بلاک کی دیوار اور اینٹوں کی دیوار میں کیا فرق ہے

بلاک کی دیوار اور اینٹوں کی دیوار میں کیا فرق ہے، کونسی اور کتنی سستی ہے، فائدے و نقصان کیا ہیں۔”
پاکستان میں دو قسم کی بلڈنگز بنائی جاتی ہیں
فریم اسٹرکچر
لوڈ بیرنگ
فریم اسٹرکچر کا مطلب جس میں سارا وزن کالمز (جسے عان زبان میں ستون یا پلر بھی کہتے ہیں) اور بیم اٹھا کر بنیاد پر شفٹ کردیتے ہیں، اس طرز کی بلڈنگز میں دیواروں کا کام فقط پردے کا ہوتا ہے۔
لوڈ بیرنگ اس قسم کی بلڈنگ میں تمام وزن دیواریں اٹھاتی ہیں، اور ان میں یا تو کالم ہوتے ہی نہیں اور اگر ہوں تو بس برائے نام ہی ہوتے ہیں۔
مضبوطی ::
بلاک تین طرح کے ہوتے ہیں عام بلاک، ہالو بلاک (اندر سے خالی) اور ہائیڈرالک بلاک۔
عام بلاک کی طاقت 500-600 PSI ہوتی ہے جبکہ ہائیڈرالک بلاک کی 900-1000 PSI
جبکہ درجہ اول کی برے حال کی اینٹ بھی 1600-1700 PSI کی حامل ہوتی ہے، یعنی اینٹ بلحاظ مضبوطی عام بلاک سے کم از کم 3 گنا اور ہائیڈرالک بلاک سے ڈبل طاقت کی حامل ہوتی ہے۔
قیمت ::
اسلام آباد / راولپنڈی میں ایک عام بلاک جس کا سائز 12x8x4 انچ ہے کی فیکٹری قیمت کم از کم 24 روپے ہے،
جبکہ اسی سائز کا ہائیڈرالک بلاک 34 روپے تک کی قیمت میں دستیاب ہے۔
جبکہ عام اینٹ جسکا سائز 9×4.5×3 انچ ہے، 9 تا 10 روپے کی مل جاتی ہے۔
یعنی اگر 10 ضرب 10 فٹ کی دیوار بنانا ہو تو اس میں 150 بلاک لگیں گے
150 x 27 (کم از کم پہنچ) = 4050 روپے کے بلاک
اور اگر اسی سائز کی دیوار اینٹ سے بنائی جائے تو اس میں 530 اینٹیں لگیں گی۔
530 x 10 = 5300 روپے
یعنی قیمت میں فقط 1300 روہے کا فرق لیکن اینٹ کی مضبوطی 3 گنا زیادہ ہوگی۔
بلاک اور اینٹوں کی چنائی کرانے کا لیبر ریٹ تقریبا ایک ہی ہوتا ہے، (اسلام آباد میں اس وقت یہ ریٹ 18-25 روپے ہے) جبکہ ان دونوں طرز کی دیواروں میں سے بلاک کی دیوار میں مسالہ بہ نسبت ایںٹوں کی دیوار کم استعمال ہوتا ہے (قریب 25٪ کم)۔
بلاک کی چنائی کا فائدہ ::
بلاک کی چنائی کو زیادہ پانی نہیں چاہیئے ہوتا، یہ تیزی سے لگ جاتے ہیں، بلحاظ قیمت یہ اینٹوں کی نسبت سستے پڑتے ہیں، اور اگر بڑی بلڈنگ ہو پھر تو ٹھیک ٹھاک قیمت میں فرق آجاتا ہے، ہالو بلاک سائونڈ اور ہیٹ کے خلاف بہترین کام کرتا ہے، بلاک کی چنائی پر پلستر کا مسالہ کم استعمال ہوتا ہے۔ بلاک ‘پریشر” کے خلاف اینٹ کی نسبت زیادہ کامیاب ہیں۔
(“پریشر” سے مراد اگر ساڑھے چار انچ نوٹی اینٹ کی دیوار کو سائیڈ سے ہتھوڑے یا کسی دیگر چیز سے چوٹ لگائی جائے تو وہ بلاک کی دیوار کی نسبت جلدی ٹوٹ جائئگی، وجہ اینٹ چھوٹی ہوتی ہے اسکے جوڑ نزدیک نزدیک ہوتے ہیں تو جلد اپنی جگہ چھوڑ دیں گے، جبکہ بلاک کا سائز خاصا بڑا ہوتا ہے تو جوڑ بھی دور ہوتے ہیں تو وہ زیادہ دیر تکے رہیں گے)
نقصان :: بلاک کی چنائی میں سیم آنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، یہ وزن اٹھانے میں انتہائی کمزور ہیں، بلاک کی چنائی میں باریک باریک دراڑیں آنے کے خاصے چانسز ہوتے ہیں، انکا سائز بڑا ہوتا ہے تو انہیں کام کی جگہ تک پینچانا اور پھر لگانا مشکل ہوتا ہے۔
۔
اینٹوں کی چنائی کا فائدہ
سیم آنے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے
وزن اٹھانے میں یہ بلاک سے تین گنا زیادہ طاقت کی حامل ہیں، اس طرز کی دیواروں میں لائنیں نہیں آتیں، چھوٹے سائز کی وجہ سے کام کی جگہ پر پہنچانا اور مستری کے لیے انہیں لگانا انتہائی آسان ہے۔
نقصان :: یہ گرمائش اور آواز کے خلاف زیادہ کامیاب نہیں، بلحاظ قیمت بلاک سے مہنگی ہیں، ان پر پلستر کا مسالہ زیادہ استعمال ہوتا ہے۔
یاد رہے اگر اینٹوں کی دیوار 9 انچ موٹی ہو اور اسکی جگہ بلک کی دیوار لگائی جائے تو وہ آدھی سے بھی کم قیمت میں پڑے گی لیکن اسکی طاقت کم از کم 6 گنا کم ہوجائیگی۔
یہ ہیں تمام تفاصیل، اب کچھ مشورے۔
اگر بلڈنگ فریم اسٹرکچر ہو، تو بلاک ہی استعمال کریں ٹھیک ٹھاک بچت ہوگی، عارضی کمرے، عارضی گھر جن پر پتہ ہو کہ کبھی ڈبل منزل نہیں بنانی، یا جنکی چھتیں ٹی آئرن وغیرہ کی ہوتی ہیں وہاں بھی بلاک ہی استعمال کریں، جانوروں کے باڑے اور ایسی دیگر تعمیرات پر بھی بلاک استعمال کرنے سے خرچے میں بچت ہوجاتی ہے۔
لیکن بلڈنگ لوڈبیرنگ ہو اور مستقبل قریب میں اس پر دوسری منزل یا مزید لوڈ ڈالنا مقصود ہو تو ہرگز ہرگز بلاک استعمال نہ کریں بلکہ اینٹوں کی ہی دیواریں بنائیں
۔
یہ تحریر ایک سول انجینئر کے گروپ سے شئیر کی گئ ہے۔ میرا اس
سے متفق ہونا
ضروری نہیں۔ تجاویز کا انتظار رہے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *