ہمارے مسائل کا حل:اجتماعی توبہ

حافظ‌عاکف سعید. امیر تنظیم اسلامی پاکستان
غلبہ وسربلندی کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور میں اور بھی واضح انداز میں فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے‘ اُن سے اللہ کا وعدہ ہے‘ کہ اُن کو ملک کا حاکم بنادے گا‘ جیسا اُن سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا۔ اور اُن کے دین کو جسے اُس نے اُن کے لئے پسند کیا ہے مستحکم کرے گا اور خوف کے بعد اُن کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اُس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔‘‘
اِس آیت میں ایمان اور عمل صالح کی شرائط پورا کرنے والے لوگوں سے اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کا وعدہ کیا ہے۔ پہلی چیز استخلاف فی الارض ہے۔ یعنی اللہ ایسے لوگوں کوزمین میں غلبہ و اقتدار عطا فرمائے گا۔دوسرے یہ کہ اُن کے دین کو تمکن عطا فرمائے گا‘ اُسے غالب کر دے گا۔ زمین پر نظام شریعت کو بالادستی حاصل ہو جائے گی۔ اہل ایمان کو جو غلبہ و اقتدار اور حکومت ملے گی اُس کی خصوصیت یہ ہو گی کہ اُس میں اللہ تعالیٰ کے نظام عدل اجتماعی کا سکہ رواں ہو گا۔ عدل و انصاف کا دور دورہ ہو گا۔ افراد معاشرہ حقوق سے بہرہ مند ہوں گے ۔ دنیا میں بڑی بڑی سلطنتیں پہلے بھی گزری ہیں (اور آج بھی بساط عالم پر موجود ہیں) مگر اِن ریاستوں کا معاملہ یہ تھا کہ اُن میں ہر قسم کے سیاسی اور معاشی حقوق ایک محدود اقلیت کو حاصل ہوتے تھے۔ یہی طبقہ ہر قسم کی مراعات اور آسائشات سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ عوام ہر قسم کے حقوق سے محروم تھے۔ اللہ تعالیٰ ایسے اہل ایمان کو جو اعمال صالحہ کی شرط پر پورا اتریں گے‘ ایسی حکومت اور سلطنت عطا فرمائے گا جس میں عدل و انصاف کی حکمرانی ہو گی‘ اخوت و مساوات کے زمزمے بہہ رہے ہوں گے اور انسان کی عزت و تکریم کا پورا پورا لحاظ رکھا جائے گا۔اللہ تعالیٰ کے بندے رب تعالیٰ کے عطا کردہ عادلانہ اور منصفانہ نظام کی فیوض و برکات سے مستفید ہوں گے۔تیسری چیز جس کا وعدہ اہل ایمان سے کیا گیا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے خوف کی حالت کو امن میں بدل دے گا۔ لوگوں کو اللہ کے علاوہ کسی طاقت کا خوف نہ ہو گا۔ انہیں نہ کسی جارح ریاست سے خطرہ ہو گا اور نہ داخلی سطح پر بدامنی و انتشار چوری‘ ڈاکے اور قتل و غارت گری ہی کا خوف ہو گا۔ معاشرہ میں مثالی امن و امان ہو گا۔ ہر شخص کی جان‘ مال اور عزت و آبرو محفوظ ہو گی۔ اسلامی حدود اور تعزیرات کے نفاذ سے جرائم پر قابو پالیا جائے گا۔ اِن تین چیزوں کے علاوہ بعض دیگر مقامات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو خوشحالی عطا ہو گی۔ اور اِس کی وجہ صاف ظاہر ہے۔ اسلام نے کفالت عامہ کا جو نظام دیا ہے‘ اُس کے تحت بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ریاست کی ہوگی۔
اگر ہم غور کریں تو آیت مذکورہ میں جن نعمتوں کا تذکرہ ہے آج ہم اُن سے محروم ہیں۔ غلبہ و برتری اور خودمختاری اغیار کو حاصل ہے۔ ہم انہی کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ اُنہی کی ڈکٹیشن پر پالیسیاں بناتے اور قوانین وضع کرتے ہیں۔ آج اقوام عالم کی نگاہ میں ہماری کوئی وقعت ہے اور نہ عزت و احترام۔ ہماری کہیں شنوائی نہیں۔ ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنی ہوئی ہے… داخلی سطح پر دین کو تمکن اور غلبہ حاصل نہیں۔ وہ ملک جو ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا‘ اُس میں اسلام سے پسپائی کا سفر جاری ہے۔ اسلامی اقدار اور دینی تشخص کے خاتمے کے لئے ناپاک سعی ہو رہی ہے۔ اسلام کے نظام عدل کے نہ ہونے سے کسی کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ نہیں۔ جہاں ایک طرف معاشرے میں قتل اور ڈاکے عام ہیں‘ ڈکیتی اور اغوا کی وارداتیں ہو رہی ہیں‘ وہاں مبینہ طور پر بعض سرکاری ایجنسیاں بھی افراد کو اُٹھا کر غائب کر دیتی ہیں ۔یہ اندھیر نگری اور بدترین چنگیزی نظام ہے جوہمارے ملک پر مسلط ہے۔
جہاں تک خوف سے نجات اور امن و امان کی کیفیت ہے‘ اُس کا حال یہ ہے کہ ہر طرف خوف اور دہشت کی فضا ہے۔ کسی کو بھی جان و مال کا تحفظ حاصل نہیں ہے۔امن و امان کے الفاظ ڈکشنری میں تو ملتے ہیں‘ مگر ہمارے معاشرے میں یہ اپنی معنویت کھو چکے ہیں۔ لاقانونیت اپنی انتہائوں کو چھو رہی ہے۔ قانون کے محافظ خودہی لٹیرے بن گئے ہیں۔ جرائم پیشہ عناصر کو اُن کی سرپرستی اور تعاون حاصل ہے۔
رہی بات خوشحالی کی تو یہ ملک کی ایک محدود اقلیت ہی کا مقدر ہے۔ یہ طبقہ امیر سے امیر تر ہو رہا ہے۔ دوسری طرف عوام کی بہت بڑی تعداد خط غربت سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے‘ اور ایسے لوگوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ہماری مڈل کلاس بھی بڑی تیزی سے غربت کی لکیر سے نیچے جا رہی ہے۔ اور خطِ غربت سے نیچے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ انہیں مناسب خوراک ‘ لباس کے علاوہ ‘ علاج معالجہ‘ صحت اور تعلیم کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ اُن پر قافیۂ حیات تنگ ہو چکا ہے۔ لوگوں کے لئے یوٹیلٹی بل ادا کرنابھی مشکل ہو چکا ہے۔
اِس صورتحال کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف روزبروز خودکشی کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں اور دوسری طرف کرپشن اور لوٹ کھسوٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عام آدمی کی نگاہ میں رشوت اور غلط ذرائع سے مال و دولت کا حصول کوئی برائی نہیں رہی کہ اِس کے بغیر زندگی کی گاڑی رواں دواں نہیں رہ سکتی ۔اس کے لئے جیسے بھی پیسہ ہاتھ آئے‘ حاصل کرنا چاہیے۔حیرت کی بات ہے کہ اس نا گفتہ بہ صورتحال پر بھی اقتصادی میدان میں ترقی کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔
ہمارے موجودہ حالات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم اجتماعی توبہ کریں‘ اللہ کی دین و شریعت کی پیروی کریںاور دورنگی اور منافقت کو ترک کر دیں۔ قرآن عزیز کہتا ہے ’’کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد کرنے کے وقت اور (قرآن) جو (خدائے) برحق (کی طرف) سے نازل ہوا ہے اس کے سننے کے وقت اُن کے دل نرم ہو جائیں اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو (اُن سے) پہلے کتابیں دی گئی تھیں‘ پھر اُن پر زمان طویل گزر گیا تو اُن کے دل سخت ہو گئے‘ اور اُن میں سے اکثر نافرمان ہیں۔‘‘(سورۃ الحدید)
ہم پر ذلت و رسوائی کا جو عذاب مسلط ہے یہ ہمارے اجتماعی جرائم کی سزا ہے ۔کسی ایک شخص کو موردِالزام ٹھہرا کر ہم بریٔ الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اگر ہم پر ظالم حکمران مسلط ہیں تو یہ بھی ہمارے اعمال کے سبب ہیں‘ لہٰذا محض کسی شخص کو اقتدار سے ہٹا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
ہمارے مسائل حل تب ہوں گے جب ہم سب گڑگڑا کر اللہ کے حضور توبہ کریں اور اپنا قبلہ درست کریں۔ پوری قوم قومِ یونس علیہ السلام کی سی توبہ کرے‘ اللہ کے ساتھ اپنا معاملہ درست کرے‘ اپنا تعلق مضبوط کرے۔ اور پھر یہ ملک جس میں الحاد‘ سیکولرازم اور فحاشی و عریانی کو فروغ دیا جا رہا ہے‘ اُس کے خاتمے کے لئے قوم میدان میں آئے‘ اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لئے جدوجہد کرے۔ اللہ کا دین غالب ہو گا تو مسائل و مصائب کے گرداب سے بھی ہمیں نجات حاصل ہو سکے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں انفرادی اور اجتماعی توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Facebook Comments

POST A COMMENT.