امت اور فرقہ

0
429

امت اور فرقہ

سیدعبدالوہاب شیرازی
’’امت‘‘ امت ایسے گروہ کو کہتے ہیں جو ہم خیال اور ہم مقصد لوگوں پر مشتمل ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے 23سال محنت کرکے امت بنائی، اور ایسی امت بنائی کہ دشمن بھی انگشت بدنداں ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایسی تعلیمات دیں کہ ان تعلیمات کو صرف دیکھ کر ہی کافر،دشمن،منافق مسلمان ہوجاتے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے آج ہم نے امت کو توڑ کر فرقوں میں بانٹ دیا ہے۔ایک حدیث میں ہے:حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا۔” (بیہقی)
یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کو سوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطہ حیات اور نظام علم وعمل ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ یہاں ” رسم قرآن” سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرات سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامر و نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔ مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔ اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔ (مشکوۃ شریف ،کتاب العلم)
چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ فرقہ باز علماء( اتنے سخت حالات میں بھی جب پوری دنیا کا کفر ایک ایک کرکے مسلمان ملکوں میں تباہی پھیلا رہا ہے) فرقہ پرستی پھیلا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف کفر اور شرک کے فتوے دیے جارہے ہیں۔ انڈیا کے ایک شہر مراد آباد میں ایک بریلوی مسلک کا شخص فوت ہوگیا، اس کا جنازہ دیوبندی مولوی نے پڑھایا تو ایک مفتی نے فتویٰ دے دیا جس جس نے اس دیوبندی کے پیچھے جنازہ پڑھا ہے ان سب کا نکاح ٹوٹ گیا، چنانچہ جوجو لوگ اس مفتی کی بات پر یقین کرنے والے تھے ان سب کا اجتماعی نکاح ایک حال میں ہورہا تھا جسے انڈیا کا میڈیا بریکنگ نیوز کے طور پر دکھا رہا تھا۔ اسی طرح ایک مفتی نے فتویٰ دیا کہ مسجد نبوی اور حرم کے اماموں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی، سوچنے کی بات ہے کہ ہم تو اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں اپنی مرضی کے خلاف کسی کو گھسنے نہیں دیتے جبکہ اللہ اتنا کمزور ہوگیا کہ اس کے محبوب کی مسجد پر صدیوں سے گستاخ قبضہ جمائے بیٹھے ہیں؟۔ ایسے مولوی،مفتی اور نام نہاد علماء زمین کا سب سے بڑا فتنہ ہیں جو امت کو توڑ توڑ کر فرقوں میں تقسیم کرکے ان کے مال پر نظر جمائے بیٹھے ہیں۔کبھی یہ فتوے دیے جاتے ہیں کہ فلاں مسجد میں نماز نہیں ہوتی۔ یاد رکھیں مسجد سوائے اللہ کے کسی کی نہیں ہے۔ ہارون الرشید نے ایک بار غصے میں آکر اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ اگر تو آج رات تک میرے ملک سے باہر نہ نکلی تو تجھے طلاق ہے۔ بعد میں ہارون الرشید نے فورا علماء کو طلب کیا کہ اس کا کوئی حل بتائیں، سب نے کہا اس کا حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ آپ رات آنے سے پہلے پہلے اپنی بیوی کو اپنے مُلک سے باہر نکال دیں، لیکن ملک اتنا بڑا تھا کہ یہ ناممکن تھا کہ رات آنے سے پہلے باہر نکال دیا جائے۔ پھر ہارون الرشید نے کہا امام ابوحنیفہ کا کوئی شاگرد ہو تو اسے بلائیں اس سے بھی کوئی حل پوچھ لیتے ہیں۔ چنانچہ امام صاحب کے شاگرد یعقوب (قاضی ابویوسف) کو بلایا گیا، انہوں نے کہا اس کا تو آسان حل ہے، اپنی بیوی کو آج رات مسجد میں ٹھہرا دو، کیونکہ مسجد آپ کا ملک نہیں یہ اللہ کا گھر ہے کسی کی ملکیت نہیں اور دلیل قرآن سے دی کہ: وان المساجد للہ فلاتدعوا مع اللہ احدا۔ مسجدیں اللہ کی ہیں پس اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔
Nukta Colum 003 1
آج ہم نے مسجدوں کو تفرقہ بازی کا مورچہ بنالیا ہے، مسجد کا ممبر جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے اور وہ ممبر رسول ہے، اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے یہاں سے مسلمانوں کے لئے کفر کے فتوے سنائے جارہے ہیں۔ چلیں باالفرض اگر کسی مسلک والا کافر بھی ہو کیا اس کے ساتھ ایسا رویہ رکھنا جائز ہے جیسا رویہ ہم اپنے مقتدیوں اور شاگردوں کو سکھا رہے ہیں؟ ابی ابن کعب سے بڑا کافر کون ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنے بھی کافر تھے ان کے بارے میں سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی کو نہیں معلوم تھا، ایک عبداللہ بن ابی تھا جس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ یہ پکا منافق ہے، اس کی اسلام اور رسول دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی رہے تھے،عبداللہ بن ابی کے بیٹا جو پکا مسلمان تھا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوٹھا پانی مجھے دے دیں میں اپنے والد کو پلاوں گا شاید وہ ٹھیک ہوجائے۔ چنانچہ وہ جوٹھا پانی اپنے والد کے پاس لے گیا اور پیش کیا کہ یہ پانی پی لیں،عبداللہ بن ابی نے کہا یہ کیا ہے؟ بیٹے نے کہارسول اللہ کا جوٹھا ہے۔ تو اس بدبخت نے کہا پیشاب لے آو وہ پی لوں گالیکن یہ نہیں پیوں گا۔بیٹے کو سخت غصہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ میں اسے قتل کردوں لیکن آپ نے اجازت نہ دی کہ لوگ کہیں گے یہ رسول اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے(کیونکہ وہ بظاہر کلمہ پڑھتا تھا اورمسلمانوں میں شمار ہوتا تھا)۔ اس منافق کی موت قریب آئی تو اس کے بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتا مانگا کہ اس میں اسے کفن دینا چاہتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا اپنا کرتا اس منافق کے کفن کے لئے دے دیا، پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر آپ نے اس کا جنازہ بھی پڑھایا، حالانکہ قرآن میں آیات نازل ہوئیں کہ اے رسول آپ 70مرتبہ بھی جنازہ پڑھائیں میں نہیں بخشوں گا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی پڑھایا کہ اللہ نے مجھے پڑھانے سے منع تو نہیں کیا شاید اللہ بخش دے۔ پھر اس سے بھی آگے جب اسے قبر میں اتارا گیا تو آپ نے اسے دوبارہ قبر سے نکلوایا اور اپنی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر اپنا لعاب مبارک لگایا اور اس لعاب کو اس کے منہ میں ڈال دیا، اس عمل کو دیکھ کر ایک سو منافق پکے مسلمان بن گئے۔ آپ اندازہ لگا لیں یہ منافق ابوجہل سے بھی بڑا کافر تھا کیونکہ ابوجہل جہنم کے چھٹے درجے میں ہوگا جبکہ یہ ساتویں درجے میں ہوگا، ابوجہل سے بھی نیچے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ تعلیمات دیں کہ جو بھی کلمہ پڑھتا ہے اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا ہے۔ آج ہم بات بات پر گمراہی اور کفر کے فتوے دیتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ امت میں انتشار اور افتراق ہے ،جس کی وجہ سے کفر اور ان کے ایجنٹ اسلام کے نفاذ کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔وہ ہمارے اسی طرح کے اختلاف سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور فرقہ باز مولویوں کو مخیرحضرات بن کر خوب چندے بھی دیتے ہیں تاکہ یہ فرقہ بازی والا کام اسی طرح چلتا رہے۔
آج جس ممبر رسول سے محبت پھیلنی چاہیے تھے وہاں سے نفر پھیلائی جارہی ہے۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی مجلس میں فرمایا: اَیُّ عُرِی الاسلام اَوْثَقْ؟ یعنی اسلام کا مضبوط ترین عمل کون سا ہے؟صحابہ کرام نے فرمایا: نماز۔ آپ نے فرمایا نماز بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: زکوۃ، تو آپ نے فرمایازکوۃ بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: روزہ۔ آپ نے فرمایا روزہ بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا: حج۔ آپ نے فرمایاحج بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر صحابہ نے فرمایا:جہاد۔ آپ نے فرمایا جہاد بھی اچھا عمل ہے لیکن یہ نہیں۔ پھر خود ہی آپ نے فرمایا اسلام کا سب سے مضبوط عمل یہ ہے کہ اللہ کے لئے محبت کی جائے اور اللہ کے لئے بغض کیا جائے۔بریلوی،دیوبندی،اھل حدیث سب ایک اللہ ایک قرآن ایک رسول کو مانتے ہیں، سب مسلمان ہیں سب کو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے اسلام کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ اختلافی اور فروعی مسائل میں عوام کو ڈال کر فرقہ وایت پھیلائی جائے۔

ٹیکنیکل ایس ای او

Leave a Reply