیونکہ جس جماعت پر پابندی لگائی گئی ہے وہ جنوبی افریقہ کی تنظیم ’الاحباب‘ ہے۔الغرض جس طرح تبلیغی جماعت کو دہشت گردی سے جوڑا گیا ہے اس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔تبلیغی جماعت ایک پُر امن جماعت ہے اور وہ اسلام کے لیے سرگرم ہے۔ سعودی حکومت کا یہ فیصلہ غلط اور غیر منصفانہ ہے۔
 اگر تاریخ کے اوراق پر سطحی نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ در اصل سعودی حکومت نے تبلیغی جماعت کو دہشت گرد نہیں کہا بلکہ سلفیوں اور تبلیغیوں کے اختلافات کافی پرانے ہیں جس کا لب لباب محمد بن عبدوالوہاب کی شخصیت ہے. جن کو لے کر علماء کرام میں شدید اختلاف موجود ہے۔ لگتا ہے اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے اسی بنیاد پر یہ فیصلہ کر دیا ہے۔
مشاہدات یہ بتاتے ہیں کہ دیوبندی مکتب ِفکر سے تعلق رکھنے والی تبلیغی جماعت اس وقت دنیا کے 180سے زائد ملکوں میں سرگرم ہے اور تقریباً 40 کروڑ افراد اس سے وابستہ ہیں۔ اس کا مرکز نئی دہلی کی بستی حضرت نظام الدین میں اور رائیونڈ میں بھی ہے۔
ہمارے ارض پاک پاکستان کے کچھ صوبوں اور مخصوص علاقوں میں ان حضرات کے ساتھ لوگوں کا برا سلوک اور بد اخلاقی سے پیش آنے کے واقعات، مشاہدات اور ایسے فیصلے ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ جس دین کی اشاعت کے لئے انبیاء کرام نے مشقتیں برداشت کیں ۔ طرح طرح کے مصائب میں مبتلا ہوئے ۔ صحابہ کرام ؓ اور ہمارے اسلاف نے اپنی عمروں کو اس میں صرف کیا اور اس کی خاطر راہ خدا میں اپنی جانوں کو قربان کیا اس دین کی ترویج اور بقاء کے لئے جو اپنا مال جان اور وقت لگا کر گھروں سے ہجرت کر کے لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف اور امر بالمعورف ونہی عن المنکر کی ہمہ وقت دعوت دیتے ہیں ان کے ساتھ آخر ایسا سلوک کیوں کیا جاتا ہے الغرض اعلاء کلمۃ اللہ اور اشاعت دین متین جو مسلمان کا مقصد اور زندگی اور اصلی کام تھا اور جس کے ساتھ ہماری دونوں جہان کی فلاح و ترقی وابسۃ تھی اور جس کو چھوڑ کر آج ہم ذلیل و خوار ہو رہے ہیں. حالانکہ اس کام کی ذمہ داری ہر کلمہ گو مسلمان پر ہے لیکن اس کے باوجود اپنے دین کی اشاعت کے لئے اپنے اوقات میں سے تھوڑا وقت بھی نہ نکالنا بڑی بد نصیبی اور خسران کی بات ہے اور یہی وہ اہم فریضہ ہے جس کو چھوڑ دینے کی وجہ سے آج ہم تباہ برباد ہو رہے ہیں۔
پہلے مسلمان ہونے کا مفہوم یہ سمجھا جاتا تھا کہ اپنا جان و مال ، عزت و آبرو ، اشاعت اسلام اور اعلاء کلمۃ اللہ کی راہ میں صرف کرے اور جو شخص اس میں کوتائی کرتا تھا وہ بڑا نادان سمجھا جاتا تھا ۔ لیکن افسوس کہ آج ہم مسلمان کہلاتے ہیں اور دین کی باتوں کو اپنی آنکھوں سے مٹتا ہوا دیکھ رہے ہیں ، پھر بھی اس دین کی ترویج اور بقا کے لئے کوشش کرنے سے گریز کرتے ہیں. اب پھر ہمیں اپنے اصلی مقصد کو اختیار کرنا چاہیے اور اس کام کو اپنا جزو زندگی اور حقیقی مشغلہ بنانا چاہیے تاکہ پھر رحمت خدا وندی جوش میں آوے اور ہمیں دنیا اور آخرت کی سرخروئی اور شادابی نصیب ہو۔اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اپنا تمام کارو بار چھوڑ کر بالکل اس کام میں لگ جائیں ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ جیسے اور دنیوی ضروریات انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں اور ان کو انجام دیا جاتا ہے ، اس کام کو بھی ضروری اور اہم سمجھ کر اس کے واسطے وقت نکالا جائے جب چند آدمی اس مقصد کے لئے تیار ہو جائیں تو ہفتہ میں چند گھنٹے اپنے محلے ، اور مہینہ میں تین دن قر ب و جوار کے مواضعات میں، اور سال میں ایک چلہ دور کے مواضعات میں اس کام کو کریں کہ ہر مسلمان امیر ہو غریب تاجر ہو یا ملازم ، زمیندار ہو یا کاشت کار ، عالم ہو یا جاہل ، اس کام میں شریک ہو جائے ۔
تبلیغی جماعت کے کام کرنے کے طریقے کو اگر پرکھا جائے تو وہ بھی بہت مہذب اور اصولوں پر مبنی طریقہ ہے یعنی 
کم از کم دس آدمیوں کی جماعت تبلیغ کے لئے نکلے ۔ اوّل اپنے میں سے ایک شخص کو اپنا امیر بنادے اور پھر سب مسجد میں جمع ہوں اور وضو کر کے دو نفل ادا کریں ( بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہو ) بعد نماز مل کر حق تعالیٰ کی بار گاہ میں التجا کریں اور نصرت و کامیابی اور تائید خدا وندی اور توفیق الٰہی کو طلب کریں اور اپنے ثبات اور استقلال کی دعا مانگیں ۔ دعا کے بعد سکون و وقار کے ساتھ آہسۃ آہسۃ حق تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے روانہ ہوں اور فضول بات نہ کریں ۔ جب اس جگہ پہنچیں جہاں تبلیغ کرنی ہے تو پھر سب مل کر حق تعالیٰ سے دعا مانگیں اور تمام محلہ یا گائوں میں گشت کر کے لوگوں کو جمع کریں۔اول ان کو نماز پڑھوائیں اور پھر ان امور کی پابندی کا عہد لیں اور اس طریقہ پر کام کرنے کیلئے آمادہ کریں اور ان لوگوں کے ہمراہ گھروں کے دروازے پر جا کرعورتوں کو بھی نماز پڑھنے کی دعوت دینا اور اس کی پابندی کی تاکید کرنا ۔
پھر جو لوگ اس کام کو کرنے کے لئے تیار ہو جائیں ان کی ایک جماعت بنا دی جائے اور ان میں سے کسی کو ان کا امیر مقرر کردیا جائے اور اپنی نگرانی میں ان سے کام شروع کرا دیا جائے اور پھر ان کے کام کی نگرانی کی جائے ۔ اور یہ بزرگوں کا یہ اصول بار بار دہرایا جاتا ہے کہ “ہر تبلیغ کرنے والے کو چاہئے کہ اپنے امیر کی اطاعت کرے اور امیر کو چاہیے کہ اپنے ساتھیوں کی خدمت گذاری اور راحت رسانی حوصلہ افزائی اور ہمدردی میں کمی نہ کرے اور قابل مشورہ باتوں میں سب سے مشورہ لے کر اس کے موافق عمل کرے۔”
اگر ہم تبلیغی جماعت کے کام کرنے کے مکمل طور طریقے کو دیکھیں اور سمجھیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گئے کہ یہ عظمتوں اور شانوں والا کام یقیناً بہت فضیلت کا حامل اور قابل تحسین ہے لہٰذا اس دعوت کے کام کے ساتھ جس شخص کی بھی نسبت ہوگی وہ خود بخود عظمتوں والا اور شانوں والا ہو جائے گا. بس اللہ تعالی ہمیں ہر فعل اور عمل کو تحقیق کے ساتھ صحیح طور پر پرکھ کر فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر اس فیصلے پر مشاورت کے ساتھ نظر ثانی کی بھی ہمت عطا فرمائے آمین..! 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *