اہم طبی معلومات

اہم طبی معلومات قانون مظرد اعضاء کی روشنی میں

٭ برین اٹیک ‘ ہارٹ اٹیک سے زیادہ خطرناک ہے۔
٭ جگر کے اٹیک میں مریض سالہا سال ایڑیاں
رگڑ رگڑ کر مرتا ہے۔
٭ دل کے امراض میں شریانی سدے سب سے
زیادہ خطرناک ہیں یہی فوراً موت کا سبب بنتے ہیں۔
٭ نیند کی کمی اعضابی تحریک میں ہوتی ہے۔
٭ نیند کی زیادتی غدی عضلاتی تحریک میں ہوتی ہے۔
٭ معدے کی جلن دراصل معدہ کی ٹھنڈک ہے۔
٭ پاؤں کی جلن بلڈپریشر لو کی وجہ سے ہے۔
٭ سینہ کی جلن معدہ سے اٹھنے والی گیس کی
وجہ سے ہوتی ہے۔
٭ پاؤں کا سن ہوجانا بلڈپریشر ہائی اور شوگر
کی وجہ سے ہوتا ہے۔
٭ زیادہ خواب دیکھنے والے کا معدہ خراب ہوتا ہے۔
٭ پیٹ درد کھانا کھانے کے بعد ہو تو یہ معدہ کی
ٹھنڈک ہے علاج گرم دوا سے کیا جائے۔
٭ پیٹ درد ہروقت ہو تو معدہ کی سوزش ہے
اور درد اپنی جگہ تبدیل کرے تو ریاحی درد ہے۔
٭ درد اپنی جگہ تبدیل نہ کرے تو مقام درد کے
پٹھے کا کھچاؤ اور سوزش کی وجہ سے ہے۔
٭ کسی مقام پر خون کے اجتماع سے سوزش ہو
تو یہ مشینی تحریک ہے۔

٭ کسی مقام پر پانی یا صفراء کے اجتماع سے
سوزش ہو تو یہ کیمیائی تحریک کا نتیجہ ہوگی۔
٭شوگر کے مریض کے گردے فیل شوگر کی
دوائیں کرتی ہیں۔
٭ کمر میں ریڑھ کی ہڈی کے درمیان ہوا جمع
ہوجائے تو عضلاتی اعصابی تحریک ہوگی۔
٭ شوگر کے مریض کیلئے سب سے زیادہ
خطرناک وہ شوگر کی دوا ہے جسے وہ روزانہ
استعمال کرتا ہے۔
٭ شوگر کے مریض کیلئے اس مرض کا پہلا
تحفہ جنسی کمزوری ہے۔
٭ شوگر کا مرض پرانا ہوجائے تو جنسی
خواہش ہی ختم ہوجاتی ہے۔
٭ جو شخص ملی جلی غذائیں کھاتا رہتا ہے
وہی تندرست رہتا ہے۔
٭ سوزشی گنٹھیا میں پورا ہاتھ پاؤں متورم ہوتا ہے۔
٭ ریحی گھنٹیا میں صرف جوڑ پر ابھار ہوتا ہے۔
٭ دوروں کے دوران ہاتھ پاؤں پر اکڑاؤ نہ
ہو تو اعصابی تحریک ہوگی اعصابی تحریک
سے دورے ہوں گے۔

٭ رسولیاں تمام ہی خطرناک ہوتی ہیں لیکن
دماغی رسولیاں سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔
٭ نکسیر خون میں فائبرین کی کمی کی وجہ
سے آتی ہے اور کیلشیم کی کمی کی
وجہ سے بھی ہوتی ہے۔
٭ احتلام کا علاج کرنے کے بجائے نوجوان
کے خواب روکنے کا علاج کریں جب خواب
نہ آئیں گے تو احتلام کبھی نہیں ہوگا
٭ جسم کے اندر یا باہر زخم ہوئے بغیر
خون کا اخراج نہیں ہوا کرتا جو مریض کہتے
ہیں کہ پھیپھڑوں میں زخم نہیں لیکن پھر بھی
خون آتا ہے تو ان کے گلے میں زخم ہوکر
خون آیا کرتا ہے۔
٭ حافظہ کی کمزوری میں دماغ کی بجائے
دل کا فعل تیز ہوتا ہے تو حافظہ کمزور ہوگا۔
٭ احتلام اتنا زیادہ خطرناک نہین ہوتا جتنا کہ
احتلام ہو ہی نہ۔
٭ پیچیدہ اور معدہ کے مریض کو مواقف
غذائیں کھانے سے زیادہ ناموافق غذاؤں سے پرہیز
کرنا ضروری ہے تاکہ مرض فوراً بڑھنا رک جائے۔

٭قوت کا علاج یک دم کشتہ جات یا زہروں سے
نہ کریں بلکہ اصل سبب کو دور کرنے
کی کوشش کریں,
٭ نیند اور سکون کی ہر دوا بلڈپریشر لو کرتی ہے۔
٭ بادام زیادہ مقوی حافظہ نہیں بلکہ
ہریڑ اور آملہ مقوی حافظہ ہیں۔
٭قانون مفرد اعضا میں علاج کرتے وقت
مقام تحریک کو مدنظر رکھ کر مقام تسکین
کی دوا دی جاتی ہے۔
*کوئی مرض خون سے تین ماہ سے
پہلے ختم نہیں ہوتا۔
٭ بلڈپریشر اگر زیادہ ہائی ہوجائے تو فوراً
فالج سے موت واقع ہوجاتی ہے اور
بلڈپریشر انتہائی کم ہوجائے تو مریض
آہستہ آہستہ مرتا ہے۔
٭ پھیپھڑوں میں چبھن دار درد ہو تو یہ
استسقاء الصدر کی واضح علامت ہے جو
غدی عضلاتی تحریک سے ہوا کرتا ہے۔

٭ کسی بھی علامت کو ٹھیک ہوئے چند
دن گزر جائیں تو دوبارہ ہونے کا امکان ہوتا ہے
لیکن کسی علامت کو ٹھیک ہوئے تین ماہ سے
زیادہ عرصہ گزر جائے تو مرض دوبارہ نہیں ہوتا
اسی لیے دیسی علاج کم از کم تین ماہ کیا
جاتا ہے تاکہ مرض دوبارہ نمودار نہ ہو
اور جڑ سے ختم ہوجائے۔
* حکیم بوعلی سینا نے کہا کہ غذا سے خون
بنتا ہے دوا سے کیفیت تبدیل ہوتی ہے
اور زہروں سے موت واقع ہوجاتی ہے۔
* ہیپاٹائٹس سی کے وائرس
قانون مفرد اعضا کے غدی اعصابی تحریک
سے ختم ہوجاتے ہیں۔
* عضلاتی تسکین‘ یعنی دل کی کمزوری کا
مریض اپنے آپ کو سب سے بڑا مریض سمجھتا ہے
اور یہی مریض سب سے زیادہ پریشان ہوتا ہے
قانون مفرد اعضا میں تسکین کے مقام پر
مرض تسلیم کی جاتی ہے اگر وہاں دواؤں
غذاؤں سے تحریک دی جائے تو انشاء اللہ کئی
بیماریوں سے چھٹکارا ہو سکتا ہے۔
* جب خون میں غذا ختم ہوجائے تو بھوک
کا احساس شدید ہوتا ہے۔
احتیاط: جب مریض کا معائنہ کیا جائے اور
کوئی بیماری سمجھ نہ آئے تو اسے دوا مت دو۔

طالب دعا علی سنیاسی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *