تحقیقات نزلہ زکام

تحقیقات نزلہ زکام

پیش لفظ
اَلْحَمْدُلِلَّہِ رَبِّ العٰلمین و سلام علیٰ رحمۃ اللعٰلمین ہ امّا بعد!

حکیمِ مطلق اورقادرِقدرت کا ہزارہزار شکر ہے کہ اس نے اپنی کروڑ درکروڑ نعمتوں اور رحمتوں سے انسان کو نوازااور پھر علم و حکمت سے سرفراز فرمایا۔

یُؤتیِ الحکمۃَ مَنْ یَّشَاءُ وَمَنْ یُّؤُتَ الحِکْمَۃَ فَقَدْ اُؤتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًاہ
پھر اہلِ علم و صاحبِ حکمت کے لئے ضروری کردیاکہ۔

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ ا للَّہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ
کومدِ نظر رکھتے ہوئے

وَ یُزَکِّیْھُمْ وَ یُعَلِّمُ ھُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ ہ
کےلئے اپنے فرائض احسن طریق پر انجام دیں۔
اللہ تعالیٰ جس کو چاہتے ہیں اپنا کام لے لیتے ہیں۔ انسان جوکچھ بھی کرتاہے اسی کی دی ہوئی ہدایت اور قوت سے کرتا ہے ورنہ ایک عاجز انسان کی کیا بساط ہے کہ غیر معمولی شاہکار تیارکرے یا مافوق الانسان قوتوں کامظاہرہ کرے یا ایک دنیاکو للکارےاور مردہ علوم و فنون کےلئے احیاء و تجدید کی دعوت دے، جرأت کرکے آگے بڑھتا چلاجائے۔ نزلہ زکام کے متعلق یہ خاص نمبر بھی صرف رب العزت کی علم و حکمت پر برکتیں نازل کرنے اور توفیق عطا کرنے کا نتیجہ ہے۔ ورنہ کسی انسانِ عاجز کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے کہ ا یسی کتاب لکھے۔ جس میں دنیا کو چیلنج ہوکہ ایسی علمی و فنی کتاب آج تک کسی ملک وقوم میں نہیں لکھی گئی اور کمال یہ ہے کہ یورپ وامریکہ اورروس و چین بھی جن کو موجودہ سائنسی ، تحقیقی اور اس علمی دورکے راہنما خیال کیاجاتا ہے، ان سب کے طبی علم و فن کو کلی طورپر غلط قرار دے دیا ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے کہ اس سے نہ صرف دنیا کوعلمِ علاج میں نئی روشنی ملے گی۔ جس سے نئے اور پرانے سب غلط نظریات بدل جائیں گے بلکہ روح و جسم دونوں کےلئےباعثِ ہدایت اور شفا ثابت ہوگی۔آمین ثمٰ آمین۔
جب نزلہ زکام کے خاص نمبر کااعلان کیاگیاتوبعض دوستوں اور خریداروں کے خطوط میں پریشانی کااظہار کیاگیا کہ خاص نمبرنزلہ زکام پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ مجربات و ضعفِ باہ خوفناک امراض جیسے آتشک و سوزک اور بواسیر یا مشکل العلاج امراض جیسے درد، ورم اوربخار کو مقدم رکھنا چاہیے۔ مگر میری نگاہ میں نزلہ زکام کی جو اہمیت تھی اس کا اندازہ اس کتاب کے پڑھنے سے ہوجائے گا۔ میرادعویٰ ہے جب بھی کوئی شخص اس کو پڑھنا شروع کرے گا جب تک اس کو ختم نہیں کرے گااس کی تسلی نہیں ہوگی اور جب وہ کتاب کے ہرصفحہ پر فرنگی طب کی دھجیاں اڑتی فضائے آسمانی میں دیکھے گا تو حیرت سے اس کا منہ کھلاکاکھلا رہ جائے گا۔ تعجب کامقام ہے کہ نزلہ زکام پر کسی ملک اور کسی طریقِ علاج میں کوئی کتاب نہیں لکھی گئی جس کو علمی اور تحقیقی کہاجاسکے۔ اس کے علاوہ جس قدر بھی علم العلاج پر کتب لکھی گئی ہیں، ان میں نزلہ زکام کے بیان میں صرف اتنا ہی نظرآتا ہےکہ زکام ناک سے بہتا ہے اور نزلہ حلق سے گرتا ہے۔ قدیم طبوں میں ان کے اسباب گرمی سردی اور فرنگی طب میں جراثیم لکھ کرعلاج اور ادویات لکھ دی ہیں اور بس نزلہ زکام کاباب ختم ہوگیا۔ زیادہ سے زیادہ اصولِ صحت لکھ دئیے گئے۔ تقریباً سو، سوا سو صفحات کی کتاب ہم نے نزلہ زکام پرلکھی ہے مگر ہم صرف نزلہ زکام لکھ سکے ہیں۔ ابھی نزلہ زکام کے اہم عوارض پر نہیں لکھ سکے یعنی نزلہ زکام سے بڑھاپا، نزول الماء ، ثقلِ سماعت، کمی خون، ضعف اعضائے رئیسہ ، ضعفِ اعصاب و قوتِ باہ، خاص طورپرقبل از وقت بالوں کا سفید ہوجانا اور نگاہ کا کمزورہوجانا بہت اہم باتیں ہیں۔ ان کے علاوہ نزلہ زکام وبائی بھی ایک ضروری بات ہے، سب رہ گئی ہیں۔ جن کے لئے کم ازکم اتنے ہی اوراق اور درکار ہیں۔

وَمَا تَوفِیْقی الَّا بِاللَّہِ
از حکیمِ انقلاب: حکیم صابر ملتاؔنی۔۔1960ء



نزلہ زکام کی اہمیت

نزلہ زکام ایک کثیر الوقوع علامت ہےاور اکثر امراض میں یہ علامت پائی جاتی ہے۔ اس کے کثرت الواقع ہونے کی وجہ سے اس کو ابالامراض کہاجاتا ہے۔ اگرچہ نزلہ زکام خود مرض نہیں ہے لیکن ایک ایسی علامت ہے جس کے ظاہر ہونے کے بعد اکثرخوفناک امراض اور تکلیف دہ علامات پیدا ہوجاتی ہیں مثلاامراض میں سوزش وضعف ِدماغ، محرقہ دماغی، دق و سل اور ذات الریہ و ذات الجنب، اسی طرح علامات میں کھانسی ، بخار، سرسام، اسہال قبض، لقوہ وفالج اورآنکھ ناک اور کان کی اکثر تکالیف وغیرہ وغیرہ اور دائمی نزلہ زکام تو ایک ایسی مصبیت ہے کہ جس سے نہ صرف انسان دائمی مریض بن جاتا ہے بلکہ قبل از وقت بال سفید ہوجاتے ہیں ، دانت گر جاتے ہیں اور جلد بوڑھاہوجاتا ہے۔ باوجودکثیر دولت رکھنے اور اور علم و فضل اور فن میں کمال حاصل ہونے کے زندگی میں کوئی دلچسپی پیدانہیں ہوتی بلکہ حیات ایک تلخ حقیقت بن جاتی ہے ۔ گویا زندگی کی دلچسپیاں ، دولتِ کشش و رنگینیاں ، علم و فضل کے کمالات ، شعروادب ، فن کی نکتہ سنجیاں اور دستکاری میں حیرت کن اعمال وغیرہ سب کا تعلق جوانی بلکہ جوانی کی علامات کے ساتھ ہے۔ظاہر ہے کہ ایک مرد کس قدر طاقتورکیوں نہ ہواس کے بال اگر قبل از وقت سفید ہو گئے ہوں یا دانت گرگئے ہوں تو اس کوضروربوڑھا یا اُدھیر کہا جاتا ہے۔بہرحال جوان نہیں کہاجاتا اور نہ جوانوں میں شریک کیاجاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر ایک عورت کس قدر بھی کیوں نہ حسین ہو، رشکِ حور ہواور پریوں کو شرمائے۔ جب اس کے بال سفیدہوجاتے ہیں اور دانت گرجاتے ہیں۔ اس کا تمام حسن و رنگینی ایک دم ختم ہوجاتی ہے۔ وہ ایک اچھی عورت ضرورکہلاسکتی ہےمگرجوان نہیں کہی جاسکتی۔ انہی امور سے اندازہ لگایاجاسکتا ہےکہ نزلہ کس قدر خوفناک علامت ہے۔ اسی طرح نزول الماء اور ثقلِ سماعت کوبھی نزلہ میں شریک کرلیں تو اس کااحاطہ کتناہی وسیع ہوجاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں اگر عورت ومرد کتنی بھی بڑی عمر کے ہیں بیشک ان میں قوت و حسن اور کشش و رنگینی نہ بھی پائی جاتی ہو مگر ان کے بال سفید نہیں ہوئے، دانت سلامت ہیں تووہ یقیناً جوانوں میں شریک ہیں وہ اس دنیااور زندگی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ اپنی دولت و قوت سے پورے طورپرمستفید ہوسکتے ہیں۔ان حقائق سے یہ بھی ظاہرہوتاہےکہ نزلہ زکام نہ صرف ابوالعلامات ہے بلکہ اس کا تعلق جوانی اور بڑھاپے کے ساتھ بھی ہے۔ اگرہم نزلہ زکام کی حقیقت کوپورے طورپرسمجھ لیں تو نہ صرف اکثر خوفناک امراض اور دردناک علامات سے بچ سکتے ہیں بلکہ بڑھاپے سےبہت حدتک نجات حاصل کرتے ہوئے جوانی کی رنگینیوں اور خوبصورتیوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ان حقائق کومدِنظر رکھتے ہوئے اگر نزلہ زکام کو نصف طب کہہ دیاجائے تو اس میں مبالغہ نہ ہوگال۔بلکہ نزلہ زکام کی حقیقت کو پورے طورپرذہن نشین کر لینے کے بعد اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے اورہر صاحبِ علم طبیب اور فاضل حکیم اس فکر میں نظرآئے گا کہ جلداز جلد نزلہ زکام کی ماہیت اور اس کے مکمل علاج پر ملکہ حاصل ہوجائےجس سے نہ صرف مخلوقِ خدا کی خدمت کرسکے بلکہ خوداپنی صحت و قوت اور جوانی و رنگینی قائم رکھ سکے تاکہ دنیاوی زندگی وحسن و خوبصورتی کا مرقع بنی رہے۔

نزلہ زکام مشکل مرض کیوں ہے؟
نزلہ زکام کو سمجھنے کےلئے ہزاروں سال قبل کی طب قدیم سے لے کرآج تک کی فرنگی طب تک اس کے متعلق پوری تحقیقات نہیں کی گئیں۔ اگر ایورویدک نے نزلہ زکام کی وجہ دوشوں کی خرابی، کمی بیشی اور ان کے مقام کابدلناتحریر کیاہے۔ خصوصاً کف کی زیادتی اس کا سب سے بڑا سبب قرار دیاہے توطب یونانی نے مزاج و کیفیات اور اخلاط کی خرابی، کمی بیشی اور زہریلے مواد کواہمیت دی ہے۔ ان کے برعکس فرنگی طب نے اپنی بانسری اس طرح بجائی ہےکہ نزلہ زکام میں نہ کیفیات و مزاج اور گرمی سردی کودخل ہے نہ دوشوں اور اخلاط کواس سے تعلق ہے اور نہ کوئی اورکسی قسم کازہرنزلہ پیداکرسکتا ہے۔ بلکہ بات صرف یہ ہے کہ ایک خاص قسم کی غیرمرئی مخلوق جوکیڑوں سے مشابہت رکھتی ہےجس کوجراثیم کہتے ہیں۔ ان کے جسم ِ انسان پر اثر کرنے، اپنے ڈیرے ڈال دینے سے نزلہ زکام ہوجاتا ہے اور وہ ڈیرہ اس وقت ڈال دیتے ہیں جب انسانی قوتِ مدافعت کم ہوجاتی ہےاور قوتِ مدافعت اس وقت کم ہوتی ہے جب اعضاء کمزور ہوتے ہیں اور اعضاء اس وقت کمزور ہوجاتے ہیں جب جسم کومناسب غذانہیں ملتی گویا ناک کو الٹے ہاتھ سے پکڑنا ہے۔

فرنگی طب کی نزلہ زکام کی حقیقت سے ناواقفیت
ظاہر ہ طورپر فرنگی طب کے سازوسامان ، چمک دمک، آلات اور مشینوں کو دیکھ کریہ اندازہ لگتا ہے کہ فرنگی طب اور ماڈرن سائنس میں بال کی کھال کھینچی جاتی ہے اور ہر شے اور ہر بات تحقیقات کی کسوٹی پر رگڑلی جاتی ہے اس لئے ان کی تشخیص اور علاج سو فیصد صحیح ہوگا۔ مگر باوجود اس ہاؤ ہواور شوروشین کے آج تک ان کے ہاں نزلہ زکام کا یقینی علاج نہیں ہے۔ علاج تو رہا ایک طرف ، صحیح مرض کی حقیقت کا علم نہیں ہے اگر کوئی فرنگی ڈاکٹر نزلہ زکام کی صحیح حقیقت اور یقینی علاج سے ہمیں آگاہ کردے تو ہم اس کو مبلغ پانچ صد روپیہ انعام دیں گے۔ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ اُن کی سمجھ کاتو یہ حال ہے کہ غذاکی خرابی سے اعضاء کی خرابی تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن کیفیات و مزاج اور گرمی سردی کو نہیں سمجھ سکتے۔ جبکہ صحیح غذا ہی جسم کے اندر گرمی سردی کے صحیح عناصر اور توازن کے ساتھ ساتھ اعضاء کو بھی اعتدال پر رکھتی ہے۔ اسی طرح اعضاء کی خرابی کو مرض کا سبب واصلہ اور فاعلہ قرار نہیں دیتے ۔ جس سے قوتِ مدافعت کمزورہوجاتی ہے مگر جراثیم کو مرض کا سبب واصلہ و فاعلہ قرار دیتے ہیں جوہر گھڑی انسانی جسم میں لاکھوں کی تعداد میں آجارہے ہیں اور اندر اسی قوتِ مدافعت سے ہلاک ہورہے ہیں جو اعضاء سے پیدا ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن افسوس ہمارے اطباء حضرات اور وید صاحبان پرجو اپنی اس سے بہتر معلومات کو چھوڑکراس جراثیم تھیوری کو اپنا رہے ہیں اور فرنگی طب کی انتہائی گمراہ کن اور غلط معلومات کوبھی اپنا رہے ہیں۔
چونکہ اطباحضرات اور وید صاحبان نے بھی اس غلط اور گمراہ کن نظریۂ جراثیم کو اپنا لیا ہے جس کا علاج صرف یہی بتا دیاگیا ہےکہ قاتل جراثیم ادویات استعمال کردی جائیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نزلہ زکام کی حقیقت جو پہلے ہی ایک اسرار ہے اور وہ بھی پسِ پردہ چلی گئی اور یہ علامت اور اس سے پیدا ہونے والے امراض شب و روز بڑھنے لگے۔ جن میں ضعفِ دماغ، فالج، لقوہ اور دق سل جیسی خوفناک عسرالعلاج صورتیں زیادہ سے زیادہ ہوتی جارہی ہیں جن سے کوئی انسان بھی انکار نہیں کرسکتااوران سے زیادہ جوانیوں کو گھن لگتا جارہاہے اور قبل از وقت سفید ہونا، دانتوں کا گرنا، موتیا بنداور ثقلِ سماعت کی کثرت ہوتی جارہی ہے۔ بلکہ میں تو اپنے تجربات کی بنا پر یہاں تک کہوں گا کہ جو بچے گونگے ، بہرے اوار اندھے پیداہوتے ہیں وہ صرف ان لوگوں کے پیدا ہوتے ہیں جو نزلہ زکام کے دائمی مریض ہیں ۔ ہم حکومت کو تاکید کرے گے کہ وہ اعداد و شمار سے اندازہ کرے اور ہماری تحقیقات سے فائدہ حاصل کرے اس میں ملک و قوم اور مخلوقِ خداکی بھلائی شریک ہے۔

نزلہ، زکام اور مخدرو قاتل جراثیم ادویات
پاک و ہند بلکہ دنیا بھر میں فرنگی طب سے قبل نزلہ زکام کے علاج میں مزاج و کیفیات، دوشوں ، اخلاط اور دیگر اسباب کو مدنظر رکھ کر علاج کیا جاتا تھا۔ مگر جب سے فرنگی طب کا دور دورہ ہوا ہےاس تکلیف کو دور کرنے کےلئے صرف مخدرات مثلاً افیون، بھنگ ، دھتورہ وغیرہ اور دیگر مخدر و مسکن ادویات استعمال کرائی جاتی ہیں۔جن کا نتیجہ ظاہر ہے کہ نزلہ زکام تو رفع نہیں ہوتا بلکہ عارضی طورپر رک جاتا ہے اور پھر پہلے سےبھی زیادہ شدت کے ساتھ شروع ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مریض پہلے سے زیادہ کمزور ہوکر منشی اشیاء کا عادی بن جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ان کواستعمال کرنا شروع کردیتا ہے ۔ اس طرح اپنی ساری زندگی تباہ کرلیتا ہے اسی طرح فرنگی ڈاکٹر بعض مریضوں کو اسپرین قسم کی وقتی درد سر اور نزلہ زکام دور کرنے والی ادویات کی عادت ڈال کر ان کی ز ندگی تلخ کردیتے ہیں اور جن لوگوں کو نزلہ مزمن ہوجاتا ہے اور آئے دن خطرناک امراض کا شکارہوتے رہتے ہیں ان کوجراثیم کش ادویات پنسلین، انٹی بائیوٹک اور سلفا گروپ ادویات کی شب و روز کثرت کردیتے ہیں۔ جس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ مرض تو رفع نہیں ہوتا مگر مریض کے خون کے زندہ ذرات خون اور جسم کے ٹشوز مرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ آخر نہ خون میں قوتِ مدافعت رہتی ہے اور نہ اعضاء خصوصاً اعضائے غذایہ کے افعال درست رہتے ہیں۔ نیا خون بننا اور صاف ہونا رک جاتا ہے اورپھر مریض ایڑیاں رگڑ رگڑ کرمرجاتا ہے یا ایک دم دل بند(Heart Failure) ہوجاتاہے ۔ جو کچھ ہم نے لکھا ہے اگر حقائق نہ ہوں تو ہم چیلنج کرتے ہیں ۔ ہمیں افسوس اطباء حضرات اور ویدصاحبان پر ہے جو فرنگی ادویات او ر علاج استعما ل کرکے نہ صرف اپنی قوم و ملک پر ظلم کررہے ہیں بلکہ غلط اور گمراہ کن علاج کرکے اپنی ناواقفیت سے قاتلوں کی فہرست میں اپنا نام لکھواا رہے ہیں اور قیامت کے روز اس کے جواب دہ ہوں گے۔جب تمہارا علم یونانی طب آیورویدک کے ساتھ تعلق تھا تو تم نے بغیر صحیح اور مکمل علم کے اپنے نظریات کے خلاف جان بوجھ کر صرف لالچ کی خاطر فر نگی زہریلی ادویات کیوں استعمال کیا۔ ان حقائق سے ثابت ہوا کہ مخدر ادویات اورجراثیم کش ادویات کی کثرت نے نزلہ زکام کو پیچیدہ بنا دیا بلکہ لاکھ گنا زیادہ کردیا ہے۔

مجربات پر بھروسہ
نزلہ زکام کے علاج میں ایک بڑی خرابی یہ بھی رہی ہے کہ مرض کی حقیقت کو جانے بغیر اس کا مجربات سے علاج کیا گیا ہے۔کوشش کی گئی ہے کہ جو رطوبت نزلہ زکام میں بہہ رہی ہے اس کو بندکردیا جائے چونکہ معالج مرض کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتا ، اس لئے مرض کی شدت یا مزمن حالات میں اچھے نسخہ استعمال کرانے سے بھی آرام نہیں ہوتا تو پھر انتہائی گرمی کا سہارا لے کرانتہائی مسکنات و مبردات اور مخدرات کو استعمال کرتا ہے۔ جن میں صندل ، کشنیز، کافور، بھنگ، افیون ، چرس اور دھتورہ قابلِ ذکر ہیں۔بلکہ بعض وقت ہلاہل جیسے زہر کو بھی زیرِ عمل لانا ہے۔ مقصد صرف یہ ہوتاہے کہ جو رطوبات بہہ رہی ہیں بند ہوجائیں اس مقصد کے لئے شب و روز تریاقِ زکام اور اکسیرِ نزلہ زکام کی حقیقت سے واقف ہے اور نہ اس کو صحیح اصولی علاج کرنا آتا ہے۔ جو معالج فن کے مبادیات اور قوانین سے پورے طورپر واقف ہوتے ہیں ان کے پاس اگر کسی مرض کا مجرب نسخہ نہ بھی ہوتو اصول اور قوانین سے علاج کرکے مرض پر قابو پا لیتا ہے مگر عطائی میں یہ قابلیت بھی نہیں ہوتی۔ اس لئے وہ ہمیشہ اچھے سے اچھے نسخے اور تریاق و اکسیر کی تلاش کرتا رہتا ہے مگر بے علمی کی وجہ سے ہمیشہ ناکام رہتا ہے اس کی اس جہالت سے البتہ وہ ضرور فائدہ اٹھا لیتے ہیں جو اکسیر و تریا ق نسخوں اور مجربا ت کی کتابیں بیچتے ہیں۔ ان سے بڑھ کروہ دکاندار فائدہ حاصل کرتے ہیں جو مجربات ادویات تیارکرکے بیچتے ہیں۔
یہ مجربات سے علاج ایک بیماری تو تھی ہی مگر فرنگی طب نے اس میں بے حد اضافہ کردیا۔ اس میں ہر روز نئی تحقیقات کا بہانہ کرکے قسم قسم کے مجربار بھیجنے شروع کردئیے اس میں صرف انگلینڈ اور امریکہ ہی شریک نہیں ہے بلکہ جرمنی، فرانس، اٹلی، سوئیڈن اور ہالینڈ وغیرہ سب شریک ہیں۔ روز انہ نئے مجربات نہ صرف نزلہ زکام کے بلکہ ہر مرض کے لئے بھیجے جارہے ہیں اور ہمارے ملک کے فرنگی ڈاکٹر ان کے ایجنٹ ہیں۔ وہ تجویز کرتے ہیں مگر آج تک وہ کوئی یقینی مجرب نسخہ معلوم نہیں کرسکے۔ عوام تو خیراس فن سے واقف نہیں ہوئے۔ اپنے ملک کے فرنگی ڈاکٹروں سے سوال کرتا ہوں کہ سینکڑوں سالوں کی ایجنٹی کے بعدبھی آپ میں سے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یورپ اور امریکہ نزلہ زکام کا علاج جانتا ہے یا ان کے پاس اس تکلیف کا کوئی یقینی اور بے خطا نسخہ ہے؟۔ پھر آپ کی خود داری کو ٹھیس نہیں لگتی۔ آپ کے ذہن و دماغ کو صدمہ نہیں پہنچتاجوآج تک یورپ اور امریکہ کے ایجنٹ بنے پھرتے ہو۔ اپنے ملک میں کیا کچھ نہیں ہےاگر اپنا طریق علاج پرانا ہے تو ادویات تو روزانہ یہاں پیدا نہیں ہوتی ہیں ۔ اُن پر غور کرنا آپ کا کام ہے اس کو استعمال کرنے کا طریقہ آپ کچھ ہی تجویز کرلیں ، یقیناً وہ ایک ملکی ہو۔ خدارا یورپ اور امریکہ کی لعنت چھوڑ دو اور دوسری یقینی بات یہ ہے کہ اُن کا طریقہ علاج غلط اورگمراہ کن ہے جن کے لئے میرا چیلنج ان کے سامنے ہے۔
عام نزلہ زکام کے علاوہ وبائی نزلہ کی صورت بھی ہے جو عام نزلہ زکام سے زیادہ شدید اور زیادہ خوفناک ہوتاہےکیونکہ جب کبھی وبائی نزلہ کی صورت پیداہوتی ہےتو اس قدرنقصان ہوجاتا ہے کہ کئی سالوں میں عام نزلہ زکام سے اس قدر نقصان نہیں ہوتا ہے۔ فرنگی طب جہاں عام نزلہ زکام کی حقیقت سے واقف نہیں ہے وہاں پر وہ وبائی نزلہ کی اصلیت سے بھی بے علم ہے۔ یہاں پر بھی اس کا جراثیم اور قوتِ مدافعت کا رونا ہے مگر موسمی تغیرات فضائی زہر اور اعضاء کی خرابی کو نظرانداز کردیاجاتا ہے بہرحال نزلہ زکام کی صورت بھی نزلہ زکام کی اہمیت پر ایک زبردست شہادت ہے۔ نزلہ زکام کا اہم پہلو یہ ہے کہ اگر ہم اس کی حقیقت سے واقف ہو جائیں تو پھر ہم کایا کلپ کرنے کے قابل بھی ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ مسلسل تیس سالوں کے تجربات اور تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ بھی دائمی نزلہ میں گرفتار ہوتے ہیں وہی لوگ خوفناک امراض مثلاً فالج، لقوہ اور رعشہ وغیرہ میں گرفتار رہتے ہیں اور ان خوفناک امراض و تکلیف دہ علامات کے علاوہ ان پر بڑھاپا بہت جلد غالب آجاتا ہے، قویٰ کمزور ہوجاتے ہیں، بال قبل از وقت سفید ہوجاتے ہیں، دانت گر جاتے ہیں یا ان کو ماس خورہ لگ جاتاہے، سماعت میں ثقل پیداہوجاتا ہے اور نگاہیں کمزورہوجاتی ہیں۔ جو لوگ بچپن سے عینک لگانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں وہ بھی نزلہ زکام کے دائمی مریض ہیں ۔ اگر اُن کے نزلہ زکام کا اصولی طورپرعلاج کرلیاجائے تو ان کی عینک کی ضرورت نہیں رہے گی۔ مگر فرنگی معالج و ڈاکٹر اس بات کو کیوں سمجھے، اس سے یورپ کے کاروبار میں فرق پڑجاتا ہے۔ وہ تو آنکھوں کےلئے فوراً عینک تجویز کرے گا اس سے ایک طرف اس کی فن سے ناآگاہی پر پردہ پڑتا ہے اور دوسری طرف اس کے کاربار کو ترقی ہوتی ہے۔
بہرحال اگر نزلہ زکام کی حقیقت سے مکمل طورپر آگاہی ہوجائے تو بڑھاپے کا نہ صرف روکا جاسکتا ہے بلکہ کایا کلپ کرکے بڑھاپے کو جوانی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ جب ہمارے سامنےیہ اصول واضح ہوجاتاہے کہ نزلہ زکام ہی ایک ایسا مرض ہے جس کی زیادتی یا تسلسل انسانی قویٰ کو اس حد تک کمزور کر دیتا ہے کہ اس پر بڑھاپاآجاتا ہے تو پھر اگر ہم اس صورت کو پوری طرح تحقیقات سے سمجھ لیں تو پھر ہمارے واسطے کچھ مشکل نہیں ہوگا کہ ہم جوانی کو قائم رکھ سکیں اور بڑھاپے کو قریب نہ آنے دیں۔ نزلہ زکام میں جو صورت رطوبات کے اخراج کی ناک اور حلق سے ہوتی ہے، جیسے تھوک، آنکھ کا پانی، پسینہ، پیشاب کی زیادتی اور اس سے بھی بڑھ کرمنی کا کثرت ِ اخراج اور سیلان الرحم وغیرہ جن کی تشریح نزلہ کی تحقیقات میں بیان کریں گے۔ رطوبا ت کا بکثرتِ اخراج ہی ایسی علامات و شے ہے جو انسان کی اندرونی قیمتی و ضامن قوت اشیاء کو ختم کرنا شروع کردیتا ہے۔ جن کی وجہ سے خون میں وہ طاقت قائم نہیں رہتی جس سے زندگی وجوانی اور قوت کا قیام لازم ہے۔ گویا زندگی و جوانی اور قوت کےلئے خون کی کمی صالح رطوبات اہم ترین اجزاء ہیں۔آخر میں ہم نزلہ زکام کی اہمیت کےلئے یہاں تک بیان کرنے کو تیار ہیں کہ جنسی قوت میں خرابی بھی اسی وقت پیداہوتی ہے جب نزلہ زکام کے اثرات انسان پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اعصاب کے افعال میں خرابی، جریان و سیلان الرحم اور احتلام ، سرعت انزال انہی کا نتیجہ ہیں ۔ جیسا کہ ہم آئندہ وضاحت کریں گے جو لوگ جنسی امراض و علامات کا علاج کرتے ہیں مگر نزلہ زکام کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں ان کو جنسی ا مراض و علامات کے علاج میں ذرہ بھر واقف نہیں ہیں۔اُن کو جنسی امراض و علامات کے علاج میں ذرہ بھی واقفیت اور دسترس نہیں ہے ایسے لوگ صرف تجرباتی علاج کرتے ہیں اور اصل فنِ طب سے قطعاً دور ہیں۔ اس وقت جس قدر کتب خصوصاً فرنگی کتب قوتِ باہ اور جنسیات پر لکھی گئی ہیں ان میں ایک بھی ایسی نہیں ہے جس کو دیکھ کرہم کہہ سکیں مصنف یا مؤلف کو عصبی امراض یاجنسیاتی امراض پر عبور حاصل ہے۔ صرف سنی سنائی باتوں میں مکھی پرمکھی ماری گئی ہے۔ ہم انشاء اللہ تعالیٰ نزلہ زکام کے تحت ان پر سیر حاصل بحث کریں گے۔
اگر کوئی فرنگی ڈاکٹر ہماری تحقیقات کو غلط یا فرنگی طب میں کوئی ایسی مبنی بر صداقت تحقیق ثابر کردکھائے تو انہیں ہمارا چیلنج ہے وہ انشاء اللہ تعالیٰ کبھی بھی اپنے علم کی فوقیت بیان نہیں کرسکتے۔
از: حکیم وڈاکٹر جناب دوست محمد صابر ملتانی صاحب

نزلہ زکام کی تاریخ اور وسعت

نزلہ زکام عوت و مرد، بچے بوڑھے اور جوان بلکہ ہر عمر میں پاہاجاتا ہے۔ مرد کی نسبت عورتوں میں زیادہ پایاجاتا ہے۔ جہاں تک طبی تاریخ کا تعلق ہے بلکہ انسانی تاریخ کا تعلق ہے، کہا جاتاہے کہ یہ ایک ایسا مرض ہے جس کا علم نہ صرف اہل فن بلکہ عوام کو قدیم سے چلا آرہا ہے۔ انسانی تہذیبی تاریخ کو بابل و نینوا سے شروع کیا جاتا ہے۔ بعض محقق اس تاریخ کو چین سے شروع کرتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان کی تہذیب اپنے ویدک دور میں اپنے پورے عروج پرتھی اور چین پر بھی ہندوستان کی تہذیب کا اثر تھا۔ اس زمانے میں ہندوستان کا ویدک اثر بابل اور نینوا تک نظرآتا تھا۔ جس کے ثبوت میں موہنجوڈاروکی اینٹیں ، برتن اور طرزِ تحریر پیش کرسکتے ہیں۔ جس کے نمونے بابل اور نینوا میں پائے جاتے ہیں۔ اس زمانے میں بھی نزلہ زکام کا ذکر پایا جاتا ہے۔ بہرحال بابل اور نینوا کی تہذیب سے چل کراس کا اثر مصرمیں نظرآتا ہے۔ وہاں اہرام جن میں اس وقت تہذیب و فن ہے، موجودہ دور میں اپنا زندہ ثبوت رکھتے ہیں۔ مصر کے بعد اس تہذیب و تمدن کا اثر یونان کے خطۂ حکمت و فن میں پورے زوروں پر پھیل جاتا ہے۔ آج بھی دنیا بھر میں علم و فن اور حکمت وتہذیب اور اخلاق کاجن کے اثر دیوی دیوتاؤں کی شکلوں ، مجسموں اور ناموں میں نظر آتے ہیں۔ بلکہ کھیلوں تک میں ان کا نمایاں اور گہرا اثر معلوم ہوتا ہے۔ آج بھی اولمپک کھیلوں کے مقابلے یونان کی یاد تازہ کردیتےہیں۔ اس زمانے میں بھی جس ملک میں اولمپک کھیلوں کے مقابلے ہوتے ہیں ، آگ ایک مشعل کی صورت میں ملک یونان ہی سے لائی جاتی ہے۔گویا ظاہر کیاجاتاہے کہ علم حکمت اگر عقل کو تربیت و جلا دیتے ہیں تو علم طب جسم کو امراض سے نجات دلاتا ہے۔ ورزش اور کھیل نہ صرف حفظ صحت کا باعث ہیں بلکہ جسم انسان کی تربیت کی صورت بھی پیدا کرتے ہیں۔ گویا علم و فن ، طب و حکمت ، اخلاق و تہذیب، ورزش اور کھیل یہ سب کچھ یونانی تہذیب و تمدن کی یاد گار ہیں اس دور میں بھی نزلہ زکام کی تشریح کتب میں پائی جاتی ہے۔
یونان کے بعدیہ تہذیب روما سے گزرتی ہوئی ایران اور اسلامی دور میں پہنچ جاتی ہے جہاں قدیم تہذیب و تمدن کو وہ جِلا ملتی ہےاور اس پر وہ رنگ و روغن ہوتا ہے کہ دنیا کی آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔ اس کا انتہائی کمال یہ ہے کہ آج کے جدید یورپی تہذیب وتمدن میں باوجود ایک کمال نظر آنے کے مکمل طورپراسلامی تہذیب کے کمالات کواپنایا نہیں جاسکا اور نہ اس اس کی تہذیب و تمدن کو پھلانگا جاسکاہے۔ البتہ فرنگی تہذیب میں صحیح علم و فن کی بجائے مکروفن ضرورزیادہ نظرآتا ہے۔بہرحال تاریخ کے ان سارے ادوار میں کوئی دور ایسا نظر نہیں آتا جس میں نزلہ زکام کےاثرات نظر نہ آتے ہوں۔بلکہ جراثیم کے اثرات کا بھی پتا چلتا ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ کسی ایک فرعون کے ناک میں اس قدر خرابی اور تعفن ہوگیا تھاکہ اس میں کیڑے پیدا ہوگئے تھےجس کی وجہ سے اس کے سر میں درد رہاتھا، اس کا علاج اس وقت کے اطباء نے یہ تجویز کیا تھا کہ اس کے سر میں جوتے لگائے جاتے تھے جس سے کچھ دیر کےلئے ناک کے کیڑے تکلیف دینا چھوڑ دیتے تھے۔ یہ ناک کا مرض کیا تھا؟۔ تسلیم کرنا پڑے گاکہ یہ مزمن قسم کا نزلہ زکام تھا۔ بہرحال یہ تو ایک قصہ ہے لیکن اس حقیقت سے انکارنہیں ہے کہ انسان کی پیدائش کے ساتھ ساتھ نزلہ زکام بھی اس کے ہمراہ اس دنیا میں نازل ہوگئے جس نے انسان کو اکثر اپنی گرفت میں رکھا۔ اگر قصہ آدمؑ کو سائنس کی نگاہ سے تحقیق کیاجائے تو شیطان کی دشمنی میں نزلہ زکام کا اثر نظر آتا ہے۔ کیونکہ شیطان کی اصل جن سے اور جنات کی پیدائش آگ کے دھویں (کاربن) سے ہے اور یہی دھواں اور کاربن کی سیاہی ہی ایسی شے ہے جس کی موجودگی نزلہ زکام کی پیدائش کاباعث بنتی ہے۔بہرحال سائنسی تحقیق میں اس قسم کے اندازے لگائے جاسکتے ہیں۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ قصہ آدمؑ میں شیطان کوجو دخل حاصل ہے اگر اس کی تحقیق کی جائے تو بہت سے حقائق عدم سے وجود میں آسکتے ہیں۔ مثلاً شیطان کا جنت میں داخلہ بند ہونا، حضرت حوا کو تحریص دلانااور پھر حضرت حواکا حضرت آدمؑ کا اس تحریص پر مجبورکردینا، شجرِ ممنوعہ کے قریب چلے جانا، دونوں کو ننگے ہوجانا، مقامِ جنت سے مقامِ دنیا میں نکالے جانا، توبہ استغفاراور انسانیت کا جنم لیناوغیرہ اور اگر مزید غور کیاجائے تو اس انسانیت سے آدمیت اور بشریت کی طرف انسانی ارتقاء اور بناء کا عمل میں آنا وغیر ہ وغیرہ اپنے اندر بے شمار حقائق کے سلسلے رکھتے ہیں۔
اگر ہم لفظ کافرو منکر اللہ تعالیٰ وحدہٰ لاشریک پر کچھ غور کریں تو کئی اسرار ورموز سامنے آجاتے ہیں مثلاً کافر کا مادہ (کَفَرَ) ہے اور اسی سے “کافور”نکلا ہے ۔ ہومیوپیتھی میں کافور کے علامات میں نہ صرف شدید نزلہ زکام کی علامات نظر آتی ہیں بلکہ موت لازمی نظر آتی ہیں۔ گویا منکر اللہ تعالیٰ وحدہٰ لاشریک لہٗ کے خون میں کوئی شے یا کیفیت پیداہوجاتی ہے جس کا تعلق کافور کے عنصر اور کیفیت کے ساتھ ہے ۔ قرآن حکیم میں کافر کی جو علامات تحریر کی گئی ہیں، اُن پر غورکیاجائے تو بے شماراسرارو رموز کھلتے ہیں جن کی تفصیل باعث طوالت ہے۔ نزلہ زکام ایک ایسا دکھ ہے جو پیدائش انسان کے ساتھ ہی ساتھ نظر آتا ہے اور اس کا ذکر قدیم اور مذہبی کتب میں پایاجاتاہے۔ وسعت کے لحاظ سےاگر دیکھا جائے تو یہ دکھ دنیا کے ہرحصے اور ہر قسم کی آب وہوا میں پایا جاتاہے ۔ سرد سے سرد پہاڑی علاقوں سے لے کر تپتی ہوئی ریتلی زمین پر بھی اس کے اثرات اور غارت گری نظرآتی ہے۔ گویا اس دکھ سے کسی سر زمین اور کسی آب و ہوامیں امان نہیں ہیں۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ گرم ممالک اور گرم موسم میں یہ دکھ نہ کثرت سے ہوتا ہے اور زیادہ تکلیف کاباعث ہوتا ہے البتہ سرد علاقوں خصوصاً پہاڑی یا برفانی اور ساحلی علاقوں اور سردی کے موسم میں یہ نزلہ زکام اس کثرت سے ہوتا ہے کہ گویا روزانہ اس کانیا حملہ ہوتاہےاور ہر ایک شخص پر اس کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتاہے اور جس جگہ انتہائی سردی اور رطوبت ہووہاں پر تو انسان اس سے پناہ مانگتا ہےاور ڈر کر کسی اورملک میں چلاجاتاہے۔ گویاسردی، تری سے اس مرض کو خاص مناسبت ہے۔ میر ی تحقیقا ت یہ ہیں کہ گرم ممالک اورگرم موسم میں جن لوگوں یہ مرض ہوتا ہے، ان کے مزاج کی کمی کی وجہ سےہوتا ہے۔ گویا ان کے جسم میں ایک مناسبت سے سردی پیداہوجاتی ہے کیونکہ ان کے علاج میں بھی سردادویات مفید نہیں ہوتیں بلکہ مزاج میں حرارت کی جو کمی ہوگئی ہے اس کو پورا کردیاجائے تو مرض دور ہوجاتا ہے.
دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہندی تہذیب ہے ۔قدیم ترین مذہب کتاب وید ہیں اور قدیم ترین طب ایورویدک ہے نہ صرف ایورویدک بلکہ ویدوں اور ہندی تہذیب میں بھی نزلہ زکام کا ذکر ملتا ہے۔ چرک اورششرت جو آیورویدک کی قدیم اور اہم کتب ہیں ان میں بھی اس روگ کا پتا چلتا ہے اور اس کو کف روگ لکھا ہے جواصولی طورپربالکل صحیح ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ کف کے بڑھ جانے سے وات اور پت دونوں کم ہوجاتے ہیں اور روگ کے مزمن ہوجانے کی صورت میں اس میں انتہائی تعفن پیداہوجاتا ہےبالکل اسی طرح جیسے دودھ میں تعفن پیداہوجائے اور وہ تعفن زہر کے قریب پہنچ جائے۔ اس صورت میں وہ کف زندگی کےلئے زہر ثابت ہوتا ہے۔آیورویدک میں جہاں پر کایاکلپ کا ذکر کیاگیا ہے وہاں پرکف خصوصاً متعفن کف کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ایسی ادویات کو زیادہ استعمال میں لایا گیا ہے جن سے طاقت پیداہوتی ہے۔ ایسی تمام ادویات وایو کی پیدائش کو بڑھا دیتی ہے۔ البتہ بعض دوائیں پت کوبھی بڑھانے والی ہیں لیکن ان میں بھی وایو کی پیدائش پت سے زیادہ ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قسط ۔5 علاج بالغذا کی اہمیت و وسعت

اسی طرح ہندو متھیالوجی میں جس مقام پر “امرت” کاذکر ہے وہاں پریہ حکایت بھی بیان کی گئی ہے کہ اس کو حاصل کرنے کےلئے دیوتاؤں اور راکھشوں نے مل کرسمندر کوبلویا(جس طرح بھی بلویا)۔ بہرحال اس میں سے “امرت” برآمد ہوا۔ وہ جوانی، طاقت اور صحت کے لئے لاجواب جوہر تھا۔ اس حکایت کو اگر افسانہ بھی کہہ دیا جائے تو بھی بے حد اسرار و رموز نظر آتے ہیں۔مثلاً سمندرمیں “امرت” کاپایا جانا، سمندر کا بلویاجانا، اس کے بلونے میں دیوتاؤں اور راکھشوں کی طاقت کا ہوناوغیرہ وغیرہ۔ اگر ذرا غورکیاجائے تو پتا چلتا ہے کہ سمندرکی مخلوق، اس کی اشیاء اور اس کا پانی اپنے اندر زیادہ تر چونےاور فاسفورس کے اجزاء رکھتاہے۔ اس کو کلس نوری(Calcium Phosphate) کہنا چاہیئے۔ یہی ایک ایسا عنصرہے جس کی کمی جوانی کو بڑھاپے میں بدل دیتی ہے۔ یہ کس مقدار میں انسان کے جسم میں قائم رہنی چاہیئے اس کا علاج میں لکھیں گے۔آیورویدک کے کئی ہزار سالوں بعد طبِ یونانی عدم سے وجود میں آئی اس دوران ان میں کئی تہذیبیں اُجڑیں اور کئی تمدن پیداہوئے۔ بہرحال انسان کےلئے باقاعدہ فنِ علاج کی بنیاد رکھی گئی کیونکہ اس سے قبل علم العلاج بھی مذہب کا ایک حصہ شمار ہوتا تھا۔ میری رائے میں علم طب اگر مذہب کے ساتھ ہی متعلق رہتا بہتر تھا کیونکہ عبادات میں اعضاء جسمانی اور نفسیاتی طورپر تندرست ہونا بےحد اہم ہے۔ علماء ، فضلااور پیشوایانِ مذہب زبان و ادب اور احکاماتِ شرعیہ سے تو خوب واقف ہوتے ہیں ۔ لیکن ان کے جسم اور نفس اکثر مریض ہوتے ہیں جن کا سبب اعضاء میں خرابی ہوتی ہے اور ان کو اس امرکا علم نہیں ہوتا۔ ان کی توندیں بڑھ جاتی ہیں اور نفسیاتی خواہشات اور فطری ضروریات میں فرق نہیں کرسکتے ۔ چونکہ وہ اپنے آپ کومفسرِ شرع خیال کرتے ہیں اس لئے اکثر مغرور ہوتے ہیں یا تو وہ آپس میں لڑتے ہیں یانئے دین اور مذہب کی بنیاد رکھ لیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اسلام کے احکام فطری ہیں ایک طرف وہ اگراخلاقی قدروں کو بلندکرتے ہیں تودوسری طرف طبی اورعقلی قوانین کے عین مطابق ہیں مگر یہاں بھی علماء اور آئمہ فطری طبی توضیح کو اکثر نظر انداز کردیتے ہیں۔ جہا ن تک عقل کا تعلق ہے وہاں پر منطق کو مقررہ دلائل پرختم کردیاجاتا ہے۔ اسی لئے نئے نئے فرقے اور نئے نئے مہدی ، مسیح اور نبی دنیا میں ظاہرہوتے رہے ہیں۔ اگر فطرت کی قدریں عقل کے مطابق متعین کرلی جائیں تو دنیا کا صرف ایک ہی مذہب قرار پاجائے۔ بہر حال جویہ کہا گیا ہے کہ “العلم علمان علم الابدان و العلم ادیان” بالکل صحیح ہے یعنی دونوں علم اکٹھے ہونے چاہئیں۔ وید اس کا بین ثبوت ہیں۔کیونکہ آیورویدک اس کا حصہ ہے۔
بہرحال طبِ یونانی نے علم الادیان سے ہٹ کر فنِ علاج کی بنیاد رکھی۔اس دور میں تو نزلہ زکام کا ذکراچھی خاصی تفصیل کے ساتھ ملتاہے۔ حکیم بقراط جو طبِ یو نانی کا بابا تسلیم کیاجاتا ہے۔ اس نے بھی اس کا ذکرکیا ہےاور بعد کے زمانوں میں تو اس میں بے حد وسعت ہوگئی ہے۔ اسلامی دور میں نزلہ زکام کے سمجھنے کی پوری کوشش کی گئی ہے اور میری رائے میں اسلامی دور کے اطباء و حکماء نے اس دکھ کواس حد تک سمجھا اور بیان کیا ہے کہ فرنگی طب اس کی گرد کوبھی نہیں پہنچ سکی۔ نزلہ زکام کے اسباب میں صرف جراثیم کوبیان کردینا کافی نہیں اس سے اس کی پوری حالت و کیفیات ِ جسم کے کیمیائی تغیرات بالکل سامنے نہیں آسکتے اور نہ ہی اس کا تسلی بخش علاج ہوسکتا ہے اور اگر نزلہ زکام سے بال سفیداور جوانی تباہ ہوگئی ہوتو فرنگی طب کے پاس اس کاکیا علاج ہے۔ صرف جراثیم کش ادویات تو اس بڑھاپےاور کمزوری کو تو دور نہیں کرسکتیں جب وہ کیفیات اور ماہیت سے ہی واقف نہیں تو علاج کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔طب ِ یونانی میں نزلہ زکام کو بلغمی مرض لکھا گیاہے۔ حقیقتاً جو بالکل صحیح ہے اور صرف اتنی سی بات میں بے شمار اسرارورموز ہیں۔ اگر بلغم کی اقسام اور بلغم کے ذائقوں پر غورکیاجائے تو اس کاحادومزمن صورتیں اور مابعد کے اثرات، ہر قسم کا ضعف اور خرابی ذہن نشین ہوجاتے ہیں۔ بلغم کےمزاج میں بھی بڑے خزانے پوشیدہ ہیں۔ جہاں ہندومتھیالوجی میں “امرت” کا ذکر ہے وہاں مشرقی اد ب میں آبِ حیات کا قصہ بیان کیا جاتا ہے۔ جو سکندر ذوالقرنین اور حضرت خضرؑ سے متعلق ہے۔ یعنی موخرالذکر نے اول الذکر کو دائمی حیات کےلئے “آبِ حیات”پیش کیا مگر انہوں نے کسی وجہ سے انکار کردیا۔اس قصے کی حقیقت کچھ ہی کیوں نہ ہوتاہم اس میں بھی سمندرکاذکرآتا ہے۔ بلکہ ایسے مقام کو بیان کیا گیا ہے جہاں پر سمندر ڈوب رہا تھا۔ اگر سورج اور سمندر کے سمبل (علامت)پر غور کیاجائے تو ہمارے سامنے “امرت” کا نقشہ پیداہوجاتا ہے اور یہاں پردواتنی بڑی ہستیاں بیان کی گئی ہیں جس کو ہندومتھیالوجی میں یقیناً دیوتاکہا جاسکتاہے۔
تحقیقات ایک مشکل فن اوراس میں استعارات ایسی علامات ہیں جو محقق کےلئے رہبری اور دلیل کا کام کرتی ہیں۔ لیکن ان کو سمجھنا اور ان پر مدتوں غورکرنا بے حد مشکل کام ہے۔ ان علامات سے یونہی معنی اور مقاصد نہیں نکال لئے جاتے ہیں بلکہ ان کے ڈانڈے کسی تحقیقات سے ملائے جاتے ہیں اور پھر بامعنی نتائج اخذ کئے جاتے ہیں۔ مثلاً ادب میں ایک لفظ ایک معنی دیتا ہےلیکن تحریراً اس معنی میں کیسے کیسے تغیر پیداہوجاتے ہیں اور خاص طورپرجب ان کے ابتدا یا آخر میں کوئی مخصوص حرف بڑھا دیا جائے۔بالکل ایسی صورت سیلز کی بھی ہےان کودیکھ کرہر علم وفناور عقل و فطرت کی گہرائیوں میں ڈوبنا پڑتا ہے۔ پھر کہیں جا کر گوہر معنی باہرآتے ہیں لیکن اس وقت تک مفیدوہ بھی نہیں ہوتے، جب تک ان کا تعلق کسی تحقیقی رشتہ کے ساتھ قائم نہ ہوجائے اور ان میں افادیت اور جن کا پہلو نمایاں نہ ہو۔ جن لوگوں کو علامات پر غورکرنے کا شوق ہووہ قدیم ہندو متھیالوجی اور یونانی علم الاصنام پر غور کرنا شروع کردیں۔ عجیب عجیب اسرارورموزسامنے آتےہیں۔ اسی طرح دیگر مذہبی کتب مثلاً توریت و انجیل اور قرآن حکیم میں بھی بعض بعض مقامات پر علامات بیان کی گئی ہیں۔ مثلاً آدم و ابلیس کا قصہ، شجرِ ممنوعہ ، پیدائش زندگی اور کائنات وغیرہ وغیرہ۔ جہاں تک فرنگی طب کا تعلق ہے اس کی ابتدا اسلامی دور کی تحقیقات و ترقی اور ارتقاء کے بعد ہوئی اور تقریباً چھ سوسال تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں وہی طب پرھائی جاتی رہی اور تمام براعظم میں نہ ہی علاج جاری رہا بلکہ اکثر ڈاکٹر اپنالباس بھی اسلامی اطباء کی طرز پر پہنا کرتے تھے جن کے ثبوت میں آج ایسے ڈاکٹروں کی تصاویر پیش کی جاسکتی ہیں۔ غرض چھ سوسال تک فرنگی طب میں نزلہ زکام کے متعلق وہی ماہیت و تعریف ، اسباب و علامات اور علاج نظر آتا ہے۔ اس کے بعد جب اسلامی علم و فن اور ثقافت کااثر کچھ کم ہوا تو بھی، اس وقت ان کی کتب و مدارس میں نزلہ زکام کی سابقہ تعلیم نظر آتی ہے اور انہی اصولوں پر علاج کرنے کا پتا چلتا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک نظریہ جراثیم سامنے نہیں آیا۔ اس سے فرنگی طب میں تبدیلی کی ابتدا ہوئی، اس کی یہ تبدیلی صحیح ہے یاہمارے نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق غلط، اس کا فیصلہ ناظرین اس کتاب کے ختم کرنے کے بعد پوری طرح کرسکیں گے۔
جراثیم کے نظریہ سے پیدائش امراض پر گزشتہ صفحات پر ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔ جراثیم کی حقیقت کیا ہے؟۔ ان کاعلاج کے ساتھ کہاں تک تعلق ہے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کی تفصیل و تشریح آئندہ صفحات میں ماہیت امراض کے تحت کریں گے۔ یہاں پرصرف اس قدر ذہن نشین کرلیں کہ نزلہ زکام کے جراثیم کا علم ہونے جانے کے بعدبھی فرنگی طب اور ماڈرن سائنس نہ ان کی حقیقت سے آگاہ ہوئی ہے اورنہ ہی ان کا اس کے پاس یقینی اور بے خطا علاج ہے اورجہاں تک نزلہ زکام کے خطرناک بُرے اثرات کا تعلق ہے یعنی اس کی مزمن صورت، بڑھاپا، بالوں کا سفید ہونا، نزول ماٰء، ماس خورہ ، ثقلِ سماعت اور انتہائی کمزوری، فرنگی طب اس سلسلے میں بالکل ناکام اور مجبور ہے کیونکہ صرف سالہا سال کے تجربات نے صاف طورپر ثابت کردیا ہے کہ صرف قاتل جراثیم ادویات سے نزلہ زکام کا علاج نہیں ہوسکتا اورایک صدی میں بھی ایک مریض پیش نہیں کیاجاسکتا جس کو فرنگی طب کی جراثیم کش ادویات سے شفا نصیب ہوئی۔نظریہ جراثیم کی ابتدا سے لے کراس وقت تک نزلہ زکام میں بے شمارتحقیقات اور اضافے ہوئے اور اس دکھ کو رفع کرنے کے لئے بے شمارتریاق قسم کی ادویات اور اکسیر صفت علاجات دنیا کے سامنے پیش کیے گئے۔ مگر تقریباً اس پوری صدی کی تحقیقات کا نتیجہ صفر سے آگے نہیں بڑھااور وہ تمام تریاقی ادویات اوراکسیر علاج ناکام ہوگئے البتہ فرنگی طب کی تجارت کو قائم رکھنے کےلئے یہ صورت پیداکرکرلی گئی ہے کہ جب یورپ و امریکہ کی کوئی دوااورعلاج اپنے تریاقی اور اکسیر اثرات کھوتاہوا نظر آتا ہے۔ جو اثر فرنگی طب کے تاجروں نے صرف پراپیگنڈہ سے قائم کیا تھا تو مارکیٹ میں چنداور ادویات وعلاج ، تریاق اور اکسیر کے نام پربھیج دیتے ہیں، تاکہ عوام کا دھیان و رجحان ناکام ادویات سے ہٹ کر نئی قسم کی ادویات پر لگا دیا جائے اور خدمت اور مقصد کےلئے فرنگی ڈاکٹرپوری طرح اپنی ایجنٹی کے فرائض انجام دیتے رہیں اور اب توان میں بے شمار اطباء اور ہومیوپیتھ بھی شریک ہو گئےہیں ۔ جب فرنگی طب کی نئی ادویات مارکیٹ میں آتی ہیں تو ان کی خوبصورت شیشیاں ، رنگین پیکنگ اور پراپیگنڈا نما لٹریچربھی نفسیاتی طورپرعوام کو متاثرکرتا ہے اور ایسی صورت میں جب ایک ڈاکٹر جو امراض کو پہچانتا ہے۔ تعریف کرتا ہے کہ توپھردوا کیسے کوئی نہ خریدے اور اگر کسی حسین و جمیل نرس نے تعریف کردی یاحورصفت ، نازک اندام لیڈی ڈاکٹر نے دوا تجویز کردی تو یقیناً دوا خریدی جائے گی۔چاہے مریض کی زندگی کیوں نہ ختم ہوجائے۔
سچ بات تو یہ ہے کہ فرنگی ڈاکٹر خود ہی خطرناک جراثیم ہیں جو اپنی لاعلمی اور علاج کے غیر علمی (Unscientific) ہونے کی وجہ سے دنیا میں امراض پھیلانے کا باعث ہورہے ہیں اور نزلہ زکام میں جن لوگوں کو آرام ہوجاتا ہےاس میں نی فرنگی ڈاکٹروں کا ہاتھ ہے اورنہ جراثیم کش ادویات کے کمالات ہیں ، بلکہ طبِ یونانی اور فطری تعلیم اثر کرجاتی ہے اورفائدہ دے جاتی ہے۔ یعنی نزلہ زکام میں بھوکا رہنا چاہیئے۔ غذاچھوڑ دینی چاہیئے۔ خشک اور مقوی قسم کی اغذیہ کھائی جائیں، بدن کو گرم رکھنا چاہیئے، سردی سے بچنا چاہیئے، پانی پینا روک دینا چاہیئے۔ اس مقصد کےلئے شہروں میں انڈے اورچائے، مچھلی اورچائےاور دیہاتوں میں گرم گرم چنے ایک دو وقت کھانے سے مرض میں نہ صرف تخفیف ہوجاتی ہے بلکہ ضائع شدہ طاقت بھی لوٹ آتی ہے۔ دراصل یہ یا اسی قسم کے دیگر علاجات اور تدبیر کی وجہ سے نزلہ زکام میں آرام آجاتا ہے۔ ورنہ اگر صرف فرنگی طب کی جراثیم کش ادویات پر سہارا کیا جاتاتوایک دن اس مرض میں گرفتار ہوکر تنکوں کی طرح گلیوں میں خراب اور برباد زندگی کے دن گزارتی نظر آتی اور ان کی آہ وبکا نے آسمان بھر سر پراٹھایا ہوتا ، اور دکھی لوگ موت کو زندگی پر ترجیح دیتے۔قابل ِ غور بات تویہ ہے کہ جب یہ یقین ہوگیا کہ نزلہ زکام کے جراثیم کا پتا چل گیا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ فرنگی طب اور ماڈرن سائنس کی یقینی اور بے خطا ادویات ناکام ہیں ۔ اس سے تو صاف پتاچلتا ہے کہ فرنگی ڈاکٹر جراثیم تھیوری کے تحت اپنے علاج میں بُری طرح ناکام ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کو حکومتوں کی سرپرستی ہے ۔ ان کے پاس بڑی بڑی لیبارٹریاں ہیں ، شاندار ہسپتال ، صحت افزا مقامات پر شاندار سینی ٹوریم ، قابل دماغ اور باقاعدہ تعلیم، بے شمار چوٹی کے کالج اور دیگر ہر قسم کی سہولتیں میسر ہیں۔ مگر نتیجہ بالکل صفر کے برابر نظر آتا ہے۔ ان سے ایک بھی نزلہ زکام کا مریض صحت یاب نہیں ہوسکتا۔
بس تسلیم کرنا پڑے گا کہ فرنگی طریقِ علاج غلط ہےاور وہ لوگ صرف بزنس اور تجارت کی خاطر اپنی تحقیقات کا پراپیگنڈا کرتے ہیںاور اس طرح دنیا کو اپنے غلط علاج اور خطرناک ادویات سے بے شمار تکلیف دہ امراض میں گرفتار کردیا ہے۔ دور نہ جائیں صرف اسپرین اور اسی قسم کی دیگر ادویات نے دنیا میں اس قدرلوگوں کی جانوں کو عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ جس قدر مخلوق اس وقت دنیا میں پائی جاتی ہے۔ انشاءاللہ تعالیٰ بہت جلد دنیافرنگی ادویات کے خطرناک اور زہریلے اثرات سے روشناس ہوجائے گی۔بعض خودپسنداور غلط فہمی میں مبتلاڈاکٹر اپنے طریقِ علاج اور ادویات کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ اُن کو اس امر کا بالکل تجربہ نہیں ہوتاکہ اُن کی ادویہ صرف وقتی طورپر تکلیف دہ علامات کو روک دیتی ہیں جو کچھ عرصہ بعد نمودار ہوجاتی ہیں اور وقتی طورپر ان تکلیف دہ علامات کی روک تھام صرف مخدرات اور منشیات سے کی جاتی ہے۔ جن میں افیون، اجوائن خراسانی، بھنگ، بیش، دھتورہ، کوکین، نووکین، برومائیڈ، کلورل، ہائیڈریٹ اور کافور وغیرہ خاص طورپرقابلِ ذکر ہیں۔ ان مخدرات کا اثر چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں رہتا۔ اس لئے فرنگی ڈاکٹر ہر تین چار گھنٹے بعد ایسی ایک خوراک کا پروگرام بنادیتے ہیں یا انجکشن لگا دیتے ہیں، علامات دبی رہتی ہیں، مگر مریض روزبروز کمزور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ موت کے قریب پہنچ جاتا ہے اور اچانک مر جاتا ہے یا اچانک پھر اس پر مرض کا حملہ ہوتاہے۔ چونکہ طاقت، مخدرات اور منشی ادویات سے ختم ہوچکی ہوتی ہے۔مریض اس حملہ سے جانبر نہیں ہوسکتا، مریض کے اعزہ واقرباء سمجھتے ہیں کہ مریض مرض کی شدت سے مر گیا مگر چالاک فرنگی ڈاکٹرخوب جانتاہے کہ یہ سب کچھ مخدراور منشی ادویات کا نتیجہ ہے جن کواس لئے استعمال کیا گیا تھاکہ عارضی طورپر علامات کو روکا جائے۔ یہ تکلیف دہ علامات صحیح طریقِ علاج سے بھی رک سکتی تھیں مگر فرنگی ڈاکٹر صحیح علاج سے ناواقف نہیں ہے، صحیح علاج کے لئے یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ علامات رفتہ رفتہ رکتی ہیں اور مریض کو جسم میں کمزوری کی بجائے طاقت محسوس ہوتی ہے۔
جاننا چاہیئے کہ فرنگی حکومت سے قبل نزلہ زکام ہمارے ملک میں کثرت سے نہیں پایاجاتا تھا اور جب سے فرنگی تہذیب وتمدن دنیا میں پھیلا ہے اس مرض کی ایسی کثرت ہوگئی ہےکہ ہر شخص نزلہ زکام میں گرفتار نثرآتا ہے جس کا نتیجہ تپ دق سل(ٹی-بی) ہے جو اس کثرت سے پھیل گیا ہےکہ اب اس کو روکنا بالکل کسی ملک کی حکومت کے بس میں نہیں رہا ہے۔ اس سچائی کا اندازہ اس طرح لگا لیں کہ فرنگی حکومتسے قبل کے اعدادو شمار دیکھ لئے جائیں اور آج کے اعدادوشمار دیکھ کر اندازہ لگا لیں کہ ملک میں مرض تپ دق سل(ٹی-بی) میں سوفیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ اور اسی نسبت سے نزلہ زکام کی زیادتی کا اندازہ لگایاجاسکتا ہےاور حالت روزبروز خرا ب ہوتی جاتی ہے۔ ایک طرف فرنگی طب کے پاس نزلہ زکام اور ٹی بی کا علاج نہیں ہے اور دوسری طرف اس کی گندی اور ننگی تہذیب و تمدن نے ان امراض کی پیدائش کاسامان کررکھا ہے ۔ ان میں شراب و چائے کی کثرت ، سینما اور کلبوں میں رات بھر جاگنا ، کثرت سیگریٹ نوشی، عریانی اور جنسی بھوک کی شدت وغیرہ ایسے محرک ہیں کہ ہرگھڑی نزلہ زکام اور تپ دق و سل(ٹی-بی) کی پیدائش کاباعث بن رہے ہیں۔یہ صرف پاک وہند تک مخصوص نہیں ہے بلکہ خود یورپ و امریکہ اور جاپان و روس میں بھی ان مریضوں کی حالت روزبروزبڑھ رہی ہے۔ کیا دنیا کاکوئی ملک یہ دعویٰ کرسکتا ہےکہ ان کے ملک میں ٹی بی ختم ہوگیا ہےیا کوئی ملک (سوائے پاکستان کے ، کیونکہ ہم نے تپ دق و سل اورٹی -بی کا شرطیہ اور آسان نسخہ دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے) یہ دعویٰ کرسکتا ہےکہ اس کے پاس ٹی -بی کی شرطیہ دوا ہےجس کو عوام خود آسانی سے بناکر اس مرض سے نجات حاصل کرسکیں۔ جب ایسا نہیں ہے تو پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ فرنگی طب نہ ٹی -بی کی حقیقت سے آگا ہے اور نہ ہی اس کے پاس اس کا یقینی علاج ہے، حقیقت یہ ہے کہ ان ممالک میں جو (اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ تہذیب و تمدن اور علم وحکمت میں کمال رکھتے ہیں)دق سل کے مریضوں کی تعدادکروڑوں تک پہنچ گئی ہے اور لاکھوں انسان اس مرض میں ہرسال مررہے ہیں۔ جب فرنگی ڈاکٹراپنے ممالک میں اس مرض کے علاج میں کامیاب نہیں ہیں تو دیگر ممالک میں ان کی ادویات کیسے مفید ہوسکتی ہیں۔ جب کہ ان کی ادویات ان کے اپنے ملک اور ان کی آب و ہوا میں تیار کی جاتی ہیں۔ برعکس ان کے ، ہمارا مزاج ، ہماری اغذیہ، ہمارے عقائد ان سے باکل مختلف ہیں ۔ پھر ان کے ملک کی غیر یقینی ادویات اور علاج ہمارے ملک کےلئے کیسے اکسیر اور تریاق ہوسکتی ہیں۔
نزلہ زکام کی کیفیت تو تپ دق و سل(ٹی-بی)ہے بھی خطرناک ہے کیونکہ اول تویہ ٹی -بی سے کئی گنا زیادہ پایاجاتا ہے۔دوم ۔ اس سے کئی امراض پیدا ہوتے ہیں جیسے تپ دق و سل(ٹی-بی)، نمونیا، پلورسی، ہارٹ فیل، فالج، لقوہ، ذیابیطس، نزول الماء، ماس خورہ ، ثقل سماعت اور سب سے بڑھ کربڑھاپا وغیرہ جن کا علاج طبِ یونانی میں مشکل ہے اور فرنگی طب میں بالکل ہے ہی نہیں۔سوم۔ دردناک بات یہ ہےکہ عوام کیامعالج بھی اس مرض کو معمولی خیال کرتے ہیں۔ گویا اس مرض کے خطرناک ہونے کا احساس تک نہیں ہے۔ نزلہ جب وبائی صورت اختیار کرلیتا ہے اور کثرت سے اموات ہونے لگتی ہیں تو پھرنزلہ کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ ورنہ عام حالت میں احساسِ زیاں تک نہیں پایاجاتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نزلہ زکام دیگر خطرناک امراض سے زیادہ خطرناک دکھ ہے۔ اس سے ایک ہفتہ کے اندر اندرٹی-بی پیدا ہوسکتی ہے اور نمونیا اور پلورسی جیسے امراض تو صرف تین روز کے اندر اندر پیداہوجاتے ہیں۔ ہمارا مشورہ ہے کہاگر حکومت ٹی-بی کی روک تھام کرنا چاہتی ہے تو نزلہ زکام کی روک تھام پہلے کرے۔ ایک کثیر لٹریچر اس کے متعلق ، ملک میں پھیلا دے۔ ہر شخص اس کی حقیقت سے آگا ہو۔ اس کے اسباب و علامات کا علم رکھتا ہو، آسان اور سستے اور ہرجگہ میسر آنے والے علاج سے پورے طورپر واقف ہو بلکہ ایسی ادویات ہر طبی سنٹر بلک ہرمعالج و دوا فروش اور ہوٹل و چائے خانہ سے مفت دستیاب ہوسکتی ہوں۔ بالکل اسی طرح جیسے ملیریا میں کونین کی مفت تقسیم کا انتظام کیاجاتا ہے۔ اس طرح نہ صرف عوام بے شمار خطرناک امراض سے بچ جائیں گے۔ بلکہ قومی صحت ایک کما ل پر پہنچ جائے گی۔مقام ِ حیرت ہے کہ نزلہ زکام کے اس قدر نقصان رساں ہونے کے باوجود حکومت نے اس کی روک تھام کےلئے قومی معیار پر اس کاکوئی انتظام نہیں کررکھا ۔ باوجود اس کے کہ نزلہ وبائی کی تباہ کاریاں اکثر ممالک میں غیر معمولی نقصانات کا باعث ہواکرتی ہیں۔ ایسے موقعہ پر وقتی طورپرکچھ انتظامات کیے جاتے ہیں اور کچھ سنٹر بھی قائم کردئیے جاتے ہیں مگر حملے کے وقت گزر جانے کے بعد یہ سب انتظامات اور سنٹر ختم کردئیے جاتے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ نزلہ وبائی کے دنوں میں علاج اور ادویات مریضوں کو مل جاتی ہیں مگر اس کی روک تھام کےلئے کوئی تعلیم نہیں دی جاتی نہ غذا اور پرہیز کی تلقین کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے اسباب و علامات کو ذہن نشین کریاجاتا ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ نقصان زیادہ ہوتا ہے اور یہ بھی جان لیں کہ جو مریض وبائی نزلہ سے بچ جاتے ہیں وہ بہت جلد ٹی-بی اور دیگر امراض کاشکار ہوجاتے ہیں۔
نزلہ زکام کی عمومیت کا یہ عالم ہے کہ انسانوں کے علاوہ حیوانات اور پرندوں میں بھی پایاجاتا ہے۔ البتہ وحشی جانوروں میں بہت کم نظرآتا ہے۔ گھر کے پالتوجانوروں میں گائے، بھینس، بھیڑ ، بکری میں پایا جاتا ہے، گھریلو پرندوں میں مرغ، بٹیراور کبوتر و طوطے بھی اس مرض میں گرفتار نظرآتے ہیں۔ البتہ دیکھا گیا ہےکہ پانی کے جانوروں میں نزلہ زکام بہت شاذہوتا ہے۔ جب گرم مزاج کے جانوروں میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے جسم سے گرمی کا اخراج کم ہوجاتا ہے اور اس کی زیادتی ان میں اس دکھ کا باعث بن جاتی ہے۔جس کی تفصیل آئندہ بیان کی جائے گی۔لادنے والے جانوروں میں یہ مرض بہت ہی شاذونادر ہوتا ہے جن میں گھوڑے ، گدھے اور اونٹ شامل ہیں ۔ اسی طرح محنت کرنے والے مرد اور عورتوں میں بھی یہ دکھ کم پیداہوتا ہے۔ کتوں ، بلیوں کو یہ مرض اکثرنہیں ہوتا اور جب ہوتا ہےتو وہ پاگل ہوجاتے ہیں۔ البتہ خنزیراور بندر اس مرض میں ہرگھڑی گرفتار رہتے ہیں۔ حیوانات میں جن جانوروں کے گوشت کھانےسے پیٹ میں نفخ اور خمیر زیادہ پیداہوان کے کھانے سے نہ صرف نزلہ پیداہوتا ہے بلکہ فسادِ خون کا باعث ہوتا ہے۔ جانوروں کے گوشت میں سب سے زیادہ اور فسادِ خون کا باعث ہوتاہے۔جن کے جسم میں رطوبات زیادہ ہوتی ہیں۔ جن میں اول درجہ خنزیر کو حاصل ہے۔ گوشت میں حرارت وبرودت کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ جو حیوانات و پرند جس قدر ہلکے پھلکے ہیں ان میں اسی قدرمادی ثقالت کم اور حرارت زیادہ ہوتی ہے۔ مثلاً بٹیر، تیتر اور چڑیوں میں مرغ کی نسبت حرارت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح گھریلو جانوروں میں بکری کا گوشت بہت گرم اور اس کے مقابلے میں گائے اور بھینس کا گوشت کم گرم ہوتا ہے۔ اس لئے وہ زیادہ نفاخ ہوتے ہیں۔یہی صورت بھیڑ کے گوشت میں بھی پائی جاتی ہے، بہرحال گائے کا گوشت بھینس سے کم نفاخ ہوتاہے۔ پانی کے جانوروں کاگوشت اپنے اندرحرارت زیادہ رکھتا ہے کیونکہ ان میں فاسفورس کے اجزاء زیادہ پائے جاتے ہیں۔ المختصر پرندوں کے گوشت زیادہ گرم ہیں البتہ بکری کا گوشت تمام گوشتوں سے زیادہ معتدل ہے اور صحت کے قیام میں بے حد مدد دیتا ہے بالکل اسی طرح جیسے تمام غلوں میں گہیوں صحت کے لئے مفید اور اس کو اعتدال پر قائم رکھتا ہے اور مدتوں کھانے کے بعد بھی جسم میں غیر معمولی علامات پیدا نہیں کرتا۔ انسانی غذا میں سب سے اچھی غذا گہیوں کی روٹی کے ساتھ بکری کادودھ، بکری کے دودھ اور گوشت میں یہ خاصیت ہے کہ اگر پیٹ کا خمیر ختم کرنے کے بعد صرف انہی سے یا ان میں سے کسی ایک سے پیٹ بھر لیاجائے تو چند دنوں میں ٹی-بی جیسا خوفناک مرض دور ہوجاتا ہے۔
عمر کے لحاظ سے بچے نزلہ زکام میں زیادہ گرفتار ہوتے ہیں۔ مردوں کی نسبت عورتوں میں یہ دکھ زیادہ پایا جاتا ہے۔ عورتوں میں اس دکھ کی زیادتی کی وجہ ماہواری کی سوزش اور سوزشِ رحم ہوا کرتی ہے۔ جن عورتوں کے بچے ضائع ہوجاتے ہوں یا اسقاطِ حمل کا مرض ہویا ان کوحمل ضائع کرنے کی عادت ہو یامنصوبہ بندی(Birth Control) پر عمل کرتی ہوں وہ اکثر اس میں گرفتار رہتی ہیں ۔ بلکہ وہ تمام تپ دق وسل (ٹی-بی) کاشکار ہوجاتی ہیں۔ جو عورتیں برتھ کنٹرول کی ادویات کھاتی ہیں ، چاہے وہ کس قدر بھی بے ضرر ہوں ، بہر حال وہ رحم کے افعال میں افراط یا تفریط کے ساتھ خرابی ضرور پیدا کردیتی ہیں ۔ اگر خرابی پیدا نہ کریں تو بچے کی پیدائش کیسے رک سکتی ہے جس کا یقینی نتیجہ عورت کا ٹی-بی میں گرفتار ہونا ہے۔ کیونکہ رحم کی خرابی سے اس کے فضلات اخراج نہیں پاسکتے جو یقیناً تپ دق سل(ٹی-بی)کا باعث بن جاتے ہیں۔ بالکل ایسے جیسے پرسوت کا بخار ٹی-بی میں منتقل ہوجاتاہے اسی طرح جو مرد برتھ کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا دماغ اور اعصاب خراب ہوجاتے ہیں اور ان کاتوازن بگڑ جاتا ہے۔ آخرپاگل پن میں گرفتار ہوجاتے ہیں جن کا نتیجہ فرنگی طب میں دیکھا جاسکتا ہے۔نزلہ زکام کی تاریخ اور وسعت بیان کی گئی ہے، اس سے یہ حقیقت ظاہر ہے کہ یہ دکھ ہر ملک، ہرقوم، اور ہر آب و ہوا میں پایا جاتا ہے۔ البتہ جن لوگوں کے مزاجوں میں حرارت کی زیادتی ہے ان کو یہ تکلیف شاذ اور بہت کم ہوتی ہے۔ اسی طرح گرم ملکوں میں بھی یہ تکلیف بہت کم پائی جاتی ہے۔ تحقیقات اور تجربات سے اس بات کا یقینی پتا چلتا ہے کہ گرمی کی زیادتی سے یہ مرض نہیں ہوتا۔ بلکہ جب بھی ہوتا ہےسردی کی وجہ سے ہوتاہے۔ اس کی دوصورتیں ہیں ۔ اول صورت جسم میں رطوبات کی زیادتی ہو گی جیساکہ سرد ممالک، پہاڑی علاقوں اور سمندر کے کناروں کی آبادیوں میں دیکھا گیا ہے۔ دوسری صورتِ جسم میں خشکی کی زیاتی جیسے سرد خشک یاانتہائی خشک گرم علاقوں ، ریگستانوں میں انسانی مزاجوںمیں پائے جاتے ہیں۔گویا جب جسم میں گرمی سے زیادہ خشک یا رطوبت پیدا ہوجائے گی۔ یقیناً نزلہ ہوجائے گا۔اکثراطباء ، معالجین اور ویدوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ نزلہ صرف کی زیادتی اور کف کے بڑھ جانے سے پیداہوتا ہےاور اس لئے وہ اکثر خشک اورحابس ادویہ اور اغذیہ کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ خیال بالکل غلط ہے نزلہ زکام جس طرح رطوبت کی زیادتی سے پیدا ہوتا ہے، ویسے ہی خشکی سے پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ خشکی جسم میں انقباض پیدا کرتی ہے اور انقباض بغیر سردی کےنہیں ہوسکتا۔
حکمت کا یہ قانون یاد رکھیں کہ سردی ہر شے میں سکیڑ پیدا کرتی ہے اور گرمی ہر شے کو پھیلا دیتی ہے۔ گویا خشکی کی زیادتی بھی سردی پیدا کرتی ہے۔البتہ خشکی گرمی کے بہت قریب ہے۔ کیونکہ رطوبات کو اول خشک کرنا پڑتا ہےاور پھر گرم۔ گویا سرد تر کے مقابلے میں گرم خشک کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ قانونِ فطرت ہمیشہ یاد رکھیں کہ ایک کیفیت بدلنے کی کوشش کرنی چاہیئے، دونوں کیفیات بیک وقت بدلنے سے فساد پیدا ہوتا ہے۔بلکہ تصادم کا خطرہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس لئے آیورودیک کے اصولوں کے مطابق اوّل کف کو وات میں تبدیل کرنا چاہیئےاور بعد میں پت کرنا چاہیئے۔ جیسے موسموں میں ایک ایک کیفیت بدلتی ہے۔دونوں یک دم نہیں بدلتیں۔ سرد تر موسم سے پہلے سرد خشک موسم ہوگااور اس سے پہلےگرم خشک تھا اور اس سے قبل گرم تر ہوا کرتا ہے۔ غور کیا جائےتو پتا چلتا ہےکہ ایک ایک کیفیت بدلتی ہے، دونوں اکٹھی نہیں بدلا کرتیں۔ تحقیقات اور تجربات کا معیار صرف ایک شے ہے جس کو قانونِ فطرت کہتے ہیں۔ اس کا گہرا مطالعہ ہمیشہ عقل اور حکمت میں ترقی کا باعث ہوا کرتا ہے۔جس طرح موسم کی تبدیلی میں ایک ایک کیفیت بدلتی ہے۔ اسی طرح انسانی عمروں میں بھی ایک ایک کیفیت تبدیل ہوتی ہے۔ بچے کا مزاج گرم تر ہے، جوانی میں یہی مزاج گرم خشک ہوجاتا ہے، گرمی قائم رہتی ہے اور رطوبت بچے کے مقابلے میں بہت کم ہوجاتی ہے۔پھر ادھیڑ عمر مزاج سرد خشک ہوجاتا ہے گویاخشکی قائم رہتی ہےمگرگرمی جوانوں کی نسبت بہت کم ہوجاتی ہےاسی طرح بڑھاپے کا مزاج سردترہے۔گویا انتہائی حرارت سے دور، یہاں تک کہ خشکی بھی ختم، جو حرارت کے قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں اور بوڑھوں میں مرض زیادہ ہوتا ہے کہ دونوں میں رطوبت کی زیادتی ہوتی ہے۔ چونکہ بچے میں رطوبت کے ساتھ گرمی زیادہ ہوتی ہےاس لئے اس کا نزلہ زکام اسہال کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور بوڑھے انسان میں اکثر بلغمی دمہ کی صورت اختیارکرجاتا ہے۔ ان حقائق سے ثابت ہوا کہ رطوبت اور خشکی دونوں کی زیادتی حرارت کو کم کردیتی ہے البتہ خشکی بہت جلد گرمی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ان تاریخی واقعات و وسعتِ مشاہدات اور تحقیقاتی و تجرباتی حقائق کو اگر سامنے رکھاجائے تونزلہ زکام سے بچاؤ، قیامِ شباب، جوانی کا دوام اور صحت کے رکھ رکھاؤ کےلئے ایک اچھی خاصی حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ اگر جسم میں حرارت کی زیادتی رہے تو اس دکھ میں گرفتار نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اگر کوئی دکھ میں گرفتار ہوجائے تو اس کے علاج میں بھی حرارت کا زیادہ کرنا اوراس کو قائم رکھنانہایت اہم اور ضروری ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ کوئی ذی روح اس دکھ میں گرفتار نہیں ہوگا اور ہرمریض اس مرض کے چنگل سے بہت آسانی کے ساتھ خلاصی پالے گا۔ یہاں اس حقیقت کو بھی ذہن نشین رکھیں کہ اطباء حکماء نے انسان کے مزاج کو مزاجِ حقیقی کے قریب بنایا ہے اور انتہائی صحت مند انسان کا مزاج گرم تر ہے۔ گویا گرمی صحت کےلئے ایک جزوِ لاینفک ہے، جہاں تک رطوبت کا تعلق ہے اس کے متعلق میری تحقیقات اور تجربات یہ ہیں کہ حرارت ہمیشہ خشکی کو توڑتی رہتی ہے یعنی حسبِ ضرورت رطوبت خودبخود پیداہوتی رہتی ہے۔
چونکہ اس دنیاوی زندگی میں حرارت کی بہت زیادہ ضرورت ہے اس لیے خداوندکریم نے اپنی ربوبیت سے آگ کا ایک بہت بڑا گولا جسے آفتاب کہتے ہیں اس دنیا پر قائم کردیاہے۔ جس کی حرارت ہماری دنیاوی زندگی میں نشووارتقاء کاباعث ہے۔ اسی طرح زندگی کے قیام کےلئے جو اغذیہ بنائی گئی ہیں وہ اکثر گرم ہیں اورجو سرد ہیں ان میں اکثریت سردخشک کی ہے۔ سردتراغذیہ اوّل بہت ہی قلیل ہیں۔ اگر ہیں توریگستانوں میں جہاں غذاکے ساتھ پانی کی بھی ضرورت ہوجاتی ہےجسے تربوز وغیرہ۔ جولوگ بلاوجہ اور بغیر ضرورت سردتر اغذیہ اور اشیاء کا استعمال کرتے ہیں وہ بلاوجہ اپنے اندر بوڑھوں کا مزاج پیدا کرکے بڑھاپے کو دعوت دیتے ہیں۔ اور اکثر نزلہ زکام میں گرفتار رہتے ہیں مثلاً دودھ کی کچی لسی، شربت اور تربوز وغیرہ ۔ اسی طرح پیٹ بھر کر غذاکھا لینے سے بھی حرارتِ جسم کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح پیٹ کو کبھی بھوکا نہ رکھنا یعنی بغیر شدید بھوک کےغذا کھاتے رہنا بھی جسم سے حرارت کم کردیتا ہے۔اسی طرح غذا کے ساتھ کثرت سے پانی پینابھی غذائیت کی حرارت بلکہ جسم کی حرارت کو بھی بہت کم کردیتا ہے۔ گویا ہر وقت جب انسان کچھ کھائے پیئے یا کوئی اور عمل کرے تو ہمیشہ اس امرکو سامنے رکھے کہ جسم کی حرارت میں کمی تو پیدا نہیں ہورہی۔ اسی طرح نہ صرف انسان نزلہ زکام سے محفوظ رہے گا بلکہ اس کی جوانی اور صحت ہمیشہ قائم رہے گی۔
ہماری یہ پچیس سالہ تحقیقات ہیں جن کی بنیاد یورپی ریسرچ اور فرنگی سائنس پر نہیں ہے بلکہ ٹھوس مشرقی علم وطب اور فلسفہ وحکمت پر ہے۔ ہماری یہ تحقیقات و تجربات اور مشاہدات ان لوگوں کےلئے راہ نمائی ہدایت اور سرمۂ چشم بصیرت ثابت ہوں گی۔ جو یہ کہتے ہیں کہ علمِ تحقیقات اور سائنسی ریسرچ صرف فرنگی اور یورپی ممالک کا کام ہے ان کواپنے دماغ سے نکال دینی چاہیئے کہ انسانی دماغ صرف یورپی اور فرنگی ممالک میں تیار ہوتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو قدرت حاصل ہے کہ جس ملک اور جس قوم میں چاہے اچھے اور باشعورذہن پیداکردے۔ ایسے دماغ جن کا شعوروجد ان کے مقام تک پہنچ گیا ہو یا ایسے ذہن جو عقل کی بلندیوں کو ناپتے ہوں اور ایسافکر جوفطرت کے ہرراز اور اشارہ کو پانے اورسمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے زمانے کے غلط علم و فن اور فرسودہ نظام، فلسفہ و حکمت کی اصلاح و تجدید کرتا ہے بلکہ موجودہ دور کےتمام اہلِ فن اور ماہرینِ فلسفہ و حکمت کو چیلنج کردیتا ہے۔ ہمارا چیلنج ہے کہ جو تحقیقات و تجربات اور مشاہدات ہم پیش کر رہے ہیں یورپ و امریکہ اور روس و چین کو بھی ان سے واقفیت نہیں ہے جو بھی کوئی یہ ثابت کرے کہ یہ تحقیقات و تجربات اور مشاہدات کسی ملک یا کسی زبان میں تحریر میں آچکے ہیں یا یہ ثابت کرے کہ ہماری تحقیقات غلط ہیں اور ماڈرن سائنس کے اصول یا گزشتہ فلسفۂ حکمت کے قوانین ان کو غلط ثابت کرتے ہیں تو اس کو مبلغ ایک ہزار روپیہ انعام دیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ کسی فرنگی یا فرنگی ذہن کو سامنے آنے کی جرات نہ ہوگی اور انشاء اللہ تعالیٰ ہماری قوت ان کو تسلیم کرنی پڑے گی۔
یہ سب کچھ اس لئے لکھا ہے کہ ہم دنیا کودعوتِ تحقیقات دیتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تحقیقات کے صرف وہی طریق نہیں ہیں جن پر فرنگی اور یورپی اقوام گامزن ہیں۔ بلکہ فطرت ہرقدم پر ایک نیا سبق اور ہرموڑپر ایک نیامظہر پیش کرتی ہیں۔ کام کرنے والوں کے لئے بہت بڑی راہیں ہیں اور ہرایک کےلئے ایک نئی دعوتِ عمل ہے۔ صرف جرات کی ضرورت ہےدونوں میں انسان نہ صرف اپنی بلکہ اقوام کی دنیا بدل کر رکھ سکتا ہے۔ انہی فطرت کے اسرار و رموز کو سمجھنے کےبعد ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم احیائے فن اور تجدیدِ طب کر رہے ہیں۔ اگر اس انداز پر دنیا میں کسی جگہ پر ایسا مفید خلائق و اقوام کام ہورہاہو تو ہمیں آگاہ کیا جائے، نہیں تو ہر اہلِ علم اور ماہر فن کا فرض ہوگا کہ وہ اس احیائے فن اورتجدید طب کو اپنائے اور یہ پیغام دنیا تک پہنچادے، یہ کارِخیرہے۔ آخر میں ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ہماری ان تحقیقات کو جو ہم نے عملی ومنطقی اورتحقیقاتی و سائنسی دلائل کے ساتھ پیش کردی ہیں یہ فطرت کےقوانین کی تفسیریں ہیں۔ جو اشخاص بھی ان پر عمل کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ضرور کامیاب ہوں گے اور جو اہلِ فن اور معالج ان حقائق کو ذہن نشین رکھیں گے وہ ان امراض کے علاج میں یقیناً کامیاب ہوں گے اورآئندہ اُن کاقدم مزید تحقیقات کی طرف ضرور بڑھے گا۔ ہم نے وقت کی قلت کے پیشِ نظر بہت اختصار سے کام لیا ہے، اس میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ دیگر تحقیقات کے سلسلہ میں سب کچھ بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن جو بیان کرنا ہے وہ اس قدرزیادہ ہے کہ جو وقت ملتا ہے شایداس میں بیان نہ کیا جاسکے۔ بہرحال زندگی بھر انشاء اللہ تعالیٰ بیان کرجاری رکھنےکی کوشش کی جائے گی۔
از: حکیم وڈاکٹر جناب دوست محمد صابر ملتانی صاحب

زلہ زکام کی حقیقت اوراس کا بے خطا یقینی علاج
فارسی زبان میں ضرب المثل ہے کہ “نزلہ برعضو ضعیف می ریزد” جس کو اردو زبان میں اس طرح ادا کرتے ہیں کہ نزلہ کمزوروں پر گرتا ہے۔ مطلب دونوں زبانوں میں یہ لیاجاتا ہے کہ مشکلات، مصیبتیں، سختیاں اور ذمہ داراریاں ہمیشہ غریب ومحتاج اور نحیف وکمزور انسانوں پرہی پڑتی ہے۔ اس ضرب المثل کا مطلب یہ بھی صحیح ہے لیکن میری تحقیقات میں اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ غریب ومحتاج اور نحیف و کمزور انسانوں کی ہمیشہ مدد کی جاتی ہے جس کی تشریح ہم آئندہ بیان کریں گے۔ممکن ہے کہ صاحبِ ضرب المثل کا بھی یہی مفہوم ہو مگر یہ کہا نہیں جاسکتا کہ یہ ضرب المثل کس نے تخلیق کی یہ خالص ایرانی ہے یا افغانی یا ہندوستانی یا کسی اور ملک میں تخلیق کی ہے جس میں فارسی زیادہ بھی بولی جاتی ہو یا عربی زبان کسی اور زبان سے فارسی میں رائج ہوگئی ہے۔ بہرحال اپنے اندر حقائق رکھتی ہے۔ جہاں تک میں نے مختلف ضرب المثل پر غورکیا ہے ان میں بے شماراسرارورموز پائے ہیں۔ مجھے نہ صرف ان میں علم و حکمت کے خزانے دستیاب ہوئے ہیں بلکہ بے انتہامسرت نصیب ہوئی ۔ یہی صورتیں اورلطائف اس ضرب المثل سے بھی حاصل ہیں۔ باربار یہی خیال پیدا ہوتا ہے کہ کس قدر ذہین انسان تھا جس نے یہ ضرب المثل تخلیق کی ہے اور اس میں زندگی کے کس قدر اسرارورموز حل کردئیے ہیں نہ صرف اس میں نزلہ کی حقیقت کو واضح کردیاہے بلکہ زندگی اورکائنات اور خصوصاً جوانی اور بڑھاپے کے اسرارو رموز کھول کربیان کردئیے ہیں۔ ہم ایسے ہی لوگوں کو علم و حکمت اور سیاست و ثقافت میں سنگِ میل خیال کرتے ہیں۔ جب نزلہ کی ماہیت سامنے آجائے گی تواس ضرب المثل کی حقیقت واضح ہوجائے گی۔ گویانزلہ کی ماہیت سے اس ضرب المثل کی حقیقت ہوگی اور پھر اس ضرب المثل کی حقیقت میں نزلہ کی ماہیت کے ساتھ ساتھ زندگی و کائنات اور جوانی و پیری کے اسرار ورموز سامنے آجائیں گے۔ پھر ناظرین اندازہ لگا سکیں گے کہ اس ضرب المثل کاخالق کس قدرعظیم مفکرتھا۔
تعریف نزلہ زکام
نزلہ کے معنی ہیں گرنا، اس میں عام طورپروہ رطوبت مراد لی جاتی ہےجوحلق اور ناک سے گرتی ہے۔ فرق صرف یہ کیا جاتا ہےکہ جورطوبت حلق سے گرتی ہےاس کو “نزلہ” کہتے ہیں اور جب رطوبت ناک سے گرتی ہےتو اس کو”زکام” کہتے ہیں۔حکماء میں ایک تخصیص یہ بھی ہے کہ اگر رطوبت گرمی کی زیادتی سے گرےتو اس کو “نزلہ” اور سردی کی سے گرے تو اس کو”زکام” کہتے ہیں۔

اعتراض
آج تک اس امر پر کسی فرنگی ڈاکٹرنے روشنی نہیں ڈالی کہ نزلہ ہمیشہ حلق سے کیونکرگِرتا ہے اور زکام ہمیشہ ناک سے کیوں بہتاہے۔ بعض فرنگی ڈاکٹروں نے اس فرق کی وجہ گرمی اور سردی کی کیفیات کی زیادتی کو سبب قرار دیا ہے مگر فرنگی طب تو گرمی سردی تسلیم ہی نہیں کرتی۔ اس لئے ان فرنگی ڈاکٹروں کی یہ توجیہ قبول نہیں کی جاسکتی۔ اگر فرنگی ڈاکٹروں کی یہ توجیہ قبول بھی قبول کرلی جائے تو یہ حقیقت بیان کرنے قاصر ہے ہیں کہ نزلہ حلق سے کیوں گرتا ہے اور زکام ناک سے کیوں بہتا ہے اور کبھی ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ نزلہ سردی کی وجہ سے حلق سے گرے یازکام گرمی کی وجہ سے ناک سے بہہ جائے یا اس کے برعکس نزلہ گرمی کی وجہ سے ناک سے بہنا شروع کردے یا زکام سردی کی وجہ سے حلق سے گرنا شروع کردے۔آخر ناک اور حلق کی رطوبت کے بہنے اور گرنے میں سردی اور گرمی کا کیا فرق ہے؟ اس سلسلے میں ان کی جراثیم تھیوری بھی خاموش ہے کہ فلاں قسم کے جراثیم کے اثر سے حلق سے نزلہ گرنا شروع ہوجاتا ہے یہ اور اسی قسم کے جراثیم کے اثر سے حلق سے نزلہ گرناشروع ہوجاتاہے یہ اور اسی قسم کی بے شمارفرنگی طب کی لاعلمیاں اور غلط نظریات ہم دنیائے طب کے سامنے پیش کریں گے اور ان کے جوابات سے انہیں عاجز کردیں گےاور خود تسلی بخش جوابات دیں گے اور تشریحات بیان کریں گے۔ دیکھنے والے فرنگی طب کی گرتی ہوئی عظیم عمارات کو دیکھ کرنہ صرف حیران ہوں گے بلکہ اس کے بودےپن پر تمسخر اڑائیں گے۔ وَمَا تَوفِیّیِقی اِلاّ بِاللہِ۔

نزلہ زکام کا غلط تصور
نزلہ زکام جب دونوں ایک ہی قسم کی رطوبات ہیں جو حلق سے گرتی ہیں یا ناک سے بہتی ہیں۔ تو پھر ناک و حلق اور سردی و گرمی کی تخصیص کیوں بلکہ الگ الگ ناموں “نزلہ زکام”کا فرق ہی کیوں ہے۔ کیونکہ دونوں صورتوں میں رطوبت کاگرناہی ہے بہرحال اس کو نزلہ کہہ دینا کافی ہے۔اس میں زکام کی تخصیص کیوں لگا دی ہے۔ اگر سردی ہی کی ایک وجہ تو وہ صرف ناک تک کیوں مخصوص ہو حلق تک اثر کیوں نہ کرےیا نزلہ کی گرمی صرف حلق تک کیوں مخصوص رہے وہ ناک تک کیوں نہ جائے۔ کتنا حیرت انگیز فرق ہےاور قابلِ غورہے مگر صدیاں گزر گئیں فرنگی طب اس پر غور کرنے سے قاصر رہی ہے۔
فر ق کیوں؟
یہ فرق ہمں صرف اس لئے نظر آتا ہے کہ دونوں رطوبات مختلف اعضاء سے گرتی ہیں اور ان کے مقامات مختلف ہیں۔ گویا ایک مقام سرد ہےاور دوسرا مقام گرم ہےیا ایک کا تعلق جسم کی اس حالت کانام ہے جب جسم پرگرمی کا غلبہ ہے۔ گویاحلق گرمی کا اظہار کرتاہےاور ناک سردی سے متاثر ہوجاتی ہے۔اگرچہ دونوں ساتھ ساتھ ہیں مگر نہ حلق سردی سے متاثر ہوتاہے اور نہ ناک گرمی کا کوئی ا ثر قبول کرتا ہے۔ یہ ہے وہ جادو جو سر چڑھ کربولے کہ امراض کا تعلق کسی خاص جراثیم سے نہیں ہے بلکہ اعضاء کی خرابی اور کیفیات کے کیمیائی تغیرات سے ہے ۔ ہر عضو اپنے خاص افعال انجام دیتا ہے ان کا اعتدال قائم رہےتوصحت ہے اور جہاں اعضاء کے افعال میں خرابی واقع ہوتو امراض پیداہوگئے۔بس یہی مرض ہے اور یہی اس کی حقیقت ہے او رعلاج میں بھی جراثیم کوفناکرنےکی بجائے اعضاء کے افعال درست کرنے پڑیں گے۔ صدیوں کےپرانے طریِقِ علاج آیورویدک اور طبِ یونانی میں کرتے چلے آرہے ہیں اور آج بھی ہم دیکھتے ہیں، ہومیوپیتھی اور بائیوکیمک وغیرہ بغیر جراثیم کش ادویات کے علاج کررہے ہیں۔ گویافرنگی طریقہ علاج انتہائی غلط اور گمراہ کن ہے، اتنے واضح دلائل کے بعد بھی جو تسلیم نہ کریں وہ برخود غلط اور گمراہ ہیں۔

آیورویدک میں نزلہ کی اہمیت
آیرویدک میں نزلہ زکام دونوں کو کف دوش کے تحت بیان کیا گیاہے۔ مگر نزلہ کبھی بھی کف ودوش کے تحت نہیں پیداہوتا۔ یعنی جب بھی نزلہ پیداہوتا ہے تو جسم میں وات کی زیادتی ، وات پت کا غلبہ پایا جاتا ہے۔ گر وید صاحبان کوغورکرنے کا موقع نہ ملاہوتواب غورکرکے تسلی کرلیں۔ افسوس! اچھے وید کاملنابہت مشکل ہے، کہیں دس ہزار ویدوں میں ایک اچھا وید مل جائے توکہہ نہیں سکتےجو آیورویدک کے اصولوں پر علاج کرتا ہو۔ پڑھتے تو آیورویدک پشتک سب ہیں مگر علاج کرتی دفعہ اپنے بنیادی اصولوں کو چھوڑکرصرف مجربات سے علاج کرتے ہیں اس وقت دوشوں اور ان کے مقامات کو بھول جاتے ہیں۔ وید صاحبان اپنے دھرم ایمان سے اپنے گریبان میں ڈالیں اور پرماتما کو حاظر ناظر سمجھتے ہوئے اپنا امتحان کریں کہ وہ دوشوں کے مقام اور ان کی تبدیلیوں سے واقف ہیں۔اگر ایسا نہیں ہے تو ان کو راج وید کہلانے کا کیا حق ہے۔ افسوس ہندوستانی حکومت کے افسران میں ایک شخص بھی آیورویدک سے واقف نہیں ہے۔ وہاں کے مہا منتری پنڈت جواہرلال نہرو اور راشٹری پتی راجندرپرشادآیورویدک کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں۔ اگردونوں صاحبان آیورویدک کے بنیاد قوانین سے کچھ بھی واقف ہوتے تو میں دعویٰ سے کہتاہوں کہ آج جب کہ آزادی کابھارت کوچودھواں سال ہے فرنگی طب کاوہاں پر نام ونشان نہ ہوتا۔ حیرت ہےکہ بھارتی محبِ وطن ایک غلط شے کوگلے سےلگائے بیٹھے ہیں اور ملک بھرکوذہنی غلام بنا رکھا ہے۔یاد رکھیں کہ آیورویدک ایک صحیح طریقِ علاج ہے بلکہ میں اس کو الہامی طریقِ علاج سمجھتا ہوں۔ یہ واقعی بھگوان کا اپنے بندوں پر بہت بڑا احسان ہے جوان کی پرماتماشکتی کی وجہ سے اس دنیا پر ہے۔ اور جولوگ کم از کم آیورویدک کے بنیادی قانونِ پیدائشِ امراض کوجانتے ہیں وہ نہ صرف اس سے پوری طرح مستفید ہوتے ہیں بلکہ اس عظیم اور الہامی علاج کی سچائی کے قائل ہوجاتے ہیں۔
جانناچاہیئے کہ آیورویدک میں امراض کی پیدائش میں تین باتوں کوتسلیم کرتے ہیں۔اول۔ دوشوں میں کمی۔دوم۔ دوشوں کےمقامات کا بدل جانا۔سوم۔دوشوں میں خرابی کاواقع ہوجانا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کف نزلہ زکام کی علامت ضرور ہےمگرجب کف ناک سے بہتا ہے تو اس وقت اس کاکیامقام ہے اور جب کف حلق سے گرتا ہے تو اس کا مقام کیا ہےاور جب دوشوں میں کف بڑھ جائے تو اس کے اثرات کیا ہیں اورجب پت بڑھ جائے تو اس کی کیا علامات ہیں۔ ان مقامات اور کمی بیشی اور دوشوں کی خرابی کو کیسے درست کیاجاتا ہے۔ ایک اچھا وید ہی سمجھ سکتا ہے۔ علاج کے دوران ہم اس پر روشنی ڈالیں گے۔

طبِ یونانی میں نزلہ کی حقیقت
طبِ یونانی میں نزلہ کو گرمی اور زکام کو سردی سے تسلیم کرتے ہیں۔مگر دونوں کو بلغمی مرض مانتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابلِ غور ہےکہ جب نزلہ زکام دونوں بلغمی امراض ہیں بیشک نزلہ کی بلغم میں صفرا شریک ہے تو پھربھی ہم اس کو پورے طورپر صفراوی مرض تو نہیں کہہ سکتے، بہرحال یہ بلغمی ہے۔ اس کو گرم مرض تسلیم کرنا کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اگر نزلہ گرم تسلیم کرلیا جائے تو اس کا علاج نہیں ہوسکتا اور یہی وجہ ہے اکثر اطباء نزلہ کے علاج میں ناکام ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آج تک کسی طبیب نے نزلہ سرد تسلیم نہیں کیا کیونکہ جہاں سردی کا تصور پید اہو وہاں نزلہ فوراً زکام میں تبدیل ہوگیا اور یہ تخصیص نہیں ہے تو پھر نزلہ زکام کا فرق کیوں ہے۔ہماری تحقیقات میں یہ فرق ہے صحیح ہے اور ہونا بھی چاہیئے۔ واقعی سردی سے زکام ہوتا ہے اور گرمی سے نزلہ گرتا ہے۔ یہ فرق اعضاء کے افعال کے فرق کی وجہ سے ہے۔ نزلہ اورزکام دونوں الگ الگ علامات ہیں ان میں جدا جدا اعضاء کے افعال میں خرابی واقع ہوجاتی ہے۔ جس کی تشریح آئندہ صفحات میں پیش کی جائے گی۔ پھر فرنگی طب کو چیلنج ہوگا کہ وہ اس کا جواب دے۔ طبِ یونانی میں نزلہ زکام دماغی امراض میں لکھاہے اور طبی کتب میں لکھا ہےکہ نزلہ دماغ سے گرتا ہے ۔ مگر عرصہ تقریباً پچیس سال سے اکثر اطباء جوفرنگی طب کوکتب ِ سماوی سے کم خیال نہیں کرتے اُن کی پیروی میں کہتے ہیں کہ نزلہ دماغ سے نہیں گرتا اور ثبوت یہ پیش کرتے ہیں کہ دماغ سے کوئی راستہ ناک کی طرف نہیں آتا اور نہ ہی حلق کی طرف آتا ہے، اور دوسرا یہ ثبوت پیش کرتے ہیں کہ نزلہ زکام میں ناک اور حلق کے اندر کی جھلیوں میں سوزش ہوتی ہے اور رطوبات وہاں سے گرتی ہیں
افسوس ایسے فرنگی مقلد اطباء پر ہے کہ انہوں نے اپنےصحیح علم و ناقص خیال کرتے ہوئے فرنگی طب کے غلط علم (سائنس) کو قبول کرلیا ہے۔ جاننا چاہیئے کہ نزلہ دماغ ہی سے گرتا ہے۔اول اس پر دلیل یہ ہے کہ نزلہ میں درد سر ہوتا ہے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ دورانِ خون سر کی طرف زیادہ ہوجاتا ہے۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ مزمن نزلہ میں ضعفِ دماغ اور دیگر دماغی عوارض مثلاًفالج، لقوہ، حذر اوار تشنج بلکہ بال سفیدہوجاتے ہیں۔ اگر یہ کہاجائے کہ اس کا کیا جواب ہے کہ دماغ سے کوئی راستہ ناک اور حلق کی طرف نہیں آتا تو ان بھلے لوگوں کو کون سمجھائےکہ ناک اور دماغ کے درمیان جو جالی دار ہڈی ہے اسی میں سے اعصاب اور شرائین ناک میں آکر پھیلتے ہیں بلکہ شرائین سےخون آتا ہےوہ وہی ہوتا ہے جو چھوٹا دورانِ خون دماغ کی طرف چلتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ سیدھی دماغ سے رطوبت نہیں گرتی مگر رطوبت گرنے کا فعل تو عروقِ شعریہ کے بعد ہوتا ہے جو ناک اور حلق میں پھیلی ہوئی ہیں جب نزلہ زکام لاحق ہوتا ہے تو دورانِ خون کا دباؤ دماغ کی طرف بڑھ جاتا ہے پھر سوزش کے مقام پر عروقِ شعریہ بہ تعلق غشائے مخاطی اور غدد خون کی رطوبت(Limp)یا بلغم کی صورت میں اخراج پاتی ہے۔ اب کوئی فرنگی ڈاکٹر بتائے کہ نزلہ زکام امراض دماغ میں شامل ہوا کہ نہ ہوا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری تحقیق میں نزلہ زکام امراض نہیں ہیں بلکہ ہم علامات تسلیم کرتے ہیں۔ جادووہ جو سر چڑھ کر بولے۔جو تفصہل ہم نے بیان کی ہے اس کے لئے ہم فرنگی طب یا ان کے مقلدین کو چیلنج کرتے ہیں کہ اگرکوئی اس کو غلط ثابت کردے تو ہم پانچ صد روپیہ انعام دیں گے ورنہ ان کو نہ صرف یہ تسلیم کرناپڑے گا کہ نزلہ دماغ سے گرتا ہے بلکہ فرنگی طب کو غلط بھی کہنا پڑے گا۔ یہ امر بھی یاد رہے کہ جب نزلہ لاحق ہوتا ہے تو اس وقت دماغ کو پوری غذا خون میں سے میسر نہیں آتی یعنی خون مقامِ سوزش کی طرف تیز بہاؤ کی وجہ سے وہ اپنی غذا کو پورے طورپر جذب نہیں کرسکتا ہے بلکہ وہاں بھی رطوبت کی اس قدر زیادتی ہوجاتی ہے کہ آخر اس کے اثر سےبال سفید ہوجاتے ہیں بعض قابل اطباء نزلہ زکام کی ایک صورت شرکی بھی لکھتے ہیں اس صورت میں دل جگر اور معدہ کو اسباب میں شمار کرلیتے ہیں۔ بہرحال نزلہ کا صحیح تصورپھربھی ذہن نشین نہیں ہوتا۔ اس لئے نزلہ کوعسرالعلاج امراض میں شمار کیا گیا ہے۔ شاید ہی کوئی کامل طبیب اور ماہر فن ہوجواس امرکا دعویٰ کرے کہ وہ نزلہ زکام پر پوری طرح قابو رکھتا ہے۔

فرنگی کی نزلہ زکام کےمتعلق ریسرچ
فرنگی طب(ڈاکٹری) اس مرض کا باعث جراثیم قرار دیتی ہے لیکن اس کےلئے کسی خاص قسم کے جراثیم کا تعین نہیں کرتی اس وقت تک سات اقسام کے جراثیم معلوم کرچکی ہے جن سے نزلہ زکام ہوتا ہے جن سےناک اور گلے میں سوزش سے پیدا ہوجاتی ہے، پھر زکاماور نزلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اول تو فرنگی طب کا نظریہ جراثیم غلط ہےکیونکہ جراثیم سببِ واصلہ نہیں ہیں بلکہ سببِ بادیہ اور سابقہ ہیں۔ جب تک جراثیم میں اور عفونت اور عضو میں سوزش پیدا نہ کریں ، نزلہ کی صورت پیدا نہیں ہوسکتی۔ یہ ان کا سبب سابقہ ہے نہ کہ واصلہ، اور بادیہ صورت میں جب تک کیفیاتی اور نفسیاتی طورپر قوتِ مدافعت (Immunity)اور قوتِ مدبرہ بدن(Vital Force) کمزورنہ ہو جراثیم اپنا اثر پیدا نہیں کر سکتے۔ یعنی کیمیائی اثر ہویامیکانکی عضوی خرابی مقدم ہے۔ اس سے امراض پیدا ہونے ہونے میں جراثیم کا تصوراور جرم کُش ادویات کا استعمال دونوں بے سود ہیں، اور دلائل کے طورپرہم تجربہ پیش کرسکتے ہیں کہ فرنگی طب (ڈاکٹری) نزلہ اور زکام کے علاج میں بالکل ہی ناکام ہیں۔ نزلہ اور زکام کا بہاؤ روک دینا اور سوزش، جلن کو دورکردینا کوئی علاج نہیں ہے۔ یہ بات تو افیون اوار دیگر منشی و مخدر ادویات کے ساتھ ایک ہی خوراک سے روکی جا سکتی ہیں۔ ان کے علاوہ اسپرین اور دیگر پسینہ آور ادویات سے بھی چند خوراکون سے روکا جا سکتا ہے لیکن جہاں تک ان کے مستقل علاج کا تعلق ہے فرنگی طب بالکل ناکام ہے۔ دوسری فرنگی طب کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ نزلہ زکام میں کیفیاتی اوار نفسیاتی اثرات بھی اپنے شدید اثرات رکھتے ہیں جہاں جراثیم کا تصور بھی ذہن میں نہیں گزرسکتا مثلاً اگر کوئی فرنگی ڈاکٹر ان شدید اثرات کو تسلیم نہیں کرتا توہم ان کو ایک تجربہ کی دعوت دیتے ہیں ۔ یعنی کسی تندرست انسان کو گرم گرم چائے پلاکر برف کے ٹھنڈے پانی سے فوراً غسل کرا دیں اور نتیجہ دیکھیں۔ اسی طرح شدید ٖم و غصہ اور خوف کی حالت میں بھی نزلہ زکام لاحق ہوجاتے ہیں، تجربہ شرط ہے بلکہ انتہائی مسرت و لذت اور ندامت میں بھی نزلہ زکام پیداہوجاتا ہے۔تیسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ فرنگی طب(ڈاکٹر) نزلہ زکام کی رطوبت کے بہاؤ(Flu) کو ایک ہی قسم کی رطوبت سمجھتی ہے۔ جو جراثیم کے اثرات سے اخراج پانا شروع ہوجاتی ہے۔ لیکن تجربہ ہمیں یہ بتاتا ہےکہ جب ناک اورگلے کے اعصاب میں سوزش ہوتی ہے، اس وقت ان کی کیفیت اور ہوتی ہے۔ جب غشائے مخاطی میں سوزش ہوتی ہے اس وقت صورت اور ہوتی ہے اور جو وہاں کے عضلات(Muscles) میں سوزش ہوتی ہے تو حالت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ گویا آج تک کی ماڈرن فرنگی طب اور طبی سائنس اور میڈیکل سائنس جسمِ انسان کے مفرداعضاء کے اثرات اور علامات سے بالکل ناواقف اور نابلد ہے۔ اگر کوئی ڈاکٹر یہ دعوی کرے کہ فرنگی طب اس قسم کی تشخیص اور تحقیقات سے با خبر ہے جو وہ اپنی کسی کتاب میں دکھا دیں ۔ ہم اس چیلنج کے جواب میں مبلغ پانچ صد روپیہ بطور انعام پیش کریں گے۔ اگرجرات ہے تو چیلنج قبول کرلیں۔نزلہ زکام ایسی علامت ہے جو ہر مرض میں کسی نہ کسی صورت میں سب سے پہلے ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس سے دیگر علامت پیدا ہوتی ہیں۔ ایک ہی علامت کا مختلف اعضاء سے متعلق ہونے سے اس میں کمی بیشی کا پایا جانا۔ مثلاً نزلہ ایک روزانہ ہونے والی علامت ہے۔ کبھی وہ انتہائی شدت سے بہتا ہے، کبھی کمی سے گرتا ہے، کبھی بند معلوم ہوتا ہے، بہرحال وہ بھی نزلہ میں شمار ہوتا ہے، کبھی اس کے ساتھ سرد رطوبت گرتی ہے، کبھی اس کے ساتھ جلن ہوتی ہے اور گرم رطوبت بہتی ہے۔کبھی دردِ سر ہوتا ہے یا سر بھاری معلوم ہوتا ہے، کبھی بدن سرد اور کبھی شدید بخار پایاجاتا ہے، کبھی معمولی بخار اور جسم ٹوٹتا ہے، کبھی اس میں قبض پائی جاتی ہےاور کبھی ساتھ ہی اسہال آنے شروع ہوجاتے ہیں ۔ بہرحال نزلہ ضرورہوتا ہے۔ اس لئے ان تمام صورتوں کے ساتھ نزلہ کوپورے طورپر ذہن نشین کر لینا چاہیئے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
نزلہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ابوالامراض ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کو کسی صورت میں بھی مرض نہیں کہا جاسکتا ۔ وہ صرف ایک علامت ہےجو یہ ظاہر کرتی ہےکہ رطوبت حلق میں گر رہی ہے (1)۔اگریہ کہا جائے مرض کی تعریف یہ ہے کہ وہ چند علامات کا مجموعہ ہے۔ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ نزلہ صرف واحد علامت ہے اوراس کےساتھ جو دیگرعلامات پائی جاتی ہیں وہ اکثر مختلف ہوتی ہیں اس لئے اس کے کسی مجموعہ کانام مرض رکھا جائے گا۔(2) ۔ پھر صرف نزلہ ہی کو مرض کا نام کیوں دیاجائے، اس کے ساتھ دردیا سوزش یابخار، اسہال یا قبض یا بدہضمی وغیرہ جوپائے جاتے ہیں، ان کو امراض کانام کیوں نہ دیا جائے۔(3)۔ نزلہ کسی عضو کے فعل کے فعل کی خرابی سے واقع ہوتا ہے۔ اس لئے مرض اس عضو کے فعل کو کہنا لازم ہے نہ کہ نزلہ جو اس عضوکے فعل کی خرابی پر دلالت کرتا ہے۔ یہی صورت قبض کی بھی ہے جس کوامّ الامراض کہاگیا ہے۔ بس جاننا چاہیئے کہ نہ ہی نزلہ ابوالامراض ہے اور نہ قبض اُمّ الامراض ہے دونوں اپنی اپنی جگہ علامات ہیں۔

اسباب نزلہ زکام
آیورویدک اور طبِ یونانی اس مرض کے اسباب کیفیاتی و نفسیاتی اور مادی تسلیم کرتے ہیں۔ مگر فرنگی طب اس مرض کے متعلق تسلیم کرتی ہے کہ یہ مرض بہت سے اقسام کے جراثیم کے اثر سے ہوتا ہے ، کسی ایک جرثومہ سے نہیں ہوتا۔ وہ تسلیم کرتی ہے کہ ان میں بعض اقسام کے جراثیم تو ایسے ہیں جو عموماً بحالتِ تندرستی انسان کے گلے اورناک کے پچھلے حصہ میں کثرت سے موجود ہوتے ہیں مگر جب وہ (بے تھوجے)تک یعنی بعض کسی خاص تبدیلی کی وجہ سے ان میں زہریلااثر پیدا ہوجاتاہے تو مرض پیداکرنےکے قابل ہوجاتے ہیں۔ اس امرسے تو کوئی فرنگی ڈاکٹر انکار نہیں کرسکتا کہ نزلہ زکام ایک متعدی مرض ہے اور اس کا سبب متعدی جراثیم ہیں۔ لیکن بعض ڈاکٹرایسے بھی ہیں جن میں ڈاکٹرلوئیس مل خاص طورپر قابلِ ذکر ہیں۔ جنہوں نے 891 مریضوں کو دیکھنے کے بعد اپنی رائے ظاہر کی ہے کہ یہ مرض بغیر جراثیم کے بھی ہوسکتا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ جو محققین اس کو جراثیمی مرض بتاتے ہیں وہ بھی کسی ایک خاص جرثومہ کو اس کاسبب نہیں بتا سکتے ہیں۔ اگر چہ بعضوں کا خیال ہے کہ ایک نازک جرثومہ سے یہ مرض پیدا ہوسکتا ہے۔ وہ اس قدر نازک اور مہین ہوتا ہے کہ فلٹر کی بتی سے گزر سکتا ہے، مگر درحقیقت اس مرض کے دو قسم کے اسباب ہیں۔ اول۔ خاص جسمانی حالت جن میں جسمِ انسانی پر حرارت و برودت کا خاص اثر ہے۔ دوم۔ بعض جراثیم کی سمیات، مگر تاحال کوئی خاص جرثومہ جواس کا اصل سبب ثابت ہو سکے دریافت نہیں ہوا۔(از خزائن طب صفحہ: 707، 708)
از حکیمِ انقلاب: حکیم صابر ملتاؔنی۔۔1960ء

نزلہ زکام کے جراثیم
اس وقت تک چونکہ نزلہ زکام کے سبب میں کسی خاص جرثومہ کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ بلکہ کئی اقسام کے جراثیم سے اس مرض کا پیدا ہونا تحقیق کیاگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرنگی طب اس مرض کے کرنے میں ناکام ہے۔ کیونکہ وہ کوئی ایک دوا تما م جراثیم سے پیدا شدہ نزلہ کے لئے تیار نہیں کرسکتی اور بعض دفعہ اس کے لئے اور بھی مصیبت پیدا ہوجاتی ہے۔جب ان میں سے چند ایک کا مشترکہ زہریلا اثر اس مرض کی پیدائش کا باعث بن جاتا ہے۔(خزائن طب صفحہ 707) حقیقت یہ ہے کہ اس جراثیم تھیوری میں اس قدر خرابیاں ہیں جس قدر ان جراثیم سے دنیا میں تعفن پیداہوتا ہے۔ نزلہ زکام کے جراثیم میں سات قسم کے خاص جراثیم فرنگی طب نے تسلیم کئے ہیں۔ 1۔ فریڈلینڈرزبے سیلس۔2۔مائی کیروکالس کٹارلیس۔3۔ بی سی لس سپٹس۔4۔ بے سی لس ، انفلیوئنزا۔5۔نیوموکاکس۔6۔سٹے نی لوکالس پایوجی لس۔7۔ سپٹریٹوکاکس پایوجی نس۔ گویاان میں بے سی لائی اورکاکائی دونوں اقسام شریک ہیں۔جن کی مختصر، تشریح درج ہے۔ ان سات اقسام کے جراثیم پر بحث کرنے سے قبل ضروری ہے کہ علم الجراثیم کے متعلق بہت ضروری معلومات بے حد اختصار کے ساتھ پیش کردی جائیں تاکہ مبتدی بھی ہماری تحقیقات سے پوری طرح مستفید ہوکر فرنگی طب کی غلطیوں سے آگاہ ہوجائے۔

علم الجراثیم
فرنگی طب کی وہ شاخ ہے جس میں جراثیم کابیان ہوتا ہے، علم الجراثیم کہلاتا ہے۔ انگریزی میں اس کو (Germology) کہتے ہیں۔ جراثیم خوردبینی نباتات ہیں لیکن ان میں فرق یہ ہوتا ہےکہ دوسری نباتات کا رنگ عموماً سبزہوتا ہے جن کو”لون الاخضر”کہتے ہیں۔ جراثیم میں سبز رنگ نہیں ہوتا۔ لون الاخضر نباتی زندگی کےلئے ویسا ہی مفید ہوتا ہے جس طرح لون الاخضر حیوانات کی زندگی کےلئے۔ اس سبز رنگ کے ذریعے سے نباتات ہوا میں سے تغذیہ کا سامان اخذ کرلیتی ہیں۔ جراثیم چونکہ اس نعمت سے محروم ہوتے ہیں اس لئے تغذیہ کا سامان حاصل کرنے کےلئے ان کو دوسری نباتات اور حیوانات کا محتاج ہوناپڑتا ہے۔ ان کی اس حیثیت سے ان کو مفت خور(Parasite) بھی کہتے ہیں۔جراثیم جس وقت نباتی یا حیوانی جسم میں سے اپنے تغذیہ کےاجزاء نکالتے ہیں تو اس سے کئی قسم کی کیمیائی تبدیلیاں واقع ہوجاتی ہیں۔ازاں جملہ ایک تبدیلی تبخیر اور تعفن کہلاتی ہے۔ ان تبدیلیوں سے کئی قسم کے کیمیائی مرکبات بن جاتے ہیں۔ مختلف قسم کے گاز کاربالک ایسڈ، مارش گاز سلفیوریٹڈ ہائیڈروجن، طرح طرح کے شور اور حامض اشیاء پیداہوجاتی ہیں اور رطوبتوں کی رنگت سرخ، سبز، نیلی یا پیلی ہوجاتی ہے۔ قسم قسم کی بدبوئیں جو فضلات اور رطوبت میں سے آتی ہیں، انڈول سکٹیول وغیرہ کیمیائی مرکبات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ انہی اعما ل سے جراثیمی سمیات بھی بنتی ہیں جو صحت کےلئے مضر ہوتی ہیں اور جن کے سبب سے کئی قسم کی مہلک و خطرناک بیماریاں پیداہوتی ہیں۔لیکن سب کے سب جراثیم موذی نہیں ہوتے۔ یہ وہی”بدنام کنندۂ نکو نامے چند” والی بات ہے۔متعدی بیماریوں کے جراثیم کے سبب کل جراثیم معتوب ہورہے ہیں ورنہ بہت سے جراثیمی اعمال ہمارے لئے کارآمداور مفید بھی ہوتے ہیں مثلاً شکر سے جو شراب اور سرکا بنتا ہےاس کو جراثیم بناتے ہیں اور جراثیم کے عمل سے دہی اورپنیر بھی بنتاہے نہ صرف یہ بلکہ حیوانی امعاء کے اندر جس وقت غذاہضم ہوتی ہےتو اس سے بہت سے کیمیائی اعمال جراثیم کی مددکے بغیرواقع نہیں ہوسکتے۔ جن جراثیم کا تعلق ہمارے مضمون کے ساتھ ہے وہ متعدی امراض کے جراثیم ہیں، دوسروں کا ہم ذکر نہیں کریں گے۔(راز علم وعملِ طب ۔ازکرنل بھولاناتھ)

اقسامِ جراثیم
جراثیم کے سائز کے لحاظ سے دواقسام کی جاسکتی ہیں۔ ایک جراثیم کبیر جس کو بسلاائی(واحد لبلس) کہتے ہیں۔ دوسرے جراثیم صغیر جن کو کاکائی(واحد کاکس) ہے۔ پھر ہر ایک کی مختلف اقسام ہیں

جراثیم ِ کبیر(بسلائی)
جراثیم کبیر دیکھنے میں طولانی ہوتے ہیں اور ان کا طول ان کے عرض کی نسبت بڑا ہوتا ہے۔ بعض جراثیم بالکل سیدھے ہوتے ہیں اور خوردبین میں یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے بانس کی لکڑی کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔ دوسرے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک پہلوکو خم دار ہوتے ہیں اور کئی جراثیم کبیر پیچکس کی طرح پیچ دار ، خمداریا بل دار ہوتے ہیں۔ اکثر جراثیم کبیر شاخ دار ہوتے ہیں اور ان شاخوں کے ذریعے متحرک ہوتے ہیں۔ شاخیں عموماً ایک یا دو ہوتی ہیں جوجرم کے ایک یا دونوں سروں سے نکلی ہوتی ہیں۔ مگر بعض جراثیم کے دونوں اطراف میں لگی ہوتی ہیں۔

امراض کے لحاظ سے جراثیم کبیر کی تقسیم
اس لحاظ سے جراثیم کی تین اقسام کی گئی ہیں۔
1۔ مقامی: یہ جراثیم جسم کی کسی خاص حصہ میں داخل ہوکروہیں ساکن رہتے ہیں اور اسی مقام پر اپنے سمیات بنائے رہتے ہیں اور سمیات جذب ہوکر علامات پیداکردیتے ہیں۔ اس قسم کے جراثیم تمام جسم میں نہیں پائے جاتے ان کی مثال کزاز، خناق وبائی، ہیضہ اور پیچش ہیں۔
2۔مقامی مستقل: اس قسم کے جراثیم وہ ہیں جواول مقامی ہوتے ہیں اور بعد میں اس مقام سے منتقل ہوکر جسم کے مختلف مقامات میں پھیل جاتے ہیں اور جہاں جہاں پر جاکر سکونت اختیارکرلیتے ہیں وہاں پرنوآبادیاں بنالیتے ہیں۔ جن کے موذی اثرات سے مقامی روانی انقلابات حادث ہوجاتے ہیں۔ اس کی مثال ٹیوبرکل و دق ق سل کے جراثیم ہیں۔
3۔مستقل عامہ: اس قسم کے جراثیم بدن پر حملہ کرتے ہی تمام جسم میں پھیل جاتے ہیں اور خون و رطوبت میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں مثلاً جذام، آبلۂ فرنگ، طاعون، ملیریا، انتھراکس، تپ محرقہ اور تمام حمیات و امراض ِ عامہ کے جراثیم اس قسم کے ہوتے ہیں۔ یہاں پریہ بات یاد رکھیں کہ جدری، حصبہ، وجع المفاصل، سرخ بخار وغیرہ بھی امراض ِ عامہ میں شمارہوتے ہیں۔ جن کے جراثیم غالباً ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔ معرقہ، طاعون، انتھراکس، جذام، آنلۂ فرنگ، کزاز، ہیضہ، خناق وبائی، حیوانی پیچش، ملیریا اور دیگر حمیات و امراضِ عامہ۔

جراثیم صغیر(کاکائی)
یہ جراثیم گول گول نقطوں کی طرح ہوتے ہیں، ان کی شاخیں نہیں ہوتیں اور تشقاق سے ان کا تولد ہوتا ہے۔بحیثیت جماعت جراثیم صغیر ریم اور مِدّہ پیداکرنے والے ہوتے ہیں۔ اس لئے مختلف ا قسام کےپیداکردہ امراض ایک دوسرے کے ساتھ تبدیل ہوجاتے ہیں مثلاً سوزاک سے یا انیمیا اور—–وجع المفاصل ریمی حادث ہوجاتا ہے اور نیز سوزاک کا ورم سطح کے اتصال سے بڑھتا بڑھتا خصیتین میں منتقل ہوجاتا ہے۔ جراثیم صغیر سے جواورام حادث ہوتے ہیں وہ کئی قسم کے ہوتے ہیں۔(1) بعض تو فقط مقامی ہوتے ہیں اور ایک جگہ پرہمیشہ محدود رہتے ہیں مثلاً خراج، دمل، دبیلہ وغیرہ۔(2) ایسے تمام اورام بھی ہوتے ہیں جو مقدم مقامی ہوتے ہیں مگر اتصال سطح کے ساتھ ساتھ ورم متعدی ہوکر پھیلتا ہے اور ریم بن جاتا ہےجس کے سبب سے تاکل و تساقط اعضاء ہوتا جاتا ہے۔ حمرہ، میلگنٹ، اوڈیما، گوشت خورہ، نوما(آکلہ) اس کی مثالیں ہیں۔(3) ایک اور قسم کاورم بھی ہوتا ہے جومقدم ہوتا تو مقامی ہے مگر بعد میں اس کا اثرتمام جسم پر تیزی سے پھیل جاتا ہے۔ اس کے جسم میں سرایت کرنے کے دو(2) طریقے ہیں۔پہلی صورت میں تو یہ ہوتا ہے کہ متورم مقام پرجراثیم کےموذی اثر سے سمیات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سمیات جذب ہوکرتمام جسم کو اپنے موذی اثر سے متاثر کردیتے ہیں۔چونکہ جراثیمی سمیات کیمیائی مرکبات ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کا موذی اثر جذب شدہ زہرکی مقدار پر منحصرہوتا ہے۔اسی طرح پر، جس طرح سنکھیا اور پارہ سےہوتا ہے۔ یعنی اگر جذب شدہ زہرکی مقدار کم ہوتی ہے تو علامات بھی خفیف ہوتی ہیں۔ ان علامات کو اصطلاح میں جراثیمی تسمیم یا(Septic intoxication ) کہتے ہیں۔تپ دق، پرسوت کا بخار اور خفیف بخار جو پھوڑے پھنسی کے ہمراہ ہوتا ہے۔ ایسے تسمیم کی مثالیں ہیں جب جذب شدہ زہرکی مقداربہت زیادہ ہوجاتی ہےتو بیمار بہت جلد بیمار ہو جاتا ہے اس کو (Super lamiae) سپرلیمیا یا تپ عفنیہ کہتے ہیں۔ دوسری صورت وہ ہوتی ہے کہ جراثیم خود متورم مقام سے کسی نہ کسی حیلہ سے منتقل ہوکر تمام جسم میں پھیل جاتے ہیں۔ یہ دو طریق سے ہوتا ہے۔ اول طریق یہ ہے کہ متورم مقام میں سے نکل کرجراثیم خون میں ایک ہی وقت میں منتشر ہوجاتےہیں۔ اس کے جراثیمی اثرات سے بیمار کوئی دم کا مہمان ہوتا ہے اور بہت جلد ہلاک ہوجاتا ہے اس کو اصطلاح میں (Septicemia)سپٹی سیمیا یا انتشارِ عامہ کہتے ہیں۔انتسارِ عامہ اور تپ عفنیہ میں خون کے اندر جراثیم نہیں پائے جاتے اور انتشارِ عامہ میں پائے جاتے ہیں۔
دوسرا طریق یہ ہے کہ جراثیم متورم مقام سے منتقل ہوکرکسی اور مقام میں اسی قسم کا ورم التہاب پیدا کردیتے ہیں۔ اس کی مثال وجع المفاصل ریمی ہے جو سوزاک سے پیدا ہوجاتا ہے۔ یا الیمیا، (Septic Endocardia’s) ورم منتقل اس طورپرہوتا ہےکہ مقامی ورم کے حوالے میں وریدیں بھی متورم ہوجاتی ہیں اور ان کے اندر خون منجمد ہوجاتا ہے۔اس انجمادِخون کواصطلاح میں العقادِوریدی(Thrombosis) کہتے ہیں۔ اتفاقی یا صدمہ سے منجمدخون کاذرا سا ٹکڑا ٹوٹ جاتا ہےاور خون کے ساتھ بہتا بہتا دور چلاجاتا ہے۔اور باریک عروق میں جاکر اٹک جاتا ہے۔اور اس میں سدا پیدا کردیتا ہے اور چونکہ اس کے اندرموذی جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ وہاں پر بھی اسی قسم کا ورم پیدا ہوجاتا ہے۔اس کانام(Pariemea) ہے۔جراثیم صغیر کی کئی جماعتیں ہوتی ہیں ۔
ایک جماعت تو وہ ہےجس میں نقاط ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے ہیں۔اس قسم کے جراثیم ِ صغیرہ واحد(Micro Cacaie)یا فقط کاکائی کہلاتے ہیں۔ دوسری جماعت وہ ہے جس میں نقاط جوڑا جوڑا بن کر رہتے ہیں۔ان کا جفتی جراثیم صغیر(Dipno Cacus)ہے۔ اس جماعت کے جراثیم سوزاک، نوات الریہ اور سرسام(Hinjaius) میں پائی جاتی ہے۔تیسری قسم کے جراثیم چارچارمل کررہتے ہیں۔یہ مربع جرم صغیر(Squire Cacae) امراضِ معدہ میں اکثر پائے جاتے ہیں۔چوتھی جماعت کے جراثیم قطار در قطار زنجیر بنالیتے ہیں۔ یہ جراثیم زنجیری صغیر(Catrepto Cacae) کہلاتے ہیں۔ پانچویں جماعت کے جراثیم انگور کی طرح خوشہ در خوشہ ہوتے ہیں اسی سبب سے ان کو جراثیم غلبی صغیر(Sateflu Cacae) کہتے ہیں۔ یہ جراثیم مختلف اقسام کے اورام ، ثبور اور خراج میں ملتے ہیں۔جراثیم صغیر کوذہن نشین کرانے کےلئے نقشہ یہ ہے۔
جراثیم صغیر کاکائی —->عینی، مربع، جفتی۔ زنجیری اور واحد—->مولد ریم—->مقامی ، عامہ—->انتشاری—->انتشارِ عامہ، پاایمیا۔ تسمیم—->تپ عفنیہ، تسمیم جراثیمی۔(از علم وعملِ طب کرنل بھولاناتھ)

جراثیم کی حقیقت
مختصر طورپرعلم الجراثیم بیان کردیاگیا ہےلیکن اس میں ضروری علم کو نظرانداز نہیں کیاگیا۔ مندرجہ بالا جواقسام بیان کی گئی ہیں یہ جراثیم کی بنیادی صورتیں ہیں۔ ان کے علاوہ کوشش یہ کی جارہی ہے کہ ہر مرض کے یقینی جراثیم کا علم ہوجائے۔ مگراکثر امراض میں فرنگی طب ناکام ہے جن امراض کے جراثیم کاعلم بھی ہوچکا ہے۔ ان کایقینی علاج آج تک فرنگی طب معلوم نہیں کرسکی۔ جس کی مثال نزلہ زکام، نمونیا وپلورسی، دق سل اور خنازیر وغیرہ امراض ہیں بلکہ کوئی بھی ایسا مرض نہیں ہے جس کاان کے پاس یقینی اور شرطیہ علاج ہو۔ ملیریا کی تحقیق و تشخیص پر ان کو بے حدنازتھا مگر پرانے ملیریا پر کونین بالکل بے کار ہوکررہ گئی ہے۔ باقی کونسا ایسا مرض رہ گیا ہےجس کےلئے ان کو دعویٰ ہو وہ سو فیصد ہی کامیاب ہیں، ہرگزنہیں! کسی ایک مرض میں بھی فرنگی طب کامیاب نہیں ہے۔

نزلہ زکام کے علاج میں فرنگی کی ناکامی
نزلہ زکام میں فرنگی طب اور ماڈرن سائنس نے سات قسم کے جراثیم کا انکشاف کیا ہے۔ مگراصل جراثیم کی تاحال تحقیق نہیں ہوسکی اور یہ جو سات اقسام کے جراثیم کے متعلق کہاجاتا ہےکہ ان سے نزلہ زکام پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ان کی جدا جدا تخصیص کہیں نہیں کی گئی اور نہ ان کی الگ الگ علاما ت بیان کی گئی ہیں۔ یہ راز تو کوئی فرنگی ڈاکٹر بھی نہیں جان سکتا کہ نزلہ زکام کے اصل جرثومہ کی تحقیق کیوں نہیں ہوسکی۔ تو اس مرض کا علاج کیسے ہوسکتا ہے، دوسرے یہ سات اقسام کے جراثیم جو یہ نزلہ زکام پیدا کرتے ہیں ان سب کی علاماتِ فارقہ کیا ہیں؟ آج تک فرنگی طب کی کسی کتاب میں ان کاذکرنہیں پڑھا گیا۔ صرف نزلہ زکام پر کیا منحصر ہے جب ایک معالج سوزش و ورم اورزخم اور پیپ کے جراثیمی ماحول میں قدم رکھتا ہےتو ایسی غیر علمی اور ان سائنٹیفک باتوں کو دیکھتا ہے کہ تعفن سے اس کا اپنا دماغ سڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ رسالہ میں جو سوزش کا بیان شروع ہے انشاء اللہ تعالیٰ ہم فرنگی طب کی جراثیمی غلطیوں کواس طرح کھول کھول کربیان کریں گے۔ جس سے ان کے تعفن سے فرنگی ڈاکٹروں کےدماغو ں میں سڑانڈاور دلوں میں متلی سے اس قدر گھبراہٹ ہوگی کہ چکر آجائیں گے۔ ہمیں افسوس صرف ویدوں ، اطباء اور ہومیوپیتھینیرپر ہے کہ ان لوگوں کے فن اپنی جگہ مکمل ہیں ۔ مگر انہوں نے بغیر تحقیق کے اس جراثیم تھیوری کو قبول کرلیا ہے
از: حکیم وڈاکٹر جناب دوست محمد صابر ملتانی صاحب

تشریح نزلہ زکام
نزلہ زکام کی حقیقت بالمفرد اعضاء پر گزشتہ مضمون میں ہم تحریر کر چکے ہیں کہ نزلہ ایک علامت ہے جو کسی مرض پر دلالت کرتا ہے۔ اس کو کسی بھی صورت میں بھی مرض کہنا صحیح نہیں اور اس کو ابوالامراض کہنا تو انتہائی غلط فہمی ہے۔ کیونکہ نزلہ مواد یا رطوبت کا گرنا ہےاور اس علامت سے کسی عضو کے فعل کی طرف دلالت ہے۔ اس عضو کے افعال کی خرابی ہی کو مرض کہا جاسکتا ہے۔ البتہ عضو کے افعال کی خرابی کی جس قدر صورتیں ہوسکتی ہیں وہ تمام امراض میں شریک ہوں گی۔

مواد
رطوبات کاطریقِ اخراج
رطوبات(Lymph) یا مواد(Matter Or Secretion) کا اخراج ہمیشہ خون سے ہوتا ہے۔ اس کوپوری طرح سمجھنے کےلئے پورے طورپردورانِ خون کو ذہن نشین کرلینا چاہیئے۔ یعنی دل سے صاف شدہ خون بڑی شریان اورطیٰ سے چھوٹی شریانوں میں سے عروقِ شعریہ کے ذریعے غدداور غشائے مخاطی میں جسم کی خلاؤں پر ترشح پاتا ہے۔ یہ ترشح کبھی زیادہ ہوتا ہے اور کبھی کم، کبھی سرد ہوتا ہے اور کبھی گرم، کبھی رقیق ہوتا ہے اور کبھی غلیظ، کبھی سفید اور کبھی زرد وغیرہ۔ اس سے ثابت ہواکہ نزلہ یا ترشح(Secretion) کااخراج ہمیشہ ایک ہی صورت میں نہیں ہوتا اور مختلف صورتیں اور کیفیتیں اور رنگ پائے جاتے ہیں۔ گویا نزلہ جوایک علامت ہے وہ بھی اپنے اندر کئی انداز رکھتا ہے ۔ اس لئے اس کو ابوالعلامات کہتے ہیں۔

نزلہ کے تین انداز
اس کے تین انداز ہیں۔1۔ نزلہ پانی کی طرح بے تکلف رقیق بہتا ہے۔

طورپر اس کا رنگ سفید اور کیفیت سرد ہوتی ہے اس کو عام طورپرزکام کانام دیتے ہیں۔ 2۔ نزلہ لیسدار جو ذرا تکلیف اور کوشش سے خارج ہوتا ہے، عام طورپر اس کا رنگ زرداور کیفیت گرم ہوتی ہے اس کو نزلہ حار کہتے ہیں۔3۔ نزلہ بند ہوتا ہے اور انتہائی کوشش اور تکلیف سے بھی اخراج کا نام نہیں لیتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے بالکل جم گیا ہو اور گاڑھا ہوگیا ہے۔ عام طورپر رنگ میلا یا سرخی سیاہی مائل اور کبھی کبھی زور لگانے سے خون آنے لگ جاتا ہے اس کو بند نزلہ کہتے ہیں۔

نزلہ کی تشخیص
اگر نزلہ پانی کی طرح بے تکلف رقیق ہے تو یہ اعصابی (دماغی) نزلہ ہے۔ یعنی اعصاب کے فعل میں تیزی ہے اس کا رنگ سفیداور کیفیت سرد ہوگی۔ اس میں قارورہ کا رنگ بھی سفید ہوگا۔2۔ اگر نزلہ لیسدارجو ذرا کوشش ، تکلیف اور جلن سے خارج ہورہا ہے تو یہ غدی(کبدی) نزلہ ہے۔ یعنی جگر کے فعل میں تیزی ہو گی، اس کا رنگ عام طورپرزردی مائل اور کیفیت گرم و تیز ہوگی۔ اس میں قارورہ کا رنگ زرد یا زردی مائل ہوگا گویا نزلہ حار ہے3۔ اگر نزلہ بندہو تو اور انتہائی کوشش اور تکلیف سے بھی اخراج کانام نہ لے۔ ایسا معلوم ہوکہ جیسے بالکل جم گیا ہےاورگاڑھاہوگیا ہے تویہ نزلہ عضلاتی (قلبی) ہوگا یعنی اس میں عضلات کے افعال میں تیزی ہوگی۔ا س کارنگ عام طورپرمیلایا سرخی سیاہی مائل اور کبھی کبھی زیادہ زور لگانے سے خون بھی آجاتا ہے۔ اول صورت میں جسم میں رطوبات سرد(بلغم) کی زیادتی ہو گی۔ دوسری صورت میں صفرا(گرمی خشکی) کی زیادتی ہوگی۔ تیسری صورت میں سوداویت (سردی خشکی) اور ریاح کی زیادتی ہوگی اور انہی اخلاط و کیفیات کی تمام علامات پائی جائیں گی۔
گویا نزلہ کی یہی تینوں صورتیں ہیں، ان کو ایسی مقام پرذہن نشین کرلیناچاہیئے چوتھی صورت کوئی نہ ہوگی۔ البتہ ان تین صورتوں میں کمی بیشی اور انہتائی شدت ہو سکتی ہے۔ انتہائی شدت کی صورت میں انہی اعضاء کے اندر درد یا سوزش یا ورم پیدا ہوجائے گا۔ انہی شدید علامات کے ساتھ بخار ، ہضم کی خرابی، کبھی قے، کبھی اسہال، کبھی پیچش اور کبھی قبض ہمراہ ہوں گے۔ لیکن یہ تمام علامات انہی اعضاء کی مناسبت سے ہوں گی۔ اس طرح کبھی معدہ و امعاء اور سینہ کے انہی اعضاء میں کمی بیشی اور شدت کی وجہ سے بھی ان کی خاص علامات کے ساتھ ساتھ نزلہ کی بھی یہی علامات پائی جائیں گی۔ جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔

نزلہ کے معنی میں وسعت
نزلہ کے معنی ہیں گرنا۔اگراس کے معنی کوذراوسعت دے کراس کے مفہوم کو پھیلا دیاجائے توجسم انسان کی تمام رطوبات اورمواد کونزلہ کہہ دیاجائے توان سب کی بھی اس نزلہ کی طرح تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیںاوران کے علاوہ چوتھی صورت نظر نہیں آئے گی مثلاً اگر پیشاب پر غور کریں تو اس کی تین صورتیں یہ ہوں گی۔ (1)۔اگراعصاب میں تیزی ہوگی توپیشاب زیادہ اوربغیرتکلیف کے آئے گا۔ (2)۔اگرغددمیں تیزی ہوگی توپیشاب میں جلن کے ساتھ قطرہ قطرہ آئے گا۔ (3)۔اگرعضلات میں تیزی ہوگی توپیشاب بندہوگا یابہت کم آئے گا۔ یہی صورتیں پاخانہ پربھی وارد ہوں گی۔ (1)۔اعصاب میں تیزی ہوگی تواسہال۔ (2)۔غددمیں تیزی ہوگی توپیچش۔ (3)۔عضلات میں تیزی ہوگی توقبض پائی جائے گی۔ اس طرح لعاب،دہن۔آنکھ،کان اورپسینہ وغیرہ ہرقسم کی رطوبات پرغورکرلیں۔البتہ خون کی صورت رطوبات سے مختلف ہے،یعنی اعصاب کی تیزی میں جب رطوبات کی زیادتی ہوتی ہے تو خون کبھی نہیں آتا۔جب غددمیں تیزی ہوتی ہے توخون تکلیف سے تھوڑاتھوڑاآتاہے۔جب عضلات کے فعل میں تیزی ہوتی ہے توشریانیں پھٹ جاتی ہیں اوربے حد کثرت سے خون آتا ہے ۔اس سے ثابت ہوگیاکہ جب خون آتاہے تورطوبات کااخراج بندہوجاتاہے اور اگر رطوبات کااخراج زیادہ کردیاجائے توخون کی آمدبندہوجائے گی۔ نظریہ مفرداعضاء کے جاننے کے بعداگرایک طرف تشخیص آسان ہوگئی ہے تودوسری طرف امراض اورعلامات کاتعین ہوگیاہے اب ایسا نہیں ہوگاکہ آئے دن نئے نئے امراض اورعلامات فرنگی طب تحقیق کرتی رہے اوراپنی تحقیقات کادوسروں پررعب ڈالتی رہے بلکہ ایسے امراض و علامات جوبے معنی صورت رکھتے ہوں وہ ختم کردئیے جائیں گے جیسے وٹامنی امراض،غذائی امراض اورموسمی امراض وغیرہ وغیرہ۔پس ایسے امراض اورعلامات کاتعلق کسی نہ کسی اعضاء سے جوڑنا پڑے گااورانہی کے افعال کوامراض کہناپڑے گا۔گویاکیمیائی اوردموی تغیرات کوبھی اعضاء کے تحت لاناپڑے گا۔ دموی اورکیمیائی تغیرات بھی اپنے اندر حقیقت رکھتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکارنہیں کیاجاسکتا کہ جسم انسان میں خون کی پیدائش اوراس کی کمی بیشی انسان کے کسی نہ کسی عضوکے ساتھ متعلق ہے اس لئے جسم انسان میں دموی اورکیمیائی تبدیلیاں بھی اعضائے جسم کے تحت آتی ہیں۔اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ جسم میں ایک بڑی مقدارمیں زہریلی ادویات اوراغذیہ سے موت واقع ہوجاتی ہے لیکن ایسے کیمیائی تغیرات بھی اس وقت تک پیدا نہیں ہوتے جب تک جسم کاکوئی عضو بالکل باطل نہ ہوجائے۔ جاننا چاہیے کہ انسان تین چیزون سے مرکب ہے (1)جسمBody۔(2) نفسVital Force ۔(3)۔روح Soul ۔نفس اورروح کاذکربعدمیں ہوگا۔اول جسم کوبیان کرناضروری ہے۔
انسانی جسم تین چیزوں سے مرکب ہے(1)بنیادی اعضاءBasic Organs۔ (2) حیاتی اعضاءLife Organs ۔(3)۔خونBlood ان کی مختصر سی تشریح درج ذیل ہے۔

(1)۔بنیادی اعضاء۔Basic Organs
ایسے اعضاء ہیں جن سے انسانی جسم کاڈھانچہ تیارہوتاہے جن میں مندرجہ ذیل تین اعضاء شریک ہوتے ہیں۔(1)ہڈیاںBones ۔(2)رباطLigaments ۔(3)۔اوتارTendons۔

(2) ۔حیاتی اعضاءLife Organs۔
ایسے اعضاء ہیں جن سے انسانی زندگی اوربقاقائم ہے۔یہ تین قسم کے ہیں۔(1) اعصاب ۔ Nerves ان کامرکزدماغ(Brain)ہے۔ (2)غدد۔Glands جن کامرکزجگر (Liver) ہے۔عضلات(Muscles) جن کامرکزقلب (Heart)ہے۔گویادل،دماغ اورجگرجواعضائے رئیسہ ہیں وہی انسان کے حیاتی اعضاء ہیں۔

(3)۔خون۔Blood:
سرخ رنگ کا ایک ایسا مرکب ہے جس میں لطیف بخارات(Gases)،حرارت (Heat)اوررطوبت(Liquid)پائے جاتے ہیں۔یاہوا،حرارت اورپانی سے تیارہوتا ہے۔ دوسرے معنوں میں سودا،صفرااوربلغم کاحامل ہوتاہے۔ان کی تفصیل آئندہ بیان کی جائے گی۔اس مختصرسی تشریح کے بعد جانناچاہیے کہ قدرت نے ضرورت کے مطابق جسم میں اس کی ترتیب ایسی رکھی ہے کہ اعصاب باہر کی جانب اورہرقسم کے احساسات ان کے ذمہ ہیں ۔ اعصاب کے اندرکی طرف غددہیں اورہرقسم کی غذا جسم کومہیاکرتے ہیں۔غددسے اندرکی جانب عضلات ہیں اورہرقسم کی حرکات ان کے متعلق ہیں۔ یہی تینوں ہرقسم کے احساسات ،اغذیہ اورحرکات کے طبعی افعال انجام دیتے ہیں۔

غیرطبعی افعال
حیاتی اعضاء کے غیرطبعی افعال صرف تین قسم کے ہیں۔(1)ان میں سے کسی عضومیں تیزی آ جائے یہ ریاح کی زیادتی سے پیداہوگی۔(2)۔ان میں سے کسی عضومیں سستی پیداہوجائے یہ رطوبت یابلغم کی زیادتی سے پیداہوگی۔(3)ان میں سے کسی عضومیں ضعف پیداہوجائے یہ حرارت کی زیادتی سے پیداہوگا۔ یاد رکھیں چوتھا کوئی غیرطبعی فعل واقع نہیں ہوتا۔اعضائے مفردکاباہمی تعلق جاننانہایت ضروری ہے کیونکہ علاج میں ہم ان ہی کی معاونت سے تشخیص،تجویزاورعلامات کورفع کرتے ہیں۔ان کی ترتیب میں اوپریہ بیان کیاگیاہے کہ اعصاب جسم کے بیرونی طرف یااوپرکی طرف ہیں اور ان کے نیچے یابعدمیں غددکورکھاگیاہے اورجہاں پرغددنہیں ہیں وہاں ان کے قائم مقام غشائے مخاطی بنادی گئی ہیں اوران کے نیچے یابعدمیں عضلات رکھے گئے ہیں اورجسم میں ہمیشہ یہی ترتیب قائم رہتی ہے۔افعال کے لحاظ سے بھی ہرعضو میں صرف تین ہی افعال پائے جاتے ہیں (1)۔عضوکے فعل میں تیزی پیداہوجائے توہم اس کوتحریک کہتے ہیں۔ (2)۔عضوکے فعل میں سستی نمودارہوجائے توہم اس کوتسکین کہتے ہیں۔ (3)۔عضوکے فعل میںضعف واقع ہوجائے توہم اس کوتحلیل کی صورت قراردیتے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ہر عضومیں ظاہرہ دو ہی صورتیں ہوتی ہیں۔اول تیزی اوردوسرے سستی ۔ لیکن سستی دوقسم کی ہوتی ہے۔اول سستی سردی یابلغم کی زیادتی اوردوسرےسستی حرارت کی زیادتی ہے ۔ اس لئے اول الذکرکانام تسکین رکھاجاسکتاہے۔اورثانی الذکرکی سستی کوتحلیل ہی کہنا بہترہے۔کیونکہ حرارت اورگرمی کی زیادتی سے ضعف پیداہوتاہے۔اوریہ بھی ایک قسم کی سستی ہے۔لیکن چونکہ ضعف حرارت اورگرمی کی زیادتی سے پیداہوتاہے اوراس میں جسم یاعضوگھلتاہے اور یہ صورت مرض کی حالت میں آخرتک قائم رہتی ہے بلکہ صحت کی بحالی میں بھی ایک ہلکے قسم کی تحلیل جاری رہتی ہے۔اس لئے انسان بچپن سے جوانی،جوانی سے بڑھاپے اور بڑھاپے سے موت کی آغوش میں چلاجاتاہے۔اس لئے اس حالت کانام تحلیل بہت مناسب ہے۔ ساتھ ہی اس امرکوبھی ذہن نشین کرلیں کہ یہ تینوں صورتیں یاعلامات تینوں اعضاء اعصاب،غدداور عضلات میں کسی ایک میں کوئی حالت ضرورپائی جائے گی۔البتہ ایک دوسرے میں بدلتی رہتی ہیں اور اس غیرطبعی بدلنے ہی سے مختلف امراض پیداہوتے ہیں اورانہی کی طبعی تبدیلی سے صحت حاصل ہوجاتی ہے۔اعضاء کی اندرونی تبدیلیوں کوذیل کے نقشہ سے آسانی کے ساتھ سمجھاجاسکتاہے۔

نتیجہ عضلات غدد اعصاب نام اعضاء
جسم میں رطوبات یعنی بلغم کی زیادتی تسکین تحلیل تحریک دماغ
جسم میں حرارت یعنی صفراکی زیادتی تحلیل تحریک تسکین جگر
جسم میں ریاح یعنی سوداکی زیادتی تحریک تسکین تحلیل دل
گویا ہر عضو میں یہ تینوں حالتیں یا علامات فرداًفرداً ضرور پائی جائیں گی۔یعنی (1۔اگراعصاب میں تحریک ہے توغددمیں تحلیل اورعضلات میں تسکین ہوگی ۔نتیجۃًجسم میں رطوبات بلغم یاکف کی زیادتی ہوگی۔ (2۔اگرغددمیں تحریک ہوگی توعضلات میں تحلیل اوراعصاب میں تسکین ہوگی۔نتیجۃًجسم میں حرارت صفراویت کی زیادتی ہوگی۔ (3۔اگرعضلات میں تحریک ہوگی تواعصاب میں تحلیل اورغددمیں تسکین ہوگی۔نتیجۃ جسم میں ریاح سوداویت کی زیادتی ہوگی۔ یہ تمام جسم اور اس کے افعال کی اصولی (Systematic) تقسیم ہے۔ اس سے تشخیص اور علاج واقعی آسان ہوجاتا ہے۔ گویا اس طریقہ کوسمجھنے کے بعد علم طب ظنی نہیں رہتا بلکہ یقینی طریقِ علاج بن جاتا ہے۔

اسباب
جب کسی مرض کے اسباب پر بحث کی جاتی ہے تو قریب و بعید کے ہر قسم کے اسباب پر بحث کی جاتی ہےاور روشنی ڈالی جاتی ہےتاکہ علاج کے وقت تمام اسباب ذہن کے سامنے ہوں گے۔ مگر بعض کم علم اورغلط فہم معالج جیسے فرنگی معالج، اسباب کے قَرب وبُعد کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ قریب کی چیز اور بعید کی شے میں جو فرق ہے ، اسباب کے لحاظ سے بھی قُرب اور بُعد میں یہی فرق ہے۔ قریب کی شے پہلے اثرانداز ہوتی ہے اور بعید کی چیز بعد میں اپنا اثر کرتی ہے۔ ظاہر میں قریب و بعید کا تصور ذہن نشین کرنا ایک معمولی بات ہے۔ مگر فنِ علاج ایک انتہائی اہم بات ہے۔ بس یہی مقام ہے جس کو صحیح طورپرذہن نشین نہ کرنے سے نہ صرف مختلف طریقِ علاج پیداہوجاتے ہیں۔ بلکہ علاج صحیح طریق پر کامیاب نہیں ہوسکتا اور فنِ علاج میں بدنام ہوتا ہے۔ طبِ یونانی نے اسی قریب و بعید کی اہمیت کے پیشِ نظراسباب کو اس طرح بیان کیا ہے کہ اس میں قُرب و بُعد کی غلطی کا امکان نہ رہے اور صحیح اسباب سامنے آجائیں۔ اسباب دوقسم کے بیان کئے گئے ہیں۔ اول اسبابِ ضروریہ جن کا تعلق حفظِ صحت کے ساتھ ہے۔ یہ چھ ہیں۔ 1۔ہوا۔2۔ماکولات و مشروبات۔3۔حرکت وسکونِ بدنی۔4۔حرکت و سکونِ نفسانی۔5۔ نیندو بیداری۔6۔استفراغ و احتباس۔ دوسرے اسباب ممرضہ جن کا تعلق امراض سے ہے، یہ تین ہیں۔1۔ اسبابِ بادیہ۔2۔ اسبابِ سابقہ۔3۔اسبابِ واصلہ۔بادیہ :کیفیاتی اور نفسیاتی اسباب ہیں۔ سابقہ: مادی اور شرکی اسباب ہیں۔ واصلہ: ایسے اسباب جن کے بعدمعاً مرض نمودار ہوجاتا ہے یعنی مرض اور سبب میں کوئی فرق اور دوری نہیں پائی جاتی یا دوسرے الفاظ میں ان کے اور مرض کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ بلکہ براۂ راست مرض پیدا کردیتے ہیں۔ کسی دوسری حالت کا ان کو انتظار نہیں ہوتا۔ جس کی بہترین مثال امتلا (موادکااجتماع) ہے۔ جو بخارکاموجب بنتا ہے۔ گویا امتلابلاواسطہ بخار پیدا نہیں کرتا بلکہ اس کے اور بخار کے درمیان عفونت واسطہ بنتی ہے۔ امتلاسے ابتداً عفونت لاحق ہوتی ہے اور پھرعفونت سے بخارہوتاہے۔ اس صورت میں عفونت سببِ واصلہ(واسطہ) ہے جس کے ہوتے ہی بخارآجاتا ہےاورامتلاسببِ سابقہ کہلائے گا۔ ثابت ہوا کہ سببِ واصلہ ہی سبب قریب ہے اوراس کے بعد مرض پیداہوسکتا ہے اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک اعضاء کے افعال میں خرابی واقع نہ ہوہم حالتِ جسم کو مرض شمار نہیں کرسکتے۔!!
)تفصیل کےلئے میری کتاب “مبادیاتِ طب”دیکھیں(
جاننا چاہیئے کہ جراثیم کا ہونا یا نہ ہوناکسی صورت میں نہ مرض کہلاسکتا ہے اورنہ مرض پر دلالت کرسکتا ہے۔ انسانی جسم میں سینکڑوں قسم کے جراثیم داخل ہوتے رہتے ہیں اور اندر تباہ ہوتے رہتے ہیں لیکن امراض پیدا نہیں کرسکتے جب تک کہ کسی عضو کے فعل میں خرابی پیدا نہ ہو۔ کیونکہ اعضاءِ جسم کابگڑنا ہی ہمیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ جسم بیمار ہے ورنہ اعضاء کے تندرست رہنے سے امراض کا تصور ہی پیدا نہیں ہوسکتا ہے۔فرنگی ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ہر انسان میں جراثیم اس لئے امراض پیدا نہیں کرتا کہ ان کے اندر امنیت یعنی قوت مدافعت(Immunity) طاقتور ہوتی ہے اوروہ مرض کا مقابلہ کرتی رہتی ہے۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو یہ پتا نہیں چلتا کہ امنیت کہاں پیدا ہوتی ہے۔ یہ امنیت کوئی خون کی طاقت نہیں ہے بلکہ یہ طاقت اعضاء میں پائی جاتی ہے اور ہرقسم کے اعضاء میں جداجدا قسم کی ہوتی ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ جیسے مختلف اقسام کے جراثیم مختلف اعضاء پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح مختلف اعضاء کی امنیت ان کا مقابلہ کرتی ہےاور جسم کو امراض سے محفوظ رکھتی ہےاور جب اعضاء کمزور ہوجاتے ہیں تو امنیت بھی کمزور ہوجاتی ہے اور جراثیم یا دیگر اسبابِ ممرضہ کامقابلہ نہیں ہوسکتا پھر مرض کی صورت نمودار ہوتی ہے۔ کیا فرنگی ڈاکٹر بتائے گا کہ امنیت کہاں پیداہوتی ہے۔ اگر وہ ثابت کردیں کہ امنیت اعضاء کے علاوہ کہیں اور پیداہوتی ہےتو ہم مبلغ پانچ صد روپیہ انعام دیں گے۔ ہمارا چیلنج ہے کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ بس مسلمہ حقیقت کی صورت میں کہ امنیت اعضاء میں پیدا ہوتی ہے اور اعضاء کی خرابی ہی امراض کی دلیل ہے تو پھر علاج کی صورت میں قاتل جراثیم یا دفع جراثیم کو لازمی سمجھنا بالکل غلط ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ علاج صرف اعضاء کی درستی قرار پائے گا۔ تجربہ ظاہر ہے کہ ہر صاحبِ عقل اور اہلِ فن تسلی کرسکتا ہے۔

