کیا عوام کو ترجمہ قرآن پڑھنا ناجائز ہے؟

(نکتہ: سیدعبدالوہاب شیرازی)

آج کل ایک غلط بات مشہور کردی گئی ہے کہ عوام کو ترجمہ قرآن پڑھنا یاکسی آیت،رکوع کا مفہوم علماءکی تفاسیر سے ذہن نشین کرکے بیان کرنا ناجائز ہے۔چنانچہ اس غلط بات کو پھیلانے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں اور عوام نے قرآن کریم کو محض برکت حاصل کرنے کی کتاب سمجھ کا طاقِ نسیان میں رکھ دیا ہے۔ہندوستان کی تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ یہاں 200سال تک انگریز حکومت کرکے گیا ہے، اس نے دین اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے ہر طرح کے جتن کیے، کبھی مدارس منہدم کیے تو کبھی علماءکو توپوں کے آگے کھڑا کرکے اڑا دیا گیا، کبھی علماءکو پھانسیاں دیں تو کبھی لاکھوں قرآن مجید کے نسخے جلائے گئے، لیکن انگریز کو اندازہ ہوگیا کہ بزور طاقت اور اسلحہ کے بل بوتے پر ہم مسلمانوں سے اسلام اور قرآن سے لگاو نہیں ختم کرسکتے، چنانچہ انہوں نے مختلف تکنیک اور حربوں پر تحقیقات کیں اور باالاخر انگریز فرقہ واریت اور اختلافات کا بیج بو کر چلا گیا اور آج تک ہم اسی فرقہ واریت اورآپس کے فروعی اختلافات میں پھنسے ہوئے ہیں، اسی طرح قرآن مجید سے دور رکھنے کے لئے ایسی باتیں مشہور کردیں کہ عوام کا تعلق قرآن سے نہ ہو۔ حالانکہ اگر ہم اپنے اسلاف اور اکابرین کی زندگیوں اور تحریروں کو دیکھیں تو انہوں نے ساری زندگی عوام کو قرآن سے جوڑنے میں لگائی اور اسی بات کی دہائی دیتے دیتے دنیا سے چلے گئے۔

میں نے اپنے ان گناہ گار کانوں سے یہ بات بھی سنی ہے کہ اگر عام لوگ ترجمہ قرآن پڑھیں گے تو گمراہ ہو جائیں گے، یہ ترجمہ پڑھنا صرف علماءکا کام ہے۔ حیرت ہوتی ہے دشمن نے کتنی محنت کی، قرآن کریم کے متعلق کیسی کیسی باتیں پھیلا دی گئی ہیں، چنانچہ آج لوگ قرآن کو ہاتھ میں لینا گوارہ نہیں کرتے حالانکہ قرآن کا احترام ان کے دلوں میں بہت ہے، اسے چومتے ہیں، اس کی طرف پیٹھ نہیں کرتے، اس سے اونچا نہیں ہوتے، لیکن پڑھنا صرف علماءکا کام ہے۔

فہم قران کے دو پہلو ہیں، ایک تدبر فی القرآن اور دوسرا تذکّر بالقرآن۔ تدبر فی القران کے لئے بلاشبہ بہت سے علوم کا ماہر ہونا ضروری ہے جیسا کہ مفسرین نے لکھا کہ تیرا چودہ علوم پر دسترس ہونی چاہیے، میرے خیال میں یہ بات بھی پرانی ہوچکی ہے، آج کل تدبر فی القرآن کے لئے کم از کم بیس پچیس علوم جن میں جدید علوم اور فلسفے بھی شامل ہیںان سب پر مہارت ہونا ضروری ہے، آج کل مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب اتنا ناقص ہے کہ وہ ایسے علماءپیدا ہی نہیں کرسکتا جو تدبر فی القرآن کی صلاحیت رکھتے ہوں، چہ جائیکہ ہم دورہ حدیث سے فارغ ہوکرسند لینے والے کو اس قابل سمجھیں کہ وہ تدبر فی القرآن کی صلاحیت رکھتا ہے۔البتہ جہاں تک تعلق ہے تذکر باالقرآن یعنی قرآن سے نصیحت حاصل کرنا تو اس بارے میں خود قرآن کہتا ہے: ولقد یسرنا القرآن لذکر فھل من مدکر؟ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان بنایا ہے پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا، اور یہ نصیحت کا پہلو بلاشبہ محض ترجمہ پڑھنے والے کو بھی میسر ہوتا ہے۔

یاد رکھیئے! قرآن اللہ کی معجزانہ کتاب ہے اس کو پڑھ کر گمراہی نہیں ہدایت پھیلتی ہے، یہ انسان کے دل میں اس حقیقی ایمان کو اپیل کرتا ہے جو انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر رکھاہوا ہے، یہ اس حقیقی ایمان کی چنگاری کے لئے پٹرول کا کام کرتا ہے،اور اسے یک دم بھڑکا دیتا ہے۔سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ یورپ میں جدی پشتی انگریز غیر مسلم قرآن کریم کا محض ترجمہ پڑھ کر مسلمان کیوں ہو جاتے ہیں، حالانکہ ان کو تو عربی زبان اور ناظرہ قرآن بھی پڑھنا نہیں آتا، وجہ یہی ہے کہ ان کے دل میں بھی فطری طور پر ایمان کی چنگاری موجود ہوتی ہے قرآن کو پڑھ اور سن کر وہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے۔یورپ کے ایک مسلمان نوجوان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ وہ موبائل پر تلاوت لگا کر مارکیٹوں اور بازاروں میں غیرمسلموں کی طرف ہینڈفری آگے کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تیس سیکنڈ تک یہ آڈیو سن کر اپنے کمنٹس دو، چنانچہ وہ مختلف چلنے پھرنے والے خواتین وحضرات کو اس طرح قرآن سنا کر ان سے کمنٹ لیتا ہے، وہ لوگ سنتے ہوئے بہت حیران ہوتے ہیں ان کے چہرے کے تاثرات سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت متاثر ہوئے ہیں، بعض تو رو بھی پڑتے ہیں۔

بی بی سی کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل جان بِٹ کا بیٹا یحی بِٹ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھتا تھا، مسلمان ہوگیا، پھر PHDکے لئے اسے جو مقالہ تیار کرنا تھا اس کا عنوان تھا ”یورپ میں پچھلے دس سالوں میں ایسے کتنے لوگ مسلمان ہوئے جو یورپین نسل کے تھے اور کیوں ہوئے“چنانچہ اس نے دو تین سال تک یورپ میں اس بات پر تحقیق کی اور پھر اپنی رپورٹ پیش کی ، جس میں اس نے بتایا کہ پچھلے دس سالوں میں تیرا ہزار لوگ مسلمان ہوئے جن میں سے 80%لوگ قرآن سے متاثر ہوکر مسلمان ہوئے۔ انہیں میں سے ایک امریکی خاتون ”ایم کے ہرمینسن“ بھی تھی۔ جب اس سے اس کے مسلمان ہونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: میں سپین میں پڑھتی تھی، ایک دن ہاسٹل میں ریڈیو کی سوئی گماتے گماتے اچانک ایک عجیب آواز آنا شروع ہوئی چنانچہ میں نے اسے سننا شروع کردیا، مجھے ایسے لگا کہ یہ میرے دل کے اندر سے آواز آرہی ہے، یا مجھے میرے گمشدہ متاع مل گئی ہے۔ چنانچہ میں کئی دن تک سنتی رہی، باالاخر میں نے سوچا کسی سے پوچھوں یہ کس چیز کی آواز ہے اور کیا ہے؟ میں نے جب پوچھا تو مجھے کسی نے بتایا یہ مسلمانوں کی کتاب مقدس قرآن ہے۔ چنانچہ میں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ منگوا کر پڑھنا شروع کیا اور مکمل پڑھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ یہ تو ترجمہ ہے جب تک اصل سورس کو نہ دیکھا جائے اس وقت تک اس کی کوئی حیثیت نہیں، چنانچہ اصل سورس کو سمجھنے کے لئے میں مصر گئی اور قاہرہ یونیورسٹی میں عربی زبان کو سیکھنے کے لئے داخلہ لیا، دو سالہ عربی کورس کرنے کے بعد پھر اصل عربی قرآن کو پڑھا تو قرآن نے مجھے مسلمان کردیا۔یہ ہے قرآن کی ہدایت، اسی لئے قرآن میں بار بار کہا گیا کہ یہ کتاب ہدایت ہے، اس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے لیکن عوام میں یہ مشہور کردیا گیا کہ نعوذ بااللہ یہ کتاب گمراہ کرتی ہے، کتنی بڑی توہین کی بات ہے جولوگوں میں مشہور ہوچکی ہے۔

میرے خیال میں جتنے بھی فرقے اٹھے اور گمراہیاں پھیلی ہیں وہ عوام نے نہیں پھیلائیں، وہ ایسے لوگوں نے ہی پھیلائی ہیں جو قرآن وحدیث کے عالم تھے، مثلا مرزا غلام احمد قادیانی عام آدمی نہیں تھا، قرآن وحدیث کا علم رکھنے والا تھا، تبھی تو اس نے اپنے نبی اور مہدی ہونے کی قرآن وحدیث سے من گھڑت دلیلیں بناکر دیں۔ اسی طرح غلام احمد پرویز بھی کوئی عام شخص جو محض کسی عالم کے لکھے ہوئے ترجمے پر اکتفاءکرنے والا نہیں بلکہ دینی علوم کا ماہر اورحنفی سنی گھرانے میں پیداہونے کے علاوہ چشتیہ سلسلے کے صوفی بزرگ مولوی رحیم بخش کا پوتا تھا،ابتدائی دینی تعلیم بھی اپنے والد اور دادا سے حاصل کی، تبھی توغلام احمد پرویز نے حدیث کی ایسی ایسی تعبیریں کیں کہ الامان والحفیظ۔ یہ نام میں نے بطور مثال پیش کیے ہیں باقی فرقوں کے بانیوں کے نام پیش کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا، ورنہ آج جتنے فرقے ہمارے ہاں ہیں ان کے بانیوں کو دیکھیں سب قرآن وحدیث کے عالم تھے، عربی کے ماہر تھے، صرف نحو، ادب، علم کلام، منطق پر عبور حاصل تھا۔ عام آدمی کے تو بس کی بات ہی نہیں کہ وہ کوئی گمراہی بنا یا پھیلا سکے، میرے پاس ایسی ایک بھی مثال نہیں کہ ایک عام آدمی جسے نہ عربی آتی ہو اور نہ دیگر علوم ، اور اس نے قرآن کا ترجمہ پڑھ کر کوئی گمراہی ایجاد کی ہو اور پھر وہ آج تک چلی آرہی ہو، عام آدمی جب ترجمہ پڑھتا ہے اس کی نظر اور دیہان قرآن کے تذکیری پہلو کی طرف ہوتا ہے، اسے یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ آجاتی ہے کہ شراب، جوا، سود، مردار حرام ہیں، جنت میں نعمتیں ہیں، جہنم میں عذاب ہیں، دنیا امتحان کی جگہ ہے وغیرہ۔البتہ جو خدشات اس حوالے سے پیدا ہوسکتے ہیں ان کے سدِباب کے لئے علماءکی طرف سے مسلسل ہدایات مسلمانوں کو ملتی رہیں تو کوئی حرج نہیں۔

یہاں اس بات سے انکار کرنا بھی ممکن نہیں کہ بلاشبہ ان گمراہیوں کا سدباب بھی علمائے حق نے ہر دور میں اپنا خون دے کر کیا ہے، اور علماءکی خدمات اور محنت سے ہی یہ قرآن وسنت آج اصل حالت میں ہمارے پاس موجود ہیںاور آج بھی علمائے حق قرآن وسنت کی حفاظت اور اختلافات کو ختم کرنے کے لئے اپنا تن من دھن لگا رہے ہیں، اگرچہ ایسے علماءکو وقفے وقفے سے چن چن کا ٹارگٹ بھی کیا جارہا ہے۔

اس موضوع کے حوالے سے اکابر علماءاور اسلاف کے چند اقوال پیش خدمت ہیں، ملاحظہ فرمایئے:

حضرت شیخ الہند کے شاگردِ خاص، تحریک ریشمی رمال کے سرکردہ رکن، اسیر مالٹا مولوی انیس احمد رحمہ اللہ” انوار القرآن “میں لکھتے ہیں:

جو لوگ عربی جانتے ہیں وہ اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ ۔۔اور جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے لئے بہترین ترجمے موجود ہیں۔ وہ ان کے ذریعے سے سمجھ سکتے ہیں۔لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے سمجھ لیا ہے کہ ہم قرآن کو بالکل نہیں سمجھ سکتے، اس کے سمجھنے کے لئے بہت سے مختلف علوم وفنون حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور بڑے جید عالم ہونے کی ضرورت ہے(صفحہ35)

شاہ اسماعیل شہید تقویة الایمان میں لکھتے ہیں: اس زمانہ میں دین کی بات میں جو لوگ کتنی راہیں چلتے ہیں، کوئی پہلوں کی رسموں کو پکڑتے ہیں، کوئی قصے بزرگوں کے دیکھتے ہیں اور کوئی مولویوں کی باتوں کو جو انہوں نے اپنی ذہن کی تیزی سے نکالی ہیںسند پکڑتے ہیں۔ اور یہ عوام الناس میں مشہور ہے کہ اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سمجھنا بہت مشکل ہے، اس کو بڑا علم چاہیے، ہم کو وہ طاقت کہاں کہ ان کا کلام سمجھیں اور اس راہ پر چلنا پڑے، یہ بزرگوں کا کام ہے، سو ہماری کیا طاقت ہے کہ اس کے موافق چلیں، بلکہ ہم کو یہی باتیں کفایت کرتی ہیں۔ سو یہ بات بہت غلط ہے، اس واسطے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں باتیں بہت صاف صریح ہیں، ان کا سمجھنا مشکل نہیں اور اللہ اور رسول کے کلام کو سمجھنے میں بہت علم نہیں چاہیے کہ پیغمبر تو نادانوں کو راہ بتانے اور جاہلوں کو سمجھانے اور بے علموں کو علم سکھانے کو آئے تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورہ جمعہ میں فرمایا: وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے پیغمبر بنا کر بھیجا، وہ ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، ورنہ اس سے پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے۔(الجمعہ2)

سو جو کوئی یہ آیت سن کر پھر کہنے لگے کہ پیغمبرکی بات سوائے عالموں کے کوئی سمجھ نہیں سکتا اور ان کی راہ پر سوائے بزرگوں کے کوئی نہیں چل سکتا۔ سو اس نے اس آیت کا انکار کیا۔ اس بات کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک بڑا حکیم ہو اور ایک بہت بیمار، پھر کوئی شخص اس بیمار سے کہے کہ فلانے حکیم کے پاس جاو اور اس سے علاج کراوتو وہ کہے اس سے علاج کروانا تو بڑے بڑے تندرستوں کا کام ہے میں تو بہت بیمار ہوں۔ سو وہ بیمار احمق ہے اور اس حکیم(قرآن) کی حکمت سے انکار رکھتا ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اپنے فارسی ترجمے ”فتح الرحمن“ کے دیباچے میں فرماتے ہیں:

جس طرح لوگ مثنوی مولانا جلال الدین، گلستان شیخ سعدی ومنطق الطیر شیخ فرید الدین عطار وقصص فارابی ونفحات مولانا عبدالرحمن اور اسی قسم کی کتابیں پڑھتے ہیں اسی طرح قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔اگر وہ کتابیں اولیاءاللہ کا کلام ہیں تو قرآن مجید خود اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اگر ان میں حکماءکے وعظ ہیں تو قرآن مجید میں احکم الحاکمین کے فرمان ہیں۔

اسیر مالٹا مولوی انیس احمد ؒ قرآن سے استفادہ کی ایک مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں: اس کی مثال یہ ہے کہ پانی سے اِس زمانے میں بھاپ حاصل کرکے مختلف کام لئے جاتے ہیں اور ریل گاڑیاں وغیرہ چلائی جاتی ہیں۔ پانی سے یہ کام صرف وہ لوگ لے سکتے ہیں جو سائنس(کے علم)سے واقف ہیں، لیکن ہر شخص چاہے وہ کیسا ہی جاہل ہو پانی سے اپنی پیاس بجھا کر زندگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔اسی طرح مذہبی اور روحانی زندگی کے قائم رکھنے کے لئے جس آبِ حیات کی ضرورت ہے اس کو ہر شخص خواہ وہ جاہل ہو یا عالم، قران مجید کے بحرذخائر سے باآسانی حاصل کرسکتا ہے۔ البتہ جو شخص زیادہ عالم ہو گا وہ علم وحکتم کے زیادہ موتی اس سمندر سے حاصل کرسکتے گا۔ہم اس خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں کہ چونکہ ہم بڑے عالم نہیں اور ہم قرآن مجید کے زیادہ نکات نہیں سمجھتے اس لئے ہم کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس تباہ اور برباد کردینے والی غلطی کی وجہ سے ہمیں قرآن مجید سے محرومی ہوتی جارہی ہے اور ہماری مذہبی اور روحانی حیات کا خاتمہ ہورہا ہے۔(انوارالقرآن صفحہ41)

مولوی انیس احمدؒ اسے خطرناک اور تباہ وبرباد کردینے والی غلطی قرار دے رہے ہیں۔ اسی بات کی طرف ایک حدیث میں بھی اشارہ ہے: ان اللہ یرفع بھٰذا الکتاب اقواما ویضع بہ آخرین۔ بے شک اللہ اس کتاب کے ذریعے بہت ساری قوموں کو عروج اور بہتوں کو زوال دیتا ہے۔ یعنی جو اس سے تعلق توڑ دیتے ہیں وہ دنیا میں ذلیل وخوار ہو جاتے ہیں۔

مزید لکھتے ہیں جب سے ہم قرآن کی اصلی تعلیم سے دور ہوتے گئے ہیں ہم برابر تنزل کر رہے ہیں۔ اور جیسی قوم کی حالت ہوتی ہے ویسے ہی اس کے اخلاق ہوتے ہیں، اگر قوم زندہ ہوتی ہے تو اس کے افراد میں جرات، ہمت،استقلال،ترقی کی امنگ، ایثار، قربانی جیسے عمدہ اخلاق ہوتے ہیں۔ اور اگر قوم مردہ ہو تو اس کے افراد پست ہمت، سست، بزدل ہوتے ہیں۔ قومی تنزل کا مردہ اقوام میں اس قدراثر وہوتا ہے کہ عمدہ الفاظ کے مفہوم بھی بگڑ کر خراب ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ جب مسلمانوں میں کچھ جان تھی تو اُن میں وعدہ اور قول وقرار کا دوسرا مفہوم تھا اور جب اُن پر مُردنی چھا گئی تو انہی الفاظ کا دوسرا مفہوم ہوگیا۔ چنانچہ پہلے مشہور تھا:

”قول مرداں جان دارد“

پھر یہ حالت ہوئی

”وعدہ آساں ہے ولے اس کی وفا مشکل ہے“

پھر اس کے بعد یہ حالت ہوگئی

”وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا“

اسی طرح جب ہم نے قرآن کو چھوڑا، ہماری حالت خراب ہوئی تو قرآن کے مفہوم بھی بدل گئے۔

واقعی آج ہم اسی طرح کی صورت حال سے دوچار ہیں، اس مفہوم کے بدلنے کا نقصان یہ ہوا کہ آج ہماری ایسی جماعتیں جو بلاشبہ دین کا کام کرنے میں مصروف ہیں لیکن ایک ہی آیت کے مفہوم کو اپنے اپنے کام پر چسپاں کرنے کے لئے آپس میں ہی لڑ رہی ہیں۔جس کا نقصان دین کو بھی ہورہا ہے اور خود ان کا کام بھی متاثر ہورہا ہے۔

 

Facebook Comments

POST A COMMENT.