اصلی اور نسلی تاجر

کہتا ہے: چالیس سال گزر گئے ہیں اس بات کو، لیکن مجھے آج بھی اس دکاندار اور اس دکاندار کے بیٹے کی شکل ہر زاویئے سے یاد ہے۔

جیسے ہی میرا مڈل سکول کا نتیجہ اخباروں میں چھپا، میرے تو پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ حالانکہ میں نے کوئی معرکہ بھی نہیں مارا تھا۔ بس آٹھویں جماعت کو فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تھا۔ لیکن مجھے کچھ بھی نہیں سوجھ رہا تھا کہ اپنی خوشی کا کیسے اظہار کروں۔

دوسرے دن میں نے منصوبہ بنایا کہ اپنے قصبے “سویداء” سے “دمشق” جا کر سیر کر کے آتا ہوں۔ میرے لیئے امتحان میں پاس ہونے کا اس سے بڑا جشن نہیں ہو سکتا تھا۔ میری جیب میں ایک “لیرے” کا سکہ تھا اور پانچ لیرے کا کڑکتا نوٹ۔ میں نے سیدھا بس کے اڈے پر جا کر دم لیا۔ بس والے نےسکے والا ایک لیرا کرایہ لے لیا، باقی کے پانچ لیرے میرے جیب میں موجود تھے۔ میں نے منصوبہ بنا لیا تھا کہ ان پیسوں سے دمشقی مٹھائی گھر لے کر جاؤنگا اور مزے کرونگا۔ میرا شامی کیک خریدنے کا تو پکا ارادہ تھا۔

دمشق کے بازار ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت۔ الصالحیہ بازار اور الحمیدیہ بازار کی تو کیا ہی بات تھی۔ وہیں جابی گیٹ کے پاس مجھے مٹھائی کی ایک بڑی دکان نظر آئی۔ میں نے اندر جا کر دکاندار سے، جس کے پہلو میں اس کا ایک بیٹا بھی بیٹھا ہوا تھا، کلو کیک، کلو برازق اور ایک کلو غُرائیبہ مانگا۔ لیکن جیسے ہی پیسے دینے کیلیئے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو جیب خالی تھی، میرے پانچ لیرے جیب میں نہیں تھے۔

میری حالت دیدنی تھی اور شاید میرے چہرے سے یاسیت بھی نظر آ رہی ہو گی۔ میں نے دکاندار سے معذرت کرتے ہوئے کہا: جناب، میں کچھ دیر بعد آوںگا اپنا سامان اٹھانے کیلیئے۔

دکاندار نے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا اور کہا

پیسے گھر بھول آئے ہو؟

میں نے کہا:

نہیں پیسے تو میری جیب میں ہی تھے۔ پورے پانچ لیرے کا ایک ہی نوٹ تھا،

کدھر رہتے ہو؟ دکاندار نے پوچھا۔

سویداء میں رہتا ہوں۔ میں نے جواب دیا۔

اچھا، ادھر آؤ، پہلے ذرا بیٹھ لو، تھوڑا آرام کرو۔

پھر اس نے چائے کا ایک کپ مجھے بھر کر پکڑاتے ہوئے کہا؛ میرے بیٹے کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیو۔

اتنی دیر میں دکاندار نے جو میرا سامان تول کر رکھا تھا، لفافوں میں پیک کر کے مجھے دیتے ہوئے کہا: یہ لو تمہارا سامان، جب کبھی دوبارہ دمشق آنا تو پیسے دے جانا۔

میں نے انکار کرتے ہوئے کہا: سیدی ، میں نے اتنی جلدی دوبارہ دمشق نہیں آنا۔ اور پھر یہ چیزیں کوئی ضروری بھی نہیں ہیں۔ معذرت کے ساتھ، میں اب یہ نہیں خریدنا چاہتا، آپ رہنے دیجیئے۔ آپ کا شکریہ۔

دکاندار نے کہا: بیٹے، تم دمشق ضرور آؤ گے۔ اور مجھے یہ بھی پورا یقین ہے کہ تم میرے پیسے بھی ضرور واپس کروگے۔

اور اس کے ساتھ ہی دکاندار نے اصرار کر کے مجھے سامان اٹھوا دیا۔

میں سامان لیکر شرمندہ شرمندہ دکاندار اور اس کے بیٹے کو سلام کر کے باہر نکلا۔ ابھی چند قدم ہی دور گیا ہونگا کہ دکاندار کا بیٹا مجھے پیچھے سے آوازیں دیتا ہوا دکھائی دیا۔

میں رک گیا، دکاندار کے بیٹے نے مجھۓ آ کر بتایا کہ ابو کو تمہارے پانچ لیرے دکان میں گرے ہوئے مل گئے تھے۔ لگتا ہے تم نے جب جیب میں ہاتھ ڈالا ہوگا تو نیچے گر پڑے ہونگے۔

ابو نے اپنی مٹھائیوں کے پیسے کاٹ لیئے ہیں اور یہ رہے تمہارے باقی کے پیسے۔

میری خوشی دیدنی تھی۔ کہاں میں ادھار کے بوجھ تلے دبا یہ سوچتا ہوا جا رہا تھا کہ چلو سامان تو ٹھیک ہے مگر سویداء جانے کا کرایہ کس سے مانگوں گا۔ اور کہاں اب یہ ادھار چکتا ہو گیا تھا، کسی کے آگئے ہاتھ پھیلائے بغیر کرائے کے پیسے نکل آئے تھے اور میں ہلکا پھلکا ہو چکا تھا۔

میں نے دکاندار کے بیٹے کا شکریہ ادا کیا۔ اسے اپنے ابو کو جا کر میری طرف سے شکریہ ادا کرنے کا کہا، باقی کے پیسے جیب میں ڈالے اور اڈے کی طرف چل پڑا۔

گھر جا کر کپڑے تبدیل کرنے کیلیئے میں نے جیسے ہی اپنی پرانی والی پتلون پہنی تو مجھے اپنے پانچ لیرے کا نوٹ اسی کی جییب میں مل گیا۔

ابا جی کو ساری قصہ کہہ سنایا۔ سن کر مسکرا دیئے اور کہنے لگے۔

پُتر، یہ لوگ شام کے تاجر ہیں۔ جدی پشتی تجارت پیشہ لوگ۔ ان کو انسانیت کے سارے معانی اور مطلب آتے ہیں۔ بہر حال پانچ لیرہ تیرے اوپر قرض ہے۔ اپنی امی سے کہہ، کل پرسوں تجھے میٹھے ڈھوڈھے بنا دے، ہماری طرف سے ھدیہ لیتا جا، پانچ لیرہ قرض بھی اتارنا، ہماری طرف سے شکریہ ادا کرنا اور ہماری طرف سے سلام بھی کہنا۔

اگلے ہفتے میں نے امی سے میٹھی روٹیاں پکوا کر، اور پانچ لیرہ قرضہ چکانے کیلیئے لیکر دمشق کی راہ لی۔

دکاندار نے جیسے ہی مجھے دیکھا، ہنس دیا اور کہنے لگا: میں نہیں کہتا تھا کہ تو جلد ہی دمشق واپس آئیگا۔ یہ ایک کلو ھریسہ میری طرف سے واپس لیتے جانا اور سویداء کے لوگوں کو میرا سلام کہہ دینا۔

کہتا ہے: آج بھی جب میں کسی تاجر کو دیکھتا ہوں تو دل فوراً ہی نسلی تاجر اور فصلی تاجر کا موازنہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔

**
عربی زبان سے ترجمہ شدہ