علامات
فرنگی طب کی کس کس خرابی کا ذکرکیا جائےیہاں ساری کی ساری مشین بگڑی ہوئی ہے۔ ماہیتِ امراض میں خرابی ، اسباب میں خرابی اب علامات کی جو خرابیاں ہیں وہ ملاحظہ کریں علاج کے اندر اس قدر خرابیاں ہیں کہ فنِ علاج ہی تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اس کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ غذااور پرہیز تک چلاجاتا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ زندگی بھر ہم تمام فن کی تجدید کریں گے اور فرنگی طب کی ایک ایک خرابی کو نکال باہر کریں گے اور ان کی خرابیوں کو اس انداز سے ظاہر کریں گے کہ اہلِ فن اور صاحبِ فن کو ان سے نفرت ہو جائے گی اور فرنگی طریقِ علاج کیا اس کی ہرشے بلکہ اس کے نام کو بھی زہر اور اس کو قاتل خیال کریں گے۔ علامات ایسے نشانات ہیں جن سے حالتِ صحت یا حالتِ مرض کاپتاچلتا ہے یہ علامات اکثرامراض کو سمجھنے، ان کےفروق اور تشخیص کےلئے دلائل بنائے جاتے ہیں اور انہی کی راہنمائی میں امراض کی ماہیت، نام امراض اور تقسیمِ امراض کئے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مرض اس حالت کا نام ہے جب اعضاء کے افعال میں اعتدال نہ ہویعنی ان میں افراط و تفریط اور ضعف پایاجائے۔ اس لئےاعضاء کے افعال کی خرابیوں کو جاننے کےلئے ان علامات کودیکھیں گے جو ان پردلالت کرتی ہیں یہ اس وقت ہوسکتا ہے کہ ہم امراض اور ان کی علامات کو الگ الگ ذہن نشین کرلیں۔ ایسا نہ ہونا چاہیئے کہ اول ہم امراض و علامات کا فرق ہی نہ سمجھ سکیں اور ہرعلامت کو مرض اور ہرمرض کو علامت کہہ دیں۔ جیساکہ فرنگی طب میں درج ہیں۔ یعنی چھینک بھی مرض ، ہچکی بھی مرض اور شدید پیاس بھی مرض ۔ یہ تومعمولی علامات ہیں وہ تو بڑی بڑی علامات کو مرض کہتے اور لکھتے ہیں۔ جیسے نزلہ زکام سوزش، ورم اور بخار۔ گویا ان کے ہاں امراض اور علامات میں کوئی فرق نہیں ہے ۔(ان کی تفصیل ہمارے مضمون تقسیمِ امراض میں دیکھیں)
جاننا چاہیئے کہ علامات تین اقسام کی ہوتی ہیں اول علامت ماضی: یہ عام طورپر اسباب بادیہ اور سابقہ پرروشنی ڈالتی ہیں ان کو علاماتِ ضروریہ کہنا چاہیئے۔ دوسرے علاماتِ حال: ان کی دو صورتیں ہیں1۔وہ جو مریض اپنی تکالیف میں اظہار کرتا ہے ان کوشرکی کہتے ہیں۔2۔ وہ علامات جن کا اظہار معالج کرتا ہےوہ اسبابِ واصلہ ہوتی ہیں۔اور یہی تشخیص اور حقیقتِ مرض پر روشنی ڈالتی ہیں۔ ان علامات کو “دال” کہتے ہیں۔ تیسرے علاماتِ مستقبل۔ ایسی علامات ہیں جن سے مرض کے نیک و بدکاپتا چلتا ہے کہ مرض خیروخوبی انجام پاجائے گا یا مریض ختم ہوجائے گا۔ ایسی علامات”تقدم معروف” کہلاتی ہیں۔جاننا چاہیئے کہ حال کی علامات یعنی شرکی اور دال ہی عام طورپر مریضوں کےلئے تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔ اس لئے وہ اب کو بیان کرتا ہے لیکن وہ امراض نہیں ہوتیں۔ امراض کا تعین تو معالج ہی اعضاء کی خرابی سے لگا سکتا ہے یہ نہیں ہوسکتاکہ علامت کومرض کہہ کرعلاج شروع کردیا جائے مثلاً ایک مریض نزلہ زکام کی تکلیف کے ساتھ قبض کاذکرکرتاہے دوسرا پیچش کا، تیسرا اسہال کا، تو ہم نزلہ زکام کومرض کہیں یا قبض، پیچش اور اسہال کومرض کہہ کرعلاج شروع کردیں۔ اسی طرح ایک مریض نزلہ زکام کے ساتھ بخارکا اظہار کرتا ہے،دوسرادردِ شکم، تیسرا سوزشِ جسم کو ظاہرکرتا ہے۔ تو علاج میں ہم کوکس علامت کو مرض قرار دینا چاہیئے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان میں کوئی بھی مرض نہیں ہے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ مریض کی ماضی اور حال کی علامات کس عضو پر دال ہیں اور اس کے اعتدال میں کیا خرا بی ہے۔ فوراً ہم کوصرف اس کے افراط و تفریط اور ضعف کو درست کرنا چاہیئے، علامات خود بخود رفع ہوجائیں گی۔
نزلہ زکام میں عام طورپرناک سے رطوبت کاجاری ہونا، چھینکوں کاآنا، بدن ٹوٹنا، سرکابھاری ہونا، آنکھوں میں درد کااحساس اور رطوبات کا جاری رہنا وغیرہ۔ اگر مرض میں شدت ہوجائے تو قصبہ الریّہ اور اس کی شاخوں تک پہنچ جاتا ہےجس سے کھانسی، نمونیہ، پلورسی وغیرہ کی تکالیف پیدا ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح اگر اس کااثر دماغ تک پہنچ جائے تو ورمِ دماغ ، محرقہ دماغی، فالج اور لقوہ ہوجاتا ہے۔ ایسی تمام صورتوں میں کسی ایک علامت کومرض قرار دے کرعلاج کرناکسی معالج کی صداقت پر دلالت نہیں کرتا۔ بلکہ ایسے معالج فرنگی عطائی ہوسکتے ہیں جو ہرعلامت کومرض قرار دے کر یورپ کی نہ صرف پیروی کرتے ہیں بلکہ ان کی ایجنٹی کرتے ہیں۔ کسی مرض کے علاج میں پوری طرح کامیابی کارازیہ ہے کہ اس مرض کو صحیح اور مکمل طریق پر سمجھ لیاجائے جو معالج بھی مرض کی ماہیت سے واقف نہیں ہوتے وہی علاج میں ناکام ہوتے ہیں۔ فرنگی ڈاکٹر اس مرض کےعلاج میں اس لئے ناکام ہیں کہ یورپ، روس اور امریکہ نے اس مرض کی صحیح ماہیت کوپورے طورپرنہیں سمجھا، اور وہ اس مرض کا جو علاج کرتے ہیں وہ صرف عطائیانہ ہے ورنہ مرض کی حقیقت اور ماہیت پورے طورپرواضح ہوتو پھر علاج ِ مرض کیا مشکل ہے۔ فوراًمریض کی جسم کی حالت اور کیفیت بدلی جاسکتی ہے اور اسباب دور کئے جاسکتے ہیں۔ فرنگی ڈاکٹر اس مرض کاسبب جراثیم قرار دیتے ہیں جس کو(Tubercle Bacillus)کہتے ہیں اور اس پر پورے طورپریقین رکھتےہیں۔لیکن ان جراثیم کوختم نہیں کرسکتے اور ختم بھی کردیں تو مریض پہلے ہی ختم ہو جاتاہے۔ فرض کرلیں کہ مریض کی زندگی میں ان کو ختم کرلیں ، ہم تھوڑی دیر کےلئے تسلیم کرلیتے ہیں لیکن ان کے ختم ہونے سے (یہ بات بے قابلِ غورہے)مریض کے جسم کی حالت اور کیفیت تو نہیں بدل سکتی۔ کیونکہ عقلِ سلیم سے اگر کام لیا جائے تو پتا چلتا ہےکہ سبب صرف محرک مرض ہے خود مرض نہیں ہے۔ مرض اس حالت کا نام ہےجو سبب کے بعد پیدا ہوگئی ہے۔ سبب دور ہونے کے بعدمرض کا علاج باقی رہتا ہے۔ مگر فرنگی ڈاکٹروں کے ہاں اول سبب مرض غلط ہے۔ اگر اس کوصحیح بھی سمجھ لیں تو مرض کا دور کرناایک بالکل جدا صورت ہے، جس کی مثال سوئی کابدن میں چبھ جاناہے۔ اس میں سوئی کی تکلیف کا سبب ہے مگر تکلیف مرض ہےجو سوئی سے جدا بات ہے۔ سوئی نکال لینے کے بعدمرض رفع نہیں ہوگا اس کا علاج قوتِ مدبرہ بدن کرے گی اور اگر وہ کمزور ہوئی تو دوا کی ضرورت لازم آئے گی۔
اگرقوتِ مدبرہ بدن مضبوط بھی ہوتب بھی دوا لازم ہےکیونکہ اول اس سے تسکین پیداہوتی ہے، دوسرے مرض کے بڑھنے کاخطرہ باقی نہیں رہتا۔ فرنگی طب میں اسباب ختم کرنے کے بعدمرض قائم رہتا ہے اور بڑھتارہتا ہے کیونکہ حالتِ بدن اور کیفیت بدستور قائم ہیں۔ جراثیم کے فناکردینے سے یہ مرض ختم نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیاگیا ہے اس میں ایک اورغلطی یہ ہے کہ فرنگی طب جن کو جراثیم قرار دیتی ہےوہ اسباب واصلہ نہیں ہیں۔ جن کی تعریف یہ ہےکہ ان کے ساتھ مرض پیدا ہوتا ہے، ان میں اور مرض میں فاصلہ نہیں ہوتا، گویا مرض کے متعلق ہوتے ہیں اور ان کے برعکس جراثیم اسبابِ سابقہ ہیںاور اسبابِ واصلہ وہ عضو کی حالت جو خراب ہوگیا ہے اور وہ کیفیت ہے جو کیمیائی طورپر پیدا ہوگئی ہے۔ جب تک عضو مشینی طورپرمکینیکلی اور کیفیاتِ جسم کیمیکلی درست نہ ہوں مرض کسی طرح بھی نہیں جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ فرنگی طب اس علاج میں ناکام ہے۔فرنگی طب(ڈاکٹری) اس مرض کا سبب جراثیم قرار دیتی ہے جیسا کہ ماہیت ِ مرض میں لکھا جاچکاہے۔ ہمیں اس سے انکار نہیں ہے کہ ٹی بی کے اسباب میں ایک ٹی بی جراثیم بھی ہوتے ہیں۔ لیکن سوال پیداہوتا ہےکہ جراثیم مقدم ہیں یا جسمِ انسانی میں ایمونیٹی (Immunity)اورقوتِ مدبرہ بدن(Vitality) جوپہلے ہی وہاں پائی جاتی ہیں۔ ایمونٹی کا تعلق متعلقہ عضو کے ساتھ ہوتا ہے اور قوتِ مدبرہ بدن کا تعلق سارے جسم و خون کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب کسی قسم کےجراثیم جسمِ انسانی میں داخل ہوتے ہیں تو اول وائیٹیلٹی اس کا مقابلہ کرتی ہے اور ان کو غیر ضروری اور غیر مفید شے سمجھتے ہوئے راستہ میں ختم کردیتی ہے اس طرح مرض کاقلع قمع ہوجاتا ہے۔جب بھی کوئی جسم ٹی بی جراثیم سے متاثر ہوتا ہےتو اس کامطلب تو یہ ہوا کہ ایمونٹی اور وائیٹیلٹی دونوں کمزور ہیں۔ دوسرے معنوں میں یوں سمجھ لیں کہ مریض کےمتعلقہ اعضاء اور خون دونوں میں کمزوری اور نقص پایا جاتا ہےورنہ جراثیم کبھی بھی مرض کاباعث نہ ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے ایک گھرمیں دس آدمی ہوتے ہیں تو ان میں مرض کے جراثیم سے وہی شخص متاثر ہوتا ہے جس کی ایمونیٹی اوار وائیٹیلٹی دونوں کمزور تھیں اور باقی اپنے انہی قویٰ کی مضبوطی کی وجہ سے محفوظ رہےاور وہ ٹی بی جراثیم کا پوری طرح مقابلہ کرسکتے ہیں۔ حقائق اور دلائل سے واضح ہوگیا کہ جراثیم سے بچنے کی بجائے جسمِ انسان کے اندرونی قویٰ کی حفاظت نہایت اہم شے ہے۔
اگر جراثیم کو ایک ایسا زہر تسلیم کرلیا جائے جس کے متعلق یہ یقین اور تحقیق ہوچکا ہے کہ اس کادخول جسمِ انسان میں باعثِ مرض نزلہ زکام ہے۔ اول تو ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں کہ جراثیم سے قبل جسمِ انسانی کے قویٰ جوبدن و خون اور اعضاء کے اندر پائے جاتے ہیں، کمزور ہوکر جراثیم کواثر کرنے کاموقعہ دیتے ہیں تھوڑی دیر کےلئے ہم فرض کرلیتے ہیں کہ جراثیم کے مقابلے میں قویٰ خون اور اعضاء ِ جسم کوکوئی اہمیت نہیں ہے صرف جراثیم ہی سب کچھ ہیں تو پھر اس مرض کا علاج آسان اور یقینی ہوجانا چاہیئے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ جوں جوں فرنگی ڈاکٹر ادویات جراثیم کش استعمال کتا ہے ، مرض بڑھتا جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ مریض انتہائی حسرت و یاس اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے اور فرنگی معالج منہ تکتا رہ جاتا ہے۔ لیکن طریقِ علاج کو سائنٹیفک خیال کرتا ہے اور اسی کو قائم رکھتا ہے کیونکہ اصل سبب جو قوتِ جسم اور اعضاء ہیں ان کو نظرانداز کرجاتے ہیں۔نزلہ زکام کے جراثیم کوہم نہ باعث ِ مرض سمجھتے ہیں اور نہ وہ سبب واصلہ ہیں۔ البتہ ہم ان کوایک ایسا زہر خیال کرتے ہیں جن سے مرض نزلہ زکام پیدا ہوسکتا صل اسباب مجرا جسم کی خرابی ہے۔ جیسا کہ شیخ الرئیس بوعلی سینا نے لکھا ہے
“کہ ان مجراجسم کا تعلق اعضاءِ جسم اور خون سے ہےاور اعضاء کی بافت ٹشوز سے ترتیب پاتی ہےاور خون کی بناوٹ میں بھی ایک اعتدال لازم ہے۔ جو ایک خاص رنگ کے ٹمپریچراور قوام پر قائم ہے۔ یہ رنگ و ٹمپریچراور قوام کا اعتدال خون کی گیسز(Gasses)محلول(Liquid)اورٹھوس(Solid)مادوں پر منحصر ہے۔ جب ان میں کمی بیشی واقع ہوتی ہے توخون کے رنگ وٹمپریچراور قوام میں نقص واقع ہوجاتا ہے۔ یہ نقص کیمیائی (مادوں ) طورپر ہوتا ہےیامشینی طورپرلیکن جسم میں خرابی اسی وقت واقع ہوتی ہےجب مشینی طورپرنقص پیداہوجائےاور اعضاء کے افعال میں اعتدال قائم نہ رہ سکے بس اسی کانام مرض ہے۔”
نمبر شمار انسجہ ٹشوز نسیج
1۔ اعصابی انسجہ (Nerves Tissues) نسیج عصبی
۲۔ عضلاتی انسجہ (Muscular Tissues) نسیج عضلاتی
۳۔ غدی انسجہ (Epithelial Tissues) نسیج قشری
اس دقیق تشریح کے بعد یہ حقیقت سامنے آگئی کہ خون کے رنگ و ٹمپریچر اور قوام کے اعتدال اور مزاج کے بگڑ جانے سے مرض پیدا ہوجاتا ہے ان حقائق سے ثابت ہوگیا کہ حفظِ صحت اور علاج خون کے مزاج کا اعتدال ہے جسے ویدک اور طبِ یونانی میں تسلیم کیا گیا ہے۔جہاں تک امراض ِ جسم کاتعلق ہے تو تسلیم کرنا پڑے گا۔ بقول شیخ الرئیس بوعلی سینا”کہ مرض اس حالت کانام ہے جب مجراجسم میں خرابی واقع ہوجائے اور وہ اپنے افعال صحیح طورپر انجام نہ دیں”۔ جہاں تک مجراجسم کاتعلق ہے اس میں دو چیزیں شریک ہیں۔ اول اعضاءِجسم دوسرے مجراجسم میں چلنے والا خون اور رطوبات اگرچہ لازم وملزوم ہیں۔ تا ہم اعضاء کے افعال کی خرابی اپنی جگہ اورخون کی کیمیائی تبدیلیاں اپنے اندر ایک مسلمہ حقیقت رکھتی ہے۔ امراض کی تشخیص میں دونوں کا ذہن نشین کرنا ایک اہم حقیقت ہے۔ جہاں تک اعضاءِ جسم کا تعلق ہے موجودہ علمی تحقیقات(ماڈرن سائنس) نے جسم ِ انسان کو چاراقسام کے بنیادی اعضاء میں تقسیم کیا ہے، جن کو وہ ٹشوز(نسیج بافت) کہتے ہیں۔ یہ ٹشوز چھوٹے چھوٹے حیوانی ذرات(Cells) کا مجموعہ ہوتے ہیں اور پھر یہ ٹشوز آپس میں اس طرح ایک دوسرے میں بُنے ہوتے ہیں جیسے کپڑا ۔ اس لئے ان کو بافت کہاجاتاہے۔ یہ چار قسم کے ٹشوز ہیں۔

اور یہی اخلاط اور دوش جب مجسم ہوتے ہیں توانسجہ بن جاتے ہیں ۔گویا ٹشوزمجسم اخلاط ہیں۔ان ہی سے انسانی اعضائے رئیسہ دل ، دماغ اورجگر بنتے ہیں جوان بافتوں کے مراکز ہیں۔اول: اعصاب کا مرکز دماغ، دوم عضلات کا مرکز دل، سوم غددکا مرکزجگرہے۔ گویاتمام جسمِ انسانی ڈھانچہ اوردل دماح اور جگر کا مجموعہ ہے۔تمام جسم کے اعضاء انہی سے مل کر بنتے ہیں۔ گویا بنیادی اعضاء اور حیاتی اعضاء تمام اعضاٰ کی اکائیاں اور مفردہیں اوار باقی تمام جسم اور اس کے اعضاء جیسے سر، آنکھ، کان ، ناک، منہ، سینہ، معدہ وامعاء اور مثانہ وغیرہ ان ہی اکائیوں اور مفرداعضاء سے مرکب ہیں اور تمام قسم کے مجرابھی انہیں سے مل کر بنتے ہیں اور زندگی وقوت اورصحت کے افعال انجام دیتے ہیں۔ جہاں تک خون کا تعلق ہے اس میں کیمیائی طورپرانہیں چاروں ٹشوزکے عناصر پائے جاتے ہیں جن سے ان اعضاء کو تغذیہ ااور تنمیہ ہوتا رہتا ہے۔ گویا زندگی تغذیہ اور تصفیہ ان اعضاء کے سپردہے ۔ جب جسمِ انسان میں امراض کی کوئی صورت پیدا ہوتی ہے۔تولامحالہ اُن کا ابتدائی اثر ان بنیادی ٹشوز میں کسی ایک میں شروع ہوتا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوتاکہ بیک وقت دو ٹشوز میں امراض کی ابتدا ہوجائے۔ البتہ جب جسم میں اس مرض کے زہریلے اجزاء بہت زیادہ ہوجائیں تو دیگر ٹشوز کو بھی متاثر کر دیتے ہیں۔ پھر صورت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ تمام جسم متاثر ہوتا ہے اور موت واقع ہوجاتی ہے۔
جاننا چاہیئے کہ کوئی دوا اس وقت تک جراثیم ہلاک نہیں کرسکتی جب تک وہ جسم میں حرارت کی پیدائش کو بڑھا نہ دے۔ بس حرارت کا بڑھا دینا نہ صرف سوزش اور ورم کوبے حد مفید ہے بلکہ ہرقسم کے جراثیم اور ان کے زہرکوبھی ہلاک اور فنا کردیتی ہے۔ رطوبات کا بڑھانا بھی حرارت بڑھانے کی طرح از حد ضروری اور اہم ہے۔ بعض مریضوں میں بلغم زیادہ آنے لگتی ہے اس کو نہ روکیں کیونکہ وہ دافع سوزش اور خون آنے کو روکتی ہے بلکہ بلغم کو اور بڑھانے کی کوشش کریں، مرض میں جلدآرام ہوگا۔ اس مرض میں عام طورپر قے اور اسہال نہیں ہوا کرتے زیادہ سے زیادہ جی متلاتا ہے یا پیچش ہوجاتی ہے ان کو بھی بند نہ کریں۔ بلکہ کوشش کریں کہ قے ہوجائے یا اسہال آئیں اگر یہ صورت ایک یا دو بار واقع ہوجائے تو فوراً کی صورت خیال کریں، کسی قسم کا فکر نہ کریں ۔ جولوگ مرض اور صحت کی علامات سے واقف نہیں ہوتے وہ ان علامات سے گھبراجاتے ہیں، قابض اشیاء بلکہ قابض آب و ہوا اور قابض قسم کے نفسیاتی جذبات سے بھی مریض کو بچائے کیونکہ سوزس و اورام قبض کانتیجہ ہوتے ہیں۔ نزلہ زکام کوتو یقینی قابض علامت سمجھیں۔ پیچش کے پاخانوں کواسہال خیال کرکے بند نہ کریں بلکہ ان کو اسہال کی شکل میں تبدیل کریں۔ یہ ایک مشکل کام نہیں ہے، ایک قابل معالج جب اس اصولِ علاج کی صورتوں کو مدِ نظر رکھے گا تو انشاء اللہ تعالیٰ مرض کو یقیناً آرام ہوگا اور آئندہ وہ اس مرض سے محفوظ رہے گا۔
وَماَ عَلَینا اِلاَّ الْبلاغ۔

حرارت
نزلہ زکام بلکہ ہرمرض کے علاج میں حرارتِ جسم کو مدِنظر رکھنا نہایت اہم بات ہے۔ کیونکہ جسمِ انسان کو رطوبت کےساتھ ہی حرارت بھی ایک فاعلی عنصر ہےجس سے انسان کی نشووارتقاء اور زندگی قائم ہےاور یہی حرارت جسمِ انسان کو آفات و بلیآت اور امراض سے حفاظت کرتی ہے۔اور ضرارت کے وقت حرارت ہی ہوا کو پانی میں اور پانی کوہوا میں تبدیل کرتی رہتی ہے۔

حرارت کی پیدائش
حکماء نے حرارت کوچار ابتدائی ارکان میں سے ایک رکن تسلیم کیا ہےانہی چارارکان پر زندگی اورکائنات کا قیام تسلیم کیاہے۔ فرنگی سائنس نے چار ارکان کو بسیط تسلیم نہیں کیا بلکہ ان کومرکب ماناہے۔ ان کے نظریہ کے مطابق زندگی اور کائنات میں کل ننانوے ایسے عناصر پائے جاتے ہیں۔ جو بسیط ہیں مگر ماڈرن فرنگی سائنس نے ایٹم کی تشریح اور تحقیق کے بعد عناصرکو پھاڑکربرق پاروں میں تقسیم کر دیاہےگویا اپنے نظریہ مفردعناصر کی تغلیط کردی ہے۔ ان کے نظریہ کے مطابق جہاں تک حرارت کا تعلق ہے وہ ہر عنصر کے پھاڑ کے بعد طلب پیداہوسکتی ہے۔ مگر آکسیجن کوانہوں نے حرارت کا منبع قرار دیا ہےکیونکہ کوئی عنصر اس کے بغیر نہیں چلتا۔ جو لوگ ارکان اورعناصر کا فرق سمجھتے ہیں وہ فرنگی سائنس کی غلط فہمی کا خوب اندازہ لگا سکتے ہیں۔(تفصیل طوالت طلب ہے)
عام زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب دو اجسام کو آپس میں رگڑا جاتا ہےتو وہ گرم ہوجاتے ہیں اور ان میں حرارت پیدا ہوجاتے ہیں۔ ابتدا میں انسان نے آگ اسی طرح پیدا کی تھی۔ اسی طرح جب کسی شے کو آگ پر گرم کرتے ہیں تو جل اٹھتی ہے یا اس میں حرارت پیدا ہوجاتی ہے گویا حرارت اجسام میں منتقل ہوجاتی ہے۔ اسی طرح پیدائش حرارت سے قوتِ جذب و دفع اور مقناطیس و بجلی کی پیدائش ہوتی ہے۔ اسی طور پر زندگی کا لوازمہ کیمیائی تبدیلیاں قرار پاتا ہے۔ جہاں پر کیمیائی تبدیلیاں ہوتی ہیں وہاں پر حرارت بنتی ہے اور زندگی اور حرارت کا اس ڈھنگ سے واسطہ ہے۔ جب تک کیمیائی تبدیلیاں اعتدال پر رہتی ہیں۔ اعضاء اپنے افعال مناسب اور باقاعدہ طورپرانجام دیتے رہتے ہیں اور کیمیائی تبدیلیوں سے جو حرارت پیدا ہوتی ہے وہ بھی ایک درجۂ اعتدال پر قائم رہتی ہے۔ پھر جب کسی داخلی یا خارجی اسباب سے اس اعتدال میں افراط وتفریط پیدا ہوجاتا ہے تو افعال ِ بدن مختل ہوجاتے ہیں۔ اگر زندگی کا مدار حرارت پر ہے تو صحت کا مدار اعتدال ِ حرارت پر ہے جب اعتدالِ حرارت نہیں رہتا تو صحت بھی قائم نہیں رہتی اور زندگی میں خلل واقع ہوجاتا ہے۔

تولدِ حرارت کے مقام
اس حقیقتِ مسلمہ کے سمجھنے کے بعد کہ حرکت کے بعد حرارت اور حرارت کے بعد قوت پیداہوتی ہے جس کو انگریزی میں (Action, Heat, Energy) انرجی کا مفہوم ہماری زبان میں نہیں ہے ہم اس کو توانائی کا نام ہی دیں گے۔انگریزی زبان میں طاقت کے کئی الفاظ ہیں۔مثلاًفورس(Force)پاور(Power)انرجی(Energy)۔ ان کو ذہن نشین کرنے کےلئےاس طرح سمجھیں کہ فورس ایسی طاقت ہےجو دباؤ ڈالے اور پاوروہ طاقت ہےجس میں حرارت شامل ہواور انرجی ایسی طاقت ہےجو غذائی قوت کی صورت پیداکرے۔ جسمِ انسان میں تینوں قسم کی طاقتیں پیداہوتی ہیں اور صَرف پیداہوتی رہتی ہیں۔ کیمیائی تبدیلیاں اگر چہ بدن میں سب جگہ پر ہوتی رہتی ہیں مگر سب اعضاء میں یکساں نہیں ہوتیں۔عضام، غضاریف اور اوتارجو خود بخود متحرک نہیں ہوتے۔ ان میں کیمیائی عمل بہت کم ہوتے ہیں اور حرارت کم بنتی ہے۔ اسی سبب سے یونانی اطباء مفاصل کا مزاج سرد مانتے ہیں۔ اعصاب ، عضلات و غدی مادہ میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے اور ان میں حرارت ہمیشہ پیدا ہوتی رہتی ہے۔ جس وقت اعضاء اپنے اپنے افعال سرانجام دیتے ہیں اس وقت ان میں کیمیائی تبدیلیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں اور ان اوقات میں ان میں سے حرارت بھی زیادہ نکلتی ہے۔تنفس کی دھونکنی ہروقت چلتی رہتی ہے، دل کی گھڑی ہر وقت ٹک ٹک کرتی رہتی ہے اور معدہ و امعاء کی چکی ہروقت پستی رہتی ہے۔ لہذا ان مقامات میں حرارتِ غریزی بھی ہمیشہ بنتی رہتی ہے۔ غدد کے کارخانوں میں جس وقت رطوبتیں تیارہوتی ہیں تو وہاں پربھی چمنیاں گرم ہوتی ہیں۔ خون ہروقت دورہ کرتاہے اور اس کے اجزاء ایک دوسرے کے ساتھ رگڑ کھاتے ہیں اور گرم ہوتے رہتے ہیں۔
مفصلہ بالا افعال و حرکات، عضلات سے تعلق رکھتی ہیں اور ہمارے بدن کا بڑا بھاری حصہ عضلات سے بنا ہوا ہوتاہے۔ اس لئے عضلات کا قبض و بسط حرارتِ بدن کا بڑا بھاری اور ضروری منبع اور ماخذ قرار پاتا ہے۔ اگر زیادہ ثبوت کی ضرورت ہے تواس بات سے ظاہر ہے کہ جب ہم ریاضت یا محنت کاکام کرتے ہیں تو بدن میں حرارت بھی زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ اگر اس کے ساتھ سرعتِ نفس او رکثرتِ عرق کے ذریعہ حرارت ساتھ ساتھ خارج نہ ہوتی جائے تو بدن بہت جلد گرم ہوجائے گا۔ جب عضلات میں تشنج ہوتا ہے تو بدن کی حرارت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کزاز اور دیگر تشنجی امراض میں بدن کی حرارت اس کثرت سے زیادہ ہوجاتی ہے کہ بیمار کے مر جانے کے بعد بھی کچھ عرصہ تک بدن گرم رہتا ہے۔ اکثر حمیات کے شروع میں جاڑا لگتا ہے جس کے یہ معنی ہیں کی عضلات میں تشنج واقع ہوکرزیادہ حرارت پیداہوتی ہے جس کے سبب سے بدن کی حرارت بڑھ جاتی ہے غیر طبعی طورپر جب حرارتِ بدن کچھ عرصہ کےلئے تجاوز کرجاتی ہے تو ہزال اور لاغری زیادہ تر عضلات میں واقع ہوتی ہےجو اس بات کی دلیل ہے کہ حرارت پیداکرنے کاسامان زیادہ تر عضلات سے لیا گیاہے۔(از علم و عملِ طب: کرنل بھولاناتھ)

اعتدالِ حرارت
حرارت جو جسمِ انسان میں پیدا ہوتی رہتی ہےاگر اس کی پیدائش بڑھ جائے یا اس کاخرچ ضرورت کے مطابق نہ ہویا زائد اور فالتو حرارت کا اخراج رک جائے تو بھی جسم میں نقصان کاباعث ہوتاہے اس لئے طبیعت مدبرہ بدن ہمیشہ زائد حرارت کو انسانی نظامات کے ذریعے خارج کرتی رہتی ہے۔ ان میں چار نظام قابلِ ذکر ہیں۔ا۔ نظامِ ہوائیہ: اس نظام میں پھیپھڑوں کے ذریعے حرارت اعتدال پر رہتی ہے۔2۔ نظامِ غذائیہ: اس سے اسہال کی صورت میں حرارت کااعتدال قائم رہتا ہے۔3۔نظامِ دمویہ: اس میں غدد سے جو رطوبت ترشہ پاتی ہے اس سے حرارت کا اعتدال صحیح رہتا ہے۔4۔ نظامِ بولیہ: اس نظام میں پیشاب سے حرارت کا اعتدال درست رہتا ہے۔ان نظامات کے علاوہ طبعی طورپر انعکاسِ حرارت، اتصال یا حسِ حرارت جذبِ حرارت ہوتی رہتی ہے، ان سب سے بڑھ کرحرارتِ جسم ِ انسان میں خرچ ہوتی رہتی ہے، غذاکو ہضم کرتی ہے، فضلات کو تحلیل کرتی اور اندرونی زہروںاور جراثیم کو تباہ کرتی ہے، جسمِ انسان کی غذابنتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ان تمام صورتوں میں اعتدالِ حرارت قائم رہتا ہے۔ جب جسمِ انسان کی حرارت میں کمی بیشی ہوتی ہے تو ان صورتوں میں سے کسی میں ضرور فرق آجاتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ حرارت کااعتدال کیسے قائم رہتا ہے۔ فرنگی طب اور ماڈرن سائنس کی تحقیق کے مطابق حرارت کو اعتدال پر قائم رکھنے کےلئے دماغ میں چند مراکز ہیں جن میں انبساط اور انقباض ہوتارہتا ہےجس سے حرارت قائم رہتی ہے۔ یہ تحقیق غلط ہے کیونکہ جب یہ تسلیم کیا گیا ہے اور تجربہ سے بھی یہ حقیقت ثابت ہے ۔ حرارت عضلات میں حرکت سے پیداہوتی ہے تو پھر صرف دماغ کے مراکز کو اس کی پیدائش قیام اور اعتدال کی صورتیں کیوں تسلیم کرلیں۔ اس میں دیگر اعضاء بھی برابر کے شریک ہیں۔
جاننا چاہیئے کہ حرارت کی پیدائش ، اس کا قیام اور اس کے اخراج کی تین صورتیں ہیں جن سے حرارت کا اعتدال قائم رہتا ہے ، کبھی پیدائش میں افراط و تفریط پیداہوجاتا ہے، کبھی ضبطِ حرارت میں کمی بیشی آجاتی ہے ، اسی طرح کبھی اخراج میں تیزی اور سستی پیدا ہوجا تی ہے۔ اس لئے یہ حقائق ذہن نشین کرلیں کہ عضلات حرارت پیداکرتے ہیں، غدد اس کو ضبط کرتے ہیں اور اعصاب اس کو اخراج کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح حرارت کی پیدائش، ضبط و قیام اور اخراج ہوتا رہتا ہے۔ یہ صورتیں مشینی(Mechanically) دوسری صورت کیمیائی(Chemically)ہے۔ یعنی ماحول و اغذیہ اور نفسیاتی اثرات۔ لیکن مشینی اور کیمیائی صورتیں آپس میں اس طرح منسلک ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے افعال انجام دے دیتی ہیں اور ایک دوسرے نظام کی ضرورت پورا کرتی رہتی ہیں۔ مندرجہ بالا حقائق کے علاوہ ان حقائق کو ذہن نشین رکھیں کہ 1۔بھوک کی حالت میں حرارت بڑھ جاتی ہے۔2۔غذاکھانے اور پانی پینے کے بعد حرارت کم ہوجاتی ہے، چائے پینے سے حرارت بڑھ جاتی ہے، لیٹنے سے حرارت کم ہونا شروع ہوجاتی ہے، بیٹھنے ،چلنے پھرنے ، دورنے اور ورزش سے حرارت بڑھ جاتی ہے، مسرت و لذت اور غصہ میں حرارت بڑھ جاتی ہے، غم و خوف اور ندامت میں گھٹ جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو حرارت جسم میں بڑھ جاتی ہے، کیا یہی بخار ہے؟اس کا جواب بخار میں دیا جائے گا ۔ پڑھیئے (ہماری کتاب تحقیقاتِ حمیات)

علاج بالتدبیر
حرارت کی پیدائش اور اس کے اعتدال کو سمجھ لینے کے بعد یہ ذہن نشین کرلیں کہ جب بھی نزلہ زکام پیداہوتا ہے، یقیناً جسمِ انسان سے حرارت کی کمی ہوجاتی ہےچاہے انسان کو سوزش و ورم اور بخارہی کیوں نہ ہوجائے اور یہ بھی جان لیں کہ سوزش وورم اور بخار تینوں سردی کی علامات ہیں۔ گرمی سے کبھی قائم نہیں ہوسکتیں۔ ہمیشہ گرمی سے سوزش دور ہوتی ہے۔ ورم تحلیل ہوجاتا ہے اور بخار پسینہ آکر اتر جاتا ہے جو لوگ ان علامات کاسرد ادویات سے علاج کرتے ہیں۔ یقیناً وہ نہ افعال الاعضاء سے واقف ہیں اور نہ وہ علاج سے آگاہی رکھتے ہیں۔ پس اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ نزلہ زکام سوزش سے پیداہوتا ہے اور سوزش حرارت اور صرف حرارت سے دور ہوسکتی ہے۔جاننا چاہیئے! کہ نزلہ زکام میں کبھی حرارت کی کمی ، اس کی کمئ پیدائش سے واقع ہوتی ہے اس وقت عضلات اپنے افعال پورے طورپرانجام نہیں دے رہے ہوتے، اعصاب میں تیزی ہوتی ہے، عضلات میں رطوبات کی زیادتی ہوتی ہے،ا س وقت اخراجِ حرارت بھی جاری رہتا ہے۔ عضلات میں سکون کی وجہ سے سردی لگتی ہے اوراس حالت کو زکام کہا جاتا ہے۔ کبھی حرارت کی کمی اس لئے پیداہوتی ہے کہ اس کی حرارت کا ضبط قائم نہیں رہتا۔ اس وقت عضلات میں تحریک ہوتی ہےمگر غدد میں سکون ہوتا ہے اور اعصاب تحلیل ہورہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کبھی حرارت کی کمی اس لئے واقع ہوجاتی ہے کہ جسم میں ضبطِ حرارت کے ساتھ تحلیل زیادہ واقع ہوتی ہے یعنی غدد میں تحریک ہوتی ہے اور عضلات میں تحلیل اور اعصاب میں سکون کی وجہ سے اعتدال قائم نہیں رہتا۔ ظاہر میں ایسی صورت میں مریض اپنےجسم میں حرارت زیادہ محسوس کرتا ہے بلکہ بعض وقت چہرہ و جسم پر صفر ا کی زردی بھی نمودار ہوجاتی ہے اور معالج بھی اس زردی سے ایسے دھوکا کھا جاتا ہے جیسے سوزش والے مریض جلن سے وہ غلط فہمی میں گرفتار ہوجاتاہے۔

اصولِ علاج
اصول علاج یہ ہے کہ اول یہ معلوم کریں کہ تحریک و تحلیل اورسکون کس کس مقام پر ہیں۔ اس تشخیص کے بعد جس مقام پر سکون ہو وہاں تحریک پیداکریں جب وہاں پر تحریک ہوجائے گی تو جہاں تحریک ہے وہاں پر تحلیل آجائے گی اور وہاں کی تحریک وسوزش اور ورم وغیرہ ختم ہوجائیں گے اور جس مقام پر تحلیل یا ضعف ہوگا وہاں پر رطوباتِ جسم گِرکراس میں سکون پیدا کردیں گی۔ یہی رطوبات ہیں جن کو لمف(Lymph)یعنی بلغم کہتے ہیں۔ جس کو ہم نے انگریزی لفظ انرجی(قوت) لکھا ہے۔ گویا قانونِ قدرت ہے کہ جہاں پرضعف پیداہوگا(جو کہ حرارت کی زیادتی اور تحلیل سے ہوا کرتا ہے وہاں پر قدرت فطرۃً قوت رطوبت کی صورت میں بھیج دیتی ہے۔ زندگی کی طرح کائنات میں بھی یہی عمل ہوا، گرمی اور بارش سے جاری و ساری ہے۔ جہاں کہیں گرمی کی شدت زیادہ ہو جاتی ہے وہاں بارش ہوجاتی ہے جس سے زمین اور اس کے موالیدہ ثلاثہ نہ صرف شاداب ہوجاتے ہیں بلکہ ان میں نئی زندگی اور نئی قوت پیداہوجاتی ہے۔اس لئے رحمت ِخداوندی کو بھی بارش سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اسی طرح کی بارش اور رحمتِ خداوندی ، انسانی جسم میں بھی ضعیف حصۂ جسم پرہوتی رہتی ہے مگر ان کا اعتدال بے حد ضروری ہےجہاں رطوبات بارش اور رحمتِ خداوندی حدِ اعتدال سے زیادہ ہوکرسیلاب کی صورت اختیار کرلے وہ بھی ایک قسم کا عذاب بن جاتا ہے۔ نزلہ زکام بھی اسی قسم کاایک عذاب ہے، چاہے وہ جسمِ انسان کے اندر گرے یا باہر خارج ہو اس کا اعتدال حرارت کی پیدائش اور اعتدال سے قائم رہتا ہے اور یہ رطوبت یا نزلہ ضرورت کے مطابق جسمِ انسان میں رحمتِ خداوندی بن کر زندگی ، جوانی اور صحت کوقائم رکھتا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ نزلہ جوبر عضوِ ضعیف گرتا ہے وہ رحمتِ خداوندی ہے، مصیبت سے کم نہیں۔ اگر ہم اس کے غیر اعتدال کو عذاب نہ بنا دیں۔
یہ تو حقیقت ہےکہ ناک وحلق اور انسان کے دیگرمخرجِ صحت کی حالت میں بھی اپنے اندر سے رطوبات اور فضلات کا اخراج کرتے رہتے ہیں۔ اگر وہ خارج نہ ہوں تووہاں پر سخت خشکی واقع ہوجائے اور یہ بھی تکلیف دہ علامت ہے، اور اگر زیادہ خارج ہوں تونزلہ زکام اور دیگر امراض و علامات پیداہوجاتی ہیں۔ پس ان کا اعتدال ہی معیارِ صحت ہے۔ چونکہ امراض کی صورت میں سب سے زیادہ جو علامات پیداہوتی ہیں وہ رطوبات کا استفراغ اور احتباس ہے، اس لئے نزلہ زکام اور اس کے اصول تمام جسم کی گرنے والی رطوبات کی طرف راہنمائی کردی گئی ہےتاکہ اس علامت سے انسان پورے طورپرواقف ہوکررحمتِ خداوندی سے مستفید ہوسکے اب ہر اہلِ فن وصاحبِ عقل اور اربابِ حکمت، ماہرلسانیات اندازہ لگاسکتے ہیں کہ “نزلہ برعضوِ ضیعف می ریزد”سے کیامراد ہونی چاہیئے۔ آیا مصیبت کے معنوں میں لیناچاہیئے یا رحمتِ خداوندی کے معنوں میں سمجھنا چاہیئے۔بہترین علاج کے سلسلہ میں حکیم بقراط کہتا ہےکہ
“جس طرح علاج میں مفرد دواؤں کا استعمال مرکب دواؤں کی نسبت بہترہے ۔ اسی طرح دوائی علاج کی نسبت اگرچہ مفرد ہی کیوں نہ ہو، غذائی علاج کو ترجیح دینی چاہیئے اور حفظِ صحت کے باب میں بھی اسی اصول کو مدِ نظر رکھنا چاہیئے۔”
حکیم بقراط کااصولِ علاج ایک قانون کی حیثیت رکھتا ہےیعنی جس مرض کا علاج اور حفظِ صحت اگر صرف غذا سے ہوسکے تو مقدم و افضل اور ضروری ہے۔ لیکن جہاں غذاسے امراض کا ازالہ نہ ہوسکے یاحفظِ صحت نہ رہ سکے تو اس وقت ادویات کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔ مگر ادویات میں اول مفرد ادویات کو ترجیح دینی چاہیئے، پھر قلیل مقدار میں مرکبات اور آخر میں مجربات سے علاج کرنا چاہیئے۔ طویل مرکبات اور زہریلی ادویات سے ہمیشہ گریز کرنا چاہیئے۔ غذائی علاج چونکہ غذاکے باب کے تحت آتا ہے اس لئے اس کا ذکرغذاکے بیان میں علاج کے بعد کریں گے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ
ہماری تحقیقات ہیں کہ نزلہ زکام صرف حرارت کی کمی اوربرودت کے بڑھ جانے سے پیدا ہوتا ہےمگر طبِ یونانی اس کی پیدائش حرارت کی زیادتی اور اس کے بڑھ جانے کو بھی تسلیم کرتی ہے۔ اسی طرح آیورویدک میں نزلہ زکام کف اور پت دونوں سے تسلیم کیا گیا ہے۔ بلکہ بعض بعض جگہ وات سے بھی مانا گیا ہے یہ دونوں اور تینوں صورتوں میں صحیح ہے۔ چونکہ ہماری تحقیق نظریہ بالمفرد اعضاء کے مطابق ہے اور ہم نے ہر عضو کے فعل کے ساتھ حرارت، برودت اور رطوبت کو مخصوص کر دیا ہے جیساکہ ہم لکھ چکے ہیں ۔عضلات حرارت پیدا کرتے ہیں، غددان کو محفوظ کرتے ہیں اور اعصاب اس کا اخراج کرتے ہیں۔ اس لئے جب نزلہ عضلات کی سوزش سے ہوگا تو جسم ِ انسان میں حرارت پیداہونا شروع ہوگی اور جب غدد میں سوزش ہوگی تو حرارت جسم میں بڑھنی شروع ہو جائے گی اور انہی دونوں صورتوں میں مریض بھی حرارت کی زیادتی محسوس کرتا ہے۔ غددی صورت میں تو جسم میں صفرا کی زیادتی بلکہ یرقان بھی ہوجاتا ہے جس سے معالج اور مریض دونوں کو یقین ہوجاتا ہے کہ نزلہ حرارت سے پیداہورہاہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ نزلہ زکام ہمیشہ سوزش سے ہوتے ہیں اور سوزش بذاتِ خودایک جلن ہے اور باعثِ حرارت ہے اس لئے یہ غلط فہمی کی حد تک پہنچ جاتی ہے کہ نزلہ زکام گرمی سے بھی پیداہوتا ہے۔ زکام بھی سوزشِ اعصاب سے پیداہوتا ہے مگر چونکہ سوزشِ اعصاب حرارت کا خارج کرنے والی ہے اس لئے جسم میں گرمی کی بجائے سردی کااحساس شدیدہوتاہے اور اعصابی سوزش بھی ابتدامیں گرمی کا احساس پیدانہیں کرتی لیکن جب زکام کا مرض شدت اختیار کرلیتا ہے یعنی سوزش سے بڑھ کرورم کی صورت پیداہوجاتی ہے تو پھر گرمی اوربخار دونوں چیزیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ یاد رہے کہ ایسی حالت میں مریض کا بچنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
باوجودیکہ ہمیں تجربہ و مشاہدہ اور عقل بتاتی ہے کہ نزلہ گرمی سے بھی پیداہوتاہے مگر حقیقت ان سب کوغلط قراردیتی ہے کیونکہ جب فطرت کا یہ قانون ہماری راہنمائی کررہا ہے کہ جسمِ انسان میں ہر قسم کی سوزش اور جلن صرف سردی سے پیداہوتی ہے۔ گرمی سے کبھی سوزش(Irritation) جلن پیدانہیں ہوسکتی۔ اس لئے ہر قسم کا نزلہ زکام ہمیشہ حرارت کی کمی سے پیداہوگا۔ البتہ جسم کے احساسات ضرور مختلف ہوں گے۔لیکن ہم صرف یونہی تجربہ و مشاہدہ اور عقل کونہیں جھٹلاتے بیشک قانون اپنی جگہ صحیح ہے۔علم و فن اور حکمت کی تصدیق بغیر دلیل کے نہیں ہوسکتی۔دلیل خود تجربہ و مشاہدہ اور عقل کوثبوت کےلئے پیش کرتی ہے۔اب یہ صرف اہل علم و صاحبِ فن کے ذہن اور تدبر کی رفعت اور بلندی ہے کہ وہ حقیقت کو سمجھ لیں ورنہ ہر انسان میں ہرعمر میں اور ہر مقام، ہرعلم و فن میں تجربہ و مشاہدہ اور عقل کام کرتی ہے۔ انسان کس کس کو صحیح کہہ سکتاہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے مذہب شروع ہوتاہے جو صحیح تجربہ و مشاہدہ اور عقل کی تصدیق کرتاہے۔ اس لئے کہا گیا ہے۔

اَلٗعَلْمُ عِلْمَاَنِ، عِلْمُ الْاَبْدَانِ وَ عِلْمُ الْاَدْیَان
یعنی دنیاوی علوم کی جہاں انتہا ہوتی ہے وہاں پر دینی علم کی ابتداہوتی ہے یا دنیاوی علوم کی تصدیق ہمیشہ دینی علم کرتے ہیں اس لئے سطحی تجربہ و مشاہدہ اور عقل پر یقین کرنے سے قبل قانونِ فطرت کا سمجھنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ماڈرن سائنس کی اکثر تحقیقات کو چیلنج کرتے ہیں اور ان کوغلط قرار دیتے ہیں۔
اب ہم دلیل وثبوت پیش کرتے ہیں کہ ہرعضو کی سوزش سردی سے پیداہوتی ہے اور سوزش کے بغیر نزلہ زکام پیدانہیں ہوسکتا جب عضلاتی سوزش بڑھ کر ورم کی صورت اختیارکرلیتی ہے تو ورم اگر پھیپھڑوں میں ہوتواس کو ذات الریہ(نمونیا) کہتے ہیں جس میں مریض کی بے چینی و پیاس اوربخارو حرارت قابلِ رحم ہوتی ہے مگرباوجود مریض کی شدید طلب کے سرد اغذیہ و اشربہ ، سردمقام بلکہ سرد ہوا سے بھی بچایاجاتا ہے۔ اس طرح جب یرقان ہوجاتاہے جس کو انتہائی گرم امراض میں شمار کیاجاتاہے مگر اس کے علاج میں بھی گرم ادویات دی جاتی ہیں۔ یرقان غدی سوزش کا نام ہے۔ اسی طرح جب اعصابی سوزش شدید ہوتی ہے تو اس کی علامت میں قے اوراسہال بھی شروع ہوجاتے ہیں بلکہ ہیضہ بھی اس کی ایک علامت ہے جس میں انتہائی کرب و بے چینی اور حرارت و پیاس مریض محسوس کرتا ہےمگر اس کو سرد پانی دینا اس کو موت کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔ ان حقائق سے ثابت ہوا کہ ہر قسم کا نزلہ زکام سوزش سے ہوتا ہےاور سوزش ہمیشہ سردی سے ہوتی ہے جس کی تشریح گزشتہ صفحات میں اچھی طرح کردی گئی ہے۔

ایک اہم نقطہ
ہر قسم کی رطوبت جو اعصابی تحریک یاسوزش کے بعد اخراج پاتی ہیں، چاہے وہ زکام ہو یا لعاب دہن اوراسہال ہوں یا پیشاب کی زیادتی سے ا ن سب میں بدن سرد ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ان میں حرارت کا اخراج عمل میں آتا ہے اور مریض سردی کی شکایت کرتا ہے مگر عضلاتی اور غدی سوزش میں مریض ہمیشہ گرمی کی شکایت کرے گا یہاں تک کہ پیٹ میں نفخ اور ریاح کی شدت ہوپھر بھی گرمی کی شکایت کرتا ہے اور پینے کے لئے سرد اشیاء طلب کرتا ہے۔

ایک دوسرا اہم نکتہ
نزلہ زکام میں جو رطوبت اخراج پاتی ہے وہ دراصل مرض نہیں ہوتی بلکہ شفا ءمرض ہوتی ہے کیونکہ طبعیت مدبرہ بدن اس عضو کو سوزش سے بچانے کے لئے رطوبت بھیج رہی ہوتی ہے، اس کابندکرنا سخت غلطی ہے بلکہ گناہ ہے۔ کیونکہ اس کے بند کرنے سے وہاں پر سوزش میں شدت پیداہوجاتی ہے۔ بلکہ وہاں پر رطوبات کو زیادہ کرنے کی کوشش کریں اور جسم کو گرم رکھیں ، فورا سوزش ختم ہوجائے گی اور رطوبات کا گرنا یعنی نزلہ زکام بہت جلد بندہوجائےگا۔ اس کے برعکس معالجین خصوصاً فرنگی ڈاکٹر فوراً مخدرات اور مسکنات کے استعمال سے نزلہ کو روک دیتےہیں اور اسی کو حقیقی علاج ِ مرض خیال کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نزلہ زکام توعلامت ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ کسی مقام پر سوزش ہے اور اس کورفع ہوجانا چاہیے لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس علامت کوروک دیاجائے اور اصل مرض یعنی سوزشِ عضو کے علاج کی پروا نہ کرتے ہوئے اس کو نظرانداز کردیاجائے۔ نزلہ زکام کی رطوبت کو روک دینے سے ہی یہ مرض مزمن ہوجاتا ہے اور مدتوں پیچھا نہیں چھوڑتا۔ اب ہر اہل علم اور صاحبِ فن خود اندازہ لگا سکتا ہے کہ کیا فرنگی ڈاکٹر نزلہ زکام کی حقیقت اور اس کا علاج جانتے ہیں؟ نہیں اورہرگز نہیں!!

ایک تیسرااہم نکتہ
جب تک سوزش قائم رہے رطوبت کو خود بندکرنے کی کوشش نہ کریں یعنی اسی عضو کی تحریک بڑھائیں مگرحرارت کو بھی ساتھ ساتھ زیادہ کرتے جائیں جب سوزش ختم ہوجائے تو جس عضو میں سکون ہواس میں تحریک پیداکردیں۔ بس یہی صحیح و یقینی اور بے خطا علاج ہے۔

علاج بالادویہ
ہرمرض کا جب علاج شروع کیاجائے تو کوشش کی جائے کہ دوا مفرد ہوکیونکہ مفرددوا کے خواص پرمعالج کواچھی طرح دسترس ہوتی ہے۔ دوسرے مفرد ادویات بھی دراصل کیفیات اور عناصرسے مرکب ہیں اور تیسرے دوا مفرد سے اگر کوئی نقصان پیداہوجائے تو فوراً اس کو تریاق دے کراس کے نقصان رساں اثرات کودور کیا جاسکتا ہے۔جب مفرد دوا سےکام نہ چلے تو مرکبات استعمال کرنے چاہئیں لیکن ان میں یہ تاکیدہونی چاہیے کہ 1۔مرکبات وقتی طورپر خود ترتیب نہ دینے چاہئیں بلکہ مجربات ہونے چاہئیں۔2۔اگر خود ترتیب دینا ضروری ہے تو ان کے ردعمل اور ثانوی مزاج کا علم ہونا چاہیے۔ اسی مقصد کے لئے متقدمین اور متاخرین ماہرین اور اہل فن نے قرابادین (فارماکوپیا) تیار کئے ہیں۔
بعض نسخے ایسے دیکھے گئے ہیں جن میں بیس بیس اور تیس چالیس تک ادویات شامل ہوتی ہیں۔ یقیناً ان میں اکثر متضاد ہوتی ہیں ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان کے اثر پروہ کیسے قابو پالیتےہیں۔ ایک صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ایک حکیم کو دیکھا کہ وہ ایک چورن بنارہاہےجس میں اکیاسی(81)ادویات ہیں اور اس کا دعویٰ ہےتھا کہ یہ چورن اکیاسی امراض کے لئے مفیدہے۔ یہ توایک عام سی بات ہے کہ ماءا للحم میں ایک سو ایک ادویات ڈالی جاتی ہیں۔ بہرحال یہ اور ایسی باتیں ہی ہیں جن سے فنِ طب بدنام ہوا ہے اور ہورہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بڑےبڑے فاضل بزرگ معالج کو دیکھا ہے کہ صحیح نسخہ نہیں لکھ سکتا، بلکہ صحیح نسخہ پرکھ نہیں سکتا۔ اگر کبھی کسی سے سوال کردیاجائے کہ یہ ادویات جو نسخہ میں شامل کی گئی ہیں ان کو ذاتی تعلق کیا ہے اور ان کا ردعمل کیا ہے اور ان کا نیا مزاج کیسا تیارہوگا تو ان کا جواب ان کے پاس نہیں ہوتا۔ ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے نزلہ زکام کے لئے ادویات تجویز کرنی چاہئیں۔

تجویز ادویات
ادویا ت تجویز کرنے سے پہلے پھر یقین کرلیں کہ زکام ہے یا نزلہ، اور نزلہ بہہ رہا ہے یا بند ہے۔ اگر زکام ہےتو اعصابی ہے اوراگر نزلہ ہے اور بہہ رہا ہے توغدی ہے اور اگر نزلہ بند ہے تو عضلاتی ہے۔ ان کی علامات لکھ دی گئی ہیں۔ جب صحیح تشخیص ہوجائے تو ایسی مفرد ادویات ذہن کے سامنے لائیں جو مولدِ حرارت ہوں پھر یہ دیکھیں کہ ان میں ان اعضاء کی مناسبت سے کون کون سی ادویات ہیں۔ پھر ان میں طاقت کی کمی بیشی کو سامنے رکھ کرانتخاب کرلیں۔ یعنی صرف محرک عضو چاہیے کہ ملین ومسہل وغیرہ وغیرہ۔ ان کے علاوہ مقوی، تریاق اور اکسیر بھی ہوسکتی ہیں۔ کم از کم اول تین صورتیں ضرور ذہن میں حاضر رکھیں۔

دواہم نکات
اول: مبردات و مسکنات اور مخدرات کے استعمال سے ہمیشہ گریز کریں ان سے بڑھاپا پیداہوتاہے۔دوم:سرد خشک ادویات اگر مبردات میں شریک ہیں مثلاً کشتہ جات۔ یہ سب محرک عضلات ہیں اور ان سے حرارت پیداہوتی ہے۔ یہ کشتہ جات سرد ادویات بھلے کیوں نہ ہوں مولد حرارت ہیں۔ اسی طرح جن ادویات کو بریاں کیا جاتا ہے ان میں بھی حرارت پیداہوجاتی ہے اور بہت حد تک برودت ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح سردادویات کو بوقت ضرورت گرم کرلیا جائے تو بھی ان میں اعتدال اور ہلکی حرارت پیداہوجاتی ہے جیسے پانی۔

تیسرااہم نکتہ
جو ادویات سطح جلد یاغشاء مخاطی میں چکناہٹ پیداکرتی ہیں وہ بھی گرم یا معتدل ہوتی ہیں۔ جن میں خاص طورپر یہ شریک ہیں مثلاً بہیدانہ، تخمِ خطمی، تخم خبازی وغیرہ

چوتھا اہم نکتہ
ہرقسم کے ملینات، مسہلات، مقوی و مسمن بدن، مشتہی، منذی،مفتح، معرقات، محلل، مفجر اورام اور دافع تعفن وغیرہ سب گرم ہیں۔

نوٹ: ذیل میں چند اہم مفرد ادویات دی جارہی ہیں جو نزلہ زکام میں مفید ہیں۔ یہ فہرست صرف نمونہ کے طورپر ہے ورنہ ان میں سینکڑوں ادویات کااضافہ کیاجاسکتا ہے مگر طوالت کے لئے نظرانداز کردیاگیا ہے۔ اس فہرست کو ہم نے بالمفرداعضاء نہیں لکھا صرف صاحبِ علم اور اہلِ فن پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ خود تلاش کریں اور ان میں جذبہ تحقیق اور تجسس پیداہو۔ البتہ ہم نے مجربات میں انہی ادویات میں سے اکثر کو بالمفرداعضاء لکھ دیا ہے۔ اس سے تحقیق و تجسس میں بے حد مدد ملے گی۔ ویسے کوئی ضرورت مند صاحب اگر چاہیں تو دریافت کرسکتے ہیں۔

مسخن
بدنی حرارت میں اضافہ کرنے والی، یہاں اس سے ساری گرم دوائیں مرادنہیں ہیں۔ بلکہ صرف چند دوائیں لکھی جاتی ہیں۔ جن سے عام بدنی حرارت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ مشک عنبر، اگر، پیاز، شراب، جندبیدستر، خولنجاں، پپلامول، عقرقرحا، پپیتہ، چائے، پان، سنبل الطیب، شکر، کچلا، بلادر، فلفل دراز، زراوند، گڑ، جواہرمہرہ، جاوتری، پیپل، لہسن اور شہد وغیرہ۔

مملسات
مملس (چکنا کرنے والی)۔ مملسات وہ دوائیں جن سے سطح جلد یا غشاء مخاطی میں چکناہٹ پیداہوجاتی ہے۔ تخم خبازی، روغن بادام، تخم کنوچہ، انجیر، جو مقشر، تخم خطمی، روغن کنجد، تخم بارتنگ، سپستاں،ماء الشعیر، ریشہ خطمی، چربی، تخم بالنگو، اصل السوس، نشاستہ، برگ گاؤزبان، تیل، کتیرا، بلام (سریش)، بیلگری، بہیدانہ، تخم کتاں، صمغ عربی، کلے پائے، روغن زیتون،اسپغول، آلوبخارا، شہد مصفیٰ، روغن گل، تخم ریحان،عناب اور قند سفید وغیرہ۔

دافع تعفن
(عفونت کو دور کرنے والی دوا) وہ دوا ہے جو مواد تعفن کی ترکیب کو بدل کریاکسی اور طرح رکاوٹ پیداکرکے عمل تعفن کو بند کردیتی ہے۔پارہ، کوئلہ، رال، روغن سرد، اجوائن دیسی، رسکپور، تیزاب، شورہ گندھک، روغن دارچینی، کائپھل، زنگار، تیزاب نمک، زفت، صعتر فارسی، خزامی، دارچکنا، ہینگ، نفت، قرنفل، مرمکی، طوطیا، ست پودینہ، بورق، دارچینی، بہروزہ، جاوتری، بلسان، نیم، ست اجوائن، تیزپات، حاشا، لوبان، کافور، روغن قرنفل، پودینہ۔(از کلیات الادویہ)

مرکبات
مرکبات میں بھی مفرداعضاء کی تخصیص نہیں کی گئی تاکہ اہل ذوق بوقتِ ضرورت خود تجویز کرنے کی کوشش کریں۔ لعوقِ خیار شنبر، لعوق سپستاں، لعوق معتدل، سفوف مغزیات، روغنیات، سفوف بنفشہ، شربت بنفشہ وشربتِ شہد، حب ایارج، حب بنفشہ، خمیرہ بنفشہ، اطریفلا ت و خمیرہ جات، حب اذاراقی، معجون اذاراقی، حریرہ جات، حلوے۔

مجربات
مجربات کے استعمال میں اس امرکومدنظر رکھا گیا ہے کہ وہ بالمفرداعضاء لکھی جائیں تاکہ عوام بھی مستفید ہوسکیں۔

زکام
زکام چونکہ اعصابی تحریک ہے اس میں عضلات کے اندر تسکین ہوتی ہے۔ اس لئے محرک عضلات ادویات ہونی چاہئیں۔ اس مقصد کےلئے قہوہ عناب، انجیر، کلونجی، پھٹکڑی سوختہ، ہلیلہ بریاں، آملہ اور ہرقسم کے اطریفلات اور کشتہ جات خاص طورپر عقیق، مرجان اور سنکھ بے حد مفیدہیں۔ اگر یہ مرض شدت اختیار کرلے تو اس میں گندھک، شنگرف، پارہ، سنکھیا اور کچلا وغیرہ اور ان کے مرکبات استعمال کرسکتے ہیں۔ فوری اور روزانہ استعمال کے لئے ہلیلہ سیاہ بریاں، گندھک ہم وزن سفوف تیار کرلیں۔ خوراک 2 ملی گرام سے 2 گرام تک ہمراہ نیم گرم پانی استعمال کریں۔

نزلہ
نزلہ چونکہ ہمیشہ غدی ہوتا ہے۔ اس میں اعصاب کے اندر تسکین ہوتی ہے۔ اس لئے اس میں محرک اعصاب ادویہ استعمال کرنی چاہئیں۔ بہیدانہ، تخم خبازی، الائچی،بنفشہ اور اس کے تمام مرکبات خصوصاً خمیرہ، بنفشہ، مغزیات اور ا ن کے ہر قسم کے مرکبات خصوصاً خمیرہ جات اور گرمیوں میں شیرہ جات مگر نیم گرم ہونے چاہئیں۔ اسی طرح ہر قسم کے خمیرہ جات خصوصاً خمیرہ گاؤزبان، لعوقات خصوصاً لعوق سپستاں، ہرقسم کی گوندیں ملٹھی اور ست ملٹھی، سردیوں میں خالص شہد، گرمیوں میں نیم گرم شربت شہد، شورہ قلمی سوختہ، سہاگہ سوختہ، زیرہ سیاہ۔ اگر مرض شدید ہوگیاہو تو کتیرا، عشر اور ریٹھہ وغیرہ کے مرکبات بھی استعمال کرا سکتے ہیں۔ اگر مزمن ہوگیاہو تو ان کے ساتھ گندھک، سقمونیا اور عصارہ ریوند بھی استعمال کرا سکتے ہیں۔ روزانہ اور فوری استعمال کےلئے سہاگہ 2 حصے، ملٹھی 3 حصے، گندھک 3 حصے سفوف تیارکرلیں، خوراک ایک گرام تک ہر تین گھنٹے بعد ہمراہ آب نیم گرم دیں۔ جاننا چاہیے کہ نزلہ وبائی عام طورپر غدی ہوتا ہے۔

نزلہ بند
نزلہ بند چونکہ عضلاتی ہوتاہےاس لئے اس میں غدد میں تسکین ہوتی ہے۔ اس لئے محرک غدد ادویات دینی چاہئیں۔ اس مقصد کے لئے نمک خوردنی اور دیگر ہر قسم کے نمکیات، زنجبیل، فلفل سیاہ،د ارچینی، خولنجاں، عقرقرحا، لونگ، مصبر، نوشادر، تیزپات، رائی، اجوائن دیسی، گرم مصالحہ جات اور ہرقسم کی جوارشات۔ اگرمرض مزمن ہوتوجلاپہ، وند، گندھک اور کجلی بھی استعما ل کرسکتے ہیں اور روزانہ استعمال کے لئے یہ نسخہ تیار کرلیں۔نوشادر 2 حصے، اجوائن دیسی 3 حصے، گندھک 3حصے سفوف تیار کرلیں۔خوراک 2 ملی گرام سے 2 گرام تک۔
نوٹ:ہرقسم عرق و شربت اور جوشاندے و خشاندے وغیرہ جو نزلہ زکام کے لئےمفید ہیں، استعمال کئے جاسکتے ہیں مگر اس میں یہ شرط ضرور ہےکہ وہ بالقویٰ یا بالفعل ضرور گرم ہونے چاہئیں۔ ان کی سردی سے ہمیشہ بچنا چاہیے ورنہ مفید ادویات بھی مضر اثرات پیداکردیں گی جس کا نتیجہ اکثر ایسانکلتا ہے کہ تسکین کے مقام پر جو رطوبت ہوتی ہیں وہ یا منجمدہوجاتی ہیں یا ان میں تعفن پیداہوکرزہر بن جاتاہے۔ دونوں صورتوں میں موت یا بڑھاپاکے قریب مریض پہنچ جاتا ہے۔ یہ یاد رکھیں جوانی اور بڑھاپے کا فرق صرف بلغم کی کسی عضو میں زیادتی ہے جس سے اعضاء میں انتہائی سکون پیداہوجاتا ہے۔

نزلہ زکام کے علاج میں غذا کی اہمیت
کیمیائی ادویات و مجربات ، مفردات و مرکبات اور جڑی بوٹیوں کے متعلق یہ یقین کرلینا کہ وہ ا مراض کی ہرحالت کے لئےاکسیروتریاق اور یقینی و بے خطا اثراتِ شفا اپنے اندر رکھتی ہے۔ یہ تصور ایک جاہل عطائی کا ہوسکتا ہے مگر ایک حکیم اس خیال پر کبھی یقین نہیں کرسکتا۔اہل علم و صاحبِ فن حکما اور اطباء کا اس امر پراتفاق ہے کہ ہمیشہ مریض کا علاج ہوسکتا ہے اگر کسی مرض کا علاج ناممکن ہے کیونکہ ہر شخص کا مزاج، مرض کا مزاج، موسم کا مزاج، ملک کامزاج، آب و ہوا کے تغیرات ہمیشہ مختلف رہتے ہیں۔ اس لئے ہر مرض کے مختلف مدارج، مختلف امزجہ میں اور علامات میں ایک ہی دوا کیسے مفید ہوسکتی ہے۔ ایسا عطایانہ علاج فرنگی طب میں پایاجاتا ہے۔ کیونکہ وہ ان سائنٹیفک اور غلط طریق علاج ہے ، ہرقسم کے دردسر میں چاہے پٹھوں کی خرابی سے ہو، چاہے جگرکی تکلیف سےہویا دل کے افعال کے نقص سےپایا جائے وہ صرف اسپرین دیں گے۔ اسی طرح ملیریا میں اسہال ہوں یا قبض، قے ہویاادرار، پیٹ میں دردہویادردِدل وہ بہرحال اس مریض کے لئے کونین تجویز کردیں گے یا کوئی زیادہ فرنگی معالج باقی علامات کےلئے کوئی اور دوا تجویز کردے گا وغیرہ۔ مگر کونین اور اس کی کوئی قسم لازمی ہوگی۔ اس عطایانہ علاج کے ساتھ ہی فرنگی طب کا مسئلہ غذا پر بالکل خاموش ہے۔ ہرقسم کے گرم سرد مشروبات اور اغذیہ پرکوئی پابندی نہیں ہے۔
فرنگی طب (ڈاکٹری) نے اطباء اور عوام کے ذہنوں پر جہاں یہ اثر ڈالا ہے کہ فرنگی ادویات ہر مرض کے لئے سالہا سال کی سائنسی تحقیق اور تدقیق(Research and Analysis) کے بعد بنائی جاتی ہیں۔اس لئے ہر مرض کی حالت میں مفید ہیں وہاں پر یہ غلط صورت بھی پیدا کردی ہے کہ مریض کے لئے کسی خاص قسم کی غذائی تخصیص نہیں ہے گویا دوا اپنے اندر پورے پورے شفائی اثرات رکھتی ہے۔ مگر جب ادویات استعمال کی جاتی ہیں تو نتیجہ صفر کے برابر نکلتا ہے۔ البتہ مخدر اور منشی ادویات اور ان کے ٹیکے مریضوں کو بے ہوش ضرور کردیتے ہیں یا میٹھی نیند سلا دیتے ہیں۔ اکثرتوہمیشہ کے لئے بھی سلا دیتے ہیں ورنہ جہاں تک مریض کے علاج کا تعلق ہے فرنگی طب بالکل ناکام ہے۔
لیکن اس تقلیدکاکیا جائے جوہمارے حکماء اوراطباء نہیں بلکہ عطاراور عطائی قسم کےمعالج کررہے ہیں جن کامقصد سستی شہرت ، ناجائز دولت کمانا اور ملک وفن کے ساتھ غداری ہے۔ ایسے لوگ طب یونانی کاصحیح اور مکمل علم نہیں رکھتے۔ فرنگی طب کی نہ سند حاصل کی ہے اور نہ باقاعدہ تعلیم کا موقع ملا ہےلیکن علاج کے لئے شب و روز استعمال کرتے ہیں۔انجکشن لگاتے ہیں اور عوام پریہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر اور حکیم ددنوں سے اچھے ہیں۔ دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ وہ انگریزی ادویات کو دیسی ادویات سے ملاکران کا نقصان دور کردیتے ہیں اور یونانی دوا کی طاقت تیزکردیتےہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ سب سے زیادہ یہ لوگ عوام اورمریضوں کےنقصان کے ساتھ ساتھ فنِ طب اور یونانی ادویات کے لئے بدنامی کاباعث بنے ہیں۔ مجھے ایک دو نہیں سینکڑوں ایسے عطائیوں اور عطاروں سے ملنے کااتفاق ہوا ہے جو فن طب تو رہا ایک طرف کسی معمولی مرض کی ماہیت اور بادیان جیسی روزانہ استعمال کی دوا کے خواص تک نہیں جانتے اور باتیں کرتے ہیں پنسلین، سلفا گروپ اور اینٹی بائیٹک ادویات کی۔ ان کونہ نفخ کاپتا ہے اور نہ اسہال کی ضرورت کا، نہ پسینہ اورادرار کے اوقات کااندازہ لگا سکتے ہیں۔ ان کی بلا جانے مسہل و ملین میں کیا فرق ہے؟ ان کے لئے اتنا ہی کافی ہےکہ فلاں دوا پاخانہ لاتی ہے، فلاں شے سے پیشاب آجاتا ہے اور فلاں شے دینے سےپسینہ آجاتا ہے یا زیادہ سے زیادہ دل کوطاقت دینے کے لئے چند ادویہ ذہن میں حاضر ہیں۔ مگرڈیجی ٹیس، سپرٹ ایمونیا، ارومیٹک اور ایڈرنالین کا فرق نہیں جانتے۔ لیکن وہ کامیاب معالج کہلاتے ہیں اور امراض کے علاج میں بڑھ چڑھ کر شفا کے دعوے کرتے ہیں اور جب وقت آتا ہے تو بغلیں جھانکتے ہیں۔
فرنگی کی اندھی تقلید نے ملک میں ایک ایسا گروہ پیداکردیا ہے جونہ حکیم ہے اور نہ طبیب مگر فن طب کے لئے بیحد بدنامی کا باعث بنا ہوا ہے۔ایسا گروہ کبھی ہومیوپیتھک سندات کا سہارا لیتا ہے اور کبھی طبِ یونانی کی سندات کا سہارا لیتا ہے اور کبھی طب یونانی کی سندات خریدتا ہے اور اپنی دوا فروشی جاری رکھتا ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جنہوں نے مسئلہ غذاکی اہمیت کو ختم کردیا ہے۔ اول تو ایسی قسم کے معالج خواص الاغذیہ ، ضرورتِ اغذیہ اورطریق استعمال اغذیہ سے واقف نہیں ہوتے، دوسرے فرنگی طب کی تقلید میں ہر غذا کھانے کی اجازت دیتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ غذا ثقیل نہیں ہونی چاہیے۔شوربا پھلکا اچھی غذا ہے، ہاں کھچڑی بھی کھا سکتے ہیں، اگردل کرتا ہے تو دودھ پی لیں، چائے بھی نقصان نہیں دے گی، خیر پھل کا تو کوئی نقصان نہیں ہے، البتہ مٹھائی بہت کم کھائیں ہاں بادی چیز اور کھٹاس و تیل کے نزدیک نہ جائیں، اگر برف کا استعمال کرتے ہیں تو ذرا استعمال کرلیں ۔ وغیرہ وغیرہ۔
ان معالج حضرات سے کوئی پوچھے کہ ثقیل اور لطیف غذاکافرق کیا ہے؟ کون کون سی اغذیہ ثقیل ہیں اور کون کون سی زود ہضم وغیرہ۔ ایک ہی مریض کو گرم اغذیہ بھی اورسرد اغذیہ بھی، روٹی بھی، چاول بھی، برف اور پھل بھی اور چائے بھی۔ آخرغذا شے کیا ہے؟ تندرست اور مریض کی غذا میں کچھ نہ کچھ توفرق ہونا چاہیے۔ اگر مریض کوئی فرق نہیں کرنا چاہتا تو پھروہ مریض نہیں ہے اگر معالج فرق نہیں جانتاتومعالج نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اچھے اور بُرے معالج کا اندازہ غذا اور پرہیز بتانے میں چل جاتاہے۔ جو معالج روزانہ استعمال کی اشیاء مثلاً نمک، مرچ، ہلدی، گرم مصالحہ، گوشت، سبزیاں ، دالیں، غلے، دودھ، چائے اور ان سے بنی ہوئی اشیاء ، پھل، میوہ جات اور پان تمباکو وغیرہ وغیرہ اثرات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہے تو وہ علاج میں ان کو کیسے استعمال کرسکتا ہے۔ اگر اتفاقاً ایک اچھی دوابھی تجویز کردی تو غذاکی خرابی سے بجائے آرام ہونے کے مریض کو نقصان ہونے کااندیشہ ہے۔
غذا کے متعلق جاننا چاہیے کہ مریض کے لئے نہ کوئی لطیف غذا اور زود ہضم غذاہے اور نہ کوئی ثقیل اور دیرہضم، نہ کوئی غذامقوی ہے اور نہ غیرمقوی، اسی طرح نہ کوئی غذا مولد خون اور نہ ہی پیدائش خون کو روکنے والی ہے۔ بلکہ اصل غذا و ہ ہے جس کی مریض کے جسم کوضرورت ہے وہی غذا اس کے لئے زود ہضم و مقوی اور مولدخون ہوگی۔ ضرورتِ غذا کا مریض کے اعضاءکے افعال کی خرابی اور خون کے کیمیائی نقص سے پتا چلتا ہے۔اگر مریض کےلئے صحیح غذا تجویز کردی جائے تو انشاء اللہ تعالیٰ مریض کوبغیر دوا کا اثرصرف پچیس(25) فیصدی ہے اور پچیس فیصدی مریض کے ماحول کا درست اور مزاج کا مطمئن رکھتا ہے۔ تاکہ قوتِ مدبرہ بدن بیدار رہے اور مریض کی طبعیت صحت کی طرف دوڑتی رہے۔
مریض کو غذاتجویز کرنے کے لئے ہمیشہ تین باتوں کا خیال رکھنا ہے۔1۔ تخمیرغذا۔2۔ ضرورت غذا۔3۔ مناسب غذا۔ تخمیر غذا کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مریض کے شکم میں جو غذا موجود ہے اس میں خمیر پیداہوچکاہے۔ اکثر یہی خمیرفساد خون تک پہنچ چکاہوتا ہے بلکہ بعض وقت زہر کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ مثلاً ہم روزانہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ آج کا تازہ دودھ کل باسی ہوجاتاہے۔ دوسرے روز اس میں کھٹاس پیداہوجاتی ہے، تیسرے روز اس میں تعفن پیداہوجاتا ہے، چوتھے روز اس میں کیڑے ظاہر ہوجاتے ہیں، پانچویں روز وہ اس قدر خراب ہوجاتاہے گویا زہر کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ بس تقریباً یہی حالت پیٹ کے اندر غذا میں خمیر ہونے سے پیداہوجاتی ہے۔ ایسی صورت میں جب تک پیٹ کاخمیر ختم نہ ہوعلاج میں صحت کی کیا امید ہوسکتی ہے اور ادویہ و اغذیہ کیسے مفید ہوسکتی ہیں؟ اگرغذا دی ہوگی تو اس کا نتیجہ ایسا ہوگا جیسے متعفن دودھ میں عمدہ دودھ ملاکراس کو ضائع کردیاجائے اور پھر اس سے اچھے اثرات کی امید رکھی جائے۔
اسی طرح خمیرہ آٹا کے ساتھ جب بھی دوسرا آٹا ملاکرگوندھا جائے گا تو یقیناً وہ بھی خمیرہوجائے گا۔ جب تک خمیرکوختم نہیں کیاجائے گا۔ بالکل یہی صورت پیٹ میں غذا کھانے کے بعد پیداہوجاتی ہے۔ اسی طرح اس خمیر میں نہ صرف ہر قسم کی غذاخراب ہوجاتی ہے بلکہ ادویات بھی ضائع ہوجاتی ہیں، مریض گھبراجاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ علاج ادویات سے اس کو نقصان اور خطرہ پیداہوتا ہے اور معالج حیران ہوتا ہے کہ ایسا اکسیروتریاق اور بے خطا و یقینی مجرب نسخہ استعمال کرنے سے ایسے خطرناک حالات کیوں پیداہوگئے ہیں۔یقیناً نسخہ مفیدنہیں ہے بلکہ اس میں خرابیاں ہیں لیکن اصل بات سے وہ واقف نہیں ہوتا کہ مریض کے پیٹ میں خمیر تھا اس میں تیزی پیداہوگئی ہے جس سے یہ خطرات پیداہوگئے ہیں۔
اسی خمیر سے پیٹ میں تیزابیت پیداہوتی ہے جس کو ایسڈیٹی (Acidity) کہتے ہیں۔ یہی جب خون میں شامل ہوتی ہے تو مختلف مقامات خصوصاً گردوں اور غشائے مخاطی پر اثراندازہوکر بہت سے خوفناک امراض پیداکرتی ہے۔ بہرحال تخمیر میں جوں جوں شدت پیداہوتی جاتی ہے خون میں زہر پیداہوتا جاتاہے۔ یہاں تک کہ ایک روز ہلاکت تک پہنچادیتا ہے۔ اس لئے علاج غذا اور دوا استعمال کرنے سے قبل تخمیرغذا کو ختم کرلینا نہایت ضروری ہے۔

ضرورتِ غذا
ضرورتِ غذامیں مریض کو غذا کھانے کی صحیح خواہش ہے جس کی بہترین علامت بھوک ہے۔ گویا بھوک کے بغیر غذاکھانے کی خواہش صحیح نہیں ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کھانے کا وقت ہے اور کھانے کی خواہش پیداہوگئی ہے یا کھانے کی شکل دیکھی ہے، اس کی رنگ برنگی صورت و خوشبواور انواع واقسام دیکھ کر دل میں شوقِ لذت پیداہوگیا یاڈیوٹی پر جاتے ہوئے خیال آیا کہ کھانا کھا لیا جائے پھر گرم گرم کھانا نہیں ملے گا یا کسی دوست اور عزیز نے مجبورکردیا اور بغیر ضرورت کے کھاناکھالیا وغیرہ۔ ان تمام حالات میں ضرورت غذا نہیں تھی۔ ضرورت غذا صحیح خواہش غذا ہے جس کو بھوک کہتے ہیں۔ بھوک بالکل وہی صورت ہے جو روزہ کھولنے سے تھوڑی دیر قبل محسوس ہوتی ہے۔ جس کی علامات یہ ہیں کہ بدن گرم ہوجاتاہے، خاص طورپر چہرہ کان کی لَو تک گرم ہوجاتی ہے، دل میں مسرت و فرحت اور لذت کا احساس ہوتاہے۔ اس کے برعکس جب بھوک میں جسم ٹھنڈا ہوجائے یادل ڈوبنا شروع ہوجائے تو یہ بھوک نہیں ہے بلکہ مرض ہے۔ اس کا علاج ہونا چاہیے۔ اس کا فوری علاج شہد کھانا یا شہد کا شربت پینا، ہلکی چائے پینایاکوئی حسبِ خواہش پھل کھالینا ہے۔غذاخصوصاً نشاستہ دار غذاکے قریب تک نہیں جانا چاہیے۔ ایساکرنا گویا خوفناک امراض کو دعوت دینا ہے۔
سال میں ایک مہینہ بھر بھوک کے احساس کی تربیت دی جاتی ہےمگر عیدکےدوسرے روز ہم بالکل بھوک کا خیال تک بھول جاتےہیں ۔ ہم ذہن میں مہینہ بھرکےثواب کا تصورتو رکھتے ہیں لیکن ایک مہینہ میں جو ہم کو تقریباً سولہ گھنٹے کی بھوک پیاس کاحقیقی تجربہ ہوتا ہے اس کو یقیناً بھلادیتے ہیں جس کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روزوں کی اصل افادیت سے اکثر لوگ محروم ہوجاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہےکہ وقت بے وقت اور جگہ بے جگہ کھاپی کرامراض مول لے لیتے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہم خودہی قوانینِ فطرت کی مخالفت کرتے ہیں اور بغیر ضرورت کھاتے ہیں اور جب قوانینِ فطرت کی بغاوت کے بعد بیماری کی شکل میں ہم کو سزا ملتی ہے توروتے ہیں ، واویلا کرتے ہیں اور پریشان ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کی توندیں بڑھ گئی ہیں کیا یہ یقین کیا جاسکتا ہے کہ ایسے لوگ غذاضرورت کے مطابق کھاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ مریض نہیں ہیں ؟ خداوند کریم لالچ کی بھوک سے محفوظ رکھے۔آمین۔

استعمال غذا
غذاکے استعمال میں کسی خاص علم کی ضرورت نہیں ہے ۔ جیسا کہ فرنگی طب نے اپنے تجارتی مقصد کے تحت چکر چلادیاہے کہ غذامیں اتنی پروٹین (اجزائے لحمیہ)، اس قدر کاربوہائیڈریٹس (اجزائے نشاستہ)، اس مقدار میں فیٹس (روغنی اجزاء) ہوں اور اس میں حیاتین کا ہونا ضروری ہے۔ جس کے لئے خاص طورپرکچی سبزیاں کھائی جائیں وغیرہ وغیرہ۔ جب ایک آدمی ان میں پھنس جاتا ہے کہ بازار میں وٹامن اور دیگر اغذیہ کی گولیاں ، مکسچر اور انجکشن ملتے ہیں۔ تاکہ فرنگی کی تجارت روزبروز زیادہ ہو۔ا س پر ہم نے ایک الگ مضمون لکھا ہے۔ امریکہ والو ں سے آلو کے سلسلہ میں بحث چل نکلی، خداوندکریم کی مہربانی سے ان کا منہ بند کردیاہے اور ان کو چیلنج کیا ہے کہ تمام امریکہ میں کوئی بھی غذا کے سلسلہ میں انتہائی قابل ہومقابلہ پر لایا جائے۔ انشاء اللہ تعالیٰ وہ مضامین بہت جلد رسالہ میں شائع کردئیے جائیں گے۔
غذاکے استعمال میں صرف تین باتیں یادرکھیں۔1۔شدید بھوک ہوجس کی علامات لکھ دی ہیں اور اس کاایک جذبہ یہ بھی ظاہرہو کہ وہ کتنا ہی کھا جائےگا، ذرا جس چیز کو دل چاہے کھائے یعنی ذائقہ اور کیفیت(گرم، سرد، تر، خشک)۔2۔ اگرغذا حسبِ ذائقہ اور کیفیت ہوتو بہترہے ورنہ غذامیں مقوی اور قیمتی غذاکاتصور ضروری نہیں ہے۔3۔غذاہمیشہ اس وقت کھائی جائےجب بہت زیادہ کھانے کا تصورہومگر خوب کھانے کے بعد بھی کچھ حصہ بھوک باقی ہو توغذاکو چھوڑ دیں تاکہ غذا پیٹ میں پھول کر تمام معدہ میں قابو نہ کرلے اور معدہ اپنی حرکات چھوڑ بیٹھے اور غذا معدہ میں کچی رہ جائے یا قے اور اسہال کی صورت پیداہوکر ہیضہ نہ ہوجائے گویا غذا زیادہ سے زیادہ کھانے کے بعد کچھ حصہ بھوک کا ابھی باقی ہوتو غذاسے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے۔
ہمیشہ یہ خیال رکھیں تھوڑا کھانا گناہ ہے اور پیٹ بھر کے کھانا بھی عذاب ہے۔ غذا کھانے کی صورت ان کے درمیان ہونی چاہیے، البتہ یہ معالج کا کام ہےکہ وہ بتلائے کہ کس مرض میں کیا غذا ہونی چاہیے۔ چونکہ جگرکےلئے غذا الگ ہونی چاہیے اور دماغ کی ضروریات جداہیں۔ اسی طرح دل کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ الگ ہیں۔ غرض ہر معالج کا فرض ہے کہ اعضائے رئیسہ کی مناسبت سے مریض کے لئے غذا تجویز کرے تاکہ غذا بھی دوا کےلئے معاون بن جائے۔ نزلہ زکام میں ذیل کے قوانین کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

فاقہ
یہ مسلمہ امرہے کہ نزلہ زکام میں اعضائے رئیسہ اس حد تک خراب ہوجاتےہیں کہ عوام بھی اس حقیقت سے آگا ہیں اور فوراً ہر شخص کو فاقہ کی تلقین کرتے ہیں اور یہ صحیح بھی ہے کہ جب فاقہ کیا جاتا ہے تونزلہ زکام رفع ہوجاتے ہیں۔ اس کی حقیقت واضح ہے کہ ہضم اس وقت خراب ہوتا ہےجب اس میں قوتِ حرارت جو غذ تحلیل کرتی ہے ختم ہوجاتی ہے۔ کبھی معدہ وامعاء کے عضلات میں نقص واقع ہوجاتا ہے، کبھی ان کے غدد اپنے افعال صحیح انجام نہیں دیتے اور کبھی اعصاب میں احساسات کی خرابی واقع ہوجاتی ہے لیکن جب فاقہ کیا جاتا ہے تو قدرتی طورپر جسم میں حرارت پیداہوتی ہے اور نزلہ زکام رفع ہوجاتا ہے۔ فاقہ میں ایک خاص بات یہ ہےکہ ہم غذاتو جسم میں داخل نہیں کرتے مگر اندرونی اعضاء اپنے افعال کم وبیش جاری رکھتے ہیں۔ اس سے ایک طرف حرارت کا خرچ رک جاتا ہے اور محفوظ ہونا شروع ہوجاتی ہے اور دوسری طرف اندرونی مواد اور فضلات کااخراج ہوجاتا ہے۔ اس لئے فاقہ بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔ لہذا نزلہ زکام میں فاقہ ضرور ہوناچاہیے۔ فاقہ سے مراد بھوکا رہنا نہیں ہے بلکہ انتہائی شدید بھوک کے وقت چند روز لطیف اغذیہ کاکھانا ہے۔ جب بھوک میں بے حد شدت ہوجائے تو بالترتیب ثقیل اغذیہ کھانی چاہئیں۔

اوقات کی پابندی
نزلہ زکام میں اوقات کی پابندی نہایت اہم بات ہے لیکن اوقات کی پابندی سے مرادیہ نہیں ہے کہ وقتِ مقررہ پرکھاناکھا لیاجائے اور اس کے درمیان جوکچھ دل چاہے کھاتے رہیں۔ مثلاً صبح کا ناشتہ، دوپہرکاکھانا، تیسرے پہر کی چائے اور رات بھرکاکھانا، یہ طریقہ بالکل غلط ہے اس میں ان باتو ں کی شرط ہے۔ اول ہر غذا یاکھانے کی کوئی شے جب کھائی جائے تو پھر دوبارہ کم از کم چھ گھنٹے بعد کھائی جائے۔ کیونکہ اصولی طورپر ایک تندرست انسان کو مکمل طورپر بارہ (12)گھنٹے میں غذا ہضم ہوتی ہے۔ معدہ میں تین گھنٹے، چھوٹی آنتوں میں چار گھنٹے اور بڑی آنت میں پانچ گھنٹے خرچ ہوتے ہیں۔ گویا جب تک غذا بڑی آنتوں میں نہ اُترجائے اس وقت تک اور غذا نہیں لینی چاہیے۔ گویا بڑی آنتوں میں پہنچنے تک کم از کم چھ گھنٹے خرچ ہوتے ہیں۔ دوسرے بھوک کی شدت کا احساس ہونا ضروری ہے۔ یعنی کھانے کا وقت ہوگیا ہے اور اس کوچھ گھنٹے بھی گزر گئے ہیں لیکن شدید بھوک کا احساس نہیں ہے پھر غذا نہیں کھانی چاہیے بلکہ غذا دوسرے وقت پر ملتوی کردینی چاہیے۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ روزانہ ایک مناسب اوسطاً غذا کھائی جاتی ہے مگر بعض وقت زیادہ ثقیل اور مرغن غذا کھالی گئی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وقتِ مقررہ پر چھ گھنٹے بعد بھی بھوک نہ لگےاس لئے غذاکو دوسرے وقت پر ملتوی کردیں۔ تیسرے غذا کی مقدار، غذاکی مقدار ہمیشہ اس انداز کی ہونی چاہیے کہ معدہ پوری طرح بھرجائے۔ کم مقدار میں غذا نہ کھانی چاہیے کیونکہ وہ بھوک نہیں ہوتی بلکہ غذاکااحساس ہوتا ہےمثلاً ایک شخص کا معدہ اندازاً درمیانے درجے کی دو روٹیاں کھاتا ہے تو اس کو اس سے کم نہیں کھاناچاہیے البتہ ابھی بھوک باقی ہو تو غذا چھوڑ دینی چاہیے۔ اصول یہ بتائیں کہ زیادہ سے زیادہ کھایاجائے مگر ابھی بھوک باقی ہوتو چھوڑدیاجائے۔ یہ کوئی اصول نہیں ہے کہ دو نوالے کھائے جائیں یا غذاکوچکھا جائے۔ اس عادت کو گناہ خیال کریں کیونکہ غذا تھوڑی ہویا زیادہ، معدہ کو بہرحال کام کرنا پڑتا ہے۔ جو لوگ تھوڑا تھوڑا باربار کھاتے ہیں وہ نہ صرف اپنے ہاضمہ کو خراب کرتے ہیں بلکہ امراض اور بڑھاپے کو دعوت دیتے ہیں، خطرناک امراض میں گرفتار ہوتے ہیں۔
اسی طرح غذاکے ساتھ پانی کا بھی اندازہ ہونا چاہیے کیونکہ بغیر اندازے کے پانی کی کمی بیشی غذاکے ہضم میں خلل ڈال دیتی ہے۔ زیادہ پانی پی لیا جائےگا تو غذا رقیق ہوجائے گی اور اس میں حرارت کی کمی واقع ہوجائے گی، دوسری طرف دیر میں ہضم ہوگی اور تیسرے جسم میں سردی پیداہوجائے گی۔ اگر پانی کم پیا جائے گاتو غذاکاقوام جلد تیار نہیں ہوگا۔ دوسرےخوراک کی زیادتی معدہ میں سوزش پیداکردے گی، تیسرے جلد متعفن ہوجائے گا اور اس میں تیزابی مادہ پیداہوجائے گا۔صادق پیاس وہ ہے جس میں خون کے اندر پانی کی کمی کوپورا کرنےکااحساس ہے۔ جس کاصحیح اندازاا س طرح لگتا ہے کہ جب پانی ضرورت کےمطابق پیا جائےتو پیاس بجھ جائے اور پھر اس وقت تک پیاس نہ لگے۔ دوسری کاذب پیاس ہے جو پانی پینے کے بعد نہیں اترتی یاجلدجلد محسوس ہو۔ اس حالت کے ضروری ہے کہ جب تک پیاس کی شدت رہے غذانہ کھائے۔اس لئے بغیر ضرورت(Urge) یعنی صحیح بھوک اور پیاس کے کھانا پینا خودامراض اور بڑھاپےکو دعوت دیناہے۔ جب کسی کو بھوک زیادہ بڑجاتی ہے تو اکثر ایسےلوگ خوش ہوتے ہیں لیکن اس کوکسی مرض کاپیش خیمہ سمجھنا چاہیےاور یہ بھی خرابی ہضم کی صورت ہے، اگر ایسی صورت ہوتوغذا میں روغنی اجزاء بڑھا دیں یاروغنی اغدیہ کھائیں جیسے حلوہ جات اور حریرہ جات وغیرہ۔

غذا کےلئے چنداہم اصول
1۔ کھانا پینا خداوندِ کریم کا نام لے کر شروع کرنا چاہیے، برکت ہوتی ہے۔2۔ کھانا پینا ہمیشہ زیادہ سے زیادہ تازہ ہونا چاہیے، اس سے ہضم میں مدد ملتی ہے۔3۔ حلال کی کمائی کاکھانا پینا ہونا چاہیے، اس سے رحمت نازل ہوتی ہےاور صحت قائم رہتی ہے۔4۔ شدید بھوک سے کھانا چاہیے، صالح خون بنتاہے۔5۔ غذازیادہ سے زیادہ بیک وقت کھانے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن ابھی تیسرا حصہ بھوک ہوتو چھوڑ دینی چاہیے، زیادہ کھانے کے بوجھ سے قبض پیدانہیں ہوتی۔6۔ غذا ہمیشہ لذیذ کھانی چاہیے، فرحت پیداہوتی ہے۔7۔کوشش کریں کہ ایک وقت میں ایک ہی قسم کی غذا ہونی چاہیے، زیادہ قسم کی غذائیں ایک دوسری سے ملتی جلتی ہونی چاہئیں، مٹھاس درمیان میں کھانی چاہیے، یعنی نمکین غذا سے شروع کریں اور نمکین پر ختم کریں، غدد کام کرتے ہیں اس سے امراض دور ہوتے ہیں۔8۔ غذاکازیادہ حصہ پروٹین(اجزائے لحمیہ) کا ہونا چاہیے، گوشت میں بکری، پرند اور مچھلی کاگوشت زیادہ مفیدہے، جو لوگ گوشت نہیں کھاتے وہ دودھ اور گھی کااستعمال زیادہ کریں۔9۔جہاں تک ہوسبزیاں بہت کم کھائیں، خاص طورپر کچی سبزیاں بالکل نہ کھائیں، یہ جانوروں کاکھانا ہے، انسان جب کچی غذا کھاتا ہے تو حیوانیت اور وحشت پیداہوتی ہے، اخلاق ختم اورحیوانوں کی طرح بے غیرت ہوجاتا ہے، سبزیاں دوائے غذا ہیں ان کی کمی پھلوں سےپوری کریں۔ وہ ان سے زیادہ غذائیت رکھتے ہیں، البتہ میوہ جات غذائے دوا ئی ہیں ان کااستعمال غذا میں یا غذا کے بعد مفیدہے، دالیں بغیر کثیر گھی کے نہ کھائیں، قبض پیداہوتی ہے۔10۔ بہترین غذائیں گوشت، دودھ، میوہ جات اور گہیوں ہیں، باقی سب اپنے اندر غذاکی بجائے دوائیت رکھتی ہیں۔
پیاس کے لئے صرف گرم پانی یابغیر دودھ کے چائے(قہوہ) پئیں۔جب پیاس کاذب ختم ہوجائے اور بھوک شدید لگ جائے توبعدہٗ غذا کھائیں اور حسبِ معمول پیاس صادق پر پانی لیا کریں۔بعض لوگوں کو غذاکھانے سے پہلے پیاس کی شدت ہوتی ہےایسے لوگوں کےلئے بھی تاکیدہے کہ وہ لسی، شربت وغیرہ نہ خالی پیٹ پئیں اور نہ غذاکے ساتھ سرد پانی یا لسی پینے کی کوشش کریں وہ بھی گرم پانی اور چائے اس وقت مسلسل استعمال کریں جب تک پیاس ختم نہ ہوجائے اس کے بعد غذا کاخیال رکھیں۔
یاد رکھیں پیاس کی شدت میں ہاضمہ ضرور خراب ہوجاتا ہے۔ ایسی حالت میں سرد پانی، شربت اور لسی پینا مضر ہے اور فرنگی سوڈا واٹر تو انتہائی نقصان رساں ہے، اکثر ہیضہ ہوجاتا ہےاور انتڑیاں تباہ ہوجاتی ہیں، کیونکہ ہر قسم کا فرنگی سوڈا واٹرکھاری(Alkaline) ہے۔ ایک دم جسم کی ترشی ختم کردیتا ہے جس سے فوراً ہیضہ پیداہوجاتا ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ جو لوگ صحیح صحیح اس خیال سے لسی اور شربت وغیرہ خالی پیٹ پیتے ہیں کہ ان کو گرمی ہے جیسے پنجاب میں عام رواج ہے ایسے لوگ بھی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ دراصل ان کا۔1۔ہاضمہ خراب ہے۔2۔ پیٹ میں سوزش ہے۔3۔جسم میں سردی ہے۔ ان کوچاہیے کہ جب تک ان کو گرمی کااحساس دور نہ ہوجائے غذا بند کردیں اور پھرباقاعدہ غذاکھایا کریں، یہ معمولی معمولی باتیں ہیں لیکن صحت کے نہایت اہم نکتے ہیں ان کی پرواہ نہ کرنے سے بڑے بُرے خوفناک امراض پیداہوجاتے ہیں۔
کھانا پینا کیا ہے؟ یہ صرف ایک قسم کی توانائی (Energy)ہے جو بدل کے طورپر استعمال کی جاتی ہے جب اس توانائی کی ضرورت پیداہوتی ہے تو جسم کو بھوک پیاس کا احساس ہوتاہے، انسان اس ضرورت کوپورا کرتا ہے۔ گویا اس کا مقصد یہ ہے کہ جب تک ان کااحساس نہیں ہے کھانا اور پینا نہیں چاہیے۔

Qanoon Mufrad Aza, Tibb e Sabir, Hakeem Sabir Multani, Health, قانون مفرد اعضاء, حکیم صابر ملتانی, طب و صحت, طب صابر,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *