بیٹل، سخت ترین خول والا وہ کیڑا جو گاڑی تک کا وزن جھیل سکتا ہے

جی ہاں، چپل۔ پہنی ہوئی ہو تو اور بھی بہتر، کیونکہ پورے جسم کی طاقت سے اس ننھے سے جاندار کو کچل کر ہمیں نہایت سکون ملتا ہے۔

مگر خیال رہے کہ بیٹل کے سامنے آپ کی چپل بالکل بھی کام نہیں آئے گی۔

تو اور کسی بھاری چیز کے بارے میں کیا خیال ہے؟ گاڑی چڑھا دینا کیسا رہے گا؟

مگر جان لیجیے کہ ’ڈایابولیکل آئرن کلیڈ بیٹل‘ ایسا سخت جان کیڑا ہے جو آپ کی گاڑی کے ٹائر کے نیچے سے بھی آپ کا منھ چِڑاتا ہوا باہر نکل سکتا ہے۔

Battle Ax

یہ انتہائی مضبوط بکتربند کیڑا اپنے وزن سے 39 ہزار گُنا زیادہ وزن برداشت کر سکتا ہے اور اب سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کی ہے کہ یہ ایسا کرنے میں کیسے کامیاب رہتا ہے۔
اور اس تحقیق سے ہمیں تعمیرات اور خلانوردی میں استعمال کے لیے مضبوط تر مٹیریل بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

تحقیقی جریدے نیچر میں شائع ہونے والے اس مطالعے کی ٹیم کے سربراہ ڈیوڈ کیسائلس نے جو کہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اروائن سے تعلق رکھتے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ اس تحقیق سے ایسے سخت مٹیریل بنانے میں مدد مل سکتی ہے جو زبردست تصادم بھی برداشت کر سکیں۔

ڈایابولیکل آئرن کلیڈ کا مطلب بھیانک آہنی بکتر بند ہے اور واقعی یہ کیڑا اس نام کا حقدار ہے۔

یہ عموماً امریکہ اور میکسیکو میں پایا جاتا ہے جہاں یہ درختوں کے تنوں یا چٹانوں کے نیچے رہتا ہے۔

انسانوں نے آج تک جن بھی حشرات کا پتہ چلایا ہے، ان میں سب سے زیادہ مضبوط بیرونی خول رکھنے والے کیڑوں میں یہ بیٹل شامل ہے۔

اس کی سختی کا اندازہ کیڑے اکٹھے کرنے والے لوگوں کو اس وقت ہوا جب وہ اس کے نمونوں کو بورڈ پر سٹیل کی عام سوئی سے لگانے کی کوشش کرتے۔

نتیجہ یہ نکلتا کہ سوئی ہی مُڑ کر ٹوٹ جایا کرتی مگر کیڑا وہیں کا وہیں رہتا، اور پھر اسے بورڈ پر لگانے کے لیے ڈرل مشین کا استعمال کرنا پڑتا۔

 

بیٹل پہلے اڑ سکتے تھے مگر ارتقائی عمل کی وجہ سے ان کی اڑنے کی صلاحیت ختم ہوگئی، چنانچہ انھوں نے خود کو بچانے کے لیے یہ سخت ڈھال پیدا کرلی تاکہ بھوکے پرندے انھیں چونچ مار اپنی غذا نہ بنا لیں۔

محققین نے مائیکروسکوپ، سپیکٹروسکوپ اور مکینیکل ٹیسٹنگ کا استعمال کیا اور یہ جانا کہ اس بیرونی خول کے اندر ’جگسا پزل‘ کی صورت کے جوڑ دریافت کیے جو بیٹل کو 149 نیوٹن تک کا دباؤ جھیلنے کے قابل بناتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں کہیں تو یہ اس چھوٹے سے کیڑے کے وزن سے 39 ہزار گُنا زیادہ ہے۔

اس طرح کے ڈھانچے میں مختلف مٹیریل مثلاً پلاسٹک اور دھاتیں ملا کر ان کی صلاحیت جانچنے کے لیے سائنسدانوں نے دھاتوں اور بیٹل میں دیکھے گئے مادوں کی مدد سے کئی جوڑ بنائے۔

انھوں نے پایا کہ ان کے ڈیزائنز نے ان مٹیریلز کی مضبوطی اور سختی کو کہیں بہتر بنا دیا۔

اس کے علاوہ دیگر قدرتی مٹیریل مثلاً ہڈیاں، دانت اور سیپ بھی ایک عرصے سے سائنسدانوں کی نئے مٹیریل بنانے کے لیے توجہ کے حامل رہے ہیں۔

کئی مٹیریل ایسے ہیں جن میں بہترین مکینیکل کارکردگی، مضبوطی، سختی اور خود ہی ٹھیک ہوجانے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *