بابل کے چھ حیرت انگیز طلسمات

تاریخ کی معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ بابل کے حکماء اور اس فن کے ماہرین نے نمرود کے زمانہ میں اپنے شہر بابل میں کہ جو نمرود کا دارالسلطنت تھا اس سحر کے ذریعہ ایسے چھ ہوشربا اور محیر العقول طلسمات بنا رکھے تھے، جن کی حقیقت و کیفیت جاننے سے انسان کی عقل و ذہانت عاجز رہتی تھی۔

اول یہ کہ انہوں نے تانبے کی ایک بطخ بنا رکھی تھی جو شہر میں ناپسندیدہ اور مضر افراد کے داخل ہونے کی خبر دیتی تھی، چنانچہ اگر کسی دوسرے ملک سے کوئی جاسوس یا دشمن یا کوئی چور وغیرہ شہر میں داخل ہوتا تو اس بطخ میں سے مخصوص آواز نکلنے لگتی تھی، شہر کے تمام لوگ اس آواز کو سن کر اس کا مقصد جان لیتے تھے۔ اور اس طرح وہ اس جاسوس اور چور کو پکڑ لیتے تھے،

دوسرے یہ کہ انہوں نے ایک نقارہ بنا رکھا تھا جس کا مصرف یہ تھا کہ شہر میں جس شخص کی کوئی چیز گم ہو جاتی تو وہ اس نقارہ پر چوٹ مارتا، جس کے نتیجے میں اس سے یہ آواز نکلتی کہ تمہاری فلاں چیز فلاں جگہ ہے، چنانچہ تلاش کرنے کے بعد وہ اسی جگہ سے ملتی۔

تیسرے یہ کہ انہوں نے گم شدہ لوگوں کو دریافت کرنے کے لئے ایک آئینہ بنا رکھا تھا۔ جب شہر میں کسی کے گھر کا کوئی فرد غائب ہو جاتا تو وہ اس آئینے کے پاس آتا اور اس میں اپنے گمشدہ فرد کو حال دیکھ لیتا وہ گمشدہ خواہ کسی شہر میں ہوتا، خواہ جنگل میں اور خواہ کسی کشتی وغیرہ میں سفر کرتے ہوئے یا کسی پہاڑ پر، اسی طرح خواہ وہ بیمار ہوتا یا تندرست، خواہ مفلس و قلاش ہوتا یا مال دار اور خواہ زخمی ہوتا یا مقتول، غرضیکہ وہ جس جگہ اور جس حالت میں ہوتا اسی جگہ اور اسی حالت کے ساتھ اس آئینہ میں نمودار ہو جاتا۔

چوتھا طلسم یہ تھا کہ انہوں نے ایک حوض بنایا تھا جس کے کنارے وہ سال بھر میں ایک دن جشن مناتے تھے چنانچہ شہر کے تمام سردار اور معززین اپنی پسند کے مشروب لے کر اس حوض کے کنارے جمع ہوتے اور جو شخص اپنے ساتھ جو مشروب لاتا اس کو اس حوض میں ڈال دیتا، پھر جب ساقی کا فرض انجام دینے والے لوگ اس کے کنارے کھڑے ہو کر لوگوں کو پلانا شروع کرتے اور اس حوض میں سے نکال نکال کر دیتے تو ہر شخص اس کو وہی پسندیدہ مشروب ملتا جو وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔

پانچواں طلسم یہ تھا کہ انہوں نے لوگوں کے لڑائی جھگڑوں کو نمٹانے کے لئے ایک تالاب بنایا تھا اگر دو آدمیوں کا آپس میں کوئی تنازعہ ہوتا اور یہ ثابت نہ ہو پاتا کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر۔تو دونوں فریق اس تالاب کے کنارے آتے اور پھر اس میں اتر جاتے چنانچہ جو شخص حق پر ہوتا اس تالاب کا پانی اس کے ناف کے نیچے رہتا اور وہ غرق نہ ہوتا اور جو شخص حق پر نہ ہوتا اس کے سر سے اوپر چلا جاتا اور اس کو ڈبو دیتا ہاں اگر وہ فریق مخالف کے حق کو مان لیتا اور اپنے دعوے کو ترک کر دیتا تو پھر غرقابی سے نجات پاتا۔

اور چھٹا طلسم یہ تھا کہ انہوں نے نمرود کے محل کے میدان میں ایک درخت لگا رکھا تھا، جس کے سایہ میں درباری بیٹھتے تھے لوگوں کی تعداد جس قدر بڑھتی رہتی اسی قدر اس کا سایہ بھی بڑھتا رہتا تھا یہاں تک کہ اگر تعداد ایک لاکھ تک پہنچ جاتی تو سایہ بھی اسی اعتبار سے زیادہ ہو جاتا تھا مگر جب اس عدد سے ایک آدمی بھی زیادہ ہو جاتا تو پھر سایہ بالکل ختم ہو جاتا تھا اور تمام لوگ دھوپ میں بیٹھے رہ جاتے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اس بارے میں بابل کے لوگ ہی شغف و دلچسپی نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کا بادشاہ نمرود بھی بہت زیادہ غلو رکھتا تھا اور اس علم کی پوری طرح سرپرستی کرتا تھا۔

ناظرین آپ سوچ رہے ہوں گے یہ سب کیا تھا اور کیسے ہوتا تھا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب کچھ  سحر اور جادو کے ذریعے کیا جارہا تھا

، غرضیکہ سحر کرنے کی مختلف عملیات اور مختلف صورتیں ہیں اور ان عملیات اور صورتوں کے نتیجہ میں سحر کی متعدد اور کثیر قسمیں سامنے آتی ہیں، لیکن جو قسمیں زیادہ مشہور ہیں وہ چند ایک ہیں اور ان میں پہلی قسم جو سب سے بڑی قسم سمجھی جاتی ہے کلدانیوں اور بابل کا سحر ہے اور اسی کو باطل کرنے کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے اس سحر کے علم کی اصل ہاروت و ماروت سے چلی ہے کہا جاتا ہے کہ بابل کے لوگ ہاروت و ماروت سے اس سحر کا علم اور طریقہ سیکھتے تھے اور پھر اس کے ذریعہ اپنے مقصد حاصل کیا کرتے تھے، نیز انہوں اس میں مختلف تحقیق و تجربے کئے تھے اور اس کے علم کو بہت وسیع و ہمہ گیر بنایا، اسی طرح کلدانی، جو بابل میں سکونت رکھتے تھے اس علم کے حصول کے لئے مختلف محنت و جستجو میں لگے رہتے تھے اور اس کے ذریعہ نت نئی چیزیں پیدا کرتے تھے۔ ان تمام چیزوں کے باطل ہونے کو ثابت کرنے اور لوگوں کو ان چیزوں سے نکل کر اللہ کی ذات پر بھروسہ اور یقین کرنے کے  لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ گویا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آج کے دور میں بھی جو شخص جادو جنات و عملیات اور اس جیسے دھندے کرنے والوں کے خلاف کوشش کررہا ہے وہ گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے راستے پر چلتے ہوئے ان کی سنت کو زندہ کررہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *