وہ 3 باتیں جن کی وجہ سے بچہ خود اعتمادی کھو بیٹھتا ہے

دنیا کے تمام والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے خوداعتمادی کے ساتھ بڑے ہوں۔ کبھی کبھار والدین کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوپاتا کہ ان کی جانب سے آنے والے ردِعمل سے ان کے بچے کی خوداعتمادی کو کس قدر ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔

وہ ردِعمل عام طور پر کون سے ہوتے ہیں؟

یہ کام تو آسان ہے!
جب آپ کا بچہ کسی کام کو انجام دے رہا ہو تو ممکن ہے کہ آپ کو وہ کام بہت ہی آسان لگے۔ لیکن ضروری نہیں کہ وہی کام اس بچے کے لیے بھی سہل ہو۔ جب آپ کہتے ہیں کہ، ’یہ کام آسان ہے، تم کرسکتے ہو!‘ تو آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں لیکن یہ عین ممکن ہے کہ اس جملے کو سن کر آپ کا بچہ یہ سوچنے لگ جائے کہ ’ضرور مجھ میں ہی کوئی کمی ہے اس لیے تو یہ کام میرے لیے آسان نہیں۔ میں ہی نکما ہوں!‘ چنانچہ آپ کا بچہ پست حوصلہ محسوس کرنے لگتا ہے اور ہمت بھی ہارنے لگتا ہے۔ اس طرح ان کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

مزید پڑھیے: ڈائپر تبدیل کرنے کے انتہائی آسان طریقے

اگر آپ اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں کہیے کہ ’یہ کام مشکل ہوسکتا ہے‘ یا ’یہ کام بالکل بھی سہل نہیں‘۔ اس طرح جب آپ کا بچہ کام مکمل کرلے گا تو وہ خود سے یہ کہے گا کہ ‘میں نے ایک مشکل کام کر دکھایا ہے!’۔ بالفرض بچہ کام انجام نہ بھی دے سکا تو بھی انہیں یہ اندازہ ہوگا کہ کام آسان نہیں تھا۔ یہ طریقہ آپ کے بچے کی حوصلہ افزائی میں مدد فراہم کرتا ہے اور ان میں اپنے وجود کی اہمیت کے احساسات بھی بڑھاتا ہے۔

ان کے لیے بہت کچھ کرنا
آپ کا بچہ اپنی مدد آپ کے تحت ہی کام کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح ان میں کسی کام کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے کا زبردست احساس پیدا ہوتا ہے اور انہیں اپنے بارے میں اچھا محسوس کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

آپ کو شاید لگے کہ آپ بچوں کے کاموں میں مدد کرکے اپنے پیار کا اظہار کر رہے ہیں لیکن آپ کے اس عمل سے آپ کے بچے کو خود سے کچھ سیکھنے کا موقع چھن جاتا ہے اور ان میں خودانحصاری کا احساس بھی باقی نہیں رہتا۔ بچوں کے کاموں میں آپ کی مداخلت سے انہیں یہ پوشیدہ پیغام جاتا ہے کہ، ‘تم خود سے کام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔‘

بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مشغلے میں شریک ہونے کے بجائے ان کے کام یا مشغلے کی نوعیت کو مختصر اور بچے کی صلاحیتوں کے عین مطابق بنائیں۔ جب بچہ کوئی کام خود سے انجام کو پہنچاتا ہے تو اسے ذاتی حیثیت میں ایک اطمینان سا محسوس ہوتا ہے۔

بچوں کی غلطیوں پر چلانا یا غصہ ظاہر کرنا
کرہءِ ارض پر کون سا شخص موجود ہے جس سے کبھی غلطی نہ ہوئی ہو۔ آپ کو شاید یہ محسوس ہوسکتا ہے کہ آپ کے بچے کو غلطی کرنے سے بچانے کی ضرورت ہے یا پھر انہیں غلطی کرنے سے بچانے کے لیے آپ کی مدد کی درکار ہے۔ مگر اس طرح انہیں مدد نہیں ملتی بلکہ یوں ان کے لیے خود سے سیکھنے کا عمل رک سکتا ہے۔

—تصویر شٹراسٹاک
آپ کے بچے غلطیاں کریں گے اور جس انداز میں آپ کا ردِعمل ہوگا اس سے یا تو آپ کے بچے کو غلطی سے سیکھنے اور آگے بڑھنے میں مدد ملے گی یا پھر انہیں یہ سبق ملے گا کہ غلطی کرنا خراب بات ہے۔ غلطیاں تکلیف دہ ہوتی ہیں لیکن اگر انہیں صحتمندانہ انداز میں سنبھالا جائے تو اس سے بچے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اپنے بچے سے اپنے اندر بہتری لانے، اسے غلطی تسلیم کرنے، مسئلے کو حل اور اپنے بارے میں اچھا محسوس کرنے کا موقع مت چھینیں۔

مزید پڑھیے: دوائیں پلانے کے وہ دلچسپ طریقے کہ بچے منع بھی نہ کرسکیں

آپ کا بچہ جب کوئی غلطی کر بیٹھے تو اس پر چلانے کے بجائے اسے یہ سکھائیں کہ غلطی کو کیسے سدھارا جاسکتا ہے اور اپنے عمل کے لیے جوابدہ ہونا ہے۔

اس طرح غلطیوں کی جانب صحتمندانہ خیال کو فروغ ملتا ہے اور آپ کے بچے کو اپنے بارے میں اچھا محسوس کرنے میں مدد ملتی ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